Research Papers

اُردو ادب کی تشکیل و اشاعت میں خانقاہِ مارہرہ کے مصنفین کا کردار

اُردو ادب کی تشکیل و اشاعت میں خانقاہِ مارہرہ کے مصنفین کا کردار

اُردو ادب کی تشکیل و اشاعت میں خانقاہِ مارہرہ کے مصنفین کا کردار

’’ آدھی روٹی کھائیے بچوں کو پڑھائیے‘‘کا نعرہ دینے والی دینی ، علمی و ادبی خانقاہ کی تصنیفی خدمات

از: عطاء الرحمن شیخ فضل الرحمن
(ریسرچ اسکالر ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد ،مہاراشٹر)
M.A., B.Ed., MH-SET, NET-JRF & Journalism
(Asst. Prof. in JAT Arts Science and Commerce College For Women Malegaon)

تاریخ میں تصوف ایک عالمگیر تحریک ہے۔اولیاے کرام اور صوفیاے کرام نے اسلام کی اتباع کرتے ہوئے عبادت و ریاضت کے ساتھ ساتھ کبھی بھی معاشرے سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کیابلکہ معاشرے میں رہ کر لوگوں کے دکھ درد کی چارہ جوئی بھی کی اور انہیں عمل اور اخلاق سے مزین بھی کیا۔ اسی لیے اسلامی تصوف دنیا کے تمام مکاتب تصوف سے اعلیٰ اور افضل ہے۔جس زمانے میں تصوف بام عروج پر تھا، اُس وقت ادب اِتنا وسیع نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔اُس وقت کا ادب شعروشاعری ہی تک محدود تھا۔ اس لیے جب اُردو غزل نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو تصوف کے ماحول میں پایا۔ اُردو غزل گیارہویں اور بارہویںصدی عیسوی میں وجود میں آئی ۔ اس وقت سیاست اپنی کشمکش میں تھی۔ صوفیوں اور فقیروں کا طبقہ بھی جدوجہد میں مصروف تھا جو اپنا آفاقی پیام اس ملک کے عوام تک پہنچانا چاہتے تھے۔یہ لوگ عربی، فارسی اور ترکی کے عالم تھے لیکن انھوں  نے محسوس کیا کہ اپنے روحانی پیغام کو ہندوستان کے عام لوگوں تک پہنچانا ہے تو انھیں اُردو ادب کا سہارا لینا ہوگا اور انھوں نے لیا بھی۔ اس اقدام سے ان کے روحانی فیض سے نہ صرف عوام فیضیاب ہوئیں بلکہ ادب کو اس سے خاصا فائدہ بہم پہنچا۔ اُردو ادب میں تصوف کے ابتدائی نقوش ہمیں غزل ہی میں ملتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ا س زمانے میں جب تصوف کی تحریکیں بام عروج پر تھیں، اس وقت اُردو ادب غزل ہی کی صورت میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری میں تصوف کی بھر پور آمیزش اسلامی تہذیب کی بالکل ابتدائی صدیوں میں ہی ہوگئی تھی۔ ابو سعدی الخیر کی رباعیوں سے شروع ہو کر عمر خیام ، حکیم سنائی ، خواجہ بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ ، امیر خسرو، نظیری، عرفی، حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچی اور ہنوز یہ سلسلہ دراز ہے۔ شمالی ہند میں اس تحریک نے سب سے پہلے حضرت امیر خسرو کی آغوش محبت میں آنکھ کھولی اور اسی آغوش محبت میں غزل اور تصوف آپس میں متعار ف ہوئے۔اُردو غزل نے تصوف کی گود میں جب آنکھ کھولی تو وہ حال و قال کی محفلوں اور صوفیوں اور درویشوں کی صحبتوں میں پروان چڑھی۔صوفیوں نے اپنے لیے اسے وسیلۂ اظہار بناکر اپنے روحانی فیض کونگر نگر، گلی گلی پہنچایا۔حضرت خسرو کی کہہ مکرنیاں، پہیلیاں اوردوہے اس کا مسلّم ثبوت ہے۔

اُردو شاعری کی ابتداتصوف کے ان رجحانات سے ہوئی تھی، جن میں عشق مجازی کو عشق حقیقی کا زینہ قرار دیا جاتا تھا اور جن میں تصوف کا رنگ اپنی اصلیت کے ساتھ نمایاں ہے۔اُردو میں ایسی برگزیدہ ہستیاں گنی چنی ہیں۔ سراج اورنگ آبادی، خواجہ میر درد، شاہ نیاز بریلوی، عبدالعلیم آسی ایسے شاعر ہیں، جن کی شاعری کا اصلی رنگ عشق حقیقی کا عرفان ہے۔ان کے یہاں بھی اپنی اپنی انفرادیت کی بنا پر حقیقی عشق کی روحانی کیف و سرمستی اور رموز و نکات کے بیان کرنے کے اسالیب باہم مختلف ہیں۔ خواجہ میر درد اس رنگ کے امام ہیں۔خواجہ میر دردؔ یا سراج اورنگ آبادی کی طرح میرؔ و غالبؔ با ضابطہ صوفی شعراء نہیں ہیں تاہم یہ تصوف سے بیگانۂ محض بھی نہیں۔

میرؔو غالبؔ کے بعد صحیح معنوں میں علامہ اقبالؔ تصوف کا لبادہ اوڑھ کر اُردو شاعری کی دنیا میں داخل ہوئے۔ان کا ’’ فلسفہ خودی ‘‘ سارا کا سارا تصوف کے تارو پود سے بُنا ہوا ہے۔ڈاکٹر اقبالؔ کی غزل ہو یا نظم، رباعی ہو یا مثنوی، و ہ تمام اصناف سخن میں تصوف کی آواز لے کر وارد ہوئے ہیں۔ انھیں تصوف سے گہرا لگائوہے۔تصوف انھیں ورثے میں بھی ملا اور خود اپنی آگہی کے علم و عرفان سے بھی۔اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں کہ ڈاکٹر اقبالؔ تصوف کے روایتی پہلو سے کسی قدر نالاں بھی ہیں۔دراصل ڈاکٹراقبالؔ اس تصوف سے بچنے اورباز رہنے کی تلقین کرتے ہیں جو صرف دکھاوے، مراسم اور خانقاہی پر منحصر ہے۔

غرضیکہ جیسے جیسے اُردو ادب پروان چڑھا دیگر اصناف ادب میں بھی تصوف کی جلوہ فرمائیاں نظر آنے لگیں۔ غرضیکہ غزل کے دامن کے ساتھ تصوف کا رنگ فکشن میں بھی نظر آنے لگا۔ دراصل ہندوستانی تہذیب بھکتوں، صوفیوں ، فقیروں اور سنتوں کی آمیزش سے پروان چڑھی ہے اور اسی رنگ میں ہمارا ادب بھی رنگا ہوا ہے۔رفتہ رفتہ شاعری کی دنیا سے نثری ادب میں تصوف منتقل ہوا اور باضابطہ تصوف کے متعلق نثری تصانیف منظر عام پر آئیں۔ اسی طرح افسانوی اور غیر افسانوی ادب میں بھی تصوف کی جلوہ فرمائیاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ گویا کہ اُردو زبان و ادب کی تشکیل اور ترویج واشاعت میں صوفیاے کرام کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایسے ہی صوفیوں کی ایک ممتاز خانقاہ ، خانقاہِ مارہرہ مطہرہ ہے جن کے بزرگ کئی صدیوں سے اُردو ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ( ضلع ایٹہ ،ہند) ہندوستان کی بہت بڑی خانقاہ ہے۔یہ علم و فضل میں یگانہ ،روحانیت اور بزرگی میں عظیم الشان، نجیب الطرفین ساداتِ زیدیہ کا مقدس مسکن ہے۔ گذشتہ کئی صدیوں سے ہدایت و ارشاد، تصنیف و تالیف، تزکیہ و طہارت اور اصلاحِ فکر و اعمال کے میدان میں اس خانقاہ کی نمایاں خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ یہاں کے تمام بزرگ ہمیشہ سے ملک ، ادب اور قوم کی خدمت کرتے رہے ہیں۔چنانچہ مولانا اُسید الحق قادری بدایونی،مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے بارے میں سوانح نگاروں کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’وہ (شاہ عالم ثانی)آپ (شمس مارہرہ ) کا معتقد تھااور اس نے والی اودھ نواب آصف الدولہ کے ذریعے چند دیہات 1198ھ میں بطور جاگیر آپ کو نذر کیے تھے۔‘‘
(تذکرۂ شمس مارہرہ، از: مولانا اُسید الحق قادری بدایونی، ص:17، ناشر:تاج الفحول اکیڈمی، سن اشاعت نومبر2013ء )

