ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Ulma Me Baghawat ke Tewar

نو جوان علما میں بغاوت کے تیور یوں ہی تو نہیں؟
https://www.youtube.com/channel/UCXS2Y522_NEEkTJ1cebzKYw

از:۔  خالد ایوب مصباحی شیرانی

khalidifno22@gmail.com
        اسلام دلیل، گہرائی، سچائی، حق بیانی، نیک نیتی، تقوی شعاری اور احقاق حق کا مذہب ہے، جو سچ بات ہو، بنا کسی لاگ لپیٹ کے نیک نیتی کے ساتھ کہہ دینی چاہیے، بھلے  کوئی مانے، مانے، نہ مانے،کیوں کہ آج نہ ، کل سہی، کوئی حق پرست ضرور عمل پیرا ہوگا، کوئی منصف مزاج ضرور اصلاح پذیر ہوگا۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا۔
         امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسی پس منظر میں اسلام کے اہم اوامر میں سے ہے۔ ورنہ آج کے پر فتن ، بد باطن اور کینہ پرور ماحول میں یہ کوئی آسان بات نہیں کہ پوری دیانت و شجاعت کے ساتھ سچ بات کہی جا سکے، اور کوئی مرد میدان  کہہ بھی دے تو سنتا کون  ہے اور کوئی سن بھی لے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کسے توفیق، جبکہ عمل کا مرحلہ تو شروع ہی  ان سب کے بعد ہوتا ہے، جہاں تک شاید باید ہی نوبت پہنچتی ہے۔
اس وقت جماعت اہل سنت کے نو جوان علما کے مزاج میں بڑی تیزی کے ساتھ بغاوتوں کے آثار جنم لے رہے ہیں جنھیں ہر بزرگ تحت شعور میں واضح طور پر محسوس کر سکتا ہے اور کرنا بھی چاہیے ۔ان نو جوانوں میں  ایک عجیب بے چینی ہے۔اور یہ صورت حال اب کسی خاص گروہ یا علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ منصفانہ تجزیہ کیجیے تو لگ بھگ ہر جگہ کے نو جوان ذہنی طور پر  اپنے اپنے علاقےکے بزرگوں کے خلاف گویا محاذ آرا ہیں۔
ان کا الزام یہ ہے کہ ان کے بزرگوں میں قائدانہ صلاحیتیں نہیں، ان کے بزرگ ان کی صلاحیتوں کو یکھنا نہیں چاہتے، کام نہیں کرنے دیتے اور ان کے ان بزرگوں کی تسبیح یہ ہے کہ یہ نسل مؤدب نہیں، بالجبر قیادت چاہتی ہے اور نا اہل ہے۔دل کے بہلانے کو بات چاہے جو ہو، بہر صورت نقصان دین اور سنیت کا ہے اور بے تحاشا ہے۔  اپنی انرجی اپنوں کے خلاف برباد ہو رہی ہے اور فکر یہ ہے کہ اپنے ہی دشمن ہیں۔ 
 سچائی یہ ہے کہ  یہ نو جوان علما اپنی زندگی کے ایک عجیب دو راہے پر کھڑے ہیں اور بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے با وجود جب کچھ نہیں کر پا رہے ہیں یا ان کے مطابق کچھ نہیں کرنے دیے جا رہے ہیں تو پھر ان کے جذبات بغاوت کا روپ لے کر ملت کے حق میں فائدے کی بجائے نقصان کا  سبب بن رہے ہیں۔
        در اصل یہ جنریشن گیپ کی گھماسان ہے جس کا بنیادی سبب انسانی نفسیات کی نا فہمی اور مناسب تربیت کا فقدان ہے۔  اور اسی وجہ سے صلاحیتوں نے بغاوتوں کی شکل لے لی ہے۔ ایک طرف اگر ہمارے بزرگ نو جوانوں کی نفسیات، عزت نفس اور ان کے جذبات ِدروں کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں یا سمجھ سمجھانے کے با وجود اپنی انا کے آگے کسی خاطر میں نہ لا کر کچل دینا چاہتے  ہیں تو دوسری طرف نو جوان ایک لمحہ یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی یہ باغیانہ روش ملت و مسلک کے حق میں نہایت گھاتک ثابت ہو رہی ہے۔ نتیجہ سامنے ہےدونوں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں اور یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ  اصل مسئلہ اصاغر نوازی اور اکابر شناسی کے جذبات کا ختم ہو جانا نہیں بلکہ اصل بیماری صالح قیادت کے فقدان اور باہمی نفسیات کی نا فہمی ہے اور جب تک اس اصلی مرض ِنہاں کی صحیح تشخیص نہیں ہوگی، نہ اصاغر نوازی کا وظیفہ کار آمد ہوگا اور نہ اکابر شناسی کا موہوم تصورکچھ فائدہ دے گا۔
