ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesNEWS/REPORTS/PROGRAMMES

Documents Correction ke Naam par Rishwat Khori کاغذات درستی کے نام پر ایجنٹس کی لوٹ کھسوٹ شباب پر

کاغذات درستی کے نام پر ایجنٹس کی لوٹ کھسوٹ شباب پر
مخلص خادموں کی حوصلہ افزائی اور رشوت خوروں کو بے نقاب کریں:EMAM

از: عطاءالرحمن نوری (پریسیڈنٹ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن آف مالیگاوں ) 

        این پی آر ، سی اے اے اور این آر سی جیسے مراحل اور قانون کے سبب ہر کوئی اپنے دستاویزات کے حصول اورانھیں درست کرنے میں مگن ہے۔ ایک طرف عوام و خواص کو مذکورہ قوانین کا ڈر ستائے ہوئے ہے تو دوسری طرف جنم داخلے، آدھار کارڈ، پین کارڈ ، راشن کارڈ اور دیگر کاغذات کو جاری کرنے والے اداروں کے ملازمین ، سوشل ورکرس اور ایجنٹس نے لوٹ کھسوٹ کا ماحول گرم کر رکھا ہے۔اس نازک گھڑی کو اکثر افراد بہتی گنگاسمجھ کر ہاتھ دھونا چاہ ر ہے ہیں۔ ان لوگوں کو نہ غریبوں کا خیال ہے اور نہ ہی ان کے قیمتی وقت کا احساس۔پیسہ لینے کے باوجود یہ لوگ اکثرٹہلاتے ہیں اور کاغذات کی جگہ صرف تاریخ دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ہر کام کے لیے مخصوص رقم متعین کر رکھی ہے جیسے : جنم داخلے کے لیے پانچ سو سے تین ہزار روپے، آدھار درستی کے لیے ڈھائی سو، آدھار میں جنم تاریخ درستی کے لیے آٹھ سو، راشن کارڈ کے پندرہ سو وغیرہ۔
        اس وقت ہر جگہ خوف و دہشت کا یہ عالم ہے کہ ایک غریب مزدور ہفتے بھر کی محنت کی کمائی اپنے چند کاغذات درست کرنے کے لیے ان لوگوں کی جھولی میں ڈال دے رہا ہے۔کاغذات بنانے اور درست کرانے کے مراکزکے چند لوگوں سے اگر غریبوں کو نقصان ہے تو چند پیسے والوں کو بہت زیادہ فائدہ بھی۔ پیسے والے افراد ان ایجنٹس کو چند سکے زیادہ دے دیتے ہیں بدلے میں انھیں کہیں بھی قطار میں نہیں لگنا پڑتا ہے، ان کا نمبر پہنچنے سے پہلے لگا دیا جاتا ہے۔ پیسوں کی چمک دمک نے بعض ایجنٹس کی آنکھوں کو ایسا چوندھیا دیا ہے کہ انھیں امیر و غریب کا فرق بھی نظر نہیں آتا۔ لوم مزدور، بیوہ ، یتیم ، غریب ، مفلس ،بزرگ اور امام و موذن سے بھی یہ لوگ حد سے زیادہ پیسہ لے رہے ہیں۔ راقم محنتانہ لینے کے خلاف نہیں ہے، ظاہر ہے انسان بھاگ دوڑ کے کام کرے گا تو اپنا گھر چلانے کے لیے پیسہ تو ضرور لے گا مگر لازمی اور حکومتی فیس سے اتنا زیادہ پیسہ لینا کہ دوسرے کے لیے مشکل کا سبب بن جائے ہر گز درست نہیں۔ اس برائی کے خاتمے کے لیے ائمہ، علما اور مفتیان کرام کو بھی آگے چاہیے۔ 

        ایسا نہیں ہے کہ ہر کوئی حرام خوری ، دھوکہ دہی ، فریب کاری اور رشوت خوری جیسے گھنانے مرض میں مبتلا ہے بلکہ کئی وکلاء، اداروں کے ملازمین، سوشل ورکرس ، رفاہی و فلاحی ذمہ داران اور ایجنٹس عوام و خواص کے دستاویزات کے حصول و درستی کے لیے خاموش محنت کر رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن آف مالیگاں (EMAM)کے ذمہ داران نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی ، سماجی ، ملی اور دینی تنظیموں کے ذمہ داران و اراکین سے گفت و شنید کر کے پیسوں کے لالچیوں کو بے نقاب کیا جائے اور خاموش و مخلص خادموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اس نازک گھڑی میں ہر ایک کو بغیر کسی مفاد اور لالچ کے ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہیے ، یکجہتی و اتحاد کے بل بوتے ہی اس پریشانی کا خاتمہ ممکن ہے ۔
         اگر آپ لوگوں کے ساتھ کسی ایجنٹ نے دھوکہ دہی کی ہے یا آپ کو ٹہلا رہا ہے یا حد سے زیادہ پیسوں کی ڈیمانڈ کر رہا ہے تو آپ سے گذارش ہے کہ اپنے علاقے کے کارپوریٹرس ، دینی ، ملی اور سماجی شخصیات سے رابطہ کریں یا پھر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن آف مالیگاں کے ذمہ داران و اراکین تک اپنی بات پہنچانے کوشش کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!