ArticlesMaharashtra State Eligibility Test (MH-SET)NotesTET/CTET/UPTET EXAMUGC NET URDU

Rekhti ریختی

ریختی

’’ریختی‘‘مردوں کے ذریعہ عورتوں کی مخصوص زبان، محاورے اور روز مرہ میں عورتوں کے باہمی معاملات اور جنسی جذبات کے اظہار پر مبنی شاعری ہے۔
ریختی کاانداز،طرز،لہجہ حتیٰ اور زبان وبیان غزل سے متضاد ہوتاہے۔
بعض شعرانے مستزاد کی ہیئت میں بھی ریختی لکھی ہے۔
ریختی انیسوی صدی میں لکھنو کے خاص ثقافتی ماحول کی پیداوار تھی۔
ریختی کے اہم شاعروں میں یار علی جان صاحب ، سعادت یار خاں رنگین، محسن خاں محسن اور انشااللہ خاں انشا شامل ہیں۔

میر یارعلی جان کا ایک ریختی کلام بطور نمونہ

 

چنگیز خاں سے کم نہیں خوں خوار کا مزاج
دشمن کا ہو نہ جو ہے مرے یار کا مزاج
اے جان دل حرام سے پرہیز کیا کرے
رہتا نہیں ہے قابو میں بیمار کا مزاج

ریختی وہ صنف سخن ہے جس میں عورتوں کے جذبات کا اظہار خود عورتوں کی زبان ، محاورے اور روزمرہ میں کی جاتی ہے ۔
ریختی میں صنف نازک کو عاشق اور مرد کو معشوق کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
ریختی اُردو کی بدنام صنف کہلاتی ہے ۔
ریختی کی شناخت ہیئت سے نہیں بلکہ موضوع سے ہوتی ہے ۔
محمد حسین آزاد کے مطابق ریختی کے موجد سعادت یار خان رنگین ہیں۔
یوجی سی کے مطابق ریختی کا موجد ہاشمی بیجا پوری ہے ۔

 

ریختی کے اہم شعرا:

ہاشمی بیجا پوری ، سید محمد قادر خاکی ، رنگین ، انشا، امجد علی نسبت ، مرزا علی بیگ نازنین ، خانم جان ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!