NotesUGC NET URDUUrdu Nazm

Aasar-E-Salf Ismail Meerthi

Khuda ki Sanat Ismail Meerthi

مثمن
مشعر کیفیت قلعہ اکبر آباد موسوم بہ آثار سلف

یہ ایک طویل نظم ہے ۔اس میں ستر بند ہیں۔ اسماعیل میرٹھی نے اپنے معاصرین شعرا کی روش سے ہٹ کر اس نظم کے لیے مسدس کے بجائے’مثمن‘ کی ہیئت پسند کی ہے۔
یہ نظم تنوعِ موضوعات کے لحاظ سے اسماعیل میرٹھی کا قابل قدر کارنامہ ہے۔ یہ نظم ’قلعہ اکبرآبادی‘ سے متعلق ہے۔ اسماعیل میرٹھی نے آگرے میں بہ سلسلۂ ملازمت طویل مدت گذاری۔ قلعہ اکبرآباد کو دیکھ کر ان کے ذہن میں جو تأثرات مرتب ہوئے اصل مقصود انھیں کا بیان ہے۔ اس نظم میں جہاںدورِ اکبری کا ذکر ہے وہیں ہندوستان کی قدیم تاریخ اور دولت ایران کی پرانی تاریخ کے اشارات بھی ملتے ہیں۔بکرم ،بھوج ،ارجن ،کسریٰ سکندر، جمشید وغیرہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

 

یارب! یہ کس مشعلِ کشتہ کا دھواں ہے
یا گلشنِ برباد کی یہ فصل خزاں ہے
یا برہمی بزم کی فریاد و فغان ہے
یا قافلۂ رفتہ کا پس خیمہ رواں ہے
ہاں دور گزشتہ کی مہابت کا نشاں ہے
بانی عمارت کا جلال اس سے عیاں ہے
اڑتا تھا یہاں پرچم جسم جا ہی اکبر
بجتا تھا یہاں کوسِ شہنشاہی اکبر

باہر سے نظر ڈالئے اس قلعہ پہ یک چند
برپا ہے لبِ آبِ جمن صورتِ الوند
گویا کہ ہے اِک سورما مضبوط تنومند
یا ہند کا رجپوت ہے یا ترُکِ سمرقند
کیا بارۂ سنگین کا پہنا ہے قزاگند
رینی کا قزاگند پہ باندھا ہے کمر بند
مسدود ہے خندق سے رہِ فتنۂ و آشوب
اربابِ تمرّد کے لیے بُرج ہیں سرکوب

تعمیرِ قلعہ بھی البتہ ہے موزوں
پر شوکت و ذی شان ہے اس کا رخِ بیروں
کی ہے شعرا نے صفتِ طاق فریدوں
معلوم نہیں اس سے وہ کمتر تھا کہ افزوں
گو ہم سر کیوں ہے نہ ہم پلّۂ گردوں
محراب کی ہیئت سے ٹپکتا ہے یہ مضموں
پیلانِ گراں سلسلہ با ہودجِ زرّیں
اِس در سے گزرتے تھے بصدر ونق و تزئیں

اکبر سا کبھی مخزنِ تدبیر یہاں تھا
یا طنطنۂ دورِ جہاں گیر یہاں تھا
یا شاہِ جہاں مرجعِ وقیر یہاں تھا
یا مجمعِ ذی رتبہ مشاہیر یہاں تھا
القصہ کبھی عالمِ تصویر یہاں تھا
دنیا سے سوا جلوۂ تقدیر یہاں تھا
بہتا تھا اسی کاخ میں دولت کا سمندر
تھے جشنِ ملوکانہ اسی قصر کے اندر

وہ قصرِ معلّی کہ جہاں عام تھا دربار
آئینہ نمط صاف ہیں جس کے درو دیوار
اور سقفِ زر اندود ہے مانندِ چمن زار
اور فرش ہے مرمر کا مگر چشمۂ انوار
اب بانگِ نقیب اس میں نہ چاؤش کی للکار
سرہنگِ کمر بستہ نہ وہ مجمعِ حضّار
کہتا ہے کبھی مرکزِ اقبال تھا میں بھی
ہاں !قبلہ گہہ عظمت و اجلال تھا میں بھی

جب تک کہ مشیت کو مراوقر تھا منظور
نافذ تھا زمانہ میں مری جاہ کا منشور
شاہانِ معاصر کا معین تھا یہ دستور
کرتے تھے سفیرانِ ذوی القدر کو مامور
تامیری زیارت سے کریں چشم کو پرنور
آوازہ میری شان کا پہنچا تھا بہت دور
اکنافِ جہاں میں تھا مراد بدبہ طاری
تسلیم کو جھکتے تھے یہاں ہفت ہزاری