اس ضمن میں ساحل شہسرامی علیگ لکھتے ہیں:
’’ صاحبان سیف اور صاحبان قلم اس خاندان میں ہمیشہ پیدا ہوتے رہے اور اب تک یہ سلسلۂ امتیاز جاری ہے ۔ امراء اور منصب دار بھی خاصی تعداد میں رہے ۔ خود صاحب عرس قاسمی سیدنا شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے والد ماجد سید شاہ محمد صادق قدس سرہٗ آنریری مجسٹریٹ تھے ۔ اور پیچھے کی صفوں میں چلیے تو اس خاندان کے دیوان سید بھیکا اور سید محمد ، ہمایوں کے مقرب خاص اور منصب دار تھے، سید محمد فیاض ، راجہ نول رائے صوبیدار اوددھ کے فوجی جنرل تھے۔ سید دانش مند علی عرف دان شاہ نواب آصف الدولہ کے مصاحب خاص رہے۔ نواب عمادالملک عمادالدولہ موتمن جنگ علی یار خان مولانا سید حسین اسی خاندان کے فرد تھے۔ خان بہادر نواب مجدالدولہ دبیر الملک قائم جنگ سید نیاز حسن ، شاہ اودھ کے مصاحب خاص اور وزیر اعظم کے منصب پر فائر تھے۔ حضور اچھے میاں کے چھوٹے بھائی حضرت آل حسین سچے میاں بہت بڑے منصب دار نواب تھے جو اپنی جاگیر کی دیکھ بھال کے سلسلے میں مارہرہ شریف سے آرہ کواتھ تشریف لے گئے۔ ‘‘
(اہل سنت کی آواز، ص؍ 23-24، خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ مطہرہ 2009ء ، طابع و ناشر: سید نجیب حیدر قادری برکاتی نوری، نائب سجادہ نشین ، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ ،ضلع ایٹہ ، اترپردیش)

ملکی خدمات کے ساتھ اگر خانقاہ مارہرہ کے مشائخ کے علمی کارناموں کی فہرست مرتب کی جائے تو ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہمارے سامنے ہوں گے۔ اس تعلق سے ساحل شہسرامی علیگ رقمطراز ہیں:
’’ خاندان برکات کے اکابر اصحابِ تصنیف گذرے ہیں۔ ان حضرات کی بہت سی تصانیف اور قلمی یادگاریں گردشِ روزگار کی نذر ہوئیں لیکن اس علمی ضیاع کے باوجود اب بھی برکاتی ذخیرۂ تصانیف اچھی تعداد میں محفوظ ہے۔ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، رضا لائبریری رامپور، خدا بخش لائبریری ، کراچی یونیورسٹی ، بلگرام شریف کی سرکار ی اور ذاتی لائبریریوں میں اب بھی برکاتی مخطوطات محفوظ ہیں۔ ‘‘
(اہل سنت کی آواز، ص؍ 24، خصوصی شمارہ: اکابر مارہرہ مطہرہ 2009ء ، طابع و ناشر: سید نجیب حیدر قادری برکاتی نوری، نائب سجادہ نشین ، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ ،ضلع ایٹہ ، اترپردیش)

خانقاہِ برکات کی تصنیفات ،نثری و شعری کاوشیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوتی رہی ہیں۔خانقاہ کے بزرگوں میں اعلیٰ پایہ کے شعراے کرام بھی گذرے ہیں۔ ان بزرگوں نے مختلف زبانوں میں شاعری کے ذریعے اپنے افکار و خیالات ، عقائد و نظریات اور باطنی کیفیات کو اُجاگر کیا ہے۔ اس تعلق سے ساحل شہسرامی علیگ لکھتے ہیں:
’’ صرف فاتح بلگرام کی نسل کی جملہ شاخوں کی شاعری کے دستیاب ذخیرے جمع کیے جائیں تو سینکڑوں جلدیں تیار ہوجائیں گی۔ صرف علامہ آزاد بلگرامی کے دواوین کی تعداد دس سے زائد اور اُن کے صرف عربی اشعار سترہ ہزار سے زیادہ ہیں۔ ‘‘(مرجع سابق)

فن شاعری کے متعلق مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی رقم طراز ہیں :
’’صاحب البرکات حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ فن علم و ادب اور شاعری میں اپنا نظیر و مثیل نہیں رکھتے تھے ۔ عربی ، فارسی ، اُردو بھاشا کے علاوہ ہندی و سنسکرت پر آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔ چنانچہ آپ کی شاعری کے متعلق علامہ آزاد بلگرامی اپنی شہرۂ آفاق کتاب’’ مآثر الکرام ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شاہ برکت اللہ پیمی نے پیامی شاعر کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی۔‘‘

اُردوکے عہد بعہد ارتقا کی تاریخ اور اس کی ابتدا سے متعلق لسانیاتی نظریوں کو پیش کرنے والے ماہر لسانیات و محقق ڈاکٹر مسعود حسین خان اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’ مقدمہ تاریخ زبان اُردو ‘‘میں تحریر کرتے ہیں:
’’اس سلسلے میں عہدِ عالم گیری کے ایک دوسرے مشہور مصنف شاہ سید برکت اللہ پیمی مارہروی کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے ۔ شاہ برکت اللہ کا ہندی کلام ’’ پیم پرکاش ‘‘ (سنہ تصنیف 1698ء) حال میں پنڈت لچھمی دھرنے دہلی سے شائع کیا ہے ۔ (شاہ برکت اللہ کا ہندی ادب میں اضافہ ، انگریزی ، 1949ء ) شاہ موصوف کا شمار اُنہیں شراروں میں ہوگا جو دو بڑے تمدنوں سے ٹکرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ شاہ برکت اللہ کو ہندی ، فارسی اور عربی پر کامل عبور تھا۔ تصوف سے لبریز انسانیت کے پیغام کو انھوں نے دوہوں اور کتبوں کے ذریعے پہونچانا چاہا ہے۔لیکن مارہرے میں بیٹھ کر وہ بھی ان اُٹھتی ہوئی لسانی لہروں کے اثرات سے نہ بچ سکے جو عہد عالمگیری میں ہندوستان کے گوشے گوشے میں پہونچ رہی تھیں۔ اُنہوں نے چند ریختے بھی لکھے ہیں جن کی زبان اس عہد کے لسانی حالات کی غمازی کرتی ہے ۔

گھر تج کے جا جنگل میں پری تب سمجھ پری
تن من میں پیم کی آگ بری تب سمجھ پری
موجوں کے پھیر کوں جو دلِ غیر بوجھتا
جب سندھ کے بھنور میں پری تب سمجھ پری

1700ء تک ریختہ کی شکل میں کھڑی بولی کے ادبی ارتقا کا آغاز ہو چکا تھا لیکن برج بھاشا کی ادبی اہمیت ابھی تک مسلم تھی۔ اس لیے شاہ پیمی نے بھی فارسی کے بعد برج بھاشا ہی کو زیادہ تر اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور کبت اور دوہے عام طور پر اسی میں لکھے ہیں ۔ ان کے کلام کے لسانیاتی تجزیے سے یہ بات بھی مسلم ہو جاتی ہے کہ فارسی عروض صرف ریختے سے مخصوص تھا یعنی ریختہ صرف ملی جلی زبان کا نام ہی نہیں تھا بلکہ اس ملی جلی زبان کے لیے فارسی عروض کے استعمال کی شرط بھی لازم تھی۔‘‘
(مقدمہ تاریخ زبان اُردو، ڈاکٹر مسعود حسین خان ، ص 167تا 169، ناشر: آزاد کتاب گھر دہلی ، 1954ء )

حضرت سید شاہ اویس بلگرامی قدس سرہ کے بڑے صاحبزادے سلطان العاشقین سیدنا حضرت صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ قدس سرہ بیک وقت ظاہری اور باطنی علوم کے شناور، ادیب ، مصنف ، محقق ، شاعر اور صاحب حال مر تاض بزرگ تھے۔ آپ کی علمی کیفیات کے بارے میں احسن العلماء مولانا سید مصطفی حیدر حسن برکاتی قدس سرہ کے خلف اکبر اور جانشین ڈاکٹر سید محمد امین میاں قادری برکاتی رقم طراز ہیں :
’’ حضرت مخدوم شاہ برکت اللہ قدس سرہ کا زمانہ علوم وفنون کی ترقی کے لحاظ سے بہت سازگار تھا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کو علوم اسلامی سے بہت دلچسپی تھی۔ فتاویٰ عالمگیری اسی دور کی یادگار ہے ۔ صاحب البرکات کا مولد بلگرام ، علماء ظاہر اور علماء باطن کی آماجگاہ تھا۔ اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حضرت نے قرآن و حدیث ، فقہ و منطق ، فلسفہ وغیرہ کی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور دیگر اساتذہ سے حاصل کی ۔ اس کے علاوہ عربی ، فارسی اور سنسکرت کے کلاسیکی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ نیز گیتاؔ ، ویدؔ، اپنشدؔ، اور ہندو فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھا اور یہ اس لیے کہ دوسرے مذاہب کی اہم کتابوں کا مطالعہ اور تفہیم ضروری ہے۔ ان کے وسیع مطالعہ کا اندازہ ہمیں ان کی تصانیف سے ہوتا ہے ۔ ‘‘
(خانوادۂ برکات کی علمی و ادبی خدمات ، از: مولانا محمد ارشاد احمد مصباحی ، اہلسنّت کی آواز ، اکتوبر 1999ء، ص142 )

سیدنا مخدوم سید شاہ برکت اللہ قدس سرہ کو قدرت کی جانب سے تصنیف و تالیف اور شعر گوئی کی اعلیٰ صلاحتیں عطا ہوئی تھیں۔ عربی، فارسی، ہندی ، اودھی سبھی زبانوں میں شعر کہتے ۔ اس طرح آپ نے گراں قدر دینی اور ادبی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ ادبی میدان میں اپنا تخلص فارسی اور عربی میں عشقیؔ اور ہندی میں پیمی ؔ فرماتے تھے۔ چنانچہ چند اشعار تبرکاً پیش کرتا ہوں ؎

یا شفیع الوری سلام علیک
یا نبی الھدی سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
سیدالاصفیاء سلام علیک
جئت یا مصطفی سلام علیک
لک اھلی فدا سلام علیک
احمد لیس مثلک احد
مرحبا مرحبا سلام علیک
مھبط الوحی منزل القرآن
صاحب الاھتداء سلام علیک
ھذا قول غلامک العشقی
منہ یا مصطفی سلام علیک

