ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesNEWS/REPORTS/PROGRAMMESResearch Papers

رویش کمار کی آڈیو کلپ اور مسلم ٹی وی چینل کے امکانات: آدھی حقیقت آدھا فسانہ

رویش کمار کی آڈیو کلپ اور مسلم ٹی وی چینل کے امکانات: آدھی حقیقت آدھا فسانہ

رویش کمار کی آڈیو کلپ اور مسلم ٹی وی چینل کے امکانات: آدھی حقیقت آدھا فسانہ

از: عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)، مالیگاں

       گذشتہ چند دنوں سے این ڈی ٹی وی کے مشہور اینکر مسٹر رویش کمار سے منسوب تقریباً پانچ منٹ کی آڈیوکلپ سوشل میڈیا پرگردش کر رہی ہے جس میں ٹی وی چینلز پر جاری فرقہ وارانہ ذہنیت، تعصب زدہ مواد پر تنقید اور مسلموں کو اپنا ٹی وی چینل شروع کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔” کلیرین “ نامی ویب سائٹ کو جواب دیتے ہوئے روِش کمار نے اس آڈیو کلپ کی نفی کی ہے اور اسے جعلی قرار دیا ہے۔ ایک ایسا باشعور انسان جو رویش کمار کو سنتا رہا ہو ابتدائی چند سیکنڈ ہی میں اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ رویش کمار کی اصل آواز نہیں ہے بلکہ ان کی میمکری کے ذریعے کچھ مسییج دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اُفتاد یہ کہ واٹس ایپ سائنسدانوں نے بلا کسی تحقیق کے اسے شیئر کرنا اپنی ذمہ داری سمجھ لیا ہے جب کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کریں۔ آڈیو کلپ جعلی ہونے کے باوجود اس میں موجود میسیج سے نہ کلی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل انکار۔ کچھ باتیں درست ہیں تو بہت سی جذباتی باتیں بھی ہیں۔
       سب سے پہلی بات یہ سمجھنے والی ہے کہ کیا ایک مسلم ٹی وی چینل کے قیام سے مسلموں کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا؟کیا ہماری پریشانیوں کا یہی واحد علاج ہے ؟ کروڑوں روپیوں کی لاگت صرف ایک نیوز چینل پر خرچ کرنا صرف اس لیے کہ مسلم خبروںکوکَوریج نہیں دیا جاتاہے کہاں کی عقلمندی ہے ؟ جلسے جلوسوں میں ہونے والے بے تحاشہ خرچ کا متبادل ٹی وی چینل کیسے ہو سکتا ہے ؟جلسے، جلسوں اور اجتماعات میں فضول خرچیوں پر قدغن لگاکر عقلمندی کا ثبوت مگر نیوز چینل کے قیام کے امکانات کا اشارہ غیر دانشمندی کی علامت ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ تعلیمی ، معاشی ، سماجی اور اخلاقی پہلوں کے سُدھار پر خرچ کرنے کی بات کی جاتی ۔

 

       رہی بات سیاسی خدمت گاروں اور تنظیموںکی جس کا رونا آڈیو کلپ میں رویا گیا ہے ، ان سے شکایت کرنا بھی اب اپنے وقت کا ضیاع ہے۔ اب ہر ایک کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کمربستہ ہونے کا وقت ہے۔ اللہ رب العزت کی مدد سے ماضی میں جس طرح مسلمانوں نے کامیابیاں حاصل کی تھیں آج بھی ہمارا مقدر بن سکتی ہے بشرطیکہ ذوق ، شوق اور جنون کے ساتھ پوری اُمت مسلمہ کی بحالی کے لیے دیانت داری سے کوششیں کی جائیں۔
       اگر اب بھی کچھ لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ مسلم مسائل ، مسلم سرگرمیوں اور مسلموںکی بات پہنچانے کے لیے نیوز چینل کا ہونا از حد ضروری ہے تو انھیں جان لینا چاہیے کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے متبادل ذرائع سے بھی ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ باوجود اس کہ نیوز چینل کا ہونا لازمی ہو تو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ مسلم ٹی وی چینل سے کیا مراد ہے؟ اس کا رول ماڈل کیسا ہونا چاہیے ؟ کیا یہ پیس ٹی وی ، سُدرشن یا آستھا ٹی وی کی طرح ہونے والا ہے؟ یہ مذہبی ہو گا یا عصری تقاضوں کے مطابق؟ یا سنگھ تعصب ، برہمن تعصب ، اونچی ذات کا تعصب یا ہندو تعصب کی طرح مسلم تعصب کی عمارت کی تعمیر حاشیہ خیال میں موجود ہے ، اس صورت میں اللہ کی مدد کی اُمید کبھی بھی نہیں کی جاسکتی کیوں کہ گندگی سے گندگی کا صفایا ناممکن ہے۔

 

       اس امکان کاایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ ممکن ہے چند ایمان فروشوں کی جانب سے منصوبہ بند طریقے سے یہ شوشہ محض اپنے مفاد کی خاطر چھوڑا گیا ہے۔ خیال ، تصور اور تخیل صرف ایک آلہ ہے جو لوگوں کے جذبات کو ناپنے کا کام کرتا ہے ۔ اگر خیال مقبول ہوا تو ” انویسٹ منٹ“ کا منصوبہ بنایا جاتا ہے بصورت دیگر منصوبے میں ضروری تبدیلی و ترمیم کے بعد اپنے حدف کے حصول کے لیے نئے زاویے سے محنت کی جاتی ہے۔ ماضی میں اس قسم کے حربوں کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جیسے اسلامی بینک اور شرعی بینک کے نام پر نام نہاد مسلموں نے مسلموں کی کروڑوں کی املاک کو تباہ و برباد کیا ہے۔ اگر کسی قابل اعتماد صحافی کے نام پر گردش کی جانے والی جعلی آڈیو کلپ کا کوئی اشارہ ہے تو میڈیا اور ٹیلی ویژن چینل کے نام پر کمیونٹی کا استحصال اور گمراہ کرنے کی کوششیں پہلے سے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اور بھی بہت سے کھیل کھیلے جائیں گے۔

 

       لہٰذا یہ وہ وقت ہے کہ ہم ہوشیار اور چوکس رہیں۔ ہم ملک میں پیشہ ورانہ اور غیر جانبدار میڈیا کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں یہ واقعی ایک اہم سوال ہے لیکن اس سوال کا جواب ماہرین سے ڈھونڈنا چاہیے ۔ مایوس سیاستدانوں ، بے روزگار دانشوروں ، نوکریوں کے متلاشیوں ، بیوقوف رہنماوں یا کمیونٹی کے نجات دہندگان کے مکھوٹے میں چھپے ہوئے اسکالرز سے کبھی نہیں۔
  پروپیگنڈہ اور ٹی آر پی سے دور اصل معاملات سے آگاہی کے لیے یوٹیوب پر نوری اکیڈمی کو سبسکرائب اور نوری اکیڈمی ویب سائٹ کو فالو کریں۔ اللہ پاک سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!