ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

AAJ KE MAHOOL ME IMAM KI ZUMMEDARIYA

آئین ہندکی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کریں، انتظامیہ امام کو امام ہی رہنے دیں اپنا غلام نہ بنائیں۔
کامیاب لیڈر شپ کے لیے اللہ سے رُجوع ،قرآنی فلسفے پر عمل اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
اہلسنّت ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام ائمہ کرام کی خصوصی نشست سے مفتی خالد ایوب مصباحی کا جرأت مندانہ خطاب

از: مفتی عارف اشرفی

اسلامی تاریخ سے یہ بات عیاں ہے کہ ماضی میں جب بھی اُمت مسلمہ پر تکلیف دہ وقت آیا ہے اس وقت علمائے کرام ، مبلغین اسلام اور ائمہ کرام نے اصلاح و رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے ۔ اُمت کی قیادت کا راستہ نماز تہجد ، آہِ سحر گاہی ،توبہ و استغفار اور کثرت کے ساتھ صدقہ و خیرات سے ہو کر گزرتا ہے ۔ کامیاب لیڈر شپ کے لیے اللہ سے رُجوع کرنا ہوگا ،قرآنی فلسفے کو سمجھنا ہوگا اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا ۔ ان فکری کلمات کا اظہار مفتی خالد ایوب مصباحی (جے پور) نے اہلسنّت ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام 31 اگست 2019ءکو نماز عشاءبعد اسکس ہال(مالیگاوں) میں منعقدہ ائمہ کرام کے خصوصی اجلاس میں کیا۔ 

”حالات حاضرہ اور ہماری ذمہ داریوں“ کے عنوان پر سنجیدہ خطاب کرتے ہوئے مفتی خالد ایوب مصباحی نے انتہائی تلخ مگر اصلاحی انداز میں تمام ائمہ کرام سے کہا کہ ہم مصلی امامت سے وابستہ ضرور ہیں مگر الا ما شاء اللہ ہمارا تعلق اللہ رب العزت سے اتنا مضبوط نہیں رہا، جتنا ہونا چاہیے۔ علما و ائمہ سے گزارش ہے کہ وہ کسی کی چاپلوسی اور جی حضوری نہ کریں اور نہ ہی انتظامیہ کے دباﺅ میں آکر حق سے روگردانی اختیار کریں بلکہ محض اللہ ورسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے بے باکانہ انداز میں اُمت کی رہبری کا فریضہ انجام دیں، یقینا غیب سے مدد آئے گی۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ امام کو امام ہی رہنے دیں، عملاً اپنا غلام نہ بنائیں۔

مفتی موصوف نے یہ بھی کہا کہ کام یاب قیادت کے لیے فرائض و وَاجبات کے ساتھ نماز تہجد کی بھی پابندی کریں اور اخلاقی طور پر اپنے اندر بالخصوص صبر وتحمل کا جذبہ پیدا کریں۔ 

انھوں نےافسوس جتاتے ہوئے کہا: موجودہ دور کے علما ایک خاص قسم کے علمی بھرم میں جیتے ہیں اور اپنے سامنے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے جب کہ اُمت کی رہبری کے لیے تمام علوم وفنون سے آگاہی کے ساتھ حلم و بردباری، عاجزی و انکساری، تعاون اور مفاہمت و مشارکت ازحد ضروری ہے۔ شاید انہیں اوصاف قیادت کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ ہم عام طور پر مشاہدہ کرتے ہیں علما کی اکثریت موجودہ ملکی حالات، بدلتے ہوئے منظر نامے اور حالیہ تناظر میں رہ نمائی کا فریضہ انجام دینے سے قاصر ہیں جبکہ وراثت نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں، اس دور کے ایشوز کے متعلق ہر سطح کی صالح قیادت کی ذمہ داری ہماری ہے مگر ظاہر ہے بغیر علم کے یہ ممکن نہیں ہے، اس لیے علما کو چاہیے کہ جیسا مسئلہ ہو، اس شعبے کے ماہر ین سے ملاقات و مفاہمت کریں اور مکمل تفصیل جاننے سمجھنے اور ضروری کتابوں کے مطالعے کے بعد اپنے عوام کو مثبت حل بتائیں۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ موجودہ دور میں ہر شعبے میں کئی کئی اسپیشل برانچیز قائم ہو چکی ہیں اور ہر برانچ میں سیکڑوں ماہرین موجود ہیں، آج کے ترقی یافتہ دورمیں پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کے ماہرین ہمارے چہرہ اور حرکات و سکنات دیکھ کر خیالات سے واقف ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم ہر کام خود نہ کریں بلکہ ان ماہرین علم وفن کا تعاون حاصل کریں، جو ہم سے بہتر اورمثبت حل عوام و خواص کو بتا سکتے ہوں۔ اصل قیادت اسی کا نام ہے جس کے لیے ہمیں اپنی اَنا قربان کرنا ہوگی۔ 


مفتی صاحب نے تاریخی حقائق کی روشنی میں کہا کہ اللہ جب کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اس سے قوت فکر وعمل چھین لیتا ہے، آج اُمت میں فکری قیادت کا فقدان ہے، انفرادی تربیت کی جگہ جلسے جلوسوں نے لے لی ہے، کتابوں سے دوری بڑھ گئی ہے، مادہ پرستی عروج پر ہے اور اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ نہایت کم زور ہو چکا ہے۔ اسی لیے اُمت کے ایک بڑے طبقے نے دین دار خیال کیے جانے والے طبقے کو خود سے دور کر دیا ہے، اردو کا بڑا مشہور مقولہ ہے *”مُلا کی دوڑ مسجد سے مدرسے تک ۔“* میں سمجھتا ہوں کہ علما و ائمہ کے لیے اس سے بُری گالی نہیں ہوسکتی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ائمہ کرام اُمت کے تمام مسائل کو سمجھیں، ان کا حل نکالیں اور درست رہ نمائی کریں کیوں کہ اب سڑکوں پر نکلنے کا وقت نہیں ہے، آئین کی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کرنے کا وقت ہے، اس کام کے لیے چند ضروری اُمور پر عمل کریں: آئین ہند کا مطالعہ کریں، سیاسی، سماجی اور ملی مسائل کا گہرائی سے ادراک حاصل کریں، مثبت سوچ کے ساتھ عزم وحوصلہ جواں رکھیں اور مکمل ایمان داری سے فرض شناس رہیں۔ 
پروگرام کے انعقاد میں اہل سنّت ریسرچ سینٹر کے ذمہ داروں نے اہم کردار نبھایا، ائمہ کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی، پروگرام کو *نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل* کے ذمہ داروں نے ریکارڈ کیا، جسے عنقریب چینل پر نشر کیا جائے گا، صلات و سلام اور عشائیہ پر اس فکری اجلاس کا اختتام ہوا۔


..:: FOLLOW US ON ::..


https://www.youtube.com/channel/UCXS2Y522_NEEkTJ1cebzKYw
http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!