وہ چتر وہ دیہیم وہ سامان کہاں ہیں
وہ شاہ وہ نوئین، وہ خاقان کہاں ہیں
وہ بخشتی و دستور ، وہ دیوان کہاں ہیں
خدّام ادب اور وہ دربان کہاں ہیں
وہ دولتِ مغلیہ کے ارکان کہاںہیں
فیضی و ابوالفضل سے اعیان کہاں ہیں
سنسان ہے وہ شاہ نشیں آج صدا افسوس
ہوتے تھے جہاں خان و خوانین زمیں بوس

وہ بار گہہ خاص کی پاکیزہ عمارت
تاباں تھے جہاں نیّر شاہی وو زارت
بڑھتی تھی جہاں نظم و سیاست کی مہارت
آتی تھی جہاں فتح ممالک کی بشارت
جوں شحنۂ مغرول پڑی ہے وہ اکارت
سیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت
کہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں کا
تھا مخزنِ اسرار یہی تاج وروں کا

اورنگ سیہ رنگ جو قائم ہے لبِ بام
بوسہ جسے دیتا تھا ہر اک زبدۂ عظام
اشعار میں ثبت اس پہ جہاں گیر کا ہے نام
شاعر کا قلم اس کی بقا لکھتا ہے مادام
پر صاف نظر آتا ہے کچھ اور ہی انجام
سالم نہیں چھوڑے گی اسے گردش ایام
فرسودگی دہر نے شق اب تو کیا ہے
آیندہ کی نسلوں کو سبق خوب دیا ہے

ہاں کس لئے خاموش ہے او! تختِ جگر ریش
کس غم میں سیہ پوش ہے ؟ کیا سوگ ہے درپیش
کملی ہے تیرے دوش پہ کیوں صورت درویش
جوگی ہے ترا پنتھ کہ صوفی ہے ترا کیش
بولا کہ زمانہ نے دیا نوش کبھی نیش
صدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش
صدقے کبھی مجھ پر گہر و لعل ہوئے تھے
شاہانِ معظم کے قدم میں نے چھوئے تھے

وہ رنگ محل بُرج مثمن کا وہ انداز
صنعت میں ہے بے مثل تو رفعت میں سرافراز
یاں مطرب خوش لہجہ کی تھی گونجتی آواز
گہہ ہند کی دُھرپت تھی کبھی نغمۂ شیراز
اب کون ہے بتلائے جو کیفیت آغاز
زنہار کوئی جاہ و حشم پر نہ کرے ناز
جن ناروں کے پر تو سے تھا یہ بُرج منور
اب ان کا مقابر میں تہ خاک ہے بستر

اس عہد کا باقی کوئی ساماں ہے نہ اسباب
فوارے شکستہ ہیں تو سب حوض ہیں بے آب
وہ جام بلوریں ہیں نہ وہ گوہر نایاب
وہ چلمنِ زر تار نہ وہ بسترِ کمخواب
ہنگامہ جوگزرا ہے سوافسانہ تھا یا خواب
یہ معرضِ خدّام تھا وہ موقفِ حجّاب
وہ بزم نہ وہ دور نہ وہ جام نہ ساقی
ہاں طاق در واق اور دروبام ہیں باقی

مستور سرا پردہ عصمت میں تھے جو گل
سودِ و دۂ ترک اور مغل ہی سے نہ تھے کل
کچھ خیری فرغانہ تھے کچھ لالہ کابل
پھر مولسری ہند کی ان میں گئی مل جل
تعمیر کے انداز کو دیکھو بہ تامل
تاتاری وہندی ہے بہم شان و تجمل
سیاح جہاں دیدہ کے نزدیک بہ تعمیر
اکبرؔ کے خیالات مرکب کی ہے تصویر

درشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیاد
ہوتی تھی تُلادان میں کیا کیا دہش و داد
وہ عدل کی زنجیر ہوئی تھی یہیں ایجاد
جو سمع شہنشاہ میں پہنچاتی تھی فریاد
وہ نور جہاںؔ اور جہاں گیرؔ کی اُفتاد
اس کاخ ہمایوں کو بہ تفصیل سے سب یاد
ہر چندکہ بے کار یہ تعمیر پڑی ہے
قدر اس کی مورّخ کی نگاہوں میں بڑی ہے

اب دیکھئے وہ مسجد و حمام زنانہ
وہ نہر، وہ حوض اور وہ پانی کا خزانہ
صنعت میں ہر اک چیز ہے یکتا و یگانہ
ہے طرز عمارت سے عیاں شان شہانہ
کیا ہو گئے وہ لوگ کہاں ہے وہ زمانہ؟
ہر سنگ کے لب پر ہے غم اندوز ترانہ
چغتائیہ گلزار کی یہ فصلِ خزاں ہے
ممتاز محل ہے نہ یہاں نور جہاں ہے

وہ قصر جہاں جو دھپوری رہتی تھی بائی
تھی دولت و ثروت نے جہاں دھوم مچائی
دیکھا اسے جاکر تو بری گت نظر آئی
صحنوں میں جمی گھاس تو دیواروں پہ کائی
گویا درودیوار یہ دیتے ہیں دہائی
ممکن ہیں طوفان حوادث سے رہائی
جس گھر می تھے نسریں و سمن یا گل و لالہ
اب نسل ابابیل میں ہے اس کا قبالہ