        ہو یہ رہا ہے کہ نسل نو اپ ڈیٹ حالات کے اعتبار سے کچھ نیا کرنا چاہتی ہے لیکن بزرگانِ زمانہ ان کی پرواز خیال کو صرف جدت پسندی کہہ کر ٹال دینا چاہتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تکبر اور بغاوت کہہ کر کچل بھی رہے ہیں، ظاہر ہے ٹکنالوجی کی اکیسویں صدی میں کوئی بزرگ صرف اپنی بزرگی کی بنیاد پر صلاحیتیں مسل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا  کیوں کہ اس صدی کی ٹکنا لوجی نے اپنی نسل کو اتنا اپ ڈیٹ کر دیا ہے کہ اس جذباتی نسل کو جہاں پرانی بے ڈھنگی چال دقیانوسی یا غیر ضروری معلوم ہوتی ہے،و ہیں یہ نسل گلوبل ولیج کے اس دور میں اپنی سمت ِراہ خود متعین کرنے کی ایک حد تک صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
آج کے دور میں اگر کوئی با صلاحیت فرد کسی  بزرگ کا مؤدب ہے تو ہمارے بزرگوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ مجبور ہے، بلکہ یہ اس کی شرافتِ طبع ہے اور اخلاص ہے، ورنہ آج کی نسل حدود قیود سے بہت بالاتر ہے، نہ اس کی دوستیاں کسی سرحدی علاقے کی پابند ہیں اور نہ اس کا دائرہ کار۔ ایک چھوٹی گلی کے کونے میں بسنے والا، کس طرح دنیا کے ایک بڑے اور اپنے حق میں مفید حلقے سے بلا واسطہ چوبیس گھنٹہ منسلک رہ رہا ہے یا رہ سکتا ہے، شاید بہت سے عمر دراز لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہیں۔ اب خلوت کدے بھی کیسی بہاروں  میں تبدیل ہو چکے ہیں اور تنہائیوں میں بھی کتنی رفاقتیں پنپ رہی ہیں، اندازہ لگانا مشکل ہے۔
        یہ بات کہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم بارہا اپنے بڑوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی بات دلیل کی بجائے، اپنی عمر کے بڑکپن کی وجہ سے منوانا چاہتے ہیں اور کبھی کبھار دلیل کے جواب میں انا پر بھی اتر آتے ہیں۔ جبکہ اسلام  ادب و تعظیم کا مذہب ضرور ہے، لیکن ادب کے نام پر کسی کی ذاتی انا کی تسکین کا سامان فراہم کرنے والوں کی یہاں کوئی حوصلہ افزائی نہیں، یہاں تو چاند سے زیادہ روشن اصول ہے: لیحیی من حی عن بینۃ۔
        کبھی کبھی تعجب ہوتا ہے کہ مفروضہ  بزرگی کے زعم میں کچھ عمر دراز حضرات اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کا پورا زورِ بیان صِرف اس بات پر صَرف ہوتا رہتاہے کہ ہم فلاں شہر میں اتنے پرانے ہیں، آپ نئے ہیں اور یہی پرانا پن گویا سنیت کے تئیں ان کی خدمت ہے ۔دین ِ خداوندی کے نام پر احسان جتانے والے  ایسے دیوانوں کے لیے شرافت کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: سنیت،  دین داری، تبلیغ اور خدمت ِ خلق جیسے دینی امور  کسی فرد، تحریک یا ٹولے  کی جاگیر نہیں اور نہ ہی دنیا میں ان کا صلہ مانگنے والا سچا خادم دین ۔متنبی نے ایسے لوگوں کے لیے بہت ٹھیک بات کہی ہے: ان لوگوں کا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ پہلے پیدا ہو گئے۔
        واضح رہے کہ ہمارا نشانہ کوئی بھی مخلص عالم دین نہیں، ظاہر ہے مخلصوں کا کردار ایسا ہو بھی نہیں سکتا، ہمارا موضوع ِسخن وہ لوگ ہیں جن کے پاس درازی عمر بالخیر تو ہے لیکن قیادت کی مطلوبہ صلاحیت اور توفیق ِخداوندی نہیں۔
        یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مفروضہ بزرگی کا سودا ایک حد تک ان سروں میں بھی خوب سمایا ہوتا ہے قسمت کی یاوری سے جن کی دست بوسی کرنے والوں کی ایک تعداد ہو جاتی ہے۔ کیا عوام کے پیر صاحبان، کیا خانقاہوں کے سجادہ نشینان، کیا مدرسوں کے مہتمم،  کیا علاقوں کے قضاۃ و مفتیان اور کیا تنظیموں کے امیر۔ اس مزاج کے لوگوں کا سب سے بڑا پروبلم یہ ہوتاہے کہ یہ مذہب کے نام پر اپنی ذاتی انا کا سامان فراہم کرتے ہیں اور اس میں یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں تائید غیبی حاصل نہیں ہوتی، نصف حصہ قبر میں لٹک جانے کے با وجود بھی یہ حضرات متنازع فیہ ہی رہتے ہیں اور اس وقت تک بھی مذہب کے نام پر سیاست سے باز نہیں آتے۔    
        عالم یہ ہوتا ہے کہ یہ حضرات کسی خاص جگہ امامت کا مسئلہ ہو یا اجتماعی دعا کا، پوسٹرس میں نام کی بات ہو یا جلسہ گاہ میں نشست گاہ کی، ہر جگہ اپنا ایک مفروضہ مقام رکھتے ہیں اور جہاں انھیں لگتا ہے کہ ان کی انا کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، طوفان ِبد تمیزی سے گریز نہیں کرتے، عوام انھیں اس لیے عزت دیتی ہے کہ ان کا لبادہ اسلامی قیادت کا  ہوتا ہے جبکہ فیضان ِاسلامی سے یہ شاید اس لیے محروم رہتے ہیں کہ ان کی نیتوں میں فتور ہوتا ہے۔ 
        ان نازک حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ دونوں قسم کے گروہ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے آپ کو اصولی بنانے کی کوشش کریں تاکہ جہاں اپنے فرض کی بخوبی ادائیگی ہو، وہیں دین و سنیت کا بھی بھلا ہو۔
(الف) آج کی نسل کا حل تشدد اور جبر نہیں، محبت ہے۔ ضروری ہے کہ ہمارے بزرگ قرینے سے اس نسل کی نفسیات کو   سمجھیں۔(ب)  اس کے لیے خطوط ِ راہ متعین کریں۔(ج)  تحکم، ڈکٹیٹرشپ اورجاگیردارانہ انداز چھوڑیں ۔(د) پیغمبر اسلام ﷺ کی قائدانہ زندگی کا مطالعہ کریں۔(ھ)  اپنے ما تحتوں پر طنز کسنے کی بجائے، ان پر اعتماد ظاہر کریں تاکہ کام بھی آگے بڑھے اور دراڑیں بھی ختم ہوں۔ (و)  کسی کی صلاحتیوں کو کچل کر اپنی قیادت منانے کے پرانے وسوسوں سے باہر نکلیں اور نئی صلاحیتوں کو نئے آفاق دیں تاکہ خود بخود آپ کی قیادت کا لوہا تسلیم ہو، کام بھی بڑھے اور حالات بھی معتدل رہیں۔ (ز)    تقسیم ِکار کے اصولوں پر کام کریں تاکہ مسلک و ملت کا بھلا ہو اور ہر فرد کو مناسب کام اور مناسب مقام ملتا رہے۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ مذہبی دنیا کے بہت سارے چھوٹے بڑے عہدے کچھ لوگ اس طرح ہتھیا لیتے ہیں کہ ما تحت یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: ہمارے یہاں شیخ الحدیث سے چپراسی تک سارے کام، ایک کام آدمی کرتا ہے۔
(ح)  افراد شناسی کا ہنر پیدا کریں اور زبان درازوں، تملق پیشہ جاہلوں اور مٹھی بھر لوگوں کے حلقوں سے باہر نکل کر سوچنے کا گُر پیدا کریں تاکہ غلط فہمیاں نہ پنپیں۔ماضی قریب میں ہمارے بزرگوں کے ناک آنکھ بننے والوں نے سنیت کو جتنے دھڑوں میں بانٹا، اس کی تباہیاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
 (ط) خدا نخواستہ اگر ماتحتوں کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئی ہوں تو کچے کانوں کا استعمال کرنے اور فریق بننے کی بجائے معاملات کا تصفیہ کریں۔  
