ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Iran America Ki Jang: Haqiqat ya Drama?

ایران امریکی جنگ : کیا صرف ایک ڈرامہ ہے؟

ایران امریکی جنگ : کیا صرف ایک ڈرامہ ہے ؟

پچھلے مہینے امریکی سیاست میں ہلچل مچ گئی جب کانگریس نے امریکی صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک منظور کرلی۔ یہ مواخذہ ٹرمپ کی اس ٹیلیفونک گفتگو پر ہوا جو اس نے یوکرائن کے صدر سے کی اور اسے کہا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن کے یوکرائن میں کاروباری معاملات کی تحقیقات کرے۔
مواخذے کی تحریک کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ملکی معاملات میں غیرملکی مداخلت کی دعوت دی تھی جس پر وہ اپنی صدارت سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔
کانگریس میں چونکہ ٹرمپ مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے، اس لئے یہ تحریک کامیاب ہوگئی۔ اب آئین کے تحت ٹرمپ کا ٹرائل ہونا ہے جو کہ سینیٹ کرے گی۔ سینیٹ میں ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کے پاس معمولی اکثریت ہے۔
اس سارے تناظر میں حالیہ امریکی ایران تنازعہ دیکھیں۔
اس سے قبل 2004 میں جارج بُش، جان کیری سے ہار رہا تھا، لیکن پھر اسامہ بن لادن کی ٹھیک دو دن قبل ویڈیو ریلیز ہوئی جس میں وہ امریکی عوام کو خبردار کررہا تھا کہ وہ بش کو منتخب مت کریں۔ اس ویڈیو کی ریلیز کے بعد بُش واضح اکثریت سے جیت گیا۔
مقصد کہنے کا یہ ہے کہ موجودہ سال ویسے بھی امریکی صدارتی الیکشن کا ہے، ٹرمپ کا مواخذہ سر پر کھڑا ہے ۔ ۔ ۔  ایسے میں ٹرمپ کو اپنے کسی حلیف کی مدد درکار تھی اور ایران سے بڑھ کر کون حلیف ہوسکتا تھا؟
چنانچہ سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت ہورہا ہے۔ قاسم سلیمانی ایک اثاثے کی بجائے اب ایرانی حکومت کیلئے بوجھ بن چکا تھا، اسے اس طرح سے اتارا گیا کہ پورا مڈل ایسٹ جنگ کی زد میں نظر آنے لگا۔
آج خبر آئی ہے کہ ایران نے بغداد میں امریکی بیس پر درجن سے زائد میزائل مارے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ میزائل پھینکے گئے لیکن نقصان کا اندازہ سورج نکلنے کے بعد کریں گے۔
دوسری طرف بغداد میں موجود ایرانی میڈیا سمیت کسی نے بھی ان میزائلوں کے نقصان کا تخمینہ نہیں دیا۔ 
کیا ہمیں بیوقوف سمجھ رکھا ہے؟َ
آج ہی ایران کا ایک اور بیان آیا ہے کہ وہ خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قطر میں امریکی ائیربیس، کویت میں امریکی مفادات، اور سعودی عرب میں آئل ریفائنریز ایک مرتبہ پھر خطرے میں آگئیں۔
نتیجے کے طور پر امریکہ ان ممالک سے مزید کئی ارب ڈالرز لے کر ان کو سیکیورٹی فراہم کرے گا، اور ان ممالک کا نقصان پورا کرنے کیلئے جنگی خطرے کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سہار بنیں گی۔
کسی مرد مجاہد نے کہا تھا کہ اگر ایران یا امریکہ نے ایک دوسرے کی طرف گولی چلائی تو اس کی قبر پر تھوک دینا۔
یہاں بات اصلی والی گولی کی تھی، نورا کشتی کی نہیں ۔ ۔ ۔ ورنہ جب امریکہ کی جنگ ہوتی ہے تو تباہی لیبیا، عراق، افغانستان جیسی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔  اگر ایران کی طرف امریکی ڈرون نہیں جاتے، تو سمجھ جائیں کہ گھٹیا قسم کی ہالی وڈ اور ایرانی وڈ فلموں کا مکسچر چل رہا ہے!!!!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!