میر حسن

نام : میر حسن
تخلص : حسنؔ
ولادت : 1736-37ء محلہ سید واڑہ ، دلّی
وفات : 1201ھ/1785ء لکھنؤ
والد : میر غلام حسین ضاحک

میر غلام حسن نام تھا۔ ان کے اجداد ہرات کے مشہور خانوادۂ سادات سے تھے۔ جد اعلیٰ ہندوستان آئے اور یہیں سکونت اختیار کی۔ میر حسن دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر غلام حسین ضاحک اپنے زمانے کے معروف مرثیہ گو تھے۔ انھیں کے ساتھ 12 ؍برس کی عمر میں فیض آباد چلے گئے۔یہاں نواب سالار جنگ بہادر کی ملازمت اختیار کی اور ان کے بیٹے نوازش علی خاں کے مصاحب بن گئے۔ کچھ عرصہ بعد آصف الدولہ کے عہد میں لکھنؤ آ بسے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ شعر و سخن کا ذوق موروثی تھا۔ بچپن سے شاعری کی طرف میلان تھا۔ لکھنؤ میں اسے اٹھان ملی۔ میر ضیاء الدین کے شاگرد ہوئے۔ دلی میں تھے تو خواجہ میر درد کو اپنا کلام دکھایا۔ خواجہ صاحب ہی کی روحانی تعلیم اور فیض صحبت کے اثر سے مثنوی ’’رموز العارفین‘‘لکھی۔ لکھنؤ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

میر حسن فطرتاًنہایت خوش مزاج و بذلہ سنج تھے۔ ان کا شاہکار ان کی مثنوی ’’سحر البیان‘‘ ہے۔ ان کا کلام تقریباً تمام اصناف سخن، مثنوی، غزلیات، ہجویات، قصائد، مرثیے، رباعیات، قطعات، ترکیب بند اور ترجیع بند وغیرہ پر مشتمل ہے۔ وہ قصیدے اور مرثیے کے مرد میدان نہیں البتہ ان کی غزلیں ادبی شان رکھتی ہیں۔دوسری قابل ذکر مثنوی ’’گلزارِ ارم‘‘ ہے جس میں میر حسن نے دل کھول کرلکھنؤ کی ہجو اور فیض آباد کی تعریف کی ہے۔ ’’تذکرۂ شعراے اُردو‘‘ بھی میر حسن کی اہم تصنیف ہے، یہ تذکرہ فارسی میں ہے۔ اس کی اہمیت کا سبب یہ ہے کہ اس میں میر حسن نے قدیم شاعروں اور اپنے ہمعصر شاعروں کا حال معتبر حوالوں کے ساتھ لکھا ہے۔ میر حسن کے بیٹے میر مستحسن خلیق بھی اپنے زمانے کے نامی شاعر تھے۔ میر خلیق کے بیٹے یعنی میر حسن کے پوتے میر انیس اپنی مرثیہ نگاری کے باعث اُردو شاعری کے آسمان پر آفتاب بن کر چمکے۔

تصانیف

( ۱) کلیات میر حسن ؔ :9؍ہزار اشعارپرمشتمل،بارہ مثنویاں،سات قصیدے،ایک ترکیب بند،بارہ مخمس،ایک مسدس،145؍رباعیات، 277؍مثلث اشعار۔
(۲) تذکرۂ شعرائے اُردو: فارسی زبان میںحبیب الرحمن خان شیروانی نے مرتب کی۔ 304؍ شعرا کے حالات اور انتخاب کلام پر مشتمل ۔
(الف) پہلا دور ( متقدمین ) : فرخ سیر سے پہلے کے حالات و کلام۔
(ب)دوسرا دور( متوسطین) : فرخ سیر کے آخری دور سے محمد شاہ کے ابتدائی دور تک ۔
(پ)تیسرادور(متاخرین):اس دور کے قابل ذکر اور اہم معاصر شعراء۔

میر غلام حسن کی بارہ مثنویاں

(۱) مثنوی شادی آصف الدولہ [یہ پہلی طویل مثنوی 1183ھ میں آصف الدولہ کی شادی کے موقع پر کہی گئی ۔ اس میں 95؍اشعار ہیں۔](۲) نقل کلاونت (۳) نقل زن فاحشہ (۴) نقل قصاب (۵) نقل قصائی
(۶) مثنوی رموز العارفین[یہ 1188ھ میں لکھی گئی۔ پوری مثنوی مولانا روم کی مشہور مثنوی بحر و وَزن میں ہے اور اس میں ابراہیم ادھم بادشاہِ بلخ کے سلطنت سے کنارہ کش ہو کر فقیر ہو جانے کا حال نظم کیا گیا ہے۔](۷) مثنوی درہجو حویلی
(۸) مثنوی گلزار ارم[ گلزارِ ارم کا سال1193ھ نکلتا ہے۔ اس میں دہلی سے لکھنؤ تک کے سفر کا حال بڑی خوش اسلوبی سے نظم کیا گیا ہے۔](۹) مثنوی در تہنیت عید 1199ھ (۱۰) مثنوی دروصف قصر جواہر9 119ھ
(۱۱) مثنوی خوان نعمت
(۱۲) مثنوی سحر البیان ھ بمطابق 1784ء ( آخری مثنوی) ۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!