ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Nikah Me Khurafat Se Bachen

نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے اس کو سادگی سے انجام دیا جائے
شادیوں میں پٹاخے پھوڑنے کی بے ڈھنگی عادت ہمارے لیے نقصان کا باعث

محمد غفران اشرفی7020961779

مسلم محلوں کی پہچان کہ جس طرف سے گزرتے ہوئے بدبو کے بھپکے محسوس ہوں،اوبڑ کھابڑ سڑکیں،کوڑا کرکٹ کا ڈھیر،برہنہ جسم بچے،بڑوں کی زبانوں پر نیزے سے تیز تر دل کو گھائل کرنے والی گالیاں،نوجوانوں کا بے ہودگی سے بھرپور ہنسی مذاق کرتا ہوا جمگھٹا،سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے،جنس پینٹ کی طرح تنگ گلیاں،قسطوں پر بنی ہوئی بل کھاتی نشیب و فراز والی سڑکیں،اپنی اراضی سے زیادہ باہر اتی کرمن نظر آئے جان لیجیے کہ مسلم بستی کا پرارنبھ (آغاز)  ہوچکا ہے۔ یہی کچھ داستان المناک آنسو بہانے کے لیے کم نہ تھی کہ شادیوں کے اِن موسم میں بارات کے پٹاخے ہمارے لیے درد سر بن گئے،جب بارات گھر سے نکلتی ہے تو نکاح خوانی کے مقام پر پہنچنے تک نوجوانوں کی ہُلڑ بازیاں اپنے شباب پر ہوتی ہیں،اُس پر طُرفہ یہ کہ بارات کے آگے آگے دل کو دہلا دینے والی اور پردہ سماعت سے ٹکراکر سلسلہ سماعت کو کچھ لمحہ کے لیے موقوف کردینے والی  پٹاخوں کی گرج دار آواز،جس سےسواری پر جارہے لوگوں کے گمان سے باہر اچانک پٹاخہ مہاراج کا پھوٹ جانا،جس کی آواز سے موٹر سائیکل سوار ایک لمحہ کے لیے اپنے اعصاب میں لرز جاتا ہے،نٙو مولود بچوں کا سہم جانا،مساجد کے تقدس کا خیال نا کرنا،یہ ہمارے مسلمانوں کے گھر کی شادی ہے جس سے نقصان اٹھانے کے معاملے میں ہمارے اپنے محفوظ نہیں ہیں۔ایسے افعال قبیحہ اور اعمال مذمومہ دیکھ کر تو یہ نہیں لگتا کہ کسی مسلم گھرانے کے فرد کی بارات ہے!!!کیوں کہ نکاح کو حضو صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنّت قرار دے کر عبادت بنادیا ہے۔ ایسی عظیم عبادت اور اتنے بےڈھنگے طرز پر!!


ہمارے سرپرستوں کو اِن باتوں کی طرف جوتا چُرائی اور دودھ پلائی(فضول رسم)کی طرح دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں اپنی ذات پر خرچ کرنے کے لیے بھی اسلام نے پابند کردیا اور کہہ دیا کہ ہر پیسے کا حساب لیا جائے گا،تو جو بلا ضرورت شادیوں کے موقع پر ہزاروں روپئے آتش بازی میں یوں ہی پٹاخوں کی نذر ہوجاتے ہیں اُن اسراف پر کیا قدرت کی طرف سے دنیا و آخرت میں پکڑ نہیں ہوگی؟ضرور ہوگی اور ہورہی ہے۔

خدارا اپنے گھر کی شادیوں میں اس قسم کی قبیح حرکتوں سے نوجوانوں کو روکیں اور فضول خرچ ہونے والے روپیوں کی بچت جیسے مسجد میں دینے سے کرتے ہیں اُسی طرح کرکے اُن روپیوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کیجیے اور اُن کا بھوِیشّیہ اُوجّول اور تابناک بنائیں تاکہ وہ قوم مسلم کے ایک اچھے راہبر کی حیثیت سے معاشرے کی لوگوں کی اصلاح کرسکیں۔
22/11/2019

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!