ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Ittehad-E-Ummat Waqt ki Zarurat

اتحاد امت وقت کی ضرورت

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

 سجادہ نشین مرکزاویسیاں نارووال

     جب انسانیت نے ارتقاءکی آخری منزل میں قدم رکھا ۔ذہن انسانی عروج کو پہنچ چکا ،تو سلسلہ رشد و ہدایت کی آخری کڑی ہادی کامل و اکمل ،رسول معظم و محتشم ،فخر آدم و بنی آدم،خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور خالق و مالک نے صراحت کے ساتھ اعلان فرما دیا کہ اب ہمارے مبعوث کئے ہوئے پیغمبر کی تصدیق نہ کسی قوم و آبادی تک محدود ہے ،نہ جغرافیائی حدود کی کوئی تقسیم ہے اور نہ ہی یہ آخری پیغام زمانہ کی قید و بند میں محصور ہے ۔بلکہ اب جب تک خدا کی خدائی قائم ہے ،یہی پیغام رشد و ہدایت ہی صراط مستقیم کا ضامن ہے ۔کیونکہ آنے والے ہادی کل حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے اعلان فرما دیا ہے ”اے لوگو! میں تم میں سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں ۔“ (پارہ نمبر9سورة الاعراف آیت نمبر58)
    اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ”اور ہم نے آپ (ﷺ) کو تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا بھیجا ہے ۔“(پارہ 22سورة السبا آیت نمبر28) اب اس اعلان کے بعد نسل انسانی صرف دو گروہوں میں منقسم ہو گی ۔مومن اور کافر ،چنانچہ نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں رنگ و نسل و زبان و وطن کے نام پر قائم کی گئی تمام تفریقات کی نفی اور نظریاتی قومیت کے اثبات کا اعلان ہے ۔ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھنے والا خواہ کالا ہو یا گورا ،مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، عربی ہو یا عجمی ،جو زبان بھی وہ بولتا ہے اور جو بھی رنگ اس کا ہے وہ ایک عالم گیر امت مسلمہ کافرد ہے ،اسلام کے نزدیک صرف دو قومیں اور دو طبقے ہےں ۔حزب اللہ اور حزب الشیطان ۔جس نے اقرار توحید و رسالت کیا وہ حزب اللہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا وہ حزب الشیطٰن کی فہرست میں داخل ہو گیا ۔تاریخ اسلام پر ایک نظر ڈالئے ،حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فارس کے رہنے والے ہیں مگر وحدت کے سبب عظیم اعزاز سے سرفراز کئے جاتے ہیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے رہنے والے ہیں مگر اسلام نے انہیں عزت واحترام کے اس مقام پر فائز کیا کہ امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور با ٓواز بلند فرماتے ہیں :” بلال رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ہیں اور ہمارے آقا ﷺکے غلام ہیں ۔“ پوری نوع انسانی کی یک جہتی ہو یا صرف ملت اسلامیہ کا اتفاق و اتحاد ،اگر بنظر غائر جائزہ لیں تو چند بنیادی عناصر ہیں جو اتحاد و اتفاق کی فضا کو منتشر کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ معروف ہیں ۔یعنی نسلی تمیز و تفاخر ،علاقائی حد بندیاں ،لسانی کشمکش اور مذہبی منافرت ۔