وہ مسجدِ زیبا کہ ہے اس بزم کی دلہن
خوبی میں یگانہ ہے و لے سادۂ و پُر فن
محراب در و بام ہیں سب نور کا مسکن
موتی سے ہیں الان تو ہے دود سا آنگن
کافور کا تودہ ہے کہ الماس کا معدن
یا فجر کا مطلع ہے ، کہ خود روز ہے روشن
بلور کا ہے قاعدہ یا نور کا ہے راس
باطل سے ہوئی جاتی ہے یاں قوتِ احساس

ہاتھوں نے ہنرمند کے اک سحر کیا ہے
سانچہ میں عمارت کو مگر ڈھال دیا ہے
یاتار نظر سے کہیں پتھر کو سیاہے
مرمر میں مہ و مہر کا سا نور و ضیا ہے
گو شمع نہ فانوس نہ بتی نہ دیا ہے
ہاں ! چشمۂ خورشید سے آب اس نے پیا ہے
چلئے جو یہاں سے تو نظر کہتی ہے فی الفور
نظارہ کی دو مجھ کو اجازت کوئی دم اور

مسجد نے اشارہ کیا پتھر کی زبانی
اس قلعہ میں ہوں شاہجہاں کی میں نشانی
کچھ شوکتِ ماضی کی کہی اس نے کہانی
کچھ حالتِ موجودہ بایں سحر بیانی
ان حجروں میں ہے شمع نہ اس حوض میں پانی
فواروں کے دل میں بھی ہے اک درد نہانی
تسبیح نہ تہلیل نہ تکبیر و اذاں ہے
بس گوشۂ تنہائی ہے اور قفل گراں ہے

جمگھٹ تھا کبھی یاں و زر او امرا کا
مجمع تھا کبھی یاں صلحاو علما کا
چرچا تھا شب و روز یہاں ذکر خدا کا
ہوتا تھا ادا خطبہ سدا حمد و ثنا کا
ایک قافلہ ٹھہرا تھا یہاں عزّ و علا کا
جو کچھ تھا ، گزر جانے میں جھونکا تھا ہوا کا
ہیں اب تو نمازی میرے باقی یہی دو تین
یا دھوپ ہے یا چاندنی یا سایہ مسکیں

وہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و لیالی
جو واقعہ حسّی تھا سو ہے آج خیالی
ہر کو شک و ایوانِ ہر اک منزل عالی
عبرت سے ہے پر ااورمکینوں سے ہے خالی
آقا نہ خداوند، اہالی نہ موالی
جز ذاتِ خدا کوئی نہ وارث ہے نہ والی
یہ جملہ محلات جو سنسان پڑے ہیں
پتھر کا کلیجہ کئے حیران کھڑے ہیں

جب کندہوئی دولتِ مغلیہ کی تلوار
اور لوٹ لیا جاٹ نے ایوان طلاکار
تب لیک جو تھا لشکر انگلش کا سپہدار
افواج مخالف سے ہوا بر سر پیکار
یہ بارۂ و برج اور یہ ایوان یہ دیوار
کچھ ٹوٹ گئے ضرب سے گولوں کی نہ ناچار
ہے گردش ایام کے حملوں کی کسے تاب
پھر قلعۂ اکبر ہی میں تھا کیا پرِ سُرخاب

آخر کو لٹیروں کی شکستہ ہوئی قوت
اونچا ہوا سرکار ک اقبال کا رایت
لہرانے لگا پھر عَلَم امن و حفاظت
آثار قدیمہ کی لگی ہونے مرمت
یہ بات نہ ہوتی تو پہنچتی وہی نوبت
دیوار گری آج ، تو کل بیٹھ گئی چھت
حُکام زماں کی جو نہ ہوتی نگرانی
رہ سکتی نہ محفوظ یہ مغلیہ نشانی

یہ ارباب فرد چشم بصیرت سے کریں غور
اکبر کی بنا اس سے بھی پایندہ ہے اک اور
سردی کی جفا جس پہ نہ گرمی کا چلے جور
ہر چند گزر جائیں بہت قرن بہت دور
برسوں یونہیں پھرتے رہیں برج حمل و نور
اس میں نہ خلل آئے کسی نوع کسی طور
انجینئروں کی بھی مرمت سے بری ہے
وہ حصنِ حصین کیا ہے؟ فقط ناموری ہے

او اکبرِ ذیجاہ! تیری عزت و تمکیں
محتاج مرمت ہے نہ مستلزم تزئیں
کندہ ہیں دلوں میں تری الفت کی فرا میں
ہے تیری محبت کی بنا اک دژ روئیں
گو حملۂ بے سود کرے بھی کوئی کم بیں
زائل نہیں ہونے کی ترے عہد کی تحسیں
پشتوں سے رعایا میں بہ آئین ِ وراثت
قائم چلی آتی ہے تیرے نام کی عظمت