حضرت صاحب عالم قدس سرہ کو مرزا اسد اللہ خاں غالب ؔ اپنا پیرومرشد کہہ کر مخاطب کرتے۔مولانا احسنؔ مارہروی اعلیٰ پائے کے عالم ، ادیب اور اُستاد شاعر تھے۔ ’’ تاریخ نثر اُردو ‘‘ اور ’’ انشاے داغ‘‘ ان کی نثری نگارشات کے نام ہیں۔ سید محمد اشرف کے دادا حضرت سید شاہ آل عبا قادری ادب ، ریڈیو، صحافت اور انشائیے میں کمال رکھتے تھے۔ آپ کا قلمی نام ’’ آوارہؔ‘‘تھا۔ سید محمد اشرف بتاتے ہیں کہ
’’ میرے دادا کو حضرت آوارہ کا نام رشید احمد صدیقی نے دیا تھا ۔‘‘
(ڈاکومینٹری ، سفیرانِ قلم ، سید محمد اشرف، سحر اُردو ٹی وی چینل ، نشر 7؍ مئی 2017ء )

چنانچہ اس مقالے میں خانقاہِ مارہرہ کے بزرگوں کی تاریخ اور خانقاہ سے وابستہ ادباء و شعراء کی علمی و ادبی خدمات کا سپرد قرطاس کیا جائے گا۔
نسلِ حسینی حضرت امام زین العابدین ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے بڑھی۔ آپ کے شہزادگان میں حضرت امام محمد باقر اور حضرت زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہما دو نمایاں نام ہیں۔ یہیں سے نسل حسینی مختلف شاخوں میں منقسم ہوئی جن میں باقری اور زیدی شاخیں معروف ہیں۔ حضرت امام زید شہید کی پانچویں پشت میں ایک بزرگ حضرت سید علی (بن حسین بن علی بن محمد بن عیسیٰ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) مدینۂ منورہ سے ہجرت کر کے عراق کے شہر واسط تشریف لائے اور سکونت پذیر ہوئے۔ آپ کی ساتویں پشت میں ایک بزرگ حضرت سید ابولفرح واسطی اپنے 4؍ صاحبزادوں کے ہمراہ سلطان محمود غزنوی کے عہد میں غزنی رونق افروز ہوئے۔ پھر ایک صاحبزادے سید معزالدین کے ساتھ واسط واپس آگئے، باقی تین صاحبزادوں سید ابوفراس ، سید ابوالفضائل اور سید دائود نے ہندوستان کا رُخ کیا۔ سید ابو فراس کے احفاد میں حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ علیہ نے حسب ایماے سلطان شمس الدین التمش سری نام راجۂ بلگرام کے ساتھ جو بڑا سخت کافر اور سرکش تھا جہاد فرمایااور اس کے قتل کے بعد 614ھ میں آپ نے فتح پائی۔ سلطان شمس الدین التمش نے اس فتح کے صلے میں بلگرام مع توابع آپ کو بطور جاگیر دی۔ حضرت سید محمد صغریٰ نے اس بستی کا نام سری نگر سے بلگرام کر دیا۔
بلگرام کی وجہ تسمیہ :
جناب سید محمد اشرف مارہروی بلگرام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مزید یوں مفصل روشنی ڈالتے ہیں :
’’فقیر کہتا ہے شاید اس نام سے موسوم اس لیے کیا گیا ہے کہ بعد والوں کو یہ نام شوکت و قوت اسلام کی یاد دلاتارہے۔ یہ بتاتا رہے کہ وہ مقام جو ’’بیل‘‘ ایسے دیو لعین کا ’’گرام‘‘ شہر وجائے قیام تھا۔آج بفضلہ تعالیٰ و بحولہ و قوتہ جل جلالہ نزہت کدۂ شعائر اسلام ہے ۔اس لیے کہ یہ نام مرکب ہے دو لفظوں سے ایک بیل، دوسرا گرام بمعنی مقام و شہر و آبادی۔ اور بیل ایک دیو ملعون کا نام تھا جسے اس زمانے کے جوگی اور ساحر جو بلگرام میں بہت رہتے تھے، کوہستا ن کشمیر سے پوجا پاٹ اور جادو کے ذریعے سے تسخیر کر کے اپنی مدد اور اعانت کے لیے یہاں لائے اور اسے یہاں رکھاتھا۔ یہ شیطان لعین ایسا زبردست تھا کہ دور دور تک اپنے مخالف کو نہ رہنے دیتا اور سوائے اپنی پوجا کے کسی کی پوجا نہ ہونے دیتا۔ اگر کوئی اُسے نہ پوجتا تو اسے آزار و اذیت پہنچاتا ۔حضرت خواجہ عماد الدین بلگرامی قدس سرہٗ نے حضرت سید محمد صغریٰ کے بلگرام فتح کرنے سے چند سال پہلے اپنی قوت باطنی اور زور روحانی سے بحول و قوت الٰہی اس دیو لعین کو خاک کر ڈالا۔ جب یہ خبر راجہ بلگرام کو پہنچی، اس نے چاہا کہ حضرت خواجہ پر فوج کشی کرے۔اس کے مشیروں نے سمجھایا کہ ہم نے اپنی پوتھیوں میں دیکھا ہے کہ ایک زمانہ میں اس سر زمین پر مسلمان چھائیں گے اور جو اُن سے مقابلہ کرے گا وہ بجز ذلت و ناکامی اور کچھ نتیجہ نہ پائے گا ۔ لہٰذا ان درویش سے تعرض کرنا نہ چاہیے جو ایسے زبردست ہیں کہ جس بیل دیو ملعون کے بل بوتے پر ہم کودتے تھے اسے انھوں نے ایک دم میں نابود کر ڈالا۔ تیری کیا طاقت ہے جو ان سے مقابلہ کرسکے گا۔ آخر راجہ نے فوج کشی سے باز آکر ایک جوگی کو جو سحر ساحری میںطاق تھا،حضرت کے مقابلہ میں بھیجا۔ حضرت کے سامنے اُس نے کچھ سحر کے شعبدے دکھائے جنھیں حضرت نے بحول وقوۃ الٰہی دفع کر دیا ۔آخر وہ جوگی مشرف بہ اسلام ہو کر راجہ کے پاس واپس گیا اور اپنے سحر کی بے اثری اور حضرت کے زور باطن اور دین اسلام کی بزرگی و قوت بیان کر کے راجہ کو دعوت اسلام دی۔ اس سے راجہ غصہ ہو کر بولا ،تو پرانا رفیق ہے ورنہ میں تجھے مروا ڈالتا ۔اُس نے کہا تیری کیا طاقت ہے جو مجھے مروا ڈالے ۔میں نے ایسے برگزیدۂ حق کا ہاتھ پکڑا ہے کہ تیرے ایسے ہزاروںاس کے سامنے خس برابر ہیں ۔ او روہاں سے آکر حضرت خواجہ صاحب سے اس راجہ مغرور کے تعصب کفر کا حال بیان کر کے اس کے قلع قمع کے لیے عرض کیا۔ حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا: اس بیل دیو لعین کو مار ڈالنا تو فقیر کے ہاتھ سے مقدر تھاجو واقع ہوا اور اس کافر راجہ کا استیصال بھی کچھ دشوار نہیں۔ مگر تقدیر الٰہی میں یوں جاری ہو چکا ہے کہ ولایت سے ایک سید مسلمانانِ اہل عرب کی فوج کے ساتھ آکر راہِ حق میں جہاد کرے گا اور ان کافروں کو ان کے مقر اصلی جہنم میں پہنچائے گا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد حضرت سید محمد صغری نے آکر بلگرام فتح فرمایا اور اسے اسلام آباد کر دیا (نظم اللالی)جہاں سے بڑے بڑے اکابر اولیاو علما و فضلا و کملا مثل حضرت سید شاہ بڈھ بلگرامی و حضرت میر عبدالواحد بلگرامی صاحب سبع سنابل و حضرت طیب و حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی و علامہ سید عبدالجلیل بلگرامی و حضرت حسان الہند مولانا غلام علی آزادؔ اور حضرت علامہ زماں سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی یمنی صاحب تاج العروس شرح قاموس وغیر ہم اجلۂ اکابر نامدار اٹھے: جن کے فضائل و کمالات علمی و عملی آج بھی دانگ عالم میں مشہور و معروف ہیں۔ ‘‘
(یادِ حسن ، از:سید محمد اشرف مارہروی، ص 86/88، ناشر :دارالاشاعت برکاتی ، مارہرہ مطہرہ )

حضرت سید محمد دعوۃ الصغریٰ(وفات: 645ھ):
حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ علیہ (وصال 645ھ)سادات زیدیہ بلگرام کے مورث اعلیٰ ہیں۔آپ صوری ومعنوی فضائل کے جامع تھے۔سنت کے پابند ، بدعات و خرافات سے دور و نفور اور اعلائے کلمۃ اللہ میں سچا عزم رکھتے تھے۔آپ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے خلیفہ و جانشین حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہٗ کے نہ صرف مرید تھے بلکہ ان کے خلیفہ بھی تھے۔ اپنے فضل و کمال اور زہد و تقویٰ کو سلطان شمس الدین التمش کی رفاقت وملازمت کے پردہ میں عوام سے پوشیدہ رکھتے تھے۔لیکن مشک آنست کہ خوب ببوید نہ کہ عطار گوید کے مصداق آپ کی شہرت و مقبولیت بلگرام کی فتح کے بعد بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ خانوادۂ بلگرام اُس دور سے لے کر اب تک پوری دنیا میں تصوف و روحانیت اور علوم و فنون کامرکز و محور بنا ہوا ہے۔