جو لوگ دین اسلام کے پیرو کار ہیں ان کی یک جہتی اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کے لئے داعی اسلام ﷺ نے اپنے پاکیزہ اُسوہ سے ان عناصر کی بیخ کنی کر دی جو امت کا شیرازہ منتشر کرتے تھے ۔آپ نے ان ھٰذا اُمتکم امة واحدہفرما کرامت کے افراد کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح یکجا کر دیا اور”عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر سرخ کو کالے پر اور کالے کو سر خ پر کوئی فضیلت نہیں ۔سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہے ۔اور آدم علیہ السلام مٹی سے ہیں ۔“
    کا انقلاب آفرین فرمان سناکر رنگ و نسل کے تمام تفاخر کو خاک میں ملا دیا ۔اسی طرح حبشہ کے رہنے والے سیاہ فام غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور فارس سے تشریف لانے والے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو سینہ نبوت سے لگا کر علاقائی بنیادوں پر پیدا ہونے والے امتیازات کو فلسفہ اسلام سے یکسر خارج کر دیا ۔
    فتح مکہ کے موقع پر اخوت اسلامی اور جغرافیائی حدود سے ماوراءاور اسلامی معاشرے کے قیام اور نظریہ پر یقین و پختگی کی بنیاد پر ایک نئی قوم کے قیام کا فقید المثال عملی مظاہرہ چشم فلک نے دیکھا ۔آج کا دن تاریخ اسلام کی عظمت و جلالت کا دن ہے ۔ دشمنان اسلام کی ایذاءرسانیوں سے تنگ آکر اپنے آبائی شہر مکة المکرمہ کو خیر آباد کہنے والے ،چھپ چھپ کر ہجرت کرنے والے آج پوری شان کے ساتھ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔آج ان فاتحین میں عرب کے مختلف علاقوں کے لوگ مختلف نسل اور نسب رکھنے والے شامل ہیں ۔کعبة اللہ کے سامنے عجیب منظر ہے ۔جلیل القدر صحابہ ،محبوب خدا ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں ۔حضرت ابو بکر و عمر ،عثمان و علی رضی اللہ عنہم اجمعین سب ہی موجود ہیں ۔رو ¿ساءقریش بھی موجود ہیں ۔موافق و مخالف ،دوست و دشمن کے مجمع میں جب زبان رسالتﷺ سے یہ ارشاد جاری ہوتا ہے کہ اے بلال ! کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اللہ رب العزت کی تکبیر و تقدیس کا غلغلہ بلند کرو ۔اذان دو تو فلسفہ اسلام کے اس عملی نمونہ کو دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے گالیاں دینے والے عتاب ابن اسود پکار اٹھتے ہیں کہ اے محمدﷺ! تھوڑی دیر پہلے مجھے آپ سے زیادہ کسی اور سے نفرت نہ تھی اور اب آپ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں ۔
    الغرض اسلام ملت اسلامیہ میں یک جہتی کی وہ فضا دیکھنے کا خواہاں ہے جو ان تمام تفرقات سے پاک ہو ،جہاں اخوت ہو ، مروت ہو ،محبت اور پیار ہو ، مسلمان جذبہ ایثار سے سرشار ہو ،ایک کا دکھ ،سب کا دکھ اور ایک کی خوشی سب کی خوشی کا ساماں ہو۔اسی نقطہ اخوت کو قرآن حکیم نے اس طرح بیان کیا ۔”بے شک مومن بھائی بھائی ہیں ۔“(پارہ نمبر26سورة الحجرات آیت نمبر10)
    بلکہ اس رشتہ اخوت اور اتحاد امت کو مضبوط بنانے کے لئے قرآن کریم جابجا ارشاد فرماتا ہے :اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ پڑو اور اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کرو جو اُس نے تم پرکیا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ ڈال دیا اور تم آپس میں بھائی بن گئے ۔“
