ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

No one can be made religious through WhatsApp, Facebook and social sites

واٹس ایپ ،فیس بک اور سوشل سائٹس سے کسی کو دین دار نہیں بنایا جا سکتا

 واٹس ایپ ،فیس بک اور سوشل سائٹس سے کسی کو دین دار نہیں بنایا جا سکتا۔

صوفیائے کرام کے طریقے،خانقاہی نظام اورانفرادی محنت جیسے اہم امور پر بھی خاطرخواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

از:عطاءالرحمن نوری ،مالیگاﺅں(ریسرچ اسکالر)

    مذہب کا انسانی زندگی سے بڑاگہراتعلق ہے۔مذہب کو انسانی زندگی میں بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔آثارقدیمہ،علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے یہ واضح کردیا کہ اب تک انسانوں کی کوئی مستقل جماعتی ،قومی یاتہذیبی زندگی ایسی نہیں رہی ہے جو مذہب کی کسی نہ کسی شکل سے یکسر خالی رہی ہو۔یہی وجہ ہے کہ اس کا اظہار مختلف عقیدوں،مخصوص اعمال، رسومات، فنون لطیفہ کے مظاہر،مخصوص قوانین،اخلاقی ضابطوں،مخصوص رویوں،حرکات وسکنات اور بے شمار دیگر صورتوںمیں ہوتاہے۔انسانی زندگی میں مذہبی احساس کے اظہار کی لاتعداد اور متنوع شکلیں ہیں کہ اس کی کوئی مخصوص تشریح بہت مشکل معلوم ہوتی ہے۔ڈنمارک کے ایک اسکالر ہوفڈنگ کے خیال میں مذہب تمام روایتوں میں اپنی انتہائی بنیادی صورت میں اعلیٰ قدروں کی بقا پر یقین کا نام ہے۔ (مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ،بی اے سال اول،اسلامیات،پہلا پرچہ، ص:۲۱) غرضیکہ زندگی کی تمام تر وسعت اور ہمہ گیری میں ہمیں مذہب کا ہی جلوہ دیکھنے کو ملتاہے۔ہم جیسے جیسے انسانی زندگی کا مطالعہ کریں گے ہمیں مذہب کی حقیقت کے نئے نئے عکس نظر آئیں گے۔
    تاریخی کتابوں کے ورق گردانی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے مذہب کی تبلیغ وتشہیر کے لیے جداجداطریقے اور حربے استعمال کیے ہیںمگر اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے کبھی بھی بزورشمشیر اور طاقت کے بَل پر اپنی تعلیمات کی تبلیغ نہیں کی ۔ اکناف عالم میں اسلامی پرچم انسانیت کی اعلیٰ قدروںاور اخلاقی بنیادوں کے سبب بلند ہواہے ۔ہندوستان میں بھی اسلام کی اشاعت محض مجاہدین کے ذریعے نہیں بلکہ صحابہ ¿ کرام ،تابعین عظام اور صوفیاکرام کے اخلاق ،کردار، روحانیت اور ان کی بے لوث خدمات کے ذریعے ہوئی ہے۔ صدیوں تک مسلمانوں نے اس سرزمین پر حکومت کی مگر ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ہمارے بادشاہوں،حکمرانوں اور علما نے بالجبر اسلام میں کسی کو داخل کیاہوباوجود اس کہ اسلام کو مسلسل نشانہ ¿ ہدف بنایا جارہا ہے۔ کبھی لَو جہاد، کبھی گﺅ ماس،کبھی تین طلاق،کبھی بغیر محرم کے حج،کبھی روہنگیائی مسلم اور کبھی آدھار کارڈ کا جھانسا دے کرآگرہ میں دھرم پریورتن کروانا وغیرہ۔غرضیکہ نت نئے سوشوں اور پروپیگنڈوں کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہے۔