حضرت سید میر عبدالواحد بلگرامی (ولادت : 916ھ /وفات 1017ھ ) :
حضرت سید محمد دعوۃ الصغریٰ کی گیارہویں پشت میں حضرت سید میر عبدالواحد بلگرامی (ولادت : 916ھ /وصال 1017ھ ) قدس سرہٗ ہیں جن کا نام علمی اور صوفی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ آپ قربِ خداوندی کی اعلیٰ منزلوں پر متمکن تھے۔زہد و ورع ، فقرو غنا، صبر و رضا اور علم شریعت و طریقت میں آپ اپنے ہمعصر علما و مشائخ میں نمایاں حیثیت کے حامل تھے ۔ آپ کی علمی شان و شوکت کے بارے میں سارے معاصر اور متاخر مورخین رطب اللسان دکھائی دیتے ہیں۔ آپ اپنے دور کے نامور اور مقبول ترین مصنف اور شاعر تھے۔ شاہدیؔ تخلص فرماتے اور بلند پایہ عارفانہ کلام کہتے تھے۔ تصنیف و تالیف میں آپ اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔ ’’ سبع سنابل ‘‘ آپ کی معروف تصنیف ہے۔ جب کہ دیوانِ شعر ،ساقی نامہ ، شرح گلشن راز، شرح مصطلحات دیوان حافظ ،شرح الکافیہ فی التصوف، حقائق ہندی ، شرح نزہۃ الارواح ، شرح غوثیہ، شرح مفیض المحبت وغیرہ آپ کی دیگر تصانیف ہیں۔ انھیں کی آل میں سے ایک بزرگ نے مارہرہ کو اپنا مسکن بنایا۔

مارہرہ کاتاریخی پس منظر :
مارہرہ ایٹہ شہر کی جانب آٹھ کوس کی دوری پر واقع ہے اس قصبہ کی بنیاد راجہ بینی رام نے 699ھ میں رکھی ، قصبہ کی آبادی بڑھتی رہی ، اصحابِ علم و ہنر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ صاحبانِ صنعت وحرفت آآکر یہاں قیام پذیر ہونا شروع ہوئے ۔ رفتہ رفتہ یہ قصبہ اپنے ملحقہ گاؤں کا پرگنہ بن گیااور اس قصبے میں مختلف برادریوں کے لوگ آباد تھے۔ شرفا میں جن کا شمار ہوتا وہ ساداتِ بخاری ،شیوخ ، چودھری اور انصاری تھے۔ ساداتِ بخاری کا خانوادہ سب میں باعث ِ تکریم و عزت تھا۔ ابتدا میں مارہرہ کی حالت اچھی تھی۔ مگر چند صدیاں بیتنے کے بعد حالت دن بدن بگڑنے لگی۔فتنے فساد پیداہونے لگے۔ یہاں تک کہ دسیوں صدی ہجری میں وہ مارہرہ فتنوں کا مجموعہ اور برائیوں کا گہوارہ بن گیا۔ مورخین لکھتے ہیں:
’’ مارہرہ اس وقت گمراہی و فساد کی کان بنا ہوا تھا۔ یہاں کے رہنے والے طرح طرح کی جہالتوں ، گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ طرح طرح کے منہیات و فسق و فجور کو اپنی زندگی کا لازمی جز قرار دے چکے تھے جہاں عوام کا کیا ذکر اس وقت کمبوہوں کو جو یہاں کے قدیم شرفا و صاحب اقتدار لوگوں میں سے ہیں یہ قبیح رسم جاری تھی کہ جب تک کثیر رقم پانچ چھے ہزار نہ جمع ہوجائے اس وقت تک لڑکے لڑکیاں بٹھائے رکھتے شادی بیاہ نہیں کرتے، لڑکے لڑکیاں بن بیاہ جوانی سے گزر جاتے وغیرہ ذٰلک۔‘‘
( ماہنامہ اشرفیہ ، مبارک پور خصوصی شمارہ سیدین نمبر ، اکتوبر 2002ء ، ص 123)

مارہرہ میں حضرت سید میر عبدالجلیل چشتی بلگرامی (ولادت :972ھ /وفات: 1057ھ )کی آمد :
سیدالسالکین صاحب ِ سبع سنابل شریف میر عبدالواحدبلگرامی کے صاحب زادے حضرت سید میر عبدالجلیل چشتی بلگرامی (ولادت :972ھ /وصال: 1057ھ ) پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے بلگرام سے ہجرت کر کے مارہرہ کو اپنا وطن بنایا ۔1017ہجری میں آپ کی آمد مارہرہ میں سلطان جہانگیر بن اکبر بادشاہ ہند کے عہد میں ہوئی۔آپ جب مارہرہ جارہے تھے وہاں نہ آپ کا کوئی شناسا تھا نہ کوئی تعلق دار ۔

آپ نے یہاں تبلیغ دین کا کام شروع کیا ، رفتہ رفتہ لوگوں کے درمیان اور مارہرہ کے ماحول میں اصلاح ہونا شروع ہوگئی آپ کی 43؍ برس تک مسلسل کوششوں اور اپنی ظاہری و باطنی قوتوں کے ذریعے برائیوں میں ڈوبے ہوئے قصبے کو طیب و طاہر بنادیا اور مارہرہ کو مارہرہ مطہرہ بنادیا ۔ 8؍ صفرالمظفر 1057ھ کو وفات ہوئی اور آپ آج بھی مارہر ہ میں آسودۂ خاک ہیں۔آپ کے آستانے کو بڑی درگاہ کے نام سے جانا جاتاہے۔ آپ قائم اللیل اور صائم النہار بزرگوں میں نمایاں مقام و مرتبے کے حامل تھے۔ آپ کو یوں تو تصنیف و تالیف سے شغف نہ تھا پھر بھی چند قلمی کاوشیں آپ سے یادگار ہیں ، جن میں ایک معلم الخطیب اور دوسری مجموعۂ اعمال کی بیاض ہے۔

حضرت میر سید شاہ محمد اویس بلگرامی (ولادت :972ھ /وفات: 1057ھ ):
حضرت سید میر عبدالجلیل بلگرامی مارہروی کے بعد آپ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت میر سید اویس (وصال : 1097ھ)آپ کے خلیفہ اور جانشین ہوئے۔ آپ روحانی کمالات کے مرکز و منبع تھے۔ آپ کا باطن ظاہر سے زیادہ روشن اور تابناک تھا۔ آپ عجب و ریا، خود نمائی او رخود پسندی سے دور متواضع طبیعت کے حامل تھے۔ آپ کے بارے میں خاندانی مورخین نے لکھا ہے کہ مادر زاد ولی تھے۔ بچپن ہی سے جذب الٰہی نے آپ کو دنیا سے بے نیاز کررکھا تھا۔

حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی مارہروی (ولادت :1070ھ /وفات: 1142ھ ):
آپ کے صاحبزادے حضرت سیدنا شاہ برکت اللہ عشقیؔ مارہروی (وصال :1142ھ )امام سلسلۂ برکاتیہ ہیں۔ آپ کے القاب سلطان العاشقین اور صاحب البرکات ہیں۔ آپ کا نسب نامہ 35؍ واسطوں سے حضور سیدالشہداء سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہوا حضور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قدسی صفات تک ملتا ہے ۔ آپ کے خاندان میں گو کہ سلاسل چشتیہ و قادریہ وغیرہ تمام معروف سلاسل تھے لیکن اکابر خانوادہ پر رنگِ چشتیہ نظامیہ غالب رہا۔ آپ نے کالپی شریف جا کر حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی قدس سرہٗ (وصال :1111ھ )سے اخذ فیض کیا اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔ واپس آکر آپ نے اسی سلسلۂ قادریہ کالپویہ کا اجرا کیا اور مارہرہ مطہرہ میں خانقاہِ قادریہ برکاتیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ ہی کے نام سے سلسلۂ برکاتیہ اور خانقاہ موسوم ہے ۔سید شاہ برکت اللہ مارہروی کے فضائل و مناقب اور کمالات و محاسن شمار سے باہر ہیں۔ آپ بیک وقت ظاہری اور باطنی علوم و فنون کے محور و مرکز ، ادیب ، مصنف ، محقق ، شاعر ، اور صاحب حال بزرگ تھے۔ عربی ، فارسی ، ہندی ، اودھی زبانوں پر عالمانہ و فاضلانہ دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی تصانیف میں رسالہ چہار انواع، رسالہ سوال و جواب، عوارف ہندی ،دیوانِ عشقی ، ترجیع بند، مثنوی ریاض العاشقین ، پیم پرکاش ، وصیت نامہ، بیاض باطن ، بیاض ظاہر، رسالہ تکسیر وغیرہ کا شمار ہوتاہے۔ شاعری میں عشقی اور پیمی تخلص فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی علمی و ادبی اور لسانی خدمات کا اعتراف مشہور ادیب و مورخ ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے اپنی کتاب ’’مقدمہ تاریخ اردو زبان‘‘ اور ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’’تاریخ اردو ادب‘‘ میںکیا ہے۔

حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی (ولادت :1111ھ /وفات: 1164ھ ):
سید شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی مارہروی کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سیدنا شاہ آل محمد مارہروی (وصال: 1164ھ )قدس سرہٗ علوم ظاہر و باطن کے جامع، اپنے والد کے مرید و خلیفہ اور جانشین تھے۔ آپ کا شما ر اپنے زمانے کے اولیائے کاملین میں ہوتا ہے۔ آپ کی ایک تالیف’’ بیاضِ دہلی ‘‘ کا ذکر تاریخ خاندانِ برکات مولفہ تاج العلماء اولادِ رسول سید محمد میاں مارہروی میں ملتا ہے۔

حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ مارہروی (ولادت :1131ھ /وفات: 1198ھ ):
اسدا لعارفین حضرت سیدنا شاہ حمزہ عینیؔ مارہروی (وصال:1198ھ) قدس سرہٗ حضرت صاحب البرکات کے پوتے سید شاہ آل محمد مارہروی کے بیٹے اور باکمال شخصیت کے مالک تھے۔ تاحیات سلسلۂ قادریہ کی خدمت انجام دیتے رہے۔ خاندانِ برکات کے کثیر التصانیف بزرگوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔ آ پ کی تصانیف آپ کی عبقریت اور علمی وجاہت کی بہترین شاہد ہیں ، جن میں نمایاں طور پر کاشف الاستار، فص الکلمات ، مثنوی اتفاقیہ، قصیدۂ گوہربار ، رسالۂ عقائد ، وصیت نامہ، مکاتیب شریفہ ، بیاض اعمال و اشغال ، دیوانِ شعر قابل ذکر ہیں۔ آپ کا ادبی ذوق بڑا نکھر ا اور ستھرا تھا۔عینیؔ تخلص تھا۔ برجستہ اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ کا ایک شعر تو آفاقی شہرت کا حامل ہے:

غوثِ اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے

آپ کے 4؍ صاحبزادگان ہوئے :
(1) شمس مارہرہ ابوالفضل شمس الدین آل احمد حضرت اچھے میاں مارہروی قدس سرہ
(2) حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں مارہروی قدس سرہ
(3) حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں مارہروی قدس سرہ
(4) حضرت سید اعلیٰ صاحب مارہروی قدس سرہ(صغرسنی میں وصال فرمایا )
حضرت سید شاہ محمد حقانی مارہروی(ولادت :1145ھ /وفات: 1210ھ ):

حضرت سید شاہ محمد حقانی ( وصال: 1210ھ) حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی کے چھوٹے صاحب زادے ہیں ۔ علومِ شرقیہ سے گہرا شغف رکھنے کے ساتھ ساتھ عمدہ اور نادر تعمیرات کا بہت اچھا ذوق رکھتے تھے۔ خانقاہ برکاتیہ مارہرہ کی بعد کی اکثر عمارتیں آپ ہی کے ذوقِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آپ کو تصنیف و تالیف کا بہت شوق تھا خصوصاً قرآن کریم اور سیرت طیبہ کے حوالے سے آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔چناں چہ ڈاکٹرمحمد حسین مشاہدرضوی اس ضمن میں لکھتے ہیں :
’’ جس وقت علم و فن کے مرکز دہلی میں بیٹھ کر شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے قرآن مجید کے تراجم کیے۔ سید شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہٗ(1198ھ) کے چھوٹے بھائی سید شاہ حقانی مارہروی قدس سرہٗ (1201ھ) نے دلّی سے بہت دور مارہرہ کی دھرتی پر بیٹھ کر جہاں بہ ظاہر کوئی علمی و ادبی ماحول نہیں تھا قرآن مجید کا اردو ترجمہ ’’نعت رسول کی‘‘نام سے کیا۔ جس پر پروفیسر ڈاکٹر سید محمد امین میاں قادری برکاتی مارہروی نے ایک تحقیقی کتاب بھی قلم بند کی ہے جس میں اس ترجمے کی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سیدشاہ حقانی مارہروی قدس سرہٗ نے ’’ عنایت رسول کی‘‘کے نام سے تفسیر بھی لکھی جو اردو زبان کی اولین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے۔‘‘
( تنویر القرآن : مولانا کیف الحسن قادری ، مضمون ڈاکٹر مشاہدرضوی ، ص52،ناشر: شیر بہار اکیڈمی ، مظفر پور بہار، سنہ اشاعت اکتوبر2020ء)
شمس مارہرہ سید شاہ آل احمداچھے میاں مارہروی(ولادت :1160ھ /وفات: 1235ھ ):

شمس مارہرہ ابوالفضل شمس الدین آل احمد حضرت اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ کو اپنے عہدکے اکابر و مشائخ میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ بڑے بڑے اکابر اور اولیا مسائل حال و قال میں آپ کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے جامع شریعت و طریقت نے مسئلہ وحدۃ الوجود میں ایک طالب حق کو تسکین و اطمینان کے لیے آپ کی خدمت میں بھیجا تھا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکابر زمانہ کی نظر میں خانقاہِ برکاتیہ کے سجادہ نشینوں اور اہل خاندان کا کس قدر مقام و مرتبہ تھا۔
شمس مارہرہ کے عہد (1160ھ/1747ء تا 1235ھ/1819ء ) میں مسلمانوں کی سیاسی شان وشوکت اگر چہ اپنے آخری عہد میں تھی مگر علم و فضل اور فقر وتصوف کے میدان میں ایسی ایسی عظیم المرتبت ہستیاں موجود تھیں کہ اس عہد کو برصغیر کے چند زریں عہد میں سے ایک کہا جا سکتا ہے۔

سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اپنے بھائیوں شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اور شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کے ساتھ مدرسہ رحیمیہ دہلی کی مسندِ درس پر جلوہ افروز تھے۔ بیہقی وقت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م 1225ھ) اور حضرت شاہ احمد انوارالحق فرنگی محلی (م 1236ھ)ظاہر و باطن دونوں میں فیض کے دریا بہا رہے تھے۔ علوم عقلیہ کی درس و تدریس کے لیے دہلی میں مولانا فضل امام خیرآبادی (م 1243ھ) لکھنؤ میں ملا مبین لکھنوی (م 1225ھ) اور بدایوں میں بحرالعلوم ملا محمد علی عثمانی (م 1197ھ ) کی درسگاہیں شمع علم کے پروانوں سے آباد تھیں۔

شمس مارہرہ کے عہد میں دہلی کے تخت کو چار بادشاہوں نے زینت بخشی۔ احمد شاہ (از 1161ھ تا 1167ھ)، عالمگیر ثانی (از 1167ھ تا 1173ھ ) ،شاہ عالم ثانی (از 1173ھ تا 1221ھ )اوراکبر شاہ ثانی(از 1221ھ تا 1253 ھ) ۔رفتہ رفتہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا اثرو نفوذ بڑھتا گیا۔ فرنگیوں نے 1751ء میں ارکاٹ (صوبہ کرناٹک) پر قبضہ کیا۔ یہ ہندوستان پر انگریزوں کی پہلی فتح تھی۔ 1752ء میں ترچنا پلی فتح کیا۔ اسی زمانے میں نظام دکن انگریزوں کا دوست بن گیا جس کے ذریعے انگریزوں کو دکن میں بھی کامل اقتدار حاصل ہو گیا۔ جنوبی ہند میں اقتدار مستحکم کرنے کے بعد انگریزوں کو بنگال ، بہار اور اڑیسہ کی فکر ہوئی۔ 1756ء میں کلکتہ کے قلعے پر حملہ کیا اور اس کے ایک سال بعد 1757ء میں پلاسی کی جنگ ہوئی۔ نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کے سبب شکست ہوئی ۔ 1764ء میں بکسر کے میدان میں ہندوستانی فوج کو شکست ہوئی ، جس کے بعد اودھ پر انگریزوں کا اقتدار مستحکم ہو گیا۔

