ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

اسلام کی نگاہ میں ایک نفس محترم کا قتل سارے انسانوں کا قتل ہے

اسلام کی نگاہ میں ایک نفس محترم کا قتل سارے انسانوں کا قتل ہے

مسلم علاقوں میں قتل کی وارداتیں لمحہ فکریہ، قیامت کے عذاب سے محافظت کے لیے قتل کے ارتکاب سے تحفظ کریں

از:عطاءالرحمن نوری،مالیگاﺅں(ریسرچ اسکالر)

     انسانی جان کی اللہ کے نزدیک بڑی قد ر وقیمت ہے کیوں کہ انسا ن کی تخلیق محض اللہ تعالیٰ نے کی ہے اس لیے کسی دوسرے شخص کو ہرگز اس بات کی اجاز ت نہیں دی گئی کہ وہ کسی انسان کی جان لے۔یہاں تک کہ خود انسان کواپنی جان لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔انسانی جان کی قدر وقیمت کا انداز ہ قرآن مجیدسے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایک جان کے قتل کو تمام جانوں کے قتل سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی انسان کا قتل کر نا گویا پوری انسانیت کو قتل کر نے کے برابر ہے۔جان چاہے مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی اس کا تحفظ لازم ہے۔کسی انسان کی جان لینا اسلام کے نزدیک کتنا قابل گرفت عمل ہے اس کا اندازہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حد یث سے ہوتا ہے ، آپ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے خون نا حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ (صحیح بخاری شریف، صحیح مسلم شریف ) ایک اور حدیث میں ہے کہ جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھے گا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پہنچتی ہے ۔(صحیح بخاری شریف) مسلم ملک میں معاہد کا لفظ بولا جاتا ہے ،اس سے مراد وہ غیر مسلم ہوتے ہیں جو وہاں سکونت اختیار کرتے ہیں یا ویزا لے کر کچھ دنوں کے لیے کسی غرض سے وہاں چلے جاتے ہیں اور ہر ملک کے دستور میں جان کا تحفظ بھی شامل ہے، اس لیے اس حدیث نبوی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کا ہر باشندہ دوسرے باشندے کی جان کی حفاظت کرے اور بالخصوص مسلم ریاست کے غیر مسلم باشندوں کے تعلق سے تو ہر مسلم باشندے کی یہ ذمہ داری اور سخت ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ قانون اسلام کی معتبر کتاب ”الدرالمختار“میں ہے :”چوپائے پر ظلم غیرمسلم معاہد پر ظلم سے زیادہ سخت ہے اور غیر مسلم معاہد پر ظلم مسلمان پر ظلم سے زیادہ سخت ہے ۔“(دعوت نمبر،20) ایک اور حدیث میں ہے : بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا ہے ، پھر کسی انسان کو ہلا ک کر نا ہے ۔ اس حدیث میں قتل کے گناہ کو شرک کے بعد بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ عظیم گناہوں میں شرک تو سب سے بڑا گناہ ہے ہی مگر شرک کے بعد جو بڑے گناہ ہیں ان میں کسی انسانی جان کو ہلا ک کرنا سر فہرست ہے۔