بکرم کی سبھا کو تیری صحبت نے بھلایا
اور بھوج کا دورہ تری شہرت نے بھلایا
ارجن کو تری جرأت و ہمت نے بھلایا
کسریٰ کو ترے دور عدالت نے بھلایا
اسکندرؔ و جمؔ کو تری شوکت نے بھلایا
پچھلوں کو غرض تیری عنایت نے بھلایا
آتے ہیں زیارت کو تو اب تک ہے یہ معمول
زائر تری تربت پہ چڑھا جاتے ہیں دو پھول

ہوکہنہ و فرسودہ تراقلعہ تو کیا غم
شہرت ہے تیرے نام کی سو قلعوں سے محکم
پھرتا ہے ہر اِک فرقہ محبت کا تری دم
لکھتے ہیں مورّخ بھی تجھے اکبرؔ اعظم
مرتبہ ہے ترا ہند کے شاہوں میں مسلم
یہ فخر ترے واسطے زنہار نہیں کم
گو خاک میں مل جاے ترے عہد کی تعمیر
ہے کتبۂ عزت ترا ہر سینہ میں تحریر

ہاں ! قوم ک نو عمر جوانو ادھر آؤ
ہے دیدۂ بینا تو اسے کام میں لاؤ
آثار صنادید کی عینک کو لگاؤ
عبرت کی نگاہوں کو پس و پیش پھراؤ
راہِ طلب و شو ق میں اک شمع جلاؤ
گنجینۂ اعزاز کو پانا ہے تو پاؤ
یہ نقش و نگارِ درو دویوار شکستہ
دیکھو! تمہیں دکھلاتے ہیں آیندہ کارستہ

اسلاف نے ملکوں پہ اگر کی تھی چڑھائی
یاکاخِ حکومت کی تھی بنیاد اٹھائی
یا طرح کئے کو شکِ سیمین و طلائی
یا بحر میں کشتیٔ تجارت تھی چلائی
یا کشورِ تہذیب میں کی قلعہ کشائی
کس برتے پہ یہ کام تھے آخر میرے بھائی
جب بحر مصائب کو شنا کرکے ہوئے پار
تب دہر مخالف بھی ہوا غاشیہ بردار

عزت کی ملی تھی انھیں جاگیردوامی
دولت کے طرفدار تھے اور دین کے حامی
فصلت میں خوشامد تھی نہ عادت میں غلامی
رسموں میں خرابی تھی نہ اطوار میں خامی
گر فہم و فراست کی مجالس میں تھے نامی
تدبیر ممالک میں تھے وہ صدر گرامی
گر فتح و ظفر میں تھے سکندر سے زیادہ
تھے دانش و حکمت میں ارسطو کے بھی دادہ

کیاکیا طلبِ علم میں کرتے تھے جگر خوں
لیلیٰ تھا اگر علم تو وہ لوگ تھے مجنوں
کچھ بو علیؔ سینا ہی نہ تھا رشک فلاطوں
بہتوں نے کدایا یوں ہی تحقیق کا گلگوں
مدت کی کہانی ہے اگر سیرت ماموں
تاریخ میں دیکھو سببِ مرگ ہمایوں
اکبرؔ بھی تھا آخر اسی تہ جرعہ کا مخمور
تھا فیضیؔ علامہ اسی کام پہ مامور

یہ کہنا عمارات کہ ہیں وقف تباہی
اسلاف کے اوصاف پہ دیتی ہیں گواہی
صرف اصل و نسب ہی پہ نہ تھے اپنے مباہی
مکتب میں تھے استاد و ریاضی و الٰہی
میدان مساعی میں تھے اک مرد سپاہی
زیبا تھا انھیں چتر جہاں بانی و شاہی
کنیاتے تھے محنت سے نہ آلام سے تھکتے
کوشش کی گھٹا میں تھے وہ بجلی سے کڑکتے

وہ عیش کے مملوک تھے نے بندۂ راحت
گلگشت چمن زار تھی گویا انھیں عزت
برداشت جفا کرتے تھے سہتے تھے صعوبت
اوروں کے بھروسے پہ نہ کرتے تھے معیشت
دنیا کے کسی کام میں ہیٹی نہ تھی ہمت
بے غیرتی زنہار نہ تھی ان کی جبلت
ہمت میں تھے شاہین تو جرأت میں تھے شہباز
عزت کی بلندی پہ کیا کرتے تھے پرواز

وہ صولت و سطوت میں تھے جوں شیر نیستاں
عزت کے لیے جان کیا کرتے تھے قرباں
تھا انجمن عیش سے خوشتر انھیں میداں
محنت کے تھے بووے نہ مشقت سے گریزاں
دشوار تھی بے حرمتی اور ننگ مگر ہاں
آسان تھی تیرہ کی انی، تیر کا پیکاں
خیرات کے ٹکڑے پہ نہ گرتے تھے وہ حاشا
تھا نعل بہا ان کو یہ دولت کا تماشا

