NEWS/REPORTS/PROGRAMMESNRC/CAB/CAA/NPR

CAA & NRC Ke Khilaf ho rahe protest se Unity ka Paigham

احتجاجیوں پر ہو رہے ظلم وستم سے اخوت و یکجہتی کی نئی صبح کا آغاز

احتجاجیوں پر ہو رہے ظلم وستم سے اخوت و یکجہتی کی نئی صبح کا آغاز

مالیگاوں میں جاری پاسبانِ آئینِ ہند کمیٹی کے ذریعے دھرنے میں مؤثر اور بااثر شخصیات کا اظہارِ خیال

مالیگاوں: 3جنوری 2020ء سے شہیدوں کی یادگار مالیگاوں کے پاس پاسبان آئین ہند کمیٹی کے ذریعے NRC اورCAA کے خلاف پُر امن احتجاج جاری تھاجسے 10جنوری تک جاری رہنا تھا مگر یہ احتجاج 7جنوری کو بڑا قبرستان مولانا اسحاق علیہ الرحمہ کے آستانے پرمحفل ذکر ودعا میں منتقل کر دیا گیا ، 8 تا 10جنوری تک ہونے والے احتجاج کی تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس درمیان اس احتجاجی جلسے میں شہر کی کئی معروف شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیاجس کی تفصیلات گاہے بگاہے پیش کی گئی ہے۔ 5جنوری 2020ءاتوار کویعنی دھرنے کے تیسرے دن ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب نے حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ قانون کے خلاف ہندوستان کی اکثر یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات بلا تفریق مذہب و ملت پُر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ افسوس!بزور طاقت اپنے حق کے ان شیدائیوں کو دبانے اور کچلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ظلم و ستم کی اس تاریکی سے صبح کی نئی کرن یکجہتی اور اخوت کی صورت میں نکل کر ہندوستانیوں کے دلوں کو اس طرح منور کر رہی ہے کہ ہر ہندوستانی بلا تفریق مذہب و ملت اس ظالمانہ قانون کے خلاف ہندوستان کی ہر ریاست میں سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا مقصد اس قانون کے ذریعے ہندو مسلم منافرت کو ہوا دینا تھا مگر آزادی کے ستر سال بعد ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کے ساتھ اقلیتی سماج اور پسماندہ طبقات کے اکثر افراد قدم سے قدم ملا کر اس ایکٹ کو واپس لینے کی پُر زور مخالفت کر رہے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا سے مذکورہ تمام خبریں غائب ہیں جب کہ انٹرنیشنل میڈیا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ظلم و ستم کی یہ تمام خبریں بڑے زور و شور سے گردش کر رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کے ظلم و ستم اور ناانصافی کے سبب عالمی دنیا میں نہ صرف ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے بلکہ بیرون ممالک کے سیاحوں نے ہندوستان میں آنابھی بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی معیشت میں عدم استحکام آ رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی نے دوران تقریر کہا کہ اب یہ احتجاج تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے، احتجاج کو دبایا جا سکتا ہے مگر تحریک ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ اب تک یہ نعرہ ہے :” CAAواپس لو“ ، اگر اس ایکٹ پر قدغن نہیں لگایا گیا تو یہ نعرہ تبدیل ہو کر یوں ہو جائے گا :” حالیہ حکومت واپس جا۔

اپنی اختتامی گفتگو میں موصوف نے قرآن کی روشنی میں کہا کہ ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ ہمارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ آپ نے مزیدکہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جیسے تمہارے اعمال ویسے تمہارے حکمراں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اعمال و معمولات پر توجہ دیں اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ انٹرنیٹ، فیس بک، ٹیوٹر، یو ٹیوب وغیرہ کے منفی استعمال سے بچیں اور رب العزت جل جلالہٗ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں ۔
جاری کردہ:نوری اکیڈمی، مالیگاؤں
08 جنوری 2020ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!