ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesMalegaon SpecialNEWS/REPORTS/PROGRAMMES

Malegaon Corporation Schools

اُردو اسکولوں کو ختم کرنے کا منصوبہ، ”اے او“ اور” کیندر پرمکھ“ کی سستی اورگرتا ہوا معیارِ تعلیم

اُردو اسکولوں کو ختم کرنے کا منصوبہ، ”اے او“ اور” کیندر پرمکھ“ کی سستی اورگرتا ہوا معیارِ تعلیم    (قسط دوّم)

از:عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)، مالیگاﺅں

    گذشتہ چند سالوں میں مالیگاﺅں کارپوریشن کے ذریعے جاری کئی اردو اسکولیں بند ہو گئی ہیں یا تو ایک دوسرے میں ضم کر دی گئی ہیںجس کی تفصیلی خبر نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل پر وزٹ کرکے ”مالیگاﺅں میں 25اسکولیں بند، کون ہیں ذمہ دار؟“کے نام سے دیکھی جا سکتی ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے اساتذہ ، ذمہ داران ، اہل محلہ اور سرپرستوں کی جانب سے جن غلطیوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہیں ، اگر امسال بھی انھیں دہرایا جائے تو ممکن ہے اس مرتبہ بھی مالیگاﺅں میونسپل کارپوریشن کی مزیدچند اسکولیں بند یا ضم کر دی جائیں ۔اس نقصان سے بچنے کے لیے گذشتہ دو سالوں سے نوری اکیڈمی ارباب علم ودانش کے مشورے انتظامیہ اور اساتذہ کے سامنے یوٹیوب چینل اور اخبارات کے ذریعے پیش کر رہی ہے مگر افسوس!ایجوکیشن سسٹم میں ایسے کثیرافراد موجود ہیں جنھیں صرف اپنی تنخواہ سے مطلب ہے بچوں کی تعداد کم ہونے یا اسکول کے بند ہو جانے سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر ان میں احساس بیدار ہوتا تو ایک کلاس میں صرف پانچ اور دس بچے نہیں ہوتے ۔ان پانچ دس بچوں کو پڑھانے کے لیے حکومت ایک ٹیچر کو چالیس سے ساٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دیتی ہے۔ بچوں کی تعدادکم ہونے کی وجہ تلاش کرنے کی بجائے چند لوگوں کی نااہلی اور سستی کے سبب انتظامیہ کی جانب سے اسکول ہی بند کر دی جاتی ہے ۔اس بابت راقم نے شہر کے باہوش اور دردمند دل رکھنے والے احباب سے بات کی تو انہوں نے درج ذیل اسباب اور علاج کی طرف توجہ مبذول کرائی جس کی اول قسط 16مئی 2019ء کو شہر  کے
مو قر اخبار شامنامہ میں شائع ہو چکی ہے۔

عمران جمیل سر( ہیڈماسٹر)

ہر پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی وقت کی پابندی، حمد میں بچوں کے ذریعے حمد، نعت اور دیگر تخلیقی سرگرمیاں کروانا، خود اساتذہ کے ذریعے روزانہ کوئی نہ کوئی سبق آموز کہانی سنانا، ریاضی، انگلش، سائنس مراٹھی پر اساتذہ کی خصوصی توجہ، بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے مشفقانہ انداز میں کی جانے والی نتیجہ خیز تدریس ان تمام عناوین پر سال بھر محنت کرتے رہنے کی وجہ سے پرائمری کے رزلٹ نہ صرف تعلیمی رپورٹ پر اچھے آئینگے بلکہ ہر طالب علم اسکی عملی مثال ہوگا تو اس سے سماج میں بھی حوصلہ بخش پیغام جائیگا۔یہ تو ہوئی تعلیمی و نصابی ایکٹیوٹیدوسری اہم بات یہ کہ ”جو دِکھتا ہے وہ بِکتا ہے“ اس کہاوت کے پیشِ نظر اسکول بورڈ کے ذریعے نیز ہر علاقے کے کارپوریٹرز کے ذریعے اسکول عمارت اور کمروں کی دلکشی، خوبصورتی اور صاف صفائی کو یقینی بنا کر سال بھر مینٹین رکھنے سے متوسط طبقے کے سرپرستوں کے لئے پرائمری اسکولیں بھی توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں۔دیدہ زیب کلر اسکیم، بھرپور دلچسپ وسائل تعلیم، صحت بخش کھچڑی(مینو کے حساب سے)، پانی پینے کا اچھا انتظام باتھ روم و بیت الخلاءکی سہولت وغیرہ کسی بھی سرپرست کو ویسا ہی مطمئن کرسکتی ہے جو اطمینان پرائیویٹ پرائمریز کے سرپرستوں کو ہوا کرتا ہے۔ ”اے او“ اور” کیندر پرمکھ“ کے ذریعے اسکولوں میں مہینے میں کم سے کم دو وزٹ ہوتے رہنے سے بھی اساتذہ کی کوالیٹی ایجوکیشن سال بھر قائم رہتی ہے ان تمام اُمور پر مستقل مزاجی سے اساتذہ، سرپرست، کارپوریٹرز اور آفیسرز کی توجہ رہنے سے سرکاری اسکولوں میں بھی اچھے تناسب میں نہ صرف داخلے ہوتے رہیں گے بلکہ ہرسال بہترین رزلٹ بھی آتے رہیں گے۔

