ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Few recommendations on the occasion of Eid-ul-Adha

عید قرباں کے موقع پر چند احتیاطی تدابیر، تجاویز اور سفارشات

عید قرباں کے موقع پر چند احتیاطی تدابیر، تجاویز اور سفارشات

از: عطاء الرحمن نوری (ریسرچ اسکالر) مالیگاؤں

قربانی ایک مالی عبادت ہے جو غنی پر واجب ہے۔ خاص جانور کو خاص دن اللہ کے لیے ثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی ہے۔مسلمان، مقیم، مالک نصاب، آزاد پر واجب ہے۔ قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن اور دو راتیں۔ شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز عید کے بعد ہو اور دیہات میں چوں کہ نماز عید نہیں اس لیے صبح صادق سے ہوسکتی ہے۔ ایام نحر کی آمد سے پہلے ہی مسلم علاقوں میں قربانی کے متعلق جوش وخروش دیکھنے ملتا ہے۔ جانوروں کی خریدوفروخت کے لیے جگہ جگہ منڈی نظر آتی ہیں۔ موٹر سائیکل پر چارے کی آمدورفت کا سلسلہ دراز ہوتا ہے۔ پُرکیف سماں ہوتا ہے، ہر خاص وعام عید قرباں کی تیاریوں میں مصروف نظر آتا ہے، جیسے جیسے ایام نحر قریب ہوتے ہیں گہماں گہمی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جہاں اہل ثروت حضرات کے گھروں کے سامنے جانور بندھے نظر آتے ہے تو دوسری طرف ایسے حضرات جن پر قربانی واجب تو ہے مگر وہ مکمل جانور خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ افراد اجتماعی قربانی میں حصہ لے کر مطمئن نظر آتے ہیں۔ بالخصوص شہر مالیگائوں میں سنّت ابراہیمی کی ادائیگی کا اُتساہ قابل دیدولائق تقلید ہوتا ہے۔ مگر اس سنّت کی ادائیگی سے پہلے، ادائیگی کے وقت اور ادائیگی کے بعد بہت سے ایسے نکات ہیں جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ،مسافروں کے لیے ایذا رسانی کاباعث اور پڑوسیوں کے لیے دردِ سر ہوتی ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی۔ ذیل میں چند نکات پیش ہیں تاکہ معاشرہ بدنظمی کا شکار نہ ہو۔

صاف صفائی کا خیال

ہمارے یہاں ثواب کی نیت سے چند دن پہلے ہی قربانی کاجانور خریدلیاجاتاہے،اس امر کی فضیلت پر کسی کو اعتراض بھی نہیں۔جانور کی خوب خاطر داری کی جاتی ہے۔کھلانے پلانے کے معاملات میں اعلیٰ طرفی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ دیکھ ریکھ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے مگر صاف صفائی کونظراندازکردیاجاتاہے۔جانور کا فضلہ اور بچاہواچارہ اسی طرح پڑارَہ جاتاہے جس سے اُٹھنے والی بدبوپڑوسیوں کی تکلیف کا باعث بنتی ہے اور بعض دفعہ جانور کونہلانے کے بعد پانی کو نہ بہانے کی وجہ سے جھگڑاہوجاتاہے یاپڑوسیوں میں اَن بَن ہوجاتی ہے۔بعض مرتبہ فاضل مادہ نالی وگٹر میں ڈال دیاجاتاہے جس کی وجہ سے پانی کی نکاسی متاثرہوتی ہے۔بارش کے دنوں میںان وجوہات کے سبب بیماریوں کے پھیلنے یا پھلنے پھولنے کا اندیشہ ہمہ وقت لگا ہوتا ہے۔جب کہ حدیث پاک میں صاف صفائی پر نصف ایمان کی تکمیل کی بشارت آئی ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ جس طرح جانور کی نگہداشت پر توجہ دی جاتی ہے اسی طرح صاف صفائی پر بھی توجہ دی جائے۔ہم سے ایسا کوئی عمل سرزد نہ ہو، جوپڑوسیوں اور اہل محلہ کے لیے تکلیف کا سبب بنے۔یادرہے کہ ایام نحر صرف تین دن ہے مگر پڑوسیوں اور اہل محلہ کے حقوق کی ادائیگی ہمیشہ کے لیے۔ ایسا نہ ہوکہ ایک واجب عمل کی ادائیگی میں بہت سے حقوق پامال ہوجائیں۔ہمیںچاہیے کہ ہم فرض ووَاجب بھی بخوبی اداکریں اور حقوق العباد پربھی نظر رکھیں۔اس معاملے میں صرف شہری ہی نہیں بلکہ کارپوریشن بھی ذمہ دار ہے۔ شہر کی صاف صفائی پر سال بھر تو کارپوریشن کی جانب سے بے اعتنائی برتی ہی جاتی ہے ،ان ایام میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا نہیں جاتا ہے۔ صاف صفائی اور کچرہ اُٹھانے والی گاڑیوں کا فقدان ہوتا ہےجسے دور کیا جانا چاہیے۔

مسافروں کے لیے تکلیف

قربانی کے جانور کو خریدنے کے ساتھ اس کی نگہداشت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جانوروں کو اس طرح باندھاجاتاہے کہ مسافروں کے لیے یاتو راستہ ہوتاہی نہیں یا ہوتابھی ہے تو بہت مختصر۔چارہ بیچنے والے خصوصیت کے ساتھ اتی کرمن کرتے ہیں اور انھیں کوئی منع کرنے والا بھی نہیں ہے۔ موٹر سائیکل پر جانوروں کے لیے چارہ لانے لے جانے والے افراد بھی اس بات کاخیال نہیں رکھتے ہیں کہ موٹر سائیکل پررکھے ہوئے چارے سے راستہ تنگ ہوجاتاہے ، اس لیے احتیاط سے گاڑی چلانا چاہیے۔ عجیب سے نشے میں مخمور یہ نوجوان اس طرح موٹر سائیکل چلاتے ہے کہ بچوں اور ضعیفوں کا بھی خیال نہیں رکھتے اور کئی چھوٹے موٹے حادثات رونما ہوجاتے ہیں۔علما و صلحا کو اجتماعی قربانی کے ساتھ ان معاملات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

قربانی کے بعد کی احتیاطیں

قربانی جیسی شرعی ذمہ داری کی ادائیگی کے بعد بھی بہت سی معاشرتی ذمہ داریاں باقی ہوتی ہیں ۔ جیسے: قربانی ادا ہونے کے بعد قربانی کے جانور کاخون دھونااور اس کی آنت وفاضل مادوں کوآبادی سے دور پھینکنا۔بعض لوگ جانوروںکی آنتوں کو یونہی پڑا رہنادیتے ہیں ،جنھیں کتے نوچ کھاتے ہیں اور گندگی پھیلاتے ہیں،جس سے ماحول پراگندہ اور تعفن کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہر مسلمان کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے ایساکوئی عمل سرزد نہ ہوجس کے باعث اسلام بدنام ہو یا غیروں کو اسلامی احکام پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے یاقوم ِ مسلم کے لیے شرمندگی کاباعث ہو۔اللہ پاک ہم سب کو صاف صفائی کا خیال رکھنے اور اسلامی تعلیمات پرعمل کرتے ہوئے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!