وہ کعبۂ مقصود تھے یا قبلۂ حاجات
کس منہ سے بزرگوں پہ کریں فخر و مباہات
سر اپنے گریباں میں ذرا ڈالئے ہیہات
اوصافِ اضافی سے نہیں کچھ شرف ذات
تلوار میں جب کوئی اصالت کی نہ ہوبات
گاہک تو نہ پوچھے ، یہ کس کا ن کی ہے دھات
بندوق دمِ صید گر اچھی نہ چلی ہو
مردود ہے گو لندن و پیرس میں ڈھلی ہو

دل اپنی ستایش سے نہ بہلائیے حضرت
اس راہ میں دھوکا نہ کہیں کھائیے حضرت
شیخی کو بہت کام نہ فرمائیے حضرت
شعلہ کو تعلی کے نہ بھڑکائیے حضرت
آبا کی بزرگی پہ نہ اترائیے حضرت
یہ گو ہے یہ میدان ، ادھر آئیے حضرت
اب بھی تو وہی خیر سے نسلِ شرفا ہے
آخر سبب اس نیک سر انجام کا کیا ہے

کیوں قوم کی حالت میں تنزل کا پڑا ڈھنگ
کیوں انجمن عیش پرستی کا جما رنگ
کیوں تیغ شرافت کوہ نائت کا لگا زنگ
مغلوب سفاہت ہوئے کیوں دانش و فرہنگ
روباہ بنے کس لیے شیرانِ صفِ جنگ
کیوں بارگیِ عزم ہو! دونِ خرِلنگ
کیوں ٹوٹ گئے بازِ عمل کے پرو بازو
کیوں ذردۂ عزت پہ لگا بولنے اُلّو

جڑپہلے زمانہ میں جمی جیسے شجر کی
لذت ہمیں چکھنی ہے ضرور اس کے ثمر کی
بے شک ہے یہ پاداش اسی شور کے شر کی
ہاں مستحق اولاد ہے میراث پدر کی
تفتیش کرو دوستو! اخبار و سیر کی
فہرست مرتب کرو ہر عیب و ہنر کی
دو ڈیڑھ صدی پہلے سے جو اپنا ڈھچر تھا
انصاف سے دیکھو اسے کیا پوچ و لچر تھا

جو راہ نمائی کو چلے آپ تھے گمراہ
حالات سے واقف نہ مقامات سے آگاہ
شیروں کی جگہ جمع ہوا گلۂ روباہ
ہر کرمکِ شب تاب بنا مدعی ماہ
ہر شخص کو تھی خود غرضی سے طلب جاہ
ویسے ہی امیرالامرا جیسے شہنشاہ
رسم حسد و بغض و عداوت ہوئی تازہ
آخر کو اٹھا دولت و عزت کا جنازہ

وہ غور کے غزنین کے دلیرانِ ظفر مند
وہ شاہ سوارانِ بخارا و سمرقند
جو ہند کے خطے میں ہوئے خاکے کے پیوند
جی اٹھتے دوبارہ اگر ان میں سے تنے چند
ہاںوہلۂ اول میں تو ہوتے ہی وہ خردمند
پھولے نہ سماتے کہ ہمارے ہیں یہ فرزند
پر دیکھتے جب ان کے برے فعل برے قول
جا بیٹھتے قبروں ہی میں پڑھتے ہوئے لاحول

کیا حال تھا حضراتِ ملوک اور امرا کا
انبوہ تھا بیہودہ شاغل کی ہلاکا
یا فوجِ کنیزوں کی تھی اِک قہر خدا کا
یا بولتا طوطی تھا کسی خواجہ سراکا
یا شور خوشامد کا تھا یا مدح و ثنا کا
تھا غول گویوں کا ، تو جمگھٹ شعرا کا
سفلے تھے مشیر اور مصاحب تھے چھچھورے
وہ عقل ے دشمن تو حضور ان سے بھی کورے

کاسد ہوا بازار ہر اِک طرز عمل کا
عالم نظر آتا ہے بتر آج سے کل کا
مفلس ہیں تو پیشہ ہے فریب اور دغل کا
اندیشہ نہیں کچھ اور انھیں ایماں کے خلل کا
مدت سے گیا ڈھانچ بگڑ اہل دول کا
چکھا ہے مزہ خوب ہی اسراف کے پھل کا
اب کوئی اگر وہ دولتِ قومی کی کرے جانچ
ٹٹ پونجئیے البتہ نکل آئیں گے دس پانچ

اب نام کو ہم جو گروہِ شرفا سے
سو حالتِ افلاس میں جینے سے خفا ہے
یا شامت اعمال سے پامال جفا ہے
کچھ حسن معیشت نہ کہیں صدق وصفا ہے
کچھ دولت دنیا ہے تو بے مہر و وفا ہے
کچھ دین کا چرچا ہے تو وہ روبہ قفا ہے
چھائے گی تنزل کی ابھی ہم پہ گھٹا اور
ہم اور ہوا میں ہیں ، زمانہ کی ہوا اور