    اب ذرا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیجئے !حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والوں کا تعلق دوسرے ایمان والوں کے ساتھ ایک مضبوط عمارت کا ہونا چاہےے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں پھر آپ نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں ۔یہی وہ مضبوط تعلق تھا ۔یہ وہ نظریہ تھا اور اسی کی بنیاد پر یہ جذبہ ایثار کار فرما تھا کہ ہجرت مدینہ کے موقعہ پر مدینہ کے میزبانوں نے مکہ کے مہمانوں کو گلے لگالیا ۔اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں حاضر کر دیا ۔ایک مدنی صحابی نے اپنے مکی بھائی سے عرض کی کہ میری دو بیویاں ہیں ۔ایک کو طلا ق دے دیتا ہوں اس سے تم نکاح کر لو ۔یہ ہے مواخات مدینہ کا وہ منظر اور یہ ہے ملی یک جہتی کی وہ مثال کہ جس کی کوئی مثال نہیں ۔
    کو ئی شک نہیں کہ اسلام نے فرد کی حیثیت کو بہت ممتاز کیا ہے ۔فرد ہی اس کا ابتدائی اور حقیقی مخاطب ہے جس طرح وہ تنہا پیدا ہوا ہے اسی طرح اللہ کے احکام پر چل کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانا بھی اس کی اپنی انفرادی ذمہ داری ہے اور کل بارگاہ رب العزت میں اپنے عمل کی جواب دہی کے لئے اسے اکیلے ہی حاضر ہونا ہے ۔لیکن روح اسلام کو ایک نظردیکھئے تو آپ یقین کی منزل پر پہنچ کر پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے ساتھ ایک صالح اور اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام بھی عمل میں لانا چاہتا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو ادا کرے اور منشائے الہٰی کی تعمیل کے لئے منظم اور مجتمع ہو کر باطل قوتوں سے بر سر پیکار ہو ۔انسانی زندگی کا وہ شعبہ جسے عرف عام کے لحاظ سے عبادتی شعبہ کہنا چاہےے ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اجتماعیت کی رسائی کا تصور بھی مشکل سے کیا جا سکتا ہے ۔عبادت الہٰی کا نام لیجئے ،آپ گوشوں اور تنہائیوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔انسان چاہتا ہے کہ تمام علائق دنیا سے آزاد ہو کر گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر وہ اپنے معبود کی عبادت بجا لائے لیکن اسلام نے عبادت کے اندر بھی اجتماعیت کا رنگ پیدا کیا ۔نماز جسے دین کے ستون کا نام دیا گیا اور جسے کفر اور اسلام کا مابہ الامتیاز قرار دیا گیا اس کے لئے اتنا ہی کافی نہیں کہ اکٹھے مل کر اور با جماعت ادا کر لی جائے بلکہ بخاری شریف کی حدیث کے مطابق ضروری ہے کہ لوگ صفیں باندھ کر اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور صفیں تیر کی طرح سیدھی ہو ں۔روزہ کو لیجئے !اس میں اجتماعی شان دیکھئے ! ایک ہی دن شروع کرنا اور ایک ہی دن عید منانا ۔ایک ہی وقت شروع کرنا اور ایک ہی وقت افطار کرنا ۔یہ مسلمان ملک میں اجتماع اور نظم و ضبط کی تعلیم نہیں تو اور کیا مقصود ہے اور حج تو اپنے اندر اجتماعیت کی وہ شان رکھتا ہے کہ کسی بھی مذہب کی تاریخ اس کی نظیر پیش نہ کر سکے گی ۔مختلف رنگوں ،نسلوں اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی لباس میں ملبوس ،ایک ہی معبود حقیقی کی پرستش میں مصروف نظر آتے ہیں اور سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری ہوتا ہے ۔
