ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Boycott Bolna bahut aasan hai magar

لفظ بائیکاٹ بولنا بہت آسان ہے اُس پر عمل در آمد کے لیے کئی دہائیاں درکار ہیں

لفظ بائیکاٹ بولنا بہت آسان ہے اُس پر عمل در آمد کے لیے کئی دہائیاں درکار ہیں

جس قوم کے پاس ایک گھنٹے بعد کا منصوبہ نہیں ہے وہ دہائیوں بعد کا منصوبہ کیسے بنا سکتی ہے؟

محمد غفران اشرفی 7020961779
ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جہالت کی کوئی سِیما نہیں۔یہ کہیں سے بھی،کسی کے لیے بھی،کسی بھی وقت عود کر آتی ہے۔جس کا ثبوت حال ہی میں ہماری قوم کے کسی فرد کی جانب سے رقم کی جانے والی کچھ تحریر سے واضح ہوا۔ اُس دُور اندیشی سے مُعرّی شخص نے لکھا کہ “اب ندی کے اُس پار کے تمام تر شوروم، ہاسپیٹلس اور دکانداروں کا بائیکاٹ کیا جائے۔” جس پر ہماری گندی عادت بھی مستزاد ہے کہ ہم آو دیکھتے ہیں نا تاو،تحریر کے منفی اور مثبت اثرات کیا ہوں گے؟کچھ جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔جذبات کے تلاطم میں بہہ کر ہر مضمون کو نقارہ خلق سمجھتے ہوئے آگے ارسال کردیتے ہیں۔
کچھ دیر کے لیے  اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ “ندی کے اُس پار کے شوروم،ہاسپیٹلس اور دکانداروں کا بائیکاٹ ہونا چاہئے” لیکن جنہوں نے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے اور جو ایسی بات سے متفق ہیں اُن سب سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے بائیکاٹ کا مطلب جانا ہے؟یوں تو یہ صرف چند حرفوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن اِس پر عمل در آمد کے لیے کئی دہائیاں درکار ہیں۔ بائیکاٹ کا مطلب جس کا مقاطعہ کیا جائے اُس کا متبادل آپ کے پاس ہو۔ آپ اگر ہاسپیٹلس اور ڈاکٹرس کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہو تو شوق سے کیجئے مگر یہ بھی بتا دینا کہ جو مہلک اور دائمی امراض ہیں آپ کے پاس اُن کے ماہر ڈاکٹرس کتنے ہیں؟ خالص اِن امراض کے لیے ہاسپیٹلس کہاں ہیں؟ کچھ ایسے امراض ہیں جن کے لیے مریض کو آئی سی یو وارڈ کی ضرورت ہوتی ہے کیا آپ کے پاس یہ سہولت ہے؟ اگر کہیں ہے تو اُن میں کتنے مریضوں کو بیک وقت راحت پہنچائی جا سکتی ہے؟ کیا اب بھی ہم نہیں جاگیں گے؟ کہ ہمارے پاس طبّی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے ہماری آنکھوں کے سامنے کئی سو قیمتی جانوں کو ہم نے گنوا دیا؟ ایک بار پھر بائیکاٹ کے نام پر کئی اور جانوں کو اپنی جہالت کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟
Boycotts can generate a lot of media attention. But do they really work? (photo: Jean-François Gornet, cropped)
 اپنی غلطی اور غفلت کا سارا پیٹارا ڈاکٹرس حضرات کے سر پر پھوڑنا یہ عقل مندی نہیں بے وقوفی ہے۔ ڈاکٹرس حضرات کو کوسنا اور بعد میں وقت پڑنے پر پھر اُنہیں کے دروازے پر دستک دینا اِس سے بہتر یہی ہے کہ اُن کے ساتھ شفقتوں کا سلوک کرتے ہوئے اپنے مریض و مرض کا علاج کرائیں۔ بہت سے مسلم ڈاکٹرس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کے لیے میرا سلام، اُن کی خدمات قابل ستائش و لائق صد احترام ہے۔ مگر اُن کے لیے مشکل یہ ہے مریضوں کی تعداد بسیار کہ اُن کی تفتیش و تشخیص کے لیے وقت درکار ہے جس کے لیے مزید ڈاکٹرس کی ضرورت ہے۔ جو دو ہی صورتوں میں پوری ہوسکتی ہے۔ ایک تو بائیکاٹ کا اعلان کرنے والے حضرات، دائمی امراض کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر ڈاکٹرس الہ دین کا چراغ رگڑ کر حاضر کریں۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ عقل مندی اور ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے جب تک متبادل نہیں مل جاتا محبت کے ماحول میں جان بچانے کے لیے اُنہیں کے ہاسپیٹلس میں علاج کرواکر زندگی خوش و خرم گزاریں۔

 

تجزیہ یہ ہے کہ ہم تو تعلیم کے معاملے میں اتنا پیچھے ہیں کہ مضمون لکھتے وقت ایک فہرست میری نظر سے گزری جس میں مالیگاوں کے ڈاکٹرس کی خدمات جو اِن دنوں جاری کی گئی ہیں اُن کا اعلامیہ تھا۔ اُس فہرست میں شاید و باید ہی ہماری قوم کے ڈاکٹرس کے نام ملے۔ مجھے پتہ ہے یہ بات بھی ہماری جاہل کھوپڑی میں متعصبانہ ہی قرار پائے گی۔ بائیکاٹ یہ لفظ بولنا بہت آسان ہے لیکن ایسا نہیں کہ آپ شور مچائیں، ہنگامہ کریں، دنیا کے سامنے اپنے مذہب کو ذلیل کریں۔ اُس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی پر پابندی ہی لگانا ہے تو سنجیدگی سے غور کرکے جس چیز کا بائیکاٹ کرنا ہے اُس کا متبادل اپنی قوم کے سامنے پیش کردیں لوگ اِس طرف خود ہی راغب ہوجائیں گے۔ اِسی پر مثٙل مشہور ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے۔ لفظ بائیکاٹ سے نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ اور ہم غیروں کے درمیان رہتے ہیں ہماری ہر بات بردران وطن تک پہنچتی ہے۔ اِس لیے باتیں ایسی حکمت بھری ہوں کہ جس سے ہمارا ہدف بھی خالی ناجائے اور بات بھی ہوجائے۔
لیکن یہاں تو حال ہی کچھ ایسا ہے ہر ایرا غیرا کرونا زدہ مصلح، نباض قوم بن کر سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی بھونڈی سوچ، جہالت  اور محدود فکر کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ جس کا نتیجہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔
ابھی سے ہم اِس بات کا تہیہ کریں کہ ان شاء اللہ اگر زندگی رہی تو فضول خرچ پر بٙند باندھ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین امراض اور بہترین سہولیات سے آراستہ ہاسپیٹلس ، کالیجیس ، دانہ مارکیٹ ، سبزی مارکیٹ ، مالس وغیرہ آنے والی نسلوں کو اپنے علاقے میں دے کر جائیں گے تاکہ آج جو خُفت ہم اٹھا رہے ہیں وہ شرمندگی ہمارے بچے نا اٹھائیں اور غیروں کے ساتھ شان سے کھڑے ہوکر اپنی زندگی فخر کے ساتھ جی سکیں۔لیکن جس قوم کے پاس ایک گھنٹے بعد کا منصوبہ نا ہو وہ قوم دہائیوں بعد کا منصوبہ کیسے بنا سکتی ہے۔01/05/2020

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!