1765ء میں مغل شاہ عالم ثانی انگریزوں کے فریب میں آگیا اور تقریباً ایک تہائی ہندوستان فرنگیوں کے حوالے کر دیا ۔1799ء میں شیر میسور ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی۔ انگریزوں کی فتوحات اور ہندوستانیوں کی شکست وریخت کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ 1857ء کی جنگ آزادی لڑی گئی جس کو ’’ غدر ‘‘ یا ’’ بغاوت‘‘ کا نام دیا گیا اور اس میں انگریزوں کی فتح کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہو کر ہندوستان کا اقتدار براہِ راست ملکہ وکٹوریہ کے زیر فرمان آگیا۔
حضرت شمس مارہرہ آل احمد اچھے میاں مارہروی کے بعد جن بزرگوں کا شہرہ اکناف عالم میں ہوا اور جن کے طفیل علم و فضل کے صدہا چراغ روشن ہوئے ان میں چند ایک نمایاں نام حسبِ ذیل ہیں ان اعاظم شخصیات میں سے ہر کوئی صاحبِ تصنیف تالیف گذرے ہیںجن کی کتابیں آج بھی اہل علم و فن کے نزدیک معتبر اور اہم تسلیم کی جاتی ہیں:
٭ خاتم الاکابر سید شاہ آلِ رسول احمد ی مارہروی ( پیر و مرشد امام احمد رضا ) (ولادت: 1209ھ/وفات: 1296ھ)
٭ سید العابدین حضرت سید شاہ اولادِ رسول مارہروی (ولادت:1212ھ/وفات: 1268ھ)
٭ سید شاہ محمد صادق مارہروی (ولادت:1248ھ/وفات: 1326ھ)نے کتابوں کی اشاعت کے لیے ’’ مطبع صبح صادق‘‘ سیتا پور میں قائم کیا جس نے کتابوں کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔
٭ سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب مارہروی (ولادت:1255ھ/وفات: 1324ھ)کی تصنیف ’’ سراج العوارف‘‘ ایسی شاہکار ہےجو اہل تصوف کے لیے دستور کا درجہ رکھتی ہے۔ رسالہ سوال و جواب ، اشتہار نوری ، عقیدۂ اہل سنّت ، جنگ جمل و صفین ، الجفر، النجوم ، تحقیق التراویح، دلیل الیقین، من کلام سید المرسلین ، صلاۃ غوثیہ، صلاۃ معینیہ، صلاۃ نقشبندیہ ، صلاۃ صابریہ، اسرار اکابر برکاتیہ وغیرہ آپ کی قلمی یادگاریں ہیں۔
٭ ابوالقاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں مارہروی(ولادت: 1272ھ/وفات: 1347ھ) کو بھی علمی ذوق ورثے میں ملا تھا ۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ خود ہی علوم و فنون حاصل کیے بلکہ عزیزوں کی خاصی تعداد کو زیور ِ علم سے آراستہ کیا۔ آپ نے بزرگوں کے جمع کیے ہوئے نادر اور پرانے کتب خانے کو سنبھال کر رکھا اور اسے حفاظت کے ساتھ اگلی نسلوں کے حوالے کیا۔ آپ کی کتابوں کے نام یہ ہیں : رسالہ ردالقضا من الدعا فی اعمال وبا، مجموعہ سلاسل منظم ، مجموعہ کلام ، رسالہ اعمال و تکسیر، کرامات ستھرے میاں۔
٭ سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم مارہروی (ولادت: 1302ھ/وفات: 1330ھ)
٭ تاج العلماء سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں مارہروی (ولادت: 1309ھ/وفات: 1375ھ)کی تصنیفی کارناموں کا دائرہ بہت بڑا ہے۔ آپ نے مذہبی، ادبی اور سیاسی موضوعات پر بڑی فائدہ مند کتا بیں اہل اسلام کو عطا فرمائیں ۔القول الصحیح فی امتناح الکذب الوقیح ، رسالہ مختصر در اسباب واجب الوجود، مبحث الاذان ، نماز پڑھنے اور پڑھانے کا طریقہ، خیر الکلام فی مسائل الصيام، تفہیم المسائل، سبع سنابل کا ترجمہ، تذکرہ حضرت فقیر عالم، شوکت اسلام، گاندھیوں کا عمل نامہ، رسالہ در مغالطات گاندھیویہ، حق کی فتح مبین، فتنۂ ارتداد اور ہندومسلم اتحاد، قرآنی ارشاد اور ہندومسلم اتحاد، برکات مارہرہ و مہمانان بدایوں، انسداد قربانی گائے کے متعلق مسلم لیگ کا ریزولیوشن اور مذہبی نقطۂ نظر سے تنقید ، خطبۂ صدارت جماعت انصار الاسلام وغیرہ آپ کی قلمی یادگار ہیں ۔
٭ سید بشیر حیدر آل عبا زیدی قادری (ولادت: 1892ء/وفات: 1986ء)
٭ سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی (ولادت: 1333ھ/وفات: 1394ھ)میں تحریر و تصنیف کی بے پناہ صلاحیت موجود تھی مگر تنظیمی کاموں کی بدولت تحریری کام متاثر ہوا، باوجود اس کہ آپ نے جو بھی قلمبند کیا وہ عالمانہ، عابدانہ اور محققانہ شان رکھتا ہے۔ فیض تنبیہ، نئی روشنی ، مقدس خاتون، خطبۂ صدارت آپ کی قلمی اور فکری یادگار ہیں۔ شاعری میں آپ کے استاد حضرت احسن مارہروی تھے۔ آپ کا تخلص سید مارہروی تھا۔
٭ سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی کے اکلوتے بیٹے سید ملت آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی(ولادت: 1365ھ/وفات: 1435ھ)نے یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیاتھا ۔ آپ کو بیک وقت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔نعت گوئی آپ کا خاص میدان تھا۔ آپ نے اُردو ، ہندی اور سنسکرت میں نعتیں کہی ہیں۔آپ کا تخلص’’ نظمی ‘‘ تھا۔ آپ کی قلمی خدمات کا میدان بہت وسیع ہیں جن کے نام یہ ہیں:نظم الٰہی، کلام رحمانی، مصطفیٰ جان رحمت، گھر آنگن میلاد، مصطفیٰ سے آل مصطفیٰ تک، مصطفیٰ سے مصطفیٰ رضا تک، مصطفیٰ سے مصطفیٰ حیدر حسن تک ، کیا آپ جانتے ہیں؟، دفاعِ اعلیٰ حضرت، دفاع سبع سنابل، شرح قصیدہ بردہ شریف، قرآنی نماز بہ مقابلہ مائیکروفونی نماز، شان نعت مصطفیٰ، اسرار خاندان مصطفیٰ ، کتاب الصلوٰۃ ، ذبح عظیم ، چھوٹے میاں ، گستاخی معاف ، فضل ربی، نئی روشنی ، عمر قید ، آگ گاڑی ، لولو (ناول) ، مداح مصطفیٰ، تنویر مصطفیٰ ، عرفان مصطفیٰ، نوازش مصطفیٰ ، بعد از خدا، وغیرہ۔
٭ احسن العلماء سید مصطفی حیدر حسن میاں(ولادت: 1345ھ/وفات: 1416ھ)اپنے اکابر کی طرح شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ خانقاہی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود آپ نے تصنیف و تالیف کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کی چند تصانیف یہ ہیں : اہل اللہ فی تفسیر غیر اللہ، دوائے دل ، مداح مرشد، اہل سنّت کی آواز ، 1973ء کے مختلف تبلیغی دوروں کی روداد ، وغیرہ۔ آپ ادب سے گہراتعلق رکھتے تھے۔آپ کا شعری مجموعہ ’’ دوائے دردِ دل‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔احسن العلماء سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں کی شعر گوئی پر ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی نے یوں اظہارِ خیال کیا ہے:
’’ حضور احسن العلماء کو شاعری وِرثے میں ملی۔یہاں اس امر کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں ہر سال عرس نوری کے موقع پر ایک شان دار تاریخی مشاعرہ بھی زمانہ قدیم سے منعقد ہوتا آرہا ہے۔جہاں بزرگوں کی علمی وراثت نے احسن العلماء کی فکرو نظر کو شعر گوئی کی طرف مائل کیا وہیں اس قدیم مشاعرے نے آپ کے ذوقِ شعری کو مزید جلا بخشی۔

حضور احسن العلماء کی شعری جہتیں اور فنی محاسن اپنے آپ میں منفرد و یگانہ ، جدت و ندرت، سلاست و روانی ، سادگی و صفائی اور صداقت و سچائی کے آئینہ دار ہیں۔ احسن العلماء ایک ایسے مومنِ کامل اور مرشدِ اعظم کا نام ہے جن کی فکری طہارت و پاکیزگی نے نہ جانے کتنوں کاتزکیۂ نفس کیا۔ آپ شاعر سے پہلے ایک سچے اور پکے مومن ہیں لہٰذا آپ کی شعری جہتوں کی تفہیم کے لیے اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ کا شعری اظہار تقدیسی رویوں کا حامل ہوگا۔ آپ دیگر شاعروں کی طرح شعری و فنی عناصر کی تلاش میں نہیں رہتے اور نہ ہی آپ کی شعری جہتیں اس جانب گامزن ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ آپ کے یہاں تو خلوص و للہیت ہے۔ طہارت و پاکیزگی ہے۔ سادگی و صفائی ہے۔ آپ کا فکر و فن ، جذبہ و تخیل ، کردار و عمل اور عشق و محبت ایک ہی کریم ذات کی طرف منعطف ہوتے ہیں جو ساری کائنات کا مرکزِ عقیدت اور محورِ محبت ہے۔ احسن العلماء اپنے جد کریم مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت و محبت میں سرشار ہوکر اپنے شعری اظہار کو بروے کار لاتے ہیں۔ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حضور احسن العلما ء کی والہانہ وارفتگی اور شیفتگی ان کے ایک ایک لمحے سے عیاں ہوتی تھی—–کسی بھی شاعر کی شعری جہت کا تعین کرتے وقت داخلی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ خارجی پہلوؤں کا جائزہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اب تک ہم نے احسن العلماء کی شاعری میں عقیدے و عقیدت کے داخلی پہلوؤں کو دیکھ رہے تھے۔ اب آئیے ان کی شاعری میں ادبیت اور شعریت کے جمال کا تجزیہ کرتے چلیں۔ احسن العلماء کی شاعری میں شعری و فنی محاسن کی جلوہ گری بدرجۂ اتم موجود ہے۔آپ کے شعروں میں صنائع لفظی کے نجوم درخشاں ہیں۔ بدائع معنوی کے آفتاب روشن ہیں۔ تراکیب کا نگار خانہ رقصاں ہے۔ محاکات اور پیکر تراشی کی تازہ کاری ہے۔ محاورات اور روزمرہ کا برمحل استعمال ہے۔ موزونیت الفاظ ، نغمگی و موسیقت ہے اورتشبیہات و استعارات کا گہرا رچاو بھی۔ موزوں الفاظ کاانتخاب ہی اچھے شعر کے لیے کافی نہیں بلکہ ان کو سلیقے سے برتنااور اس کا مناسب استعمال ہی شعر کو پُر اثر اور حُسن کو دوبالا کرتا ہے۔ احسن العلماء جب بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کناں ہوتے ہیں تو الفاظ کے مناسب انتخاب کے ساتھ ساتھ ان کا شعورِ شعری ایسی تراکیب اُجالتاہے جس میں وارفتگی اور شیفتگی کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں اور قاری و سامع کو متاثر کرتے ہیں ۔‘‘(اہل سنت کی آواز، ص؍255/261خصوصی شمارہ:حضور احسن العلماء حیات و خدمات2019ء ، طابع و ناشر: سید نجیب حیدر قادری برکاتی نوری، نائب سجادہ نشین ، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ ،ضلع ایٹہ ، اترپردیش)