لبیک اللّٰہم لبیک ۔۔۔۔الخ
    یہ ان احکام کا مجمل خلاصہ ہے جو اجتماعی نظم اور ملی اتحاد کے بارے میں اسلام نے اپنے پیر و کاروں کو دے رکھے ہیں ،اگر ان ہی چند ارشادات کو غور سے دیکھ لیا جائے تو اجتماعیت کی وہ قدر و قیمت جو اسے اسلام میں حاصل ہے بڑی حد تک واضح نظر آئے گی ۔ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے ۔” جماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہو اور انتشار سے پوری طرح الگ رہو ۔“ اگر تمام اہل ایمان کا ایک خاص شیرازے میں بندھا رہنا اور”تفرقہ“ سے دوررہنا ضروری ہے ،اگر جماعت سے بالشت بھر کی علیحدہ گی بھی مومن کی گردن کو اسلام کے حلقے سے محروم کر دیتی ہے ۔اگر ملت کے اتحاد میں رخنے ڈالنے والے کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں ،اگر ملت کے اجتماعی نظام کی حفاظت سے بڑی کوئی عبادت نہیں تو سوچئے وہ کون سا مقام ہے جو اجتماعیت کو ملنا چاہیے تھا ۔
    غور فرمائےے !کہ جس دین کی یہ تعلیم ہو اور جس دین کے داعی کا اُسوہ حسنہ ایسا مبارک ہو ۔اس دین کے پیرو کار آج کس خلفشار کا شکار ہیں ۔اس کا شیرازہ کس حد تک منتشر ہو چکا ہے ۔آج عرب و عجم کی تفریقات پھر پیدا ہو چکی ہیں ۔آج نسل و زبان کے فتنے کی آگ پوری طرح بھڑک چکی ہے ۔مسلمان کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگین ہیں ۔مسلمان کی آبرو مسلمان کے ہاتھوں محفوظ نہیں ۔ان ہی جغرافیائی ،نسل اور لسانی تنازعات کے سبب مسلمانوں کی واحد نظریاتی مملکت د ولخت ہو گئی اور آج پھر مسلمان قائدین کے خون کی سرخی یہاں کی عمارتوں پر گولیوں کے نشانات اس امر کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہم پھر زمانہ جاہلیت میں جا پہنچے ہیں ۔ وہی عصبیتیں ہم میں پھر عود کر آئی ہیں ۔ ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک کتاب پر ایمان لانے والی امت نسل ،رنگ ،زبان اور علاقائی عصبیتوں کے مختلف خانوں میں بٹ چکی ہے ۔ہمارے مسلمان بھائی جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے ناپاک عزائم میں ملوث ہیں ان کی نظروں سے شاید یہ ارشاد رسالت مآب ﷺپوشیدہ ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:”جو شخص اس جماعت کو جب تک کہ وہ متحد ہو ،پر اگندہ کرنا چاہے اسے بدرجہ آخر تلوار پر رکھ لو خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔“
    دوسری حدیث طیبہ میں ارشاد ہے:”نہیں ہے وہ ہم میں سے جس نے لوگوں کو کسی عصبیت کی طرف بلایا ۔“
    یعنی اسلام کی خالص عقل اور اعتقادی بنائے اجتماع کو چھوڑ کر مسلمانوں کو ان نسلی یاو طنی ،لسانی یالَونی تعصبات میں سے کسی تعصب پر جمع کرنے کی کوشش کی جانی جن پر خدا فراموش اور مادیت کی غلام قومیں بالعموم جمع ہوا کرتی ہیں ۔نہایت ظلم ہے جس پر خدا و رسول ﷺ کی ناراضگی یقینی ہے ۔