جو لوگ یہ سمجھے کہ ہیں صرف اپنے لئے ہم
اغراض و مقاصدہیں فقط اپنے مقدم
یاروں کی انھیں فکر نہ غیروں کا انھیں غم
ہمدرد عشیرت ہیں نہ ہمسایوں کے ہمدم
وہ فہم و فراست میں بہایم سے بھی ہیں کم
یا سنگ ہیں یا خشت ہیں جائیں جہنم
ان مردہ دلوں سے تو کرو قطع نظر بس
لے ڈوبیں گے تم کو بھی چلے ان کا اگر بس

جو قوم کے اوصاف تھے ، سو ان میں سے اکثر
آپس کی کشاکش میں گلا گھٹ کے گئے مر
غمخواری و احسان و مروت کا لُٹا گھر
انصاف کا اور دین و دیانت کا کٹا سر
نیکوں سے ہوئے بد ، تو بدوں سے ہوئے بدتر
کاشانۂ دولت کی جگہ رہ گئے چھپّر
جو کام تھے یاروں کے سوگردن زدنی تھے
خود اپنے لیے مستعد بیخ کنی تھے

جرأت تھی سو آپس کی عداوت میں ہوئی صرف
قوت تھی سو رشک اور رقابت میں ہوئی صرف
شوکت تھی ، سو خود بینی و نخوت میں ہوئی صرف
فرصت تھی سو بیکاری و غفلت میں ہوئی صرف
عزت تھی، سو افلاس و فلاکت میں ہوئی صرف
دولت تھی سو عیاشی و عشرت میں ہوئی صرف
اس وقت ہمیں عاقبت الا ہوا ہوش
جب رہ گئے ہم لوگ بیک بینی و دو گوش

مدت سے زمانہ میں ترقی کا پھنکا صور
عالم میں بجا اور ہی تحقیق کا طنبور
آفاق میں پھیلا نئی ایجاد کا منشور
خورشید برآمد ہوا بھاگی شبِ دیجور
ہم دے کے ڈھئی کلبۂ اخراں میں بدستور
سوتے رہے غفلت میں پڑے بے خود و مخمور
تاوقت کھلی آنکھ تو حیراں ہیں اب ہم
ہم کون ہیں کیا چیز ہیں اے وائے عجب ہم

ہم چاہتے ہیں عیش بھی اور ناموری بھی
دولت بھی ہمیں چاہئے اور بے ہنری بھی
اعزاز بھی مطلوب ہے بیہودہ سری بھی
آوارگی منظور ہے اور راہبری بھی
مقصود رفو بھی ہے مگر جامہ دری بھی
گر پستی ہمت ہے تو عالی نظری بھی
یہ بات تو ہوگی نہ ہوئی ہے کبھی آگے
پھرتے ہیں محالات کے پیچھے یونہیں بھاگے

خیر اب کوئی تدبیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
کفارۂ تقصیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
کچھ چارۂ تاخیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
اس حال کو تغئیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
فریاد میں تاثیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
اس خواب کی تعبیر بھی ہے یا کہ نہیں ہے
کچھ بھی نہیں دشوار اگر ٹھان لوجی میں
گھنٹوں میں ہو وہ کام جو ہوتا ہو صدی میں

بے کوشش و بے جہد ثمر کس کو ملا ہے
بے غوطہ زنی گنج گہر کس کو ملا ہے
بے خون پئے لقمۂ ترکس کو ملا ہے
بے جور کشی تاجِ ظفر کس کو ملاہے
بے خاک کے چھانے ہوئے زر کس کو ملا ہے
بے کاوش جاں علم و ہنر کس کو ملا ہے
جو رتبۂ والا کے سزاوار ہوئے ہیں
وہ پہلے مصیبت کے طلبگار ہوئے ہیں

کوشش ہی نے اجرام سماوی کو ہے تولا
کوشش ہی نے طبقات زمیں کو ہے ٹٹولا
کوشش ہی نے رستہ نئی دنیا کا ہے کھولا
کوشش ہی نے گوہر ہے نہ بحر سے رولا
کوشش ہی کا طوطی ہے سدا دہر میں بولا
کوشش ہے غرض طرفہ طلسمات کا گولا
قدرت نے فتوحات کی رکھی ہے یہی راہ
سعی اپنی طرف سے ہو تو اتمام من اللہ

ہیں آج کل اسکول کے کمرے صفِ ہیجا
سرمایۂ علم و ہنر و فضل ہے یغما
ہر قوم کا پُرمالِ غنیمت سے ہے کیسا
لیکن تمہیں کچھ سو دو زیاں کی نہیں پروا
کیوں قوم کے اعزاز کی لٹیا کو ڈبویا
کیوں کسبِ کمالات میں تم ہو گئے پس پا
اوروں سے توبود ے نہ تھے مانا کہ تم ایسے
میدان سے کیوں بھاگ گئے نوک دم ایسے

