ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesCOVID-19/CORONO VIRUSUPSC CSE URDU

Self-Quarantine me Waqt ka Sahi Istemal کرونا وائرس کے سبب معاشرتی علاحدگی میں وقت کے صحیح استعما ل کے نسخے

کرونا وائرس کے سبب معاشرتی علاحدگی میں وقت کے صحیح استعما ل کے نسخے

ازقلم : شیخ سلمان پٹیل (آئی آر ایس آفیسر )
مترجم: عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)

          کرونا وائرس کے سبب پوری دنیا کی طرح اس وقت ہندوستان میں بھی ہر شہری کو روزمرہ کی سماجی زندگی سے علاحدہ اور معاشرتی دور ی بنانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔یہ وقت انتہائی صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب ہر یو پی ایس سی کے خواہش مند اُمیدوار کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے کیوں کہ لوگ آج بیماری کے خوف سے اپنے آپ کو علاحدہ یا کمرہ بند کر رہے  ہیں جب کہ یونین پبلک سروس کمیشن کے سول سروسیس امتحان کی تیاری کرنے والا ہر طالب علم ذاتی طور پر خود کو ہر ایک رشتے اور ہرایک بندھن سے خالص اپنی منزل کے حصول کے لیے علاحدہ کر لیتا ہے۔ اس تعلق سے یوپی ایس سی میں سال  2017ء میں 339 واں مقام حاصل کرنے والے اورنگ آباد کے ممتاز طالب علم محترم شیخ سلمان پٹیل نے اپنے آپ کو Self-Quarantine کرنے کے بارے میں مکمل ایک مضمون قلم بند کیا ہے ،شیخ سلمان پٹیل کی مکمل اسٹوری پڑھنے اور دیکھنے کے لیے نوری اکیڈمی کی آفیشیل ویب سائٹ اور نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل پر وِزٹ کریں۔

जानिए 2018 UPSC Passed Sk.Salman Patel से Success का 4D फॉर्मूला

  شیخ سلمان کا کہنا ہے کہ
          یہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے مگر ہر طالب علم کو یہ کرنا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے ، ایسا خود میں نے اپنی تیاری کے وقت کیا تھا۔ جب میں دسمبر 2016ءمیں اپنے گھر اورنگ آباد (مہاراشٹر) سے دہلی آیا تھا،اس سال میں ناکام رہا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اگلے سال میں اس سارے پروسیس کے بعد ہی گھر واپس جاوں گا (خواب تھا کہ گھر واپسی لال بتی کے ساتھ ہی کرنا ہے)۔11 اپریل 2018 ءکو اپنا  یو پی ایس سی انٹرویو دینے کے بعد گھر گیا اور 27 اپریل 2018 ءکو سول سروسیس میں سلیکشن کی خوشخبری ملی۔“ 
 
          شیخ سلمان پٹیل اپنے آپ کو علاحدہ یعنی Self-Quarantine کرنے کے بارے میں لکھا ہے کہ میں نے معاشرتی دوری اور خود کو الگ کیا جس کی وجہ سے مجھے کامیابی ملی یا  کامیابی ملنے میں اس سے کافی مدد ملی، اپنے آپ کو علاحدہ کرنے میں درج ذیل باتوں پر میرا عمل تھا:
٭      جسم اور دماغ پر قابو رکھنا۔
٭      اپنے توجہ کو پڑھائی پر مرکوز رکھنا، خود کو متحرک رکھنااور ہمیشہ مثبت سوچنا۔
٭      ٹائم ٹیبل بنانا اوراپنے مقصد کو حاصل کرنا۔
٭      زندگی میں ترجیحات کا تعین کرنا، خاص کر یہ سمجھنا کہ کون سی باتیں عارضی ہے اور کون سی مستقل یا دائمی۔
٭      پڑھنا ، لکھنا ، نظرثانی کرنا ، نوٹ بنانا ، وقت کا صحیح استعمال کرنا اور نظم و نسق کرنے کا فن سیکھنا۔
٭      محدود وسائل کے ساتھ اپنی زندگی کو رواں دواں رکھنا۔
٭      ذہنی تناوکو کنٹرول کرنا۔
  

معاشرتی دوری کی اہمیت اور تاریخی پس منظر :
٭      پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا و غار ثور میں جاتے ، کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں تنہائی میں مراقبہ کرتے حتی کہ پہلی وحی کا نزول بھی یہی ہوا۔
٭      گوتم بودھ نے 49 دنوں تک پیپل کے درخت کے نیچے مراقبہ کیا اور پھر ان کا دل و دماغ روشن ہوا۔
٭      جب طاعون کی وجہ سے شیکسپیئر کو الگ کردیا گیا تو اس نے ”کنگ لیئر(King Lear) لکھا۔
٭      گاندھی جی نے 1932 ءمیں ”سچائی کے ساتھ میرے تجربات“(My Experiments With Truth) پونے کی ایر وڈا جیل میں لکھی۔
٭      ڈسکوری آف انڈیا کو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے مہاراشٹر کے احمد نگر قلعے میں 1942ءتا 1946ءمیں قید کے دوران تحریر کی ۔
٭      کورونا وائرس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہم لوگ کچھ دن کے لیے معاشرتی تنہائی میں جی رہے ہیں۔ آج تھوڑی سی تکلیف ضرور ہوگی لیکن ہمارے آنے والے کل کو بچانے کے لیے یہ کرنا بھی بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔ لہٰذا اپنے وقت کاصحیح استعمال کریں۔

آپ کیا کرسکتے ہیں، میری طرف سے 10 مشورے:
(1)         کچھ اچھی کتابیں پڑھیں ۔ ( میں اپنے بلاگ پر کچھ کتابوں کی فہرست شیئر کروں گا ، جو سول سرونٹس نے تیار کی ہے۔)
 (2)   شاعری ، کہانی یا ڈائری وغیرہ لکھیں، اس سے لکھنے کی مشق ہوگی۔
(3)    اگر آپ طالب علم ہیں تو اپنے تمام باقی کاموں کو مکمل کریں۔
(4)    اپنے ذاتی اور پیشہ وارانہ کریئر کا منصوبہ بنائیں۔
(5)    اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ڈیجیٹلی رابطے میں رہیں۔
(6)    اپنی دینی دعاوں کی مشق کریں ، مقدس کتابیں پڑھیں (اپنے مذہب کی اصل تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کریں)
(7)    نیا ہنر، نیا فن اور نئی مہارتیں سیکھیں۔
(8)    جسمانی ورزش (گھر کے اندر) یا مراقبہ کریں۔
(9)    کھانے اور موبائل کے استعمال کو باقاعدہ بنائیں۔
(10) کھانا ، توانائی اور پانی کو ضائع نہ کریں بلکہ صرف ضرورت کے مطابق ہی استعمال کریں۔
          یہ دن ذاتی تجزیہ اور خود شناسی کے لیے ہیں۔اپنی اور اپنے سماج کے حفاظت کریں۔اپنی مثبت سوچ اور خیالات سے آپ سوسائٹی کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا احساس کیجیے اور وقت کا صحیح استعمال کریں، ہر دن دانشمندی سے کام کرنے کا فیصلہ کریں۔ صحت اور امن کے حصول کے لیے تعاون کریں،گھر رہیں اور سلامت رہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!