ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGEScience/G.K./Days

APNI KAMAYI SE BEEMARI NA KHARIDE

اپنی محنت کی کمائی سے خود کے لیے بیماری نہ خریدیں

اپنی محنت کی کمائی سے خود کے لیے بیماری نہ خریدیں

از:عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)

   گذشتہ گیارہ سالوں سے ”ایم ڈی چیسٹ فزیشیئن“ کے ماتحت ہاسپٹل میں فارماسسٹ کے فرائض انجام دے رہا ہوں ،اس درمیان مختلف قسم کے امراض کے مریضوں سے سامنا ہوا مگر اکثریت ایسے مریضوں کی دیکھنے میں آئی جو گٹکا ، پان ، تمباکو ، بیڑی ، سگریٹ ، شراب نوشی اور دیگر خراب عادتوں کے سبب مختلف امراض کا شکار ہوئے ہیں جیسے: دمہ ، ٹی بی ، کینسر ، ذیابطیس ، بلڈ پریشر اوردیگر مہلک امراض ۔ان میں وہ مریض خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی اولادیں اور گھر والے فرمانبردار ہوتے ہیں جو ان کی دیکھ ریکھ اور دوائی پر بے تحاشہ خرچ کر کے علاج و معالجہ کا فریضہ انجام دیتے ہیں جب کہ بہت سے غریبی، ضعیفی اور رشتہ داروں سے تعاون نہ ملنے کے سبب تڑپ تڑپ کر موت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، یہ مریض ترس سے زیادہ مدد کے طلبگار ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام مریضوں کو گٹکا ، پان ، تمباکو ، بیڑی ، سگریٹ اور شراب کے نقصانات معلوم ہوتے ہیں اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے اپنی عادت پر قائم رہتے ہیں۔صالح باپ یا بیٹا یا بھائی یا کوئی رشتے دار مریض کی تکلیف دیکھ کر کبھی امدادی ہاسپٹل کے چکر لگاتا ہے تو کبھی قرض لے کر پرائیوٹ ہاسپٹل میں علاج کی کوشش کرتا ہے ۔ بہر حال آخر میں نتیجہ تکلیف دہ موت ہی ہوتی ہے ۔ موت کا مزہ تو ہر ایک کو چکھنا ہے مگر اس طرح کی
قسطوں میں درد بھری موت کوئی نہیں چاہتا۔
باوجود اس کہ کیوں لوگ ان عادتوں کو ترک نہیں کرتے ؟ کیوں اپنے اہل خانہ کو متعدد پریشانیوں میں مبتلا کرتے ہیں؟ کیوں اپنی موت کے بعد بھی اپنے بچوں کو قرضدار بنا کر رخصت ہوتے ہیں؟ کیوں بھری جوانی میں کسی کی بیٹی کو بیوہ بنا کر چلے جاتے ہیں؟اور کیوں ایسے لوگوں کو اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کا خیال نہیں رہتا؟ اب بھی وقت ہے ، جب جاگے جب سویرا، بند کردیجئے اپنی قیمتی دولت سے بیماری خریدنا، تر ک کر دیجئے ایک چائے کے بدلے دو دو گھنٹے ہوٹلوں پر وقت گذاری کرنا ۔یہی پیسہ جمع کیجئے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کیجئے اور صحت مند زندگی گذاریے۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے آپ کے ذہن میں کوئی علاج ہو تو برائے کرم مطلع فرمائیں ۔
 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!