ArticlesNEWS/REPORTS/PROGRAMMESNRC/CAB/CAA/NPR

NRC Assam Final List Released

این آر سی آسام کی حتمی فہرست جاری،31121004افراد شامل جب کہ 1906657افراد کا اخراج

این آر سی آسام کی حتمی فہرست جاری،31121004افراد شامل جب کہ 1906657افراد کا اخراج

از:عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)

گذشتہ کئی سالوں کے ہنگامے ، محنت اور مشقت کے بعد 31اگست 2019ءکو صبح دس بجے ”این آر سی آسام “کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی ہے جس میں تین کروڑ گیارہ لاکھ اکیس ہزار افراد کو شامل کیاگیا ہے جب کہ انیس لاکھ چھ ہزار چھ سو ستاون افراد کو خارج کردیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے دعوے جمع نہیں کروائے یا مکمل دستاویزات ثابت نہیں کر پائے ان کو بھی حتمی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔این آر سی آسام میں مقیم تمام شہریوں کی ایک فہرست ہے جسے اس وقت ریاست کے اندر باضابطہ شہریوں کو برقرار رکھنے اور دیگر ملکوں سے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے۔ ریاست میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے 1951 ءکے بعد آسام میں پہلی بار شہریت کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ سال 2018 ءمیں تین کروڑ انتیس لاکھ لوگوں میں سے 40 لاکھ سے زائد افراد  این آر سی کی فہرست میں شامل نہیں ہوئے تھے۔آج ریاستی کوآرڈی نیٹر ”پرتک ہجیلہنے بتایا کہ 31121004 افراد حتمی این آر سی میں شامل ہونے کے اہل قرار پائے اور 1906657 افراد کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے ، ان میں جو افراد اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے وہ تین مہینوں کے اندر غیر ملکی ٹریبونلز کے سامنے اپیل دائر کرسکتے ہیں۔حکومت نے حتمی فہرست اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔ مذکورہ دونوں ویب سائٹس پر ”اے آراین “ یعنی اپلی کیشن ریفرنس نمبر کے ذریعہ چیک کیا جا سکتا ہے ۔
 
ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ اگر کسی کا نام فہرست میں شامل نہیں ہوا ہے تو اسے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔حکومت نے ریاست کے مختلف حصوں میں CAPF (سینٹرل آرم پیراملٹری فورس) کی اکیاون کمپنیاں متعین کی ہیں اور اس پورے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ نام کو آف لائن چیک کرنے کے لیے پوری ریاست میں پچیس سو سے زائد این آر سی سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ناموں کو دیکھا جا سکتا ہیں۔ یہ فہرست تمام NRC خدمت مراکز پر دستیاب ہوگی۔ علاقے کے سرکاری عہدیدار یا ڈپٹی کمشنربھی لوگوں کے تعاون کے لیے حاضر ہوں گے۔ آسام کے لاکھوں باشندوں کو اب معلوم ہوجائے گا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں یا غیر ملکی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!