    درحقیقت ان مغرب والوں اور مادہ پرستوں کے پاس ایسا ٹھوس اور مستحکم نظریہ تھا ہی نہیں جو قومیت کی صحیح بنیاد قرار پاتا ،چنانچہ انہوں نے رنگ و نسل اور زبان و وطن کے معیار کو قومیت ٹھہرایا ،ہم نے بھی نقالی کرتے ہوئے ایک مسلم قوم میں کئی قومیں بنا لیں اور یہ نہ سمجھ پائے کہ جو فلسفہ حیات مغرب والوں کے لئے آب حیات ہے وہ ہمارے لئے زہر قاتل ہے ۔علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ اسی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ۔
قیاس اپنی ملت کو اقوام مغرب سے نہ کر        خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی(ﷺ)
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار        قوم مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
    دین اسلام سراسر دین رحمت اور دین وحدت ہے ،شیوہ ¿ رحمت غیروں کو اپنا بنانا اور نظریہ وحدت عالم انسانی کو ایک مثبت بنیاد فراہم کرنا ہے ،پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ﷺنے رحمت کے روےے سے اپنوں اور غیروں کو متاثر کیا اور اصول وحدت کے ذریعے سے انسانی دنیا کو اسلامی برادری کا نمونہ عطا کیا ،اگر چہ لوگوں میں کالے اور گورے ،عربی اور عجمی ،بدوی اور شہری اور ایشیائی اور افریقی وغیرہ کے تشخصات موجود رہے لیکن محض شناخت کے لئے ورنہ ان سب میں ایک جوہری وحدت پیدا کر کے ذہنوں اور دلوں کے فاصلے سمیٹ دئےے اور یوں مراکش کا باشندہ جزائر شرق الہند والوں کا بھائی بن گیا اور افریقی صحراﺅں اور جنگلوں کے باسی یورپ کے محل نشینوں کی برادری میں شامل ہو گئے۔ یہ سب کچھ اس جوہر وحدت کے طفیل ہو گیا جسے کلمہ ¿ توحید کہا جاتا ہے ۔ہر چند کہ ایک طویل مدت سے بعض سیاسی کچھ ثقافتی اور چند تاریخی اختلافات کے باعث اہل اسلام مختلف جماعتوں ،گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے مگر ان کے درمیان بنائے وحدت روز اول سے موجود رہی اور موجود ہے ۔بعض امور میں کھلے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی بنائے وحدت مسمار اور معدوم نہیں ہوئی ۔اور آج اسی اصل و اساس کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے ۔اختلاف بری بات نہیں تا آنکہ وہ افتراق کی حدوں کو نہ چھونے پائے ۔اختلاف رنگ میں ہوتا ہے نسل اور زبان میں ہوتا ہے ،ذوق لباس و طعام میں ہوتا ہے ،عادات و اطوار میں ہوتا ہے غرضیکہ کوئی انسان دوسرے انسان سے کلیةً ہم رنگ وہم آہنگ نہیں ہوتا اور کسی سے اس کی توقع رکھنا بھی تقاضائے فطرت کے منافی ہے ۔لیکن اسی اختلاف رنگ و بو سے گلشن حیات کی زینت اور رونق ہے ،کچھ ایسا ہی تعبیر و تشریح کا اختلاف دو یا دو سے زائد مکاتب فکر میں ہو سکتا ہے اور فی الواقع ہوتا ہے مگر وہ اپنے حدود میں رہ کر باعث رحمت بنتا ہے کیونکہ اسی اختلاف فکر و نظر سے اجتہاد کا ذوق پیدا ہوتا ہے ،ذوق سلیم کی آبیاری ہوتی ہے ۔مادہ ¿ تحقیق بڑھتا ہے۔ زاویہ نظر وسیع ہوتا ہے ،فکر کا افق بلند ہوتا ہے اور یوں پیداواری اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے جوہر دکھانے کے قابل بنتی ہیں ،اگر یہ ذرا سا اختلاف بھی نہ ہو تو پوری انسانی دنیا گویا خود کلامی کی مریض بن کر رہ جائے اور اکتشاف و انکشاف ،اکتساب و احتساب کی دولت سے محروم ہو جائے ۔