    مذکورہ باتوں پر بہت کچھ بولا اور لکھا جاچکا ہے،اس لیے ان سب پر لکھنے کی بجائے خود سے گفتگو کرنے کو مناسب خیال سمجھتا ہوں،ہمیں خود سے بات کرنی چاہیے،غیروں کی سازشیں اپنی جگہ۔مگر کیاآج کے مسلمان ایمانی اعتبار سے اتنے کمزورہوگئے ہیںکہ چندسکّوں کی چمک دمک ،کچھ دھمکیاں اور کچھ معمولی اہمیت کے دستاویزات پر ایمان متزلزل ہوجائے؟چند کاغذات کی غیر موجودگی توحید کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دے؟یا کسی کا ڈر وخوف ارتداد کی راہ کا مسافر بنادے؟ہمارا ماضی تو ہم سے یہ کہتا ہے کہ جب بات ایمان کی آئی تو ہمارے اسلاف نے اپناگھر بار،مال ومتاع حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دیا،صرف ایمان کی حفاظت کے لیے۔انہیں کھَولتے ہوئے تیل میں ڈال دیاگیا،سولی پر لٹکادیاگیا،ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں،ان کی نظروں کے سامنے ننھّے ننھّے بچوں کے جسموں پر گھوڑے دوڑادیئے گئے،سروں کونیزوں پر چڑھادیاگیا،مگران غیور مسلمانوں کے ضمیر نے دامنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کرنا گوارا نہیں کیا اور انہوں نے اپنی جان راہِ خدامیں نثار کردی ۔
    اسی کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ دعوت دین کے جدید تقاضوں میں ہم اتنے الجھ کر رہ گئے ہے کہ ماضی میں جن بنیادوں پر ہمارے اسلاف نے دین کی عمارت کو مضبوط ومستحکم کیاتھا،ان بنیادوں پر ہم نے محنت کرنا کم یابالکل ہی بند کردیا ہے۔ اکابر واسلاف کے نقوش اور ان کا طریقہ تبلیغ دن بہ دن دھندلا ہوتا جا رہاہے،روحانی محفلوں کا انعقاد،تزکیہ قلب کی مجلسیں،ذکرواذکار کی بزم اور خانقاہی تصور ناپیدہوتا جارہا ہے۔دو چار گھنٹوں پر مشتمل دھنواں دھار تقاریر والے چند اجلاس، کچھ لڑیچر اور چھوٹی چھوٹی کامیابی پر بڑی بڑی تشہیر ہمارا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔ دعوت دین کے جدید تقاضوں سے ہمیں انکار نہیں ہے مگر یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سب کچھ یہی نہیں ہے۔ان چیزوں کے ساتھ صوفیائے کرام کا طریقہ،خانقاہی نظام اورانفرادی محنت جیسے اہم امور پر بھی خاطرخواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔آج کا مسلمان مادیت پرستی کا شکار ہوتاجارہاہے۔صرف بیان بازی سے اخلاق وکردار کو نہیں بدلاجاسکتا،سوشل میڈیاسے کسی کے ضمیر کو نہیں بدلا جاسکتا،محض واٹس ایپ ،فیس بک اور سوشل رابطے کی ویب سائٹ سے کسی کو دین دار نہیں بنایا جا سکتا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نفسیات کو پَرکھا جائیں،برائیوں کے شجر کوتحقیق وتفتیش کے بعد جڑوں سے اُکھاڑ پھینکا جائے، اخلاق ،کردار،اعمال ومعمولات میں انقلاب آفرین تبدیلی کے لیے اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کام کیا جائے، ماضی کی بنیادوں پر حال کو استوار کیا جائے اور اسلاف کے عطا کردہ خطوط پر متاع حیات کو گامزن کیاجائے تاکہ امید افزانتائج حاصل ہو۔ہمارے معاشرے میں یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ کسی عالم یا شیخ کے ہاتھوں کوئی ایک غیر مسلم ایمان قبول کرلے تو مہینوں تک اخبار ورسائل اور سوشل میڈیاکے ذریعے واہ واہی بٹورنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اس معاملے میں اخبار بازی سے پرہیز کرناچاہیے،اس کے سبب نقصان ہونے کاقوی امکان موجودہے۔باوجود اس کہ حکمت عملی کو فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مادیت کے دَلدَل سے نکل کر دل ودماغ میں اسلام کی سچی محبت بٹھائی جائے،صحابہ واسلاف کی قربانیاں بتائی جائیں، دین کی اشاعت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ درس کا ذکر کیاجائے تاکہ اسلام کے متعلق ایسی محبت پیداہو جس کے سامنے بڑی سے بڑی سازشیں اور طاقتیں زیروزبر ہوجائیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!