شہید وطن منشی محمد شعبان ولد بھکاری

(جنرل سکریٹری تحریک خلافت، مالیگاوں)

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

منشی محمد شعبان کی پیدائش 1888 موضع خانقاہ ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی، اُن کی عمر دو سال تھی تب ہی والدین نے فکر معاش کے لیے وطن سے ہجرت کرکے مالیگاوں آکر چونا بھٹی کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔ منشی محمد شعبان نہایت ذہین و فطین، خوش طبع، خلیق اور ملنسار طبعیت کے مالک تھے، اِن تمام صفات سے متّصف ہونے کے ساتھ آپ ایک بہترین نعت گو شاعر بھی تھے، شاعری میں اپنا تخلّص “تحسین” استعمال فرماتے۔ ہندوستان میں برطانوی سامراج کا صفایا کرنے کے لیے تحریک خلافت کا وجود ہوا تو اُس تحریک کے قیام مالیگاوں کے لیے آپ نے کافی تگ و دو فرمائی، ممبئی تک کا سفر فرمایا۔تحریک خلافت کے آپ جنرل سکریٹری کی حیثیت سے منتخب کیے گئے۔ شہید وطن منشی محمد شعبان تحسین کا جذبہ آزادی، حُبّ الوطنی اور انگریزوں سے نفرت کو دیکھ کر اُن کے ساتھیوں نے اُنہیں تحریک خلافت، مالیگاوں کا گاندھیائی قائد کہنا شروع کر دیا۔ تحریک عدم تعاون، ودیشی کپڑوں کا بائیکاٹ، شراب بندی وغیرہ تحریکوں میں بڑھ کر کام کیا۔

 

آپ کے اندر معاملہ فہمی،دُور اندیشی اور حالات کا تجزیہ کرنے کی خداد صلاحیت موجود تھی۔تحریک خلافت کے پرچم تلے انگریزوں کے پنجہ ظلم و استبداد سے وطن کی خاطر لوگوں کو آزاد کرانے کا جذبہ تھا۔آپ تحریک خلافت کے جلسوں میں مقرر کی حیثیت سے حاضر ہوتے اور انگریزوں کے خلاف پُرجوش تقریر فرماتے۔آپ کی دُور اندیشی اور معاملہ فہمی کا اندازہ اِس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے،کہ 25 اپریل 1921 کو دنگا پھیلنے کی وجہ سے پولیس کی گولیوں سے تین لوگ(عبدالقادر مجاور میاں،محمد معصوم،محمد بشیر)شہید ہوے۔اُن شہدا کی تدفین کے بعد لوگ واپس ہورہے تھے کہ کسی شریر کی وجہ سے اچانک دوبارہ فساد پھوٹ پڑا۔لوگوں نے دکانوں میں توڑ پھوڑ شروع کر دی، جس وقت یہ سب کچھ ہورہا تھا اُس وقت شہید وطن منشی محمد شعبان تحسین،بدھو شیخ،محمد حسن احسن (مصنف، مالیگاوں میں جنگ آزادی) وغیرہ سپاٹی بازار میں مندر کے سامنے عبدالسلام سردار کی ہوٹل (خلیل سیٹھ کی سوت کی دکان کے بازو میں تھی) پر بیٹھے ہوے تھے۔جب یہ خبر اُن صاحبان تک پہنچی کہ مجاہدین دکانوں کو توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ تو شہید وطن منشی محمد شعبان تحسین نے کہا اِن لوگوں کو روکنا ضروری ہے،ساتھ والوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوے منشی محمد شعبان تحسین کو دنگے کی جگہ جانے سے روکتے ہوے کہا کہ اِس وقت وہاں آپ کا جانا مناسب نہیں،لوگ بِپھرے ہوے ہیں کسی کی نہیں سنیں گے۔مگر اِس محبّ وطن نے کہا،اگر اِن کو ابھی نہیں روکا گیا تو اِس لوٹ مار سے تحریک خلافت پر برا اثر پڑے گا،میں اپنی جان پر کھیل کر اِس بد نظمی کی آگ کو بجھاوں گا،وہاں سے اٹھ کر سیدھا دنگے کے مقام پر پہنچے،جہاں لوگ توڑ پھوڑ کررہے تھے۔شہید وطن منشی محمد شعبان تحسین نے لوگوں کو سمجھایا تو لوگ اپنے گھروں کو واپس ہوگئے۔آپ کو تحریک خلافت کے جلسہ کے بعد 01 مئی 1921 کو ٹیلی گراف تار کاٹنے،دنگا بھڑکانے، بھاسکر (بھاسکٹ، بھسکٹ) راو کا قتل کرنے،شراب بندی نیز ودیشی کپڑوں کا بائیکاٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔جب آپ کو گرفتار کیا گیا،اُس وقت بھی آپ کہہ رہے تھے میں انگریزوں کا کٹّر مخالف ہوں۔

 

آپ کے خلاف ناسک سیشن کورٹ میں مسٹر مرفی کے سامنے مقدمہ پیش ہوا،اُس نے تحریک خلافت کا قائد ہونے کی حیثیت سے مذکورہ تمام الزامات پر آپ کو پھانسی کی سزا سنائی۔6 جولائی 1922 کو علی الصباح 34 سال کی عمر میں پونا کی ایروڈا جیل میں آپ کو پھانسی دی گئی۔جس وقت آپ کو پھانسی کے لیے لے جایا جارہا تھا،اُس وقت کا منظر جناب حسن احسن مالیگانوی نے یوں تحریر کیا ہے منشی محمد شعبان اپنے لکھے ہوے اشعار کے ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے کہ قریب آتا ہے روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کرجو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پگارے گا آستیں کااِس طرح سے آزادی ہند کا ایک اور پروانہ شمع محبت ہندوستان پر نثار ہوگیا۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!