ہر چند کہ دعویٰ تھا تمہیں سیف و قلم کا
تھا فخر تمہیں نسلِ عرب اور عجم کا
لیکن نہ رہا طرز وہ عادات و شیم کا
سیکھا نہ و تیرہ کوئی اربابِ ہمم کا
ناچار ہراِک قوم نے تم کو لیا دھمکا
بے سعی کسی کا بھی ستارہ نہیں چمکا
تم راہِ طلب میں ہو اگر اب بھی شتاباں
ہو کوکبِ عزت اُفق دہر پہ تاباں

اب تک بھی سکت ہے وہی ہدی میں تمہاری
اب تک بھی وہی خوں ہے شرائین میں جاری
افغانی و ترکی و حجازی و تتاری
ایرانی و تورانی و بلخی و بخاری
اے دوستو! ہمت ہی مگر تم نے تو ہاری
اس واسطے بس کر کری شیخی ہوئی ساری
مدّعا علما دفترِ قومی میں ہے خالی
فارابی ؔ و طوسیؔ ہیں نہ رازی و غزالی

تلواروں کا سایہ تھا جنھیں سایہ طوبیٰ
جولان گہہ ہمت تھی جنھیں وسعتِ دنیا
تھا ریگ رواں جن کے لیے بسترِ دیبا
اور خیمۂ اطلس تھا یہی قبّہ خضرا
ہے تم کو اگر ان کے خلف ہونے کا دعویٰ
دکھلاؤ حریفوں کے مقابل ہنر اپنا
ترتیب سے جم جماؤ قرینہ بقرینہ
میدانِ ترقی میں لڑو سینہ بہ سینہ

یہ جنگ نہیں توپ کی یا تیغ و بترکی
اس جنگ میں کچھ جان کی جو کھوں ہے نہ زر کی
یہ جنگ ہے اخلاق کی اور علم وہ ہنر کی
یہ جنگ ہے تحصیل عمل اور نظر کی
اس جنگ میں آسودگی ہے نوع بشر کی
آزادی ہے ملکوں کی تو آبادی ہے گھر کی
یہ جنگ نہیں وضع مروت کی منافی
اس جنگ سے مافات کی ممکن ہے تلافی

ہے جنگ سے مقصود بلندی ارادہ
وہ ہم سے زیادہ ہوں تو ہم ان سے زیادہ
رستہ ہو تعصب کا نہ کینہ کا ہو جادہ
نقشِ حسد و بعض سے افعال ہوں سادہ
دل صاف رہے اور طبیعت بھی کشادہ
اس طور سے حاصل کرو عزت کا و سادہ
گر جوہر ہمت ہے تو سبقت میں کرو کد
نا مردی و مردی قدمے فاصلہ وارد

باقی ہے اگر جوشِ حمیت کا حرارہ
تو معرکۂ علم میں ہو جاؤ صف آرا
جاں ڈال دو ناموس کے قالب میں دوبارا
پیچھے نہ ہٹاؤ قدمِ عزم خدا را
ذلت نہیں ہوتی کبھی مردوں کو گوارا
چمکو فلکِ جاہ پہ تم بن کے ستارا
آبا نے کیا فتح جو بنگال و دکن کو
تسخیر کرو تم عمل و علم کو فن کو

ادنیٰ سا بھی ہر کام ہے اب علم کو محکوم
بے علم ہے جو قوم سو حال اس کا ہے معلوم
دولت سے ہے بیگانہ تو عزت سے ہے محروم
اقوام کمینہ ہیں تو افعال ہیں مذموم
اربابِ ہنر کی کرۂ ارض پہ ہے دھوم
سب حلقہ بگوش ان کے ہیں وہ سب کے ہیں مخدوم
دنیا میں اسی قوم کا گلزار ہے پھولا
جو رکھتی ہے دانش میں ہنر میں یدِ طولا

تم جانتے ہو خوب کہ انسان ہے فانی
فانی ہے بلاشبہ مگر اس کی نشانی
کیا اس کی نشانی ہے سنو میری زبانی
امثال میں مذکور ہے پچھلوں کی کہانی
خوش بخت تھے وہ ، کر گئے جو فیض رسانی
بدبخت تھے مغلوبِ صفاتِ حیوانی
گر تم بھی یوہیں اٹھ گئے حیوان سے رہ کر
آیندہ کی نسلیں تمہیں کیا روئیں گی کہہ کر

پھل خدمتِ قومی ہے اگر نخل ہیں اقوال
تنِ خدمت قومی ہے اگر جامہ میں افعال
جان خدمت ِ قومی ہے اگر جسم ہیں اعمال
ملحوظ رکھو خدمت قومی کو بہر حال
پُر نفع یہ ہی شغل ہے من جملہ اشغال
جو زندۂ جاوید ہیں ان کی ہے یہی چال
پُر الفت قومی سے ہے جن کا رگ و ریشہ
مرنے کو مرتے ہیں پہ جیتے ہیں ہمیشہ

