ArticlesBOOKS/ BOOK REVIEWNEWS/REPORTS/PROGRAMMESNRC/CAB/CAA/NPR

NRC Andeshe Masayel aur Hal Kitab ka Ijra

عطاءالرحمن نوری کی کتاب ” این آر سی: اندیشے، مسائل اور حل “ کا اجراء

عطاءالرحمن نوری کی کتاب ” این آر سی: اندیشے، مسائل اور حل “ کا اجراء

از: محمد نوح صدیقی (اسسٹنٹ کمشنرانکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ)
    یکم ستمبر 2019ء کو مہاراشٹر میں رہنے والے ایک ٹوئیٹر صارف نے وکلاء اور کارکنوں کی تنظیم ”انڈین یونین فور سول لبرٹیز“ کو براہِ راست پیغام بھیج کر این آر سی کے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اپنے دستاویزات کی درستی کے متعلق باز پُرس کی۔ اس تشویش کا سبب این آر سی کو لے کر ملک میں پھیلنے والا ڈر وخوف ہے۔تنظیم کے افراد نے ٹوئیٹر صارف کو یقین دہانی کرائی کہ اس وقت این آر سی صرف آسام کے لیے ہے ،آپ حیران و پریشان مت ہو۔اس کے جواب میں صارف نے کہا کہ اگر اس کا نفاذ پورے ہندوستان میں ہوا تو اس وقت کیا کیا جائے گا؟ کیا ہمیں دستاویزات درست کرنے کا موقع دیا جائے گا؟ ظاہر ہے اس سوال کا جواب قبل از وقت کسی کے بس میں نہیں۔ تب ٹوئیٹر صارف نے کہا کہ وہ پہلے ہی اپنی سب چیزوں کو درست کرانا چاہتا ہے۔
     فی الوقت ریاست آسام میں 1.9 ملین افراد کو نااہل قرار دے کر شہریت ثابت کرنے کے لیے فارین ٹریبونلز میں بھیج دیا گیاہے۔ تاریخی حقائق و قرائن یہ بات واضح کرتے ہیں کہ آسام این آر سی کا مقصد ریاست آسام میں غیر قانونی طور پر بسے ہوئے غیر ملکی افراد کو پہچاننا ہے۔ حتمی فہرست کی اشاعت نے پورے ملک میں خوف وہراس کی لہر دوڑا دی ہے ۔ بہت سارے مسلمان اس بات کو لے کر حیران ہیں کہ این آر سی جیسی مشق سے ان کی شہریت پر کیا حرف آئے گا؟ سٹیزن شپ امینڈمینٹ بل کی باتوں نے بھی اس خوف کو مزید بڑھاوا دیا ہے ۔ یہ طوفان اس وقت تیز ہوگیا جب سوشل میڈیا پر افواہیں ، غلط بیانی اور اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگ اس قدر سہم گئے ہیں کہ اپنے اہل خاندان ، اہل محلہ اور دوستوں میں اس بات کا حد سے زیادہ تذکرہ اور اپنے دستاویزات کو اکٹھا کرنے لگے ہیں مگر لازمی دستاویزات کیا ہوں گے ؟ انھیں کیسے اورکس طرح َ جمع کیا جائے گا؟ اگر ان میں غلطیاں راہ پا گئیں ہوتو کس طرح درست کیا جائے گا؟ اور ان کا پریڈ کیا ہونا چاہیے؟ اس تعلق سے ان کے پاس کوئی بھی معقول جواب موجود نہیں۔ 

 

