ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

حادثاتی موت،متوقع نقصانات اور مصیبتوں سے محفوظ رہنے کے نبوی نسخے

حادثاتی موت،متوقع نقصانات اور مصیبتوں سے محفوظ رہنے کے نبوی نسخے

از:عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)

    دکھ ہو یا سکھ ہمیں انفرادی اور اجتماعی ہر اعتبار سے پوری امت کو یکساں طور پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے،مصیبتوں اور مشکلات کے وقت اللہ کی جانب دوڑنے والے کو اللہ تعالیٰ پناہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑانے والے کو اپنی تحویل میں لے کر اس کی مشکل کشائی فرماتا ہے۔کچھ سلف صالحین کا کہنا ہے کہ:”کسی بھی مصیبت کے آنے پر حسن ظن رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ختم فرما دے گا۔تنگی و ترشی سے بچاو ¿ اور خوف و خطر سے نجات کا ذریعہ محض بشری طاقت کے تحت اپنائے جانے والے اسباب نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں ذریعہ نجات یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اور صحیح عقیدہ کو کتاب و سنت کی روشنی میں مضبوطی سے تھاما جائے کیونکہ یہ قانونِ الٰہی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو تکلیفیں دیتا ہی اس لیے ہے کہ بندے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے ناتا جوڑیں۔
     احادیث میں سورج گرہن کے وقت حضورﷺ نے دعا، تکبیرات، نماز اور صدقہ دینے کا حکم دیا اس پر ابن دقیق تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:” یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خوف و خطر کے وقت متوقع نقصانات سے بچنے کیلئے صدقہ کرنا مستحب ہے“۔یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ فوراً نفل نماز ادا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”صبر اور نماز سے مدد چاہو“[البقرة: 45]اللہ تعالیٰ کا ناقابل ترمیم قانون اور ایسا وعدہ ہے جو کہ تبدیل نہیں ہو سکتا کہ کشادگی اور فراخی تکلیف شدید اور سنگین ہونے پر مل ہی جاتی ہے بشرطیکہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اسی کے سامنے گڑگڑائیں، اس کیلئے شواہد کے طور پر مسلمانوں کے انفرادی، ملی اور ملکی سطح کے بے شمار تاریخی واقعات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :”تم فرماو اللہ تمہیں نجات دیتا ہے ۔“[الا نعام : 64]
     اسی طرح حضور اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی عادت بنانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ تمام مشکلات رفع اور ہر پریشانی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، نیز اس پر اتنی نعمتیں برساتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔دکھ درد میں پھنسے ہوئے شخص، پریشانیوں میں گھرے ہوئے شخص ، اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی و انکساری کرو، صرف اسی کی سامنے جھکو، اپنے تمام تر معاملات اسی کے سپرد کر دو، وہی حالات سازگار بنا سکتا ہے، اسی کے ہاتھ میں تمام امور کی باگ دوڑ ہے، وہی انتہائی مضبوط، بڑا اور بلند ہے، وہی دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا سکتا ہے، وہی خوشحالی کو دوام اور بدحالی کو رام کر سکتا ہے۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نسبوںکو یا درکھو جس سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو کیونکہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا خاندان میں محبت، مال میں کثرت، اور عمر میں برکت عطا کرتا ہے۔ ( ترمذی شریف) معلوم ہواکہ ہمیں اپنے رشتہ داروں کے حوالے سے معلومات رکھنی چاہیے کہ کون رشتہ میں آتا ہے؟ کون کہاں رہتا ہے؟ ہمارے آبا ءو اجداد کون تھے؟ یہ سب جاننا بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرنا ہے۔ آج ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی نہیںبتاتے کہ ہمارے کتنے رشتے دار ہیں اور کہاں کہاں ہیں اور کیا کیا کر رہے ہیں؟ رشتہ داروں سے ملاقات اور ان سے حسن سلوک کے سبب محبت پیدا ہوتی ہے اور اللہ عزوجل حسن سلوک کی وجہ سے مال میں کثرت اور عمر میں برکت عطا فرمائے گا۔نہایت ہی معذرت کے ساتھ تحریر کرتا ہوں کہ اگر غربت کی وجہ سے ہمارے رشتہ دار کا رہن سہن اچھا نہ ہو اور چہرے کا خدو خال نیز علمی مقام بلند نہ ہو تو ہم اس کو اپنا رشہ دار ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کا تعارف کراتے ہیں اور نہ اس کو عزت دیتے ہیں۔ یا د رکھیں! ان کی حق تلفی سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچے گی اور ان کی ناراضگی کے سبب مولیٰ عزوجل ناراض ہوگا۔ لہٰذا خدارا، رشتہ دار خواہ کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نہ ہو، اگر مسلمان ہے تو ضرور ا س کے ساتھ ہمیں حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔

     حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص یہ چاہے کہ اس کی عمر میں زیادتی اور اس کی رزق میں کشادگی کر دی جائے اور اس کو بُری موت سے محفوظ کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔(الترغیب و الترہیب جلد دوم ص278) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:بیشک صدقہ اور صلہ رحمی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ عمر میں زیادتی فرما تا ہے، بری موت سے حفاظت فرماتا ہے اور دُکھ، مصیبت دور فرماتا ہے۔ (الترغیب و الترہیب جلد دوم ص278)صدقہ اور صلہ رحمی کے عوض میں عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور بری موت سے حفاظت کے ساتھ، دکھ اور مصیبت کی دوری کا علاج بھی ہے۔ پتہ چلا کہ عمل ایک ہے لیکن فوائد بے شمار۔ آج ہی عہد کر لو کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلو ک کیا کریں گے۔ ربِّ قدیر ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!