قوت ہے اگر دل میں دماغوں میں ہے طاقت
پہنچاؤ بہم حسنِ بیاں اور طلاقت
اصلاحِ معائب میں کرو صرف لیاقت
دکھلاؤ مریضوں کے مداوا میں خداقت
رکھو نہ غریبوں پہ روا طعنِ حماقت
قوی ضعفا کی نہ کرو ترک رفاقت
کیا دولتِ ہستی ہے پئے نفس پرستی
آباد کرو قوم کی اُجڑی ہوئی بستی

ہے قوم اگر باغ تو تم اس کے شجر ہو
ہے قوم اگر نخل تو تم اس کے ثمر ہو
ہے قوم اگر آنکھ تو تم نورِ بصر ہو
ہے قوم اگر چرخ تو تم شمس و قمر ہو
ہے قوم اگر کان تو تم لعل و گہر ہو
نظارگی ہے قوم ، تو تم مدِّ نظر ہو
موسیٰ بنو اور قوم کو ذلت سے بچاؤ
گو سالۂ غفلت کی پرستش کو چھڑاؤ

او باغِ خزاں دیدہ کے نوخیز منہالو!
اور ساحتِ ہستی کے نئے دوڑنے والو!
مضبوط کرو دل کو طبیعت کو سنبھالو
کچھ دور نہیں ، منزلِ مقصود کو جالو
ہاں مدِّ مقابل بنو ہتھیار نہ ڈالو
میدانِ ترقی کی زمیں سر پہ اٹھا لو
زنہار گوارا نہ کرو ننگِ ہزیمت
موقع ہے ابھی گرم کرو رخشِ عزیمت

غیرت ہو تو گِر کر بھی سنبھلنا نہیں مشکل
جرأت ہو تو نرغہ سے نکلنا نہیں مشکل
ہو صبر تو آفات کا ٹلنا نہیں مشکل
ہو آنچ تو پتھر کا پگھلنا نہیں مشکل
ہمت ہو تو حالت کا بدلنا نہیں مشکل
انجن ہو تو گاڑی کا بھی چلنا نہیں مشکل
گرمی سے کرو پہلے بخارات مہیا
پیدا حرکت ہو تو لگے گھومنے پہیّا

ہمت ہی حرارت ہے وہی ہے حرکت بھی
ہمت ہی سے ہر قوم نے پائی ہے ترقی
گر چیونٹی تیمور کی ہمت نہ بندھاتی
ہتھیار بھی بے کار تھے اور فوج نکمی
ہمت ہے سر انجام مہمات کی کنجی
ہمت ہی حقیقت میں ہے توفیق الٰہی
ہمت ہی بنا دیتی ہے مفلس کو تونگر
ہمت کے سفینہ کا اٹھا دیجئے لنگر

ہمت ہے اگر تم میں تو میدان لیا مار
ڈٹ جاؤ کمر باندھ ک ہُشیار! خبردار!ٍ
اوروں ہی کے گنڈے پہ نہ رہنا کبھی زنہار
ہونے نہ دو اعزاز کے جھنڈے کو نگونسار
لو ہاتھ میں اب تم بھی کوئل پین کی تلوار
اس معرکہ سخت میں مردانہ کرو وار
ہاں قوتِ بازو سے بلا شرکتِ غیرے
آگے کو بڑھو کھولدو نصرت کے پھریرے

قسمت کی برائی ہے نہ تقدیر کا ہے پھیر
خود اپنے ہی کرتوت سے برپا ہے یہ اندھیرا
تحصیل فضائل میں جوانو! نہ کرو دیر
فرصت کو اگر اور مگر میں نہ کرو تیر
بزدل نہ بنو حق نے بنایا ہے تمہیں شیر
کہسار بھی ہو تو اسے کردو زبر و زیر
یلغار کرو علم کے میداں میں عزیزو
آخر تو ہو تم قومِ مسلماں میں عزیزو

جس بستی میں دیکھو کہ نحوست ہے برستی
غالب ہے کہ ہوگی وہ اسی قوم کی بستی
گرتی چلی جاتی ہے ابھی جانبِ پستی
چلتی ہے فضولی کی سدا تیغِ و دوستی
لے دے کے یہی جنس ہے اس دور میں سستی
فاقہ پہ ہے فاقہ مگر اب تک وہی مستی
مل بیٹھ کے اندیشۂ انجام نہ کرنا
روٹی ملے جس کام سے وہ کام نہ کرنا

خیلِ علما کی بھی حمیت ہوئی زائل
تبدیل رذائل سے ہوئے جملہ فضائل
مرتے ہیں مشیخت پے تفاخر پے ہیں مائل
چھپتے ہیں فریقین سے پُر زہر رسائل
لاکھوں ہیں پڑے خنجرِ تکفیر ک گھائل
باعث ہیں جدل کے یہی فقیہہ مسائل
برپا ہے شب و روز یہاں چپقلش ایسی
عالم ہے لقب اور بہم کش مکش ایسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!