ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Eid Milad Ke Banner

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بینرز کے ذریعے

قوموں کوعلمی،فکری اورانقلابی پیغامات دینے کی کوشش کریں

https://image.shutterstock.com/image-vector/eid-milad-un-nabi-banner-260nw-1214373013.jpg
از:عطاءالرحمن نوری(ریسرچ اسکالر)مالیگاﺅں
    بحمدہ تعالیٰ!سال بہ سال شہر مالیگاﺅں میں عیدوں کی عید ”عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم “ پراجتماعات، اجلاس، درودوسلام کی محافل، نعتوں کی مجالس، سیرت پر مبنی خطابات ، کتابوں کی اشاعت ، گھروں میں چراغاں، گلی محلوں میں سجاوٹ، چوک چوراہوں پر گیٹ اور بینرز کا نظم بڑھتا جا رہا ہے۔ اُمید قوی ہے کہ امسال بھی انتہائی جوش وخروش کے ساتھ ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جشن کا اہتمام کیا جائے گا۔ بینرز کے متعلق عرض یہ کرنا ہے کہ شہرکا تقریباً ہر ادارہ ، نوجوانوں کا گروپ اور مختلف انجمنیں بینرز کا اہتمام کرتے ہیں ۔ عام طور پر مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ ان کے پاس بینرز کے لیے باقاعدہ کوئی مواد موجود نہیں ہوتا ہے اور وہ حضرات پریس پر جا کر محنتانہ ادا کرکے بینرز بنا لیتے ہیں اور پریس مالکان یا کمپیوٹر پر ڈی ٹی پی کرنے والے حضرات ڈیزائننگ پر محنت تو کرتے ہیں مگر مواد پر نہیں بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ بینرز بنانے کے لیے محض سرکردہ اور بااثر افراد کے فوٹو کے ساتھ جلی حرفوں میں ” عید میلاد مبارک ہو“ یا کوئی شعر لکھ کر بینرزبنا دیتے ہیں اس سبب سے شہر میں صرف ایسے بینرزنظرآتے ہیں جس پر صرف فوٹوز کی بھرمار ہوتی ہیں اور نکتہ چینوں کو نکتہ چینی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس لیے بینرز بنانے والوں سے التماس ہے کہ آپ مفتیان کرام ،علمائے عظام ، قلم کار حضرات سے ملاقات کریں اور امسال ایسے بینرزبنوائے جس کے ذریعے سے اُمت کو اہم پیغام، قرآن واحادیث سے میلاد پر دلائل ، میلاد منانے کے حق میں اسلامی ممالک کے فتاوے، اقوالِ سلف وصالحین ، میلاد کے حوالے سے اکابرین کا طریقہ کار، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت کے مختلف گوشے، ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ظہور پذیر ہونے والے محیرالعقول واقعات، جشن ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتوں، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور جملہ اسلاف کرام کے جشن منانے کا انداز وغیرہ پر مبنی مختلف زبانوں میں بینرز بنوائےں تاکہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر ہرقوم تک خاص پیغامات پہنچیں اور ولادت کے موقع پر آہ وبُکا اور ہرزہ سرائی کرنے والوں کو کسی قسم کا موقع نہ ملے اور انھیں بھی چاہیے کہ ایسے مبارک مہینے میں اُمت میں اختلاف پھیلانے کی بجائے مذکورہ اُمور پر عمل کریں یا کم از کم تلاوت قرآن اوردرودوسلام کی کثرت کریں یا خاموش رہیں تاکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے ہر کوئی مالا مال ہوجائے۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

جب تلک یہ چاند تارے جھلماتے جائیں گے

تب تلک جشن ولادت ہم مناتے جائیں گے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!