 
ان تمام شور وغل میں سچ جھوٹ ، حقیقت اور افواہ سب شامل ہو گئے اور خوف و دہشت کا ماحول بننے لگا۔ اس درمیان بعض حساس افراد اور قوم وملت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے واقف چند حضرات اس کوشش میں مصروف ہو گئے کہ عوام و خواص کو حقیقی صورتِ حال سے واقف کرایا جائے۔ جیسے National Academy of Legal Studies and Research (NALSAR) کے وائس چانسلر ایڈوکیٹ فیضان مصطفی صاحب۔ انہوں نے ” لیگل اویئر نیس ویب سریز“ کے ذریعے قانون سے آگاہی کا سلسلہ شروع کیاجس کی خوب پذیرائی کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مالیگاں سے مخلص دوست عطا ءالرحمن نوری نے نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل اور اخباری مضامین کے ذریعے علم و آگاہی کا بیڑا اُٹھایا۔ ان جیسے اور بھی چند افراد ہیں جن کی کاوشوں کے ذریعے ضروری معلومات لاکھوں لوگوں تک پہنچی ہے اور انھیں راحت کا احساس ہواہے۔ 
    باشندگان ہند کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ این آر سی کے موضوع پر برادرِ عزیزم عطاءالرحمن نوری کی مستقل ایک کتاب ” این آر سی :اندیشے ، مسائل اور حل“  17 نومبر2019ءکو منظر عام پر آ رہی ہے، میری نظر میں اس موضوع پر یہ پہلی منفرد کتاب ہے ۔یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہو جاتی ہے کیوں کی اس کی تیاری میں عطا بھائی نے تین سول سروسیس امتحان کوالیفائیڈ آفیسرس، ایک ممبئی ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ، ایک مالیگاں کورٹ کے ایڈوکیٹ اور تین ریسرچ اسکالر سے مسلسل رابطہ کرکے اپنی اس کتاب کو مکمل کیا ہے۔ عطا بھائی اکثر مجھ سے بھی قانونی و آئینی نکات پر گفتگو کرتے، ڈیوٹی کے فرائض اور دیگر مصروفیات کہ باجود دوستی اور مفاد عامہ کی خاطر ہمیشہ ان کا ساتھ دیتا رہا اور اب کتاب کی صورت میں نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ 
 
    بہت سوں کو یہ مغالطہ ہے کہ انھیں ہندوستان سے ملک بدر کر دیا جائے گا، ایسا کرنا اتنا آسان نہیں ہے ، اس کے قانونی پیچیدگیوں کو آپ اس کتاب کے ابواب میں پڑھیں گے۔ اسی طرح این آر سی اور این پی آر کے کنفیوزن کودرست کرنابھی بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔ عام شہری دونوں کو ایک ہی سمجھ بیٹھتے ہیں اور پھر غلط فہمیاں پروان چڑھتی ہیں۔اس بابت کتاب میں مکمل ایک باب ہے جس میں لوگوں کی اُلجھنوں کو دور کرنے کی مکمل کوشش کی گئی ہے۔ عطا ءبھائی نے کتاب کو کئی ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ ہر باب منفرد عنوان کے تحت عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرتا جاتا ہے، جیسے جیسے کتاب کا مطالعہ مکمل ہوگا این آر سی کے متعلق پورا خوف زائل ہو جائے گا اورآخر میں ایک مکمل خاکہ آپ کے سامنے ہوگا جس کے پیش نظر آپ این آر سی کے نفاذ سے قبل اپنے تمام تر دستاویزات کو نہ صرف جمع کر لیں گے بلکہ انھیں درست کروانے کا صحیح علم بھی حاصل کر لیں گے۔
17 نومبر2019ءبروز اتوار کو شام میں پانچ بجے سے رات میں آٹھ بجے تک حج ٹریننگ سینٹر ، اسکول نمبر 1، مالیگاں میں اس کتاب کا اجراءہوگا اور اس شعبے کے ماہرین کے ذریعے NRCپر لوگوں کی رہنمائی بھی ہوگی۔ میں بذات خود اس پروگرام میں شرکت کے لیے مالیگاں آرہا ہوں، آپ بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے پروگرام میں ضرور شرکت کریں۔ مولیٰ کریم اس کتاب کو مقبول عام فرمائے اور جملہ احباب کی کاوشوں کا بہتر صلہ عطا فرمائے۔ آمین
 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!