٭طاہر انجم صدیقی


ایک جانب سرکاری اسکولوں کے بند ہونے کا سبب معیارِ تعلیم کے گراف میں گراوٹ ہے تو دوسری جانب نجی اسکولوں کے حوالوں سے اپنا معیار مشتہر کرنے کا سماجی رویہ ہے۔یہ دو بڑے اسباب ہیں جن کے مدار پر سرکاری اسکولوں کے بند ہونے کا پہیہ گردش کررہا ہے۔جتنی تیزی سے معیارِ تعلیم کا گراف نیچے اترے گا سرکاری اسکولوں میں نئے بچوں کا داخلہ اتنی ہی شدت سے متاثر ہوگا جبکہ دوسری جانب اپنا معیار مشتہر کرنے کا احساس جس شدت کے ساتھ لوگوں کو متاثر کرے گا اتنی ہی شدت کے ساتھ بچوں کو سرکاری اسکولوں سے دور کیا جاتا رہے گا۔ آپ کو چاہئے کہ دوسرے شہروں کی سرکاری اسکولوں کا موازنہ ہمارے شہر کی اسکولوں سے کریں بلکہ شہر کی ہی سرکاری مراٹھی اسکولوں کا موازنہ سرکاری اردو اسکولوں سے کریں تو شاید وہاں پہنچ جائیں جہاں پانی مررہا ہے۔

٭ساجد نعیم سر


مالیگاو ں کارپوریشن اسکول بچاو کمیٹی بنائی جائے۔ کارپوریشن کی اسکولوں کا خاتمہ گذشتہ کئی سالوں سے باقاعدہ سازش یا منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے۔ کارپوریشن کی اسکول پہلے بند کرائی جاتی ہے ،وجوہات بتائی جاتی ہے کہ طلبہ کا داخلے میں کمی اور جس کے نتیجے میں نئے اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوتی یعنی دونوں جانب سے کارپوریشن کا فائدہ طلبہ کا تعلیمی خرچ اور اساتذہ کی تنخواہیں۔ معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوتا ابھی تو اصل کاروبار کی شروعات ہوتی ہے۔ کارپوریشن اسکول کی جگہ پر شاپنگ کمپلیکس یا فالتو عمارت برائے ترقی کے نام بناتی ہے جس کا اچھا خاصہ بجٹ پاس ہوتا ہے بعد میں اسی جگہ سے کاروریشن کو آمدنی ہوتی ہے۔ یہی نہیں تعجب کی بات ہے کہیں سرکاری اسکولوں کی جگہ پر ہی نجی ادارے قائم ہو گئے ہیں اور انگلش میڈیم اسکول کے نام پر دھندہ بیوپار کر رہے ہیں۔ چلو ابھی کچھ سرکاری گرانٹ والی اُردو میڈیم اسکولیں شہر میں مخیر حضرات کے تعاون سے چل رہی ہیں۔ اگر ان اسکولوں کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو سماجی تنظیموں کو اسکولوں کو گود لینا ہوگا۔جیسا کہ دیگر بڑے شہروں میں کیا گیا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں کو سماجی و فلاحی تنظیمیں مدد کرتی ہیں تو یقیناً تعلیم کامعیار برقرار اور اسکول کی حفاطت ہو سکتی ہے ورنہ وہی اندھیر نگری چوپٹ راج اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے نام ہی رہے گی۔

٭ڈاکٹر عثمان (کینسر اسپیشلسٹ)


موجودہ دور میں زیادہ تر ٹیچرس تدریس کو سیکنڈری پیشہ کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کی پہلی توجہ اپنے ذاتی بزنس پر ہے۔

٭مسود احمد

    ہم لوگ پچھلے سال بہت سی اسکول والوں سے کہا تھا کہ آپ لوگ زرا دھیان دیں آپ لوگوں کا معیار تعلیم بہت خراب ہے تو وہاں کا اسٹاف سب غلطیاں انتظامیہ اور کارپوریشن پر ڈال کر کنارے ہو گئے تھے ،آج بھی جتنی اسکولیں چل رہی ہیں ان میں سے صرف ایک یا دو فیصد ٹیچر ہی ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔(جاری)

٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!