(ی) اپنے ماتحتوں کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے ان کی علمی، قلمی اور تصنیفی صلاحیتیں اپنے نام غصب نہ کریں تاکہ خاموش بغاوتیں نہ پیدا ہوں۔اس وقت مصنف بننے کے شوق میں کچھ مذہبی تحریکوں کے امیر، اداروں کے سربراہ، مدرسوں کے مہتمم اور خانقاہوں کے سجادے دھڑلے سے یہ کام کر رہے ہیں اور اپنی تمام تر غیر علمی مصروفیات کے باوجود ہر سال اپنی مالی استطاعت کے مطابق درجن ، نصف درجن کتابوں کے مصنف بنتے جا رہے ہیں۔ اور  غریب اصحاب قلم دیانت کو بالائے طاق رکھ ہلکے داموں میں قلم فروخت کر رہے ہیں۔ یہ چوری اور سینہ زوری زیادہ چل نہیں پاتی۔ ادبی دنیا میں سہ ماہی “اثبات” بمبئی نے حالیہ دنوں میں “سرقہ نمبر” نکال کر بڑے بڑے ادبی چہروں سے نقاب کشائی کی ہے اور پرانے گڑھے مردے اکھاڑے ہیں۔ مذہبی دنیا کو بھی ایسے کسی بے باک محاسب اور حاضر دماغ  نقاد سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے ، ورنہ جتنی عزت ہے، وہ بھی جاتی رہے گی۔ 
(ک) قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے حرف اخیر اور لوہے کی لکیر کے طور پر جو بات کہی جا سکتی ہے وہی ہے جو قرآن پاک نے کہی ہے۔ صالح قیادت کے لیے تقوی بنیادی شرط ہے۔ جس کو یہ خوبی مل جائے، وہ من جانب اللہ ہر رسم پروری سے بے نیاز، ہر خوف سے بے خطر اور ماحول سے مستغنی ہو جاتا ہے۔  تائید غیبی ملتی رہتی ہے، ترقیاں ہوتی رہتی ہیں ، کام بنتے رہتے ہیں اور ارشاد قرآنی کے مطابق وہاں سے راستے کھلتے رہتے ہیں جہاں سے وہم و گماں بھی نہیں ہوتا۔ 
(ل) بزرگوں کی طرح نو جوان نسل کو بھی اپنے حاشیہ خیال میں یہ بات  راسخ کرلینی چاہیے کہ ٹکنالوجی اپنی تمام تر خوبیوں کے با وجود اسلامی روحانیت کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی اور اپنے پرکھوں سے وابستہ رہ کر آگے بڑھنے میں جو بات ہے، وہ شاید ٹکنالوجی اور مادی سہولیات میں کبھی نہ ملے۔ (م) بے شک نواجوانی کے خون میں ابال ہوتا ہے لیکن یہ خیال رہنا چاہیے،عاقبت نا اندیشی کرتے ہوئےکچھ ایسا کر گزرنا کہ بزرگی تک پچھتانا پڑے،نوجوانی نہیں، بے وقوفی ہے۔ (ن) ہر کام نوجوانوں کی مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ بہت سارے موقعوں پر سمجھوتہ کرنا سیکھیں اور حالات کی نزاکتوں کا احساس کریں۔ (س)  بارہا بزرگوں کی نظر وہ دیکھا کرتی ہے، جہاں تک چشم جواں کی رسائی نہیں ہوتی، اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے ہر موقع پر برد باری کا دامن نہ چھوٹے۔(ع)  اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور حالات آپ کے حق میں سازگار نہیں تو مناسب ہے کہ کچھ وقت کے لیے اپنے جذبات کو سرد کرتے ہوئے کسی مناسب موقع کا انتظار کر لیا جائے کیوں کہ حالات ہمیشہ نا سازگار بھی نہیں رہتے۔ (ف) خدا نخواستہ آپ تک بزرگوں کے حوالے سے کوئی پریشان کن بات پہنچتی ہے تو ضروری ہے کہ کچھ پیش قدمی سے پہلے تشفی کر لیں کیوں کہ ہمارے بزرگ  معصوم نہیں لیکن ہمارا دین معصوم ہے ، دو افراد کی چپقلشوں میں اس کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔  (ص) نو جوانوں کو یہ بات قطعا نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ قرب قیامت اور دور فتن کی پیداوار ہیں، اس لیے بہت ممکن ہے وہ کسی فتنہ کا شکار ہوں، اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ  وہ جذبات سے زیادہ محاسبہ نفسی پر توجہ مرکوز رکھیں اور کسی کا بھی خیال کریں  یا نہ کریں، دین و مسلک کا بہر حال خیال کریں کیوں کہ ہمارے لیے یہی معیار ہے اور یہی ذریعہ نجات ۔

٭٭٭

..:: FOLLOW US ON ::..


https://www.youtube.com/channel/UCXS2Y522_NEEkTJ1cebzKYw
http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!