ArticlesCOVID-19/CORONO VIRUSMalegaon Special

Malegaon me Muslim Patients k Boycott ka aelan

مالیگاوں میں مسلم مریضوں کے بائیکاٹ کا اعلان

ڈاکٹر تشار ہیرے کی جانب سے مسلم مریضوں کے بائیکاٹ کا مشورہ

از : جرنلسٹ عطاء الرحمن نوری (نوری اکیڈمی)

22 مارچ 2020ءکو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ہندوستانی وزیر اعظم کے ذریعے جنتا کرفیوکا اعلان کیا گیا تھا جو ملک بھر کی طرح ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں بھی کامیاب رہا ۔ باوجود اس کہ چند اوباش ، شریر اور نفرت پھیلانے والے عناصر اس بات کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ مشرقی مالیگاوں یعنی مسلم اکثریتی علاقہ بند نہیں تھا اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نہ صرف وزیراعظم کے بیان پر عمل نہیں کیا بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ چند نیوز چینلز کے اینکرز اور چند زر خرید یوٹیوبرس نے غیر دیانت دارانہ صحافت کا مظاہرہ کر کے ملک بھر میں مالیگاوں کی شبیہ خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، اس پر افتاد یہ کہ کپٹی دل و دماغ رکھنے والے شرپسند عناصر اس ویڈیو کو زور و شور سے شیئر کر کے مزید بدنامی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں
اسی طرح مغربی مالیگاوں یعنی کیمپ سائڈ کے چند گھمنڈی ڈاکٹروں نے بھی مسلم مریضوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلم افراد احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں بھی کرونا کا خطرہ ہے اس لیے وہ مسلم علاقوں کے مریضوں کو اپنی حدود میں ہی نہ آنے دیں ۔
واضح ہو کہ ” انڈین میڈکل ایسوسی ایشن“ نے پہلے ہی اس ایمرجنسی کنڈیشن میں اپنی OPD بند رکھنے کا فیصلہ لے لیا ہے اور اب ” انڈین میڈکل ایسوسی ایشن، مالیگاوں“ کے ایک ذمہ دار بلکہ غیرذمہ دار ممبر ڈاکٹر تشار ہیرے نے اپنے آفیشیل فیس بک اکاونٹ پر مسلم مریضوں کا علاج نہ کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ پریسیڈنٹ ڈاکٹر میور شاہ اور وائس پریسیڈنٹ ڈاکٹر پرشانت واگھ کو ” انڈین میڈکل ایسوسی ایشن“ کی جانب سے فیصلہ لینے پر آمادہ کرنے کی بیباک جسارت بھی کی ہے۔ اس ضمن میں ” انڈین میڈکل ایسوسی ایشن“ کا کیا موقف ہے وہ تو کل ہی معلوم ہو سکے گا مگر تشار ہیرے کے من میں پھیلی ہوئی گندگی آج باہر آ چکی ہے جس کی بو کا احساس ہر شہری کو ہونا چاہیے ۔
سچ کہا ہے کسی نے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور انسانیت ہونی چاہیے ورنہ انسان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جاہل ، راکشس اور نفرتوں کو پروان چڑھانے والا پرتشدد غیر ذمہ دار حیوان بن جاتا ہے ۔
مسلم سماج کے دینی ، ملی ، سیاسی ، سماجی قائدین اور خدمت گاروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے ، کب تک اپنی دال روٹی کے لیے قوم کا استحصال کرتے رہیں گے ، اب جب قوم کی شناخت اور بدنامی پر بات بن آئی ہے تو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
اس سے قبل بھی NPR اورNRC کے وقت مغربی علاقے کے بزنس مین ، وکلاءاور ڈاکٹرس اس طرح کی زہر افشانی کر چکے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف جگہ جگہ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کمپلینٹ ہونا چاہیے اور ہاں جس ڈاکٹر کے دل میں مسلموں کے تئیں اتنی نفرت ہو جو مجبور ، لاچار اور ضرورت مند مریضوں کا علاج کرنے سے منع کر رہا ہوں خود سے ان ڈاکٹرس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے – اور تف ہے ایسے مسلموں پر جن کی بیوقوفی ، نااہلی ، بد دماغی ، نادانی ، یتیم العقلی اور نابالغی پر جو سڑکوں پر نکل کر پوری قوم کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں ۔ خدارا خدارا ! احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور قوم کو رسوا کرنے سے بچیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ CUT پانے والا کوئی بھی ڈاکٹر محض اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے یہ بیان نہ دیں کہ ڈاکٹر صاحب کے موبائل سے کسی وارڈ بوائے نے ایسا میسیج کر دیا تھا- اس سے قبل بھی یہ بات بول کر ایک ڈاکٹر کی نفرت کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی ، اگر اسی وقت سخت ایکشن لیا گیا ہوتا تو آج کسی کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر واقعی کسی وارڈ بوائے نے ماضی میں ایسی حماقت کی تھی تو کیا صفائی دینے والوں نے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی تھی ؟ کیوں کہ تشدد بہر حال تشدد ہے ، پھر چاہے وہ ڈاکٹر سے سرزد ہو یا وارڈ بوائے سے ۔
نوری اکیڈمی کے صدر و اراکین مالیگاوں پرساشن سے درخواست کرتے ہیں کہ مشرقی حصے میں سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کروائیں اور مغربی حصے میں پھیلنے والی منافرت کا سر کچل دیں بصورت دیگر کرونا کے سائے تلے مالیگاوں میں ہندو مسلم تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!