سید محمد اشرف کی والدہ سیدہ محبوب فاطمہ اُردو اور فارسی زبان پر کامل دسرس رکھتی تھیں۔ اُردو زبان میں بہت عمدہ شعر کہا کرتی تھیں۔ سید محمد اشرف اپنی والدہ کے شعر مشاعروں میں پڑھا کرتے تھے ۔ مگرافسوس ان کا کوئی شعری مجموعہ کتابی صورت میں موجود نہیں ہے ۔
والدہ محترمہ کے شعر وادب میں ذوق و شوق کے متعلق خود شرف ملت رقم طراز ہیں :
’’ والدہ مرحومہ کی علمی لیاقت اس قدر تھی کہ ہم بچوں کو بچپن میں اُردو لکھنے پڑھنے میں مدد کرتی تھیں ۔ بلا مبالغہ ہزاروں اشعار یاد تھے ۔ انیس برس کی عمر میں بیاہ کر مارہرہ شریف آئی تھیں ۔ یہاں کے خانقاہی اور علمی و ادبی ماحول نے ان کے علم و ذوق پر اور جلا کی ہوگی ۔ عرس نوری کا مشاعرہ زمانہ قدیم سے ہوتا آ رہا ہے ۔ بڑے بڑے شعرا نے اس مشاعرے میں شرکت کو باعث سعادت سمجھا ہے ۔ جگر ؔ مرادآبادی ، علامہ ضیا احمد بدایونی ، حضرت احسن ؔ مارہروی ، جناب دلیرؔ مارہروی ، ابر احسنی گنوری ، نوشہ اکابری ، شفا متھراوی ، صدیق مارہروی ، طیش مارہروی اور بڑی سرکار میں حضرت سید العلماء سید مارہروی اور حضرت احسن العلماء حسن ؔمارہروی اس مشاعرے میں شریک ہوتے تھے۔ میں دس گیارہ برس کا تھا اور مشاہدہ کرتا تھا کہ مشاعرے سے ایک رات پہلے جد محترم سید آل عبا صاحب ، محترم بڑے ابا حضور سید العلماء اور والد محترم حضور احسن العلماء ایک جگہ جمع ہو کر ان غزلوں اور منقبتوں پر بحث کر رہے ہیں جو اگلے دن پڑھی جانے والی ہیں۔ میری کچی پونی تھی۔ ان بزرگوں کے پاس مبہوت بیٹھا ہوتا تھا۔ پھر مشاعرے کا دن آتا ۔ خوب اچھا سجا ہوا پنڈال اور اس میں تخت لگا کر شہہ نشین بنائی جاتی تھی۔ زرق برق لباس پہنے شعراء اپنا کلام سناتے ۔ سب واہ واہ ۔ مکرر ارشاد کے نعرے لگاتے تو بے ساختہ میرا دل چاہتا کہ میں بھی شاعر کی حیثیت سے مشاعرے میں شرکت کروں۔ والد محترم سے عرض کرنے کی ہمت نہیں ہو سکی ۔ امی سے کہا کہ میں بھی مشاعرے میں کچھ پڑھوں گا۔ امی مسکرائیں اور کہا ۔ ہم لکھ کر دے دیں گے۔ اور انھوں نے یہی کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس سال کا مصرع طرح تھا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ اعجاز تجلی ہے کہ پروانہ نہیں آتے
’’ میری ‘‘ غزل دیکھ کر بڑے ابا بہت خوش ہوئے حالانکہ حقیقت سمجھ چکے تھے ۔ میرے عم محترم سید حسین میاں فرماتے ہیں کہ تمہاری والدہ اکثر منقبت کے دو تین اشعار کہہ کر تمہارے والد کی منقبت میں شامل کر دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اس طرح ہم بھی عرس نوری میں شریک ہوگئے ۔ بس وہیں سے میری ادبی زندگی کا آغاز ہوا ۔ بعد کے زمانے میں میں خود ٹوٹے پھوٹے مصرعے جوڑنے لگا جن کی تصحیح بڑے ابا اور میرے ماموں جان کر دیتے تھے۔ دو تین برس بعد ہی میں اس مشاعرے کی نظامت کرنے لگا۔ 11؍ برس لگاتار نظامت کی اور اب حضرت یحییٰ میاں صاحب کے کہنے پر پچھلے چھ برس (2011ء میں لکھا گیا جملہ)سے صدارت بھی کر رہا ہوں۔ ماں کی ممتا کے کتنے دور رس نتائج ہوتے ہیں ۔ غرض یہ کہ مجھے شعرو ادب کی دنیا میں لانے کا سہرا میری امی کے سر جاتا ہے۔ ‘‘
(اہل سنت کی آواز 2011ء ، خصوصی شمارہ : اکابر مارہرہ مطہرہ ، حصہ سوم ، ص 165)
مزید لکھتے ہیں :
’’ امی کو شعرو ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ صورت حال سے متعلق شعر پڑھنے میں انھیں ملکہ حاصل تھا ۔ اپنے وقت کی مشہور خواتین ادیبوں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے ۔ عصمت چغتائی ، قرۃ العین حیدر اور واجدہ تبسم سے ان کے ذاتی مراسم تھے ۔ واجدہ تبسم کی قدر وہ اس لیے کرتی تھیں کہ واجد تبسم نے اپنے شوہر کی بیماری کے بعد صرف قلم کے سہارے اپنے خاندان کی پرورش کی ۔ واجدہ تبسم مرحومہ بھی امی کو والہانہ چاہتی تھیںاور والدہ کی دست بوسی کرتی تھیں۔
ایک دن علی گڑھ میں پروفیسر ثریا حسین صاحبہ کے گھر قرۃ العین حیدر نے امی سے باتوں باتوں میں کہا ’’ بھئی محبوب ؔ! ہم ادیب ودیب تو ہیں لیکن ہمیں شعر وعر یاد نہیں ہوتے ‘‘۔ امی نے برجستہ کہا : عینی آپا ! ہم ادیب ودیب تو نہیں ہیں لیکن ہمیں شعر وعر خوب یاد ہیں ۔‘‘ یہ برابر کا جملہ سن کر عینی آپا دیر تک ہنستی رہیں۔
(اہل سنت کی آواز 2011ء ، خصوصی شمارہ : اکابر مارہرہ مطہرہ ، حصہ سوم ، ص 165)

٭ پروفیسر سید محمد امین میاں قادری(ولادت:1371ھ/ 1952ء)نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے میرتقی میرؔ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سینٹ جانس کالج آگرہ میں آٹھ سال درس و تدریس کے فرائض انجام دیے اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آ گئے اور چند سال قبل بحیثیت پروفیسر ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں: سید شاہ برکت اللہ حیات اور علمی کارنامے، آداب السالکین، چہار انواع، میر تقی میر، ادب ، ادیب اور اصناف ، قائم چاند پوری حالات اور علمی کارنامے، شاہ حقانی کا اُردو ترجمہ و تفسیر قرآن مجیدوغیرہ۔

٭ سید محمد اشرف ماہروی(ولادت:1374ھ/1957 ء)نے یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیاب کیا تھا۔ سید محمد اشرف کی تصنیفات میں دو افسانوی مجموعے ، چار ناول ، ایک نعتیہ مجموعہ دو تصنیف اور تین ترتیب و تدوین کی کتابیں شامل ہیں، جن کے نام یہ ہیں :ڈار سے بچھڑے، نمبردار کا نیلا،باد ِصبا کا انتظار ،آخری سواریاں،میرامن قصہ سنو،مردار خور،صلواعلیہ و آلہ، داستانِ نور،یادِ حسن،شہر ملال ،سلطان الہند،رُخِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ آئینہ۔ سید محمد اشرف کا ننھیال اور ددھیال صدیوں سے ادیبوں کا گہوارہ رہا ہے ۔ ان کے ددھیال میں سید برکت اللہ عشقی ؔ، سید آل احمد ، سید حمزہ عینیؔ ، سید ابوالحسین احمد نوری نورؔ ، سید اسمٰعیل حسن وقارؔ ، سید اولاد رسول فقیرؔ ، سید آل عبا المعروف حضرت آوارہ ؔ ، سید آل مصطفی، سید مارہروی، سید مصطفی حیدر حسن مارہروی، سید آل رسول نظمی ؔ، ڈاکٹر سید محمد امین اور سید محمد افضل ہیں۔ آپ کے ننھیال میں ریاض خیرآبادیؔ ، سید رئیس احمد جعفری ، سید محمد آفات نقوی اور سید ابوالحسن نظمی ؔجیسے ادیب و شاعر ہیں۔
سید محمد اشرف کے بقول :
’’دادھیالی اجداد میں سید صاحب عالم بھی تھے جنھیں غالب نے بہت سے خط لکھے ہیں۔ غالب ان کو پیرومرشد لکھ کر مخاطب کرتے تھے۔ ‘‘
(’’بادِ صبا کا انتظار‘‘از سید محمد اشرف کا تنقیدی جائزہ ،ص؍4، مقالہ نگار حافظہ شاہدہ جاوید ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، فیصل آباد، اگست 2018ء )

