ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesMalegaon SpecialNEWS/REPORTS/PROGRAMMES

Malegaon Corporation School: Causes, Treatment and suggestions

مالیگاﺅں کارپوریشن کی اُردو اسکولوں کا بند یا ضم ہونا، اسباب ، علاج اور تجاویز

مالیگاﺅں کارپوریشن کی اُردو اسکولوں کا بند یا ضم ہونا، اسباب ، علاج اور تجاویز

اُردو اسکولوں کو ختم کرنے کا منصوبہ، 500 سے زائد ملازمت اور اسکولوں کا گود لینا جیسے اہم مشورے

از:عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)، مالیگاﺅں

جولائی 2018ء کو مالیگاﺅں کے مو قر اخبار شامنامہ میں کارپوریشن اسکولوں کے متعلق ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی تھی،اس رپورٹ کے مطابق مالیگاﺅں شہر میں اُردو کی 25سے زائداسکولیں بند ہوگئی ہیںجس پر نوری اکیڈمی کی ٹیم نے تفصیلی رپورٹ اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو کی شکل میں اپلوڈ کی ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے اساتذہ ، ذمہ داران ، اہل محلہ اور سرپرستوں کی جانب سے جن غلطیوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہیں ، اگر امسال بھی انھیں دہرایا جائے تو ممکن ہے اس مرتبہ بھی مالیگاﺅں میونسپل کارپوریشن کی چند اسکولیں بند یا ضم کر دی جائیں ۔ قوم کے نو نہالوں کے روشن مستقبل کے لیے پرائمری اسکولیں قلعہ کا کام کرتی ہیں اس لیے اساتذہ، انتظامیہ اور ذمہ داران سے التماس ہے کہ مندرجہ ذیل نکات پر عمل کی کوشش کریں۔
گھروں گھر جا کر سروے کریں ۔
سرپرستوں سے ملاقات کر کے انھیں یقین دلانے کی کوشش کریں کے پرائیوٹ اسکولوں کے طرز پر یا ان سے بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کارپوریشن کی اسکولوں میں رہے گا۔
نئے داخلے کے لیے منصوبہ بندی کریں ۔
اسکول کے علاقے کے ذمہ داران اور کارپوریٹر سے ملاقات کر کے ایسی پالیسیوں کو رائج کریں جن سے داخلے کی شرح کو بڑھایا جا سکے ۔
مخیر حضرات سے گذارش ہے کہ غریب، یتیم اور مفلس بچوں کے اخراجات کو خوشی خوشی برداشت کریں ۔

انتظامیہ اور اساتذہ اپنی اپنی اسکولوں میں مفت ”نرسری“ اور ”کے جی“ کا اہتمام کریں تاکہ یہیں کے طلبہ و طالبات براہ راست اول جماعت میں داخل کیے جا سکیں۔
قوم کے متعلق حساس اور درد مند دل رکھنے والے احباب یقینا ان پر عمل کی کوشش کریں گے، کوئی بعید نہیں کہ ایسے حضرات ان سے بہتر منصوبوں پر عمل کریں گے، پوری ملت ایسے احباب کی ممنون و مشکور ہے مگر اس سسٹم میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنھیں صرف اپنی تنخواہ سے مطلب ہے بچوں کی تعداد کم ہونے یا اسکول کے بند ہو جانے سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ نہ ہی ان کی ملازمت پر کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی تنخواہ پر ۔ ایسے احباب پر انتظامیہ اور اہل محلہ کی جانب سے پریشر بنا کر کام کروایا جا سکتا ہے -اس بابت ہم نے شہر کے باہوش اور دردمند دل رکھنے والے احباب سے بات کی تو انہوں درج ذیل اسباب اور علاج کی طرف
توجہ مبذول کرائی۔

٭یاسین اعظمی سر


تعلیمی میدان میں کام کرنے کے خواہش مند افراداگر واقعی مخلص ہیں توقانون حق تعلیم کے تحت ابتدائی پرائمری تعلیم مفت ہے اس لیے سرکاری اسکولوں (میونسپل کارپوریشن، ضلع پریشد، میونسپلٹی) کو رواج دیں ۔ معیاری تعلیم کے لیے باضابطہ طور پر اسکول انتظامیہ کمیٹی میں شامل ہوں اور اساتذہ کے ساتھ مل کر مشترکہ کوشش کریں ۔ لوکل باڈیز (اسکول بورڈ) کے ذمہ داران کو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے پریشر گروپ بنایا جائے ۔

 ناظر تعلیمات (اے ڈی ای آئے) کو انسپکشن کے لیے پابند بنانے کی کوشش کی جائے ۔ سرپرست اساتذہ کمیٹی کو فعال بنایا جائے ۔ انفرا اسٹرکچر ،لازمی وسائل (پینے کا پانی، طہارت خانہ و دیگر) کے لیے مقامی ادارہ (کارپوریشن، پنچایت سمیتی وغیرہ) کے لیے مخلصانہ کوشش کی جائے ۔ مستقل غیر امدادی طرز کی اسکولیں صرف اور صرف فیس کے ذریعے کمانے کا گورکھ دھندا ہے ۔ چند ہزار تنخواہ میں کوئی مدرس کماحقہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا، صرف اور صرف اساتذہ کا استحصال ہورہا ہے ۔اگر آپ واقعی مخلص ہیں توآج میونسپل کارپوریشن اسکول بورڈ میں تقریباً 900 اساتذہ کی منظور شدہ تعداد ہے، اگر ہم میونسپل کارپوریشن کی اسکولوں میں بھرپور داخلے کے لیے محنت کرتے ہیں تو تقریباً شہر کے 500 اساتذہ ملازمت حاصل کرسکتے ہیں اور اول دن سے پوری تنخواہ پاسکتے ہیں۔

