ArticlesBOOKS/ BOOK REVIEWNEWS/REPORTS/PROGRAMMESNRC/CAB/CAA/NPR

NRC Par Mufeed Kitab By Mubarak Kapdi

این آر سی کے موضوع پر ایک کارآمد و مفید کتاب

این آر سی کے موضوع پر ایک کارآمد و مفید کتاب

از:مبارک کاپڑی (ماہر تعلیم )

فرقہ وارانہ ماحول ا ور کشیدگی پیدا کر کے الیکشن جیتنے کا ”نایاب“ نسخہ جب سے بر سر ا قتدار ارباب سیاست  کے ہاتھ آیا ہے تب سے اس ملک کی اقلیتوں کو ذہنی اذیت کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے۔ایسی ہی ایک بدبخت مہم کا نام این آر سی ،نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس یعنی شہریوں کا قومی رجسٹر ۔معاملہ آسام سے شروع ہوا جس میں دس سال کے عرصے میں 1220 کروڑ روپئے خرچ  (بلکہ ضائع ) کرنے کے باوجود حاصل کچھ نہیں ہوا ،البتہ پورے ملک بھر میں اقلیتوں میں جب خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا تو فرقہ پرستوں کی بانچھیں کھل گئیں اور اس خوف و ہراس کو برقرار رکھنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے ایوان میں یہ اعلان ہوا کہ اب پورے ملک میں این آر سی لاگو ہوگا۔
اب اس ملک گیر سروے کا نتیجہ کچھ بھی نکلے البتہ قوم کو چوکنا تو رہنا ہے۔دراصل ہماری قوم کے تساہل اور لاپرواہی کی بنا پر ہم ایک ایسی متعدی بیماری کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے انتہائی ضروری دستاویزات کو سنبھالنے کے تعلق سے مسلسل غفلت برتتے رہتے ہیں۔اس غفلت کی ایک بھاری قیمت نسل در  نسل ا دا کرتی رہی ہے۔مثلاً  ” ہمارے یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت تعلیمی و معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے البتہ ان کے پاس اس ضمن سے ان کے آبا و اجداد کی جانب سے ایک کاغذ کا پرزہ بھی دستیاب نہیں ہے۔اس لیے وہ اور ان کے بچے تعلیم و روزگار کی ہر مراعات سے محروم ہیں۔
اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ذہن سازی اور سرکاری فتنے این آر سی سے متعلق بیدار و ذمہ دار بننے کے لئے حال ہی میں جناب عطاءالرحمن نوری نے ایک بڑی ہی کارآمد کتاب بعنوان این آر سی: اندیشے ، مسائل اور حل“ مرتب کی ہے جس میں این آر سی کے پس منظر