احسن العلماء سید مصطفی حیدر حسن میاںکے ایک اور صاحبزادے سید محمد افضل میاں قادری برکاتی مارہروی نے اُردو میڈیم سے IPSمیں کامیابی حاصل کی تھی۔ مدھیہ پردیش میں ڈی آئی جی کے منصب پر فائز تھے، طویل علالت کے بعد 15دسمبر 2020ء کو آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے۔موصوف 1990 بیچ کے IPS ہیں۔ اگست 1990ء میں نیشنل پولیس اکیڈمی حیدرآباد سے ان کی ملازمت کا سلسلہ شروع ہوا اور بتدریج ترقی کرتے ہوئے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے رجسٹرار بھی بنائے گئے۔ ایک عرصے تک محکمہ سی آئی ڈی کے ڈی آئی جی بھی رہے ۔موصوف البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی علی گڑھ کے فائونڈر ممبر اور حکومت مدھیہ پردیش کے محکمہ پولیس میں اے،ڈی،جی کے عہدے پر فائز تھے۔وطن عزیز بھارت کی 73 ویں جشنِ آزادی کے موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کے ہاتھوںآپ کواعلیٰ، بہتر اور معیاری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صدر جمہوریہ بہادری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

انڈین پولس سروسیس کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اُردو زبان و ادب سے گہری وابستگی اور دلچسپی خانقاہی تربیت و پرورش کا آئینہ تھی۔ فصیح و بلیغ زبان ، دلکش بیانیہ ،قصے کہانی کا انداز ، صوفیانہ رسومات ، خانقاہی مزاج، عاجزی ، انکساری اورانسان دوستی جیسے اوصاف حمیدہ آپ کو ورثے میں ملے تھے۔ سماج اور حکومت کی جانب سے بیان کردہ اُصول وضوابط پر عمل کرتے ہوئے اپنے مذہبی تشخص اور صوفیانہ مراسم کو قائم رکھنا بڑا دشوار گذار مرحلہ ہوتا ہے ۔ اقتدار اور زمانے کے غلاموں کے ذریعے ظلم و جبر کے معاملات پیش آتے ہیںلیکن ظلم و جبر کو برداشت نہ کرنا اور صدائے حق کو بلند کرنا ہی خانقاہوں کا مزاج رہا ہے ۔ مختلف ادوار میں خانقاہوں کے سجادہ نشین اور صوفیاے کرام نے اُردو زبان و ادب کو فروغ بخشا ہے ۔ اُردو تو خود گنگا جمنی تہذیب کا نام ہے ۔ اس دوآبہ کی تہذیب میںیہ زبان آج بھی سر چڑھ کر اپنی حقیقت کا لوہا منوا رہی ہے ۔ اب اگر ایسا ادیب جو ملک ہندوستان کا سب سے مشکل ترین امتحان کامیاب کر چکا ہو، ادبی رنگ میں رنگا ہوا اور خانقاہی مزاج میں پلا بڑھا ہو تو سمجھ لیجیے سونے پر سہاگہ ۔

خانقاہ اور ادب میں ہمیشہ انسانیت کی بات ہوتی ہے ۔ فوقیت اور برتری انہی دو چیزوں کو ہے ۔اسی خانقاہی ماحول میں سید محمد افضل میاں نے آنکھیں کھولی تھیںاوروہ اپنے ملک کو اسی ماحول میں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس ملک میں اسی اخلاقِ کریمانہ اور صوفیانہ مزاج کی بدولت مذہب اسلام پھیلا ہے۔اُردو زبان و ادب کو صوفیاے کرام کی بدولت پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے ۔ خواجہ بندہ نواز سید محمد حسینی گیسو دراز ، خواجہ فخرالدین نظامیؔ، حضرت شاہ میران جی شمس العشاق ،خواجہ معین الدین چشتی ، حضرت نظام الدین اولیا،حضرت امیر خسروؔ اور حضرت زین الدین خلدآبادی وغیرہ جیسے سینکڑوں درویشوں نے اپنے افکار ، نظریات ، تعلیمات اور تحریروں سے پورے ملک میں انسانیت اور خلقِ خدا کی خدمت کا مزاج بنایا ہے جس کی ترجمانی و نمائندگی سید محمد افضل میاں کا کردارکرتا ہے ۔ورنہ سول سروسیس امتحان کوالیفائی کرنے والے ملک کے طول وعرض میں روزآنہ موت سے ہمکنار ہوتے ہیں مگر نہ ہی ان کا اتنا غم منایا جاتا ہے اور نہ ہی اہل خانہ سے تعزیت کرنے والوں کااس قدر تانتا ہوتا ہے۔ یہ خاصہ تو افضل میاں کا ہے کہ عصری علوم سے آراستہ تھے مگر چوں کہ خانقاہی نظام کے پروردہ تھے اس لیے بلا تفریق مذہب و ملت صرف سابق نائب صدر جمہوریہ ، نیشنل پالیٹیکل پارٹیز کے سربراہان ،ریاست کے چیف منسٹر، اعلیٰ حکومتی حکام بلکہ مذہبی طبقہ بھی آپ کے غم میں سوگوار تھا۔ ایصال ثواب اور تعزیتوں نشستوں کا اہتمام ہو ا۔ خط و کتابت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر اظہار غم کے بیانات نشر ہو ئے۔آپ کا وصال خاندانِ برکات کے لیے بہت بڑا نقصان تھا ۔

احسن العلماء سید مصطفی حیدر حسن میاںکے ایک اور صاحبزادے سید محمد نجیب میاں ، چھوٹی سرکار کے گدی نشین ہیں۔ چاروں بھائیوں میں میل ملاپ بہت زیادہ ہے۔ چاروں (اب تینوں)بھائیوںکی اتفاق رائے سے خانقاہ کے فیصلے لیے جاتے ہیں ۔ سب کا خانقاہی اور تعلیمی مزاج ہے ۔ عالیشان مدرسے کے علاوہ عصری تعلیم کے کئی ادارے ان کی زیر سرپرستی جاری ہیں۔ اپنے والد کے خوابوں کی تعمیر میں چاروں بھائی ہمیشہ مصروف نظر آتے ہیں۔حصولِ علم اور فروغ تعلیم ہمیشہ سے خانقاہ ِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کا مزاج رہا ہے۔ خانقاہ کا نعرہ ہے : ’’ آدھی روٹی کھائیے بچوں کو پڑھائیے‘‘۔ والد گرامی احسن العلماء کے خواب کو چاروں بھائی مل کر پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ چاروں بھائیوں نے مختلف اداروں کا قیام کیا ہیں جو عوام و خواص کی خدمت میں سرگرم ہیں۔ اداروں کی تفصیل درج ذیل ہے :
٭ البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی
٭ جامعہ البرکات
٭ البرکات پلے اینڈ لرن سینٹر، علی گڑھ
٭ البرکات پبلک اسکول، علی گڑھ
٭ البرکات انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز، علی گڑھ
٭ البرکات جامعہ ہمدرد اسٹڈی سینٹر ، علی گڑھ
٭ البرکات گرلس سیکشن
٭ البرکات انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (بی ایڈ)
٭ البرکات آفٹر نون اسکول
٭ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ
٭ البرکات کالج آف گریجویٹ اسٹڈیز
٭ البرکات سید حامد کمیونٹی کالج
٭ البرکات سینٹر فار کمپیوٹر سائنس اینڈ لینگویجز
٭ برکاتین ویلفیئر سوسائٹی
٭ مارہرہ پبلک اسکول ، مارہرہ مطہرہ
٭ البرکات ملک محمد اسلام انگلش اسکول ، کرلا(ممبئی)
٭ جامعہ احسن البرکات ، مارہرہ مطہرہ
اس وقت تمام ادارے اپنی ترقی کی منزل پر گامزن ہے۔ جلد ہی لڑکیوں کے لیے میڈیکل کالج بھی شروع ہوجائے گا۔ خانقاہ کے لوگ سارے کام آنریری ہی کرتے ہیں۔ اس مدرسے میںسید محمد امین میاں پریسیڈنٹ اور سید محمد اشرف وائس پریسیڈنٹ ہیں۔تعلیم ، تربیت ، رہنمائی اور معیار میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جاتی ہے ۔ چاروں بھائیوں میں ایک مشترک اور خاص وصف سیکھنا ہے۔یہ چاروں بھائی معیار کی ہر شئے کو بہت جلد سیکھ لیتے ہیں۔
گویا کہ گذشتہ کئی صدیوں سے یہ خاندان، ہدایت و ارشاد، تصنیف و تالیف، تزکیہ و طہارت اور اصلاحِ فکر و اعمال کا قابل تحسین کام انجام دے رہا ہے۔ اس خانوادے اور خانقاہ کی نمایاں خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ خانقاہ مارہرہ مطہرہ کو یہ امتیاز ہمیشہ حاصل رہا کہ یہاں کے مشائخ قدیم دور سے لے کر دورِ حاضر تک صاحب علم اور صاحب قلم رہے ہیں۔ خانقاہ کے بزرگوں میں اعلیٰ پایہ کے شعراے کرام بھی گذرے ہیں۔ ان بزرگوں نے مختلف زبانوں میں شاعری کے ذریعے اپنے افکار و خیالات ، عقائد و نظریات اور باطنی کیفیات کو اُجاگر کیا ہے۔یہاں کے تمام بزرگ ہمیشہ سے ملک ، ادب اور قوم کی خدمت کرتے رہے ہیںاور یہ سلسلہ ہنوز دراز ہے۔
***

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!