٭ظفر عابد سر


میری معلومات کے مطابق شہر میں 75 سے 77 اُردو اسکولیں ہیںجو کارپوریشن کے ماتحت ہیںاور کم و بیش اتنے ہی کارپوریٹرس ہیں۔ اگر ہر وارڈ کے کارپوریٹر اپنے وارڈ کی ایک اسکول کوبھی گود لے لیں اور وہاں کے.جی.کلاسیس کا اہتمام کریں تو طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسکول کا انفرا اسٹرکچر بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اس میں کارپوریٹر کا ذاتی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا اور اس کے نام ایک بہترین کام لمبی مدت تک کے لئے جڑ جائے گا۔یہ کوئی ناممکن کام بھی نہیں ہے، دہلی گورنمنٹ نے ایسا کر دکھایا ہے۔ کارپوریٹر فنڈ سے گیٹ، چوک کا نام اور نہ جانے کتنے غیر افادی کام کیے جاتے ہیں اس سے بہتر تعلیمی شعبے میں کام کرنا قوم و ملت کے لیے مفید ہوگا۔

٭مختار عدیل

    سرکاری اُردو اسکولوں کی تعداد میں کمی کی ایک اہم وجہ تعلیم کا کمرشیالائزڈ ہو جانا ہے۔ عمومی سطح پر یہ ذہنیت فروغ پا رہی ہے کہ ترسیل و ترویج علم کا مطلب نفع بخش کاروبار، حقیقتاً ایسا نہیں ہونا چاہیے اور اس قسم کی فکر کے قلع قمع کی ضرورت ہے۔طلبہ کی کم ہوتی ہوئی تعداد تشویشناک ضرور ہے مگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو ڈراپ آو ٹ کو روکا جا سکتا ہے۔ وہ اساتذہ جو سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں ان کی مدد سے ”محلہ واری“کلاسز قائم کی جائیں۔ ان کلاسز میں اردو زبان دانی کے علاوہ دیگر مضامین میں کمزور طلبہ کی رہنمائی کی جائے۔

٭ساجد نعیم سر


مالیگاو ں کارپوریشن اسکول بچاو کمیٹی بنائی جائے۔ کارپوریشن کی اسکولوں کا خاتمہ گذشتہ کئی سالوں سے باقاعدہ سازش یا منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے۔کارپوریشن کی اسکول پہلے بند کرائی جاتی ہے ،وجوہات بتائی جاتی ہے کہ طلبہ کا داخلے میں کمی اور جس کے نتیجے میں نئے اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوتی یعنی دونوں جانب سے کارپوریشن کا فائدہ طلبہ کا تعلیمی خرچ اور اساتذہ کی تنخواہیں۔معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوتا ابھی تو اصل کاروبار کی شروعات ہوتی ہے۔ کارپوریشن اسکول کی جگہ پر شاپنگ کمپلیکس یا فالتو عمارت برائے ترقی کے نام بناتی ہے جس کا اچھا خاصہ بجٹ پاس ہوتا ہے بعد میں اسی جگہ سے کاروریشن کو آمدنی ہوتی ہے۔یہی نہیں تعجب کی بات ہے کہیں سرکاری اسکولوں کی جگہ پر ہی نجی ادارے قائم ہو گئے ہیں اور انگلش میڈیم اسکول کے نام پر دھندہ بیوپار کر رہے ہیں۔ چلو ابھی کچھ سرکاری گرانٹ والی اُردو میڈیم اسکولیں شہر میں مخیر حضرات کے تعاون سے چل رہی ہیں۔ اگر ان اسکولوں کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو سماجی تنظیموں کو اسکولوں کو گود لینا ہوگا۔جیسا کہ دیگر بڑے شہروں میں کیا گیا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں کو سماجی و فلاحی تنظیمیں مدد کرتی ہیں تو یقیناً تعلیم کامعیار برقرار اور اسکول کی حفاطت ہو سکتی ہے ورنہ وہی اندھیر نگری چوپٹ راج اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے نام ہی رہے گی۔

٭ڈاکٹر عثمان (کینسر اسپیشلسٹ)


موجودہ دور میں زیادہ تر ٹیچرس تدریس کو سیکنڈری پیشہ کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کی پہلی توجہ
اپنے ذاتی بزنس پر ہے۔

٭مسود احمد

   ہم لوگ پچھلے سال بہت سی اسکول والوں سے کہا تھا کہ آپ لوگ زرا دھیان دیں آپ لوگوں کا معیار تعلیم بہت خراب ہے تو وہاں کا اسٹاف سب غلطیاں انتظامیہ اور کارپوریشن پر ڈال کر کنارے ہو گئے تھے ،آج بھی جتنی اسکولیں چل رہی ہیں ان میں سے صرف ایک یا دو فیصد ٹیچر ہی ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔(جاری)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!