    سیاسی، فکری یا اعتقادی اختلافات کی بنا پر کسی کو کافر، مشرک یا بدعتی قرار دیتے ہوئے بے دریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اہمیت کعبة اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ صاحبِ شریعت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ ( ابن ماجہ) فولادی اور آتشیں اسلحہ سے لوگوں کو قتل کرنا تو بہت بڑا اقدام ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ اسلام کو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے محض اشارہ کرنے والے کو بھی ملعون و مردود قرار دیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔“(صحیح مسلم)
    انسانی جان کے اس قدر اہمیت ہونے کے سبب اسلام نے اس کی حفاظت کی پوری کو شش کی ہے۔ چنانچہ یہ قانو ن بنا دیا گیا کہ اگر حکومت مسلمانوں کی ہے تو اس بات کا پورا نظم و نسق کیا جائے گا کہ انسانی جان برباد نہ ہوپائے چاہے وہ مسلم کی جان ہو یا کافر کی جان۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔قتل و قتال سے دین اسلام نے ہرحال میںروکنے کی کوشش کی ہے کیوںکہ اس کے ذریعہ بد امنی اور خوں ریزی کا سلسلہ طویل ہوجاتا ہے۔ عام طور سے دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص قتل کر دیا جا تا ہے تو مقتول کے خاندان والے بھی اسی طرح کے انتقام کے لیے آمادہ دکھائی دیتے ہیں ، یہاںتک کہ کبھی کبھی کچھ وقت کے بعد سننے کو ملتا ہے کہ قاتل کو مقتول کے خاندان والوں نے قتل کر ڈالا۔ اس پر دوسرے مقتول کے ورثاءبھی سکون سے نہیں بیٹھتے ، وہ بھی اسی طرح کا معاملہ کر نے کے لیے عام طور سے تیار رہتے ہیں ، نتیجتاً یہ کہ لمبے وقت تک خاندانوں کے مابین خوں ریزی کا سلسلہ درازرہتاہے۔ اس خوں ریزی سے نہ صرف جانوں کا اتلاف ہوتا ہے بلکہ سکون بھی غارت ہوجاتا ہے ، دونوں خاندان کے لوگوں کو خدشہ لگا رہتا ہے کہ جانے کب کس کو ہلاک کر دیا جائے۔ اس کشمش اور خوف کے ساتھ ان کی زندگی بسر ہوتی رہتی ہے۔ معلوم ہوا کہ قتل کا انجام تباہ کن ہوتا ہے اور اسلام نہیں چاہتا کہ کوئی اس طرح کے حالات کا سامنا کر ے۔ اس لیے وہ قتل وقتال سے سختی کے ساتھ منع کر تا ہے۔
    انسانی جان کی حفاظت کے لیے اسلام فقط اخلاقی طریقہ ہی اختیار نہیں کرتابلکہ سزا کے ذریعہ بھی اس کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ انسان قتل کی سخت سزا متعین کی گئی ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق قاتل کی سزا قتل ہے بشرطیکہ مقتول کے ورثا ءمعاف نہ کردیں۔یعنی اگر کسی نے انسان کو قتل کیا تو بدلہ میں اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ بظاہر یہ انتہائی سخت سزا ہے جس پر بعض اسلام سے عصبیت رکھنے والے لوگ اعتراض بھی کر تے ہیں مگر نتیجہ کے لحاظ سے یہ سزا در اصل نوع انساں کے لیے مفید ہے اور ان کی جانوں کے تحفظ اور امن وسکون کی بقاءکی ضامن ہے۔ دیکھنے میں آرہا ہے کہ وہ ممالک جہاں پر قتل کی سزا قتل نہیں ہے ، وہاں قتل کی وارداتوں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ، اس کے برعکس جن مقامات پر قاتل کی سزا اسلامی قانوں کے مطابق ہے ، وہاں قتل کے واقعات کی تعداد نا کے برابر ہے۔ گویا کہ اس سخت سزامیں انسان کے تحفظ کا راز مضمر ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس قدر کوششوں کے باوجود بھی فی زمانہ اسلام کو تاریک اور شدت پسند کہاجا رہا ہے ، جب کہ اس کی تعلیمات امن کے قیام کا مو ¿ثر ترین ذریعہ ہیں۔انسانی جانوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اسلام کی مو ثر کن تعلیمات اور جامع نظام دستور اس بات کا متقاضی ہے کہ پورے طور پر مسلمان اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں بسائیں اور ان حقوق کی پابندی کریں جن کو اسلام نے متعین کیا ہے۔ مسلم معاشرے کے لیے عجیب بات یہ ہے کہ جس شے سے اسلام نے سختی سے روکا ہے ، اس کی اکا دکا وارداتیں مسلمانوں میں ہوتی رہتی ہیں جو معاشرہ میں فساد کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان قتل کے ارتکاب سے تحفظ کے لیے کوششیں کریںتاکہ انہیں قیامت کے روز اللہ کے حضور شرمندگی کا سامنا نہ کر نا پڑے۔

٭٭٭


Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!