تاہم دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ،روز افزوں عالمی کشیدگی ،اردگرد کی پیچیدہ صورت حالات ،عالم اسلام کی زبوں حالی، استعماری طاقتوں کا اسلام اور اہل اسلام کے خلاف خفیہ اتحاد اور سب سے بڑھ کر عالم اسلامی کے داخلی تضادات اور اختلافات کی تباہ کاریاں ہم مسلمانوں کو اس موڑ پر لے آئی ہیں کہ مسلمانوں کے تمام حکومتی ،سیاسی ،مذہبی اور علمی طبقات اپنے درمیان موجودکم سے کم مشترکہ نکات میں جوہری وحدت کے اصول پر مفاہمت اور اتحاد کر لیں تاکہ عالم اسلام کی روحانی ، افرادی ،سیاسی ،جغرافیائی ،معاشی اور علمی طاقت الحاد ،نفس پرستی ،استعمار ،کمیونزم ،سرمایہ داری اور دیگر اخلاقی و معاشرتی خرابیوں کے خلاف استعمال ہو سکے ۔میں بالخصوص یہاں مذہبی طبقات کو اپنا مخاطب قرار دے کر ان سے اس کی توقع رکھتا ہوں کیونکہ عالم اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ سربسر مذہبی بنیادوں پر استوار ہے ،دنیا کی دیگر اقوام کے اتحاد و اشتراک کے متعدد اور مختلف عناصر ہیں ۔ مثلاً یورپی برادری ، امریکن بلاک ،سوشلسٹ پروگرام ،تھرڈ ولرڈ ،لیکن عالم اسلام ان میں سے کسی ایک شناخت اور دائرے کا پابند نہیں ۔اسلامی برادری مغربی یورپ ،مشرقی یورپ، براعظم امریکہ ،بر اعظم افریقہ ،برا عظم ایشیاءہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور اس برادری کا نقطہ اشتراک فقط اسلام ہے یہی اس کی داخلی اور خارجی شناخت ہے اس حوالے سے مذہبی عناصر اور طبقات کے درمیان کامل مفاہمت اور ہم آہنگی گویا پوری اسلامی برادری کے اتحاد کی ضمانت بن سکتی ہے ۔اگر حکمران بوجوہ ایسا نہ کرنا چاہیں تو اجماع امت ان کو یاتو کاٹ کر الگ پھینک دے گا یا پھر وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔مذہبی طبقات کا اختلاف بہت اونچی سطح سے لیکر بہت نیچی سطح تک پھیلا ہوا ہے کہ کچھ تاریخی و عمرانی اختلافات بھی ہیں اور بعض فقہی اور کلامی اختلافات بھی !دو چار ثقہ اور چند محض ”زیب داستاں“ کے لئے ،باوجودیکہ یہ سب کچھ ہے پھر بھی چند اصولوں کو مد نظر رکھ کر وحدت ملی کو منطقی اور عملی طریقے سے پائیدار بنایا جا سکتا ہے ،اس کے لئے صرف حسن ظن اور خوف آخرت مطلوب ہے ۔
1۔    ہر مذہبی فریق اپنے آپ کو ایسے سوال کا جواب دینے کا مکلف نہ سمجھے جن کے لئے انہیں خدا و رسول ﷺ نے تکلیف نہیں دی اور وہ مبنی بر حکمت ہیں اور دانائی و دین داری کا تقاضا ہے کہ انہیں ویسا ہی رہنے دیا جائے ۔
2۔  اگر کسی مسئلہ پر اختلاف رائے ہو تو اس کو اسی دائرے تک محدود رہنے دیا جائے تاکہ اس کے حوالے سے تمام تر دینی علمی اور معاشرتی تعلقات کمزور نہ ہوں ۔
3۔    تحقیق و اجتہاد کے ضمن میں ہر اختلاف کے اندر ایک جوہری وحدت موجود ہوتی ہے اور اصل اہمیت اس جوہری وحدت کو حاصل ہونی چائےے ۔مثلاً عقائد اسلام کے حوالے سے مختلف مکاتب و مسالک کے درمیان توحید ،رسالت اور آخرت کا عقیدہ جوہری وحدت ہے ۔یہ بنیاد مضبوط رہے تو بڑے سے بڑے اختلاف کو دور کیا جا سکتا ہے ۔4۔    اختلاف فکر و نظر کے باوجود ایک دوسرے کے اکابر کا احترام و حدت ملی کا اہم ذریعہ اور زینہ ہے کیونکہ ہر انسان کے مزاج ، افکار اور جذبات پر شخصیتوں کا زبردست اثر ہوتا ہے اور ان سے کچھ ایسی عقیدت وارادت پیدا ہوجاتی ہے کہ ذرا سی ٹھیس بھی اس آبگینے کو چکنا چور کر دیتی ہے ۔
    چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ اور سابق انبیاءعلیہم السلام کی شریعتوں میں اختلاف کے باوجود ہم ان انبیاءپر ایمان لانے اور ان کا قلبی احترام کرنے کے پابند ہیں ۔اس ضمن میں ذرا سی افراط و تفریط ہمارے ایمان میں خلل ڈال دیتی ہے ، اصحاب رسول ﷺ میں فقہی اختلاف رہا لیکن کسی بھی صحابی کی توہین شرف انسانی کے منافی ہے ۔فقہائے امت میں اختلاف ایک تاریخی امر ہے اور پانچ بڑے فقہی دبستان قائم ہوئے ۔جعفری ،مالکی ،حنفی ،حنبلی اور شافعی ۔ مگر کسی مسلمان کے دل میں ایک کی تقلید کے باوجود دوسرے کے احترام میں کمی نہیں آتی ،تصوف کے بھی کئی حلقے ہیں قادری ،اویسی ،چشتی ،سہروردی،شطاری اور نقشبندی خاصے مشہور ہیں مگر ان سلاسل کے ہر بزرگ کا احترام سبھی مسلمان کرتے ہیں ۔یہ چند مثالیں اس لئے پیش کی گئی ہیں کہ اگر ہم ایک دوسرے کے اکابر کا احترام اپنا جزو اخلاق بنا لیں تو دو تہائی اختلافات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔
5۔    ہم اہل اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ کے اخلاق عالیہ کو زینت تقریر و تحریر بناتے ہیں ۔اگر انہی اخلاق فاضلہ کو ہم اپنی سیرت کا حصہ بنالیں تو وحدت و رحمت اور ایثار و اتحاد کے وہ پھول کھلیں گے کہ چمنستان عالم مہک اٹھے گا۔ ہم پڑھتے ،بیان کرتے اور سنتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پتھروں کے جواب میں دعائیں دیں ،کانٹوں کے بدلے پھول برسائے ،گندگی کے ٹوکروں کے ردعمل میں ماحول کو عطر بیز بنایا ،قاتلوں کو معافی دی ،ستم رانوں سے شخصی سطح پر مہربانی فرمائی ۔تو کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ؟ بہتر ہوتا کہ آپ کے اخلاق کریمانہ فن تقریر و خطابت کا ہی نہیں بلکہ ہماری سیرت و شخصیت کا حصہ ہوتے ۔
6۔    جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بولنے ،لکھنے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے وہ اپنا زور تقریر و تحریر ایمانیات، اخلاقیات ،عبادات اور معاملات پر صرف کریں ۔باقی فروعی باتوں کو خیر سگالی اور حسن ظن کے جذبہ سے حل کرنے کی کوشش کریں ۔مسلمانوں کے مختلف مذہبی طبقات کے درمیان گونگوں اختلافات کے باوجود ایسی مشترکہ اقدار اور متفق علیہ اصول موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر اتحاد کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ،ہر ریب اور شک سے بالا توحید باری تعالیٰ ،حضور اکرم ﷺ کی رسالت عامہ و تامہ حواشی اور تفاسیر سے ہٹ کر متن قرآن ایک متفقہ دستاویز اور کعبہ معظمہ اہل اسلام کی وحدت کا زندہ اور مشہور نشان ۔یہ سب فکر و عمل کی وحدت کا سامان ہیں ،تو کیوں نہ امت کو ایک خدا ،ایک رسول ایک کعبہ اور ایک قرآن کی بنیاد پر متحد و مستحکم کر دیا جائے ۔مزید بر آں وحدت ملی کے لئے محض خوش کن نعرے اور جذباتی فقرے کافی نہیں بلکہ اس کے لئے ٹھوس فکری مواد کی بہم دستیابی اور علمی کام کی ضرورت ہے ۔ جس کے لئے کئی جہتیں دریافت ہو سکتی ہیں ،ہر چند کہ یہ اختلافات بادی النظر میںہلکے پھلکے نظر آتے ہیں لیکن طویل عرصہ گزرنے اور ان کی پشت پر فقہی حوالوں کی موجودگی کے باعث کافی گمبھیر اور سنگین ہو گئے ہیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ذہنی تطہیر کا عمل بہت ضروری ہے ۔البتہ ہر با شعور اور دردمند مسلمان عالمی سامراج کی سازشوں سے آگاہ ہے اس کی ہر سازش کا تانا بانا” لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کے اصول سے تیار ہوتا ہے ۔چنانچہ دنیا کے ہر خطے میں سامراج نے وہاں کے تضادات کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے وہ اپنے شیطانی اقتدار کے لئے لڑنے بھڑنے کے ماحول کو اپنے حق میں انتہائی سود مند سمجھتا ہے۔وہاں وہ اپنی فوجیں اتارنے کی بجائے معاشرے کی اندرونی کمزوریوں کو اپنے تسلط کی سیڑھی بناتا ہے ۔کالے اور گورے کا فساد ،یورپی اور ایشیائی کی کشمکش ،لسانی اور صوبائی تعصب ،سیاسی اور علاقائی مخاصمت یہ سب اس کی شش جہات سازش کے مختلف رخ ہیں ۔
    ان سب سے بڑھ کر مذہبی منافرت اور مخاصمت کا ماحول پیدا کرنا اس کا کارگر اور مہلک حملہ ہے جس سے جسد ملی گھائل ہو کر اس کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے ۔پھر وہ سامراج ،ثقافت ،معیشت ،سیاست ،ادب اور فن کی زنجیریں لیکر اسے پابند بنا دیتا ہے ۔عالمی طاقتوں کی سیاسی ،ثقافتی ،فوجی اور سائنسی حکمت عملی کا کامیاب عنصر یہ ہے کہ مسلمان ملت واحدہ کی حیثیت اختیار نہ کرنے پائیں ۔ورنہ اس کے لئے سونا اگلنے والی منڈیاں بند ہو جائیں گی۔اگر حالات کی یہ نزاکت اور سنگینی عالم اسلام کے ارباب مذہب کے مد نظر رہے تو وہ بڑے سے بڑے فقہی و کلامی حریف کو اپنا حلیف بنانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کریں گے ۔ایک ارب سے زائد مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں ،ان کی سوچ یکساں ہو، ان کی آواز ہم آہنگ ہو ،ان کا لائحہ عمل متفقہ ہو تو پوری دنیا کی طاقت کا توازن بدل کر اپنے حق میں کرسکتے ہیں ۔اسلامیان عالم کی کامیابی کا سرنامہ عالم اسلام کا اتحاد ہے اور اس اتحاد کو ملکی ،جغرافیائی ،بر اعظمی ،نسلی ،لسانی اور مذہبی ہر نوع کے اختلاف پر واضح فوقیت حاصل ہونی چاہےے یہ ہیں وحدت ملی کی راہیں اور تدبیریں ہیں۔راہ ڈھونڈھنے کی چیز ہے اور تدبیر کرنے کی ،جو ڈھونڈھے وہ پائے یہ فطرت کا اٹل اصول ہے ۔
     گویا مقصد سے آگاہی ا س کی صداقت پر یقین اور پھر عمل کے لئے عزم صمیم ہی وہ قوتیں ہیں جو امت مسلمہ کو پھر سے متفق و متحد اور کانھم بنیان مرصوص۔کا مصداق بنا سکتی ہیں ۔اسی میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور سر بلندی ¿ دینِ مصطفےٰ ﷺ ہے ۔پھر اغیار شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی نہ کر سکیں گے ۔پھر مسلمان اس طرح برما ،شام ،فلسطین اور کشمیر میں شہید نہ کئے جائیں گے۔مسلمان کا اجتماعی رعب و دبدبہ اغیار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوہ رسول ﷺ کے مطابق اتحاد امت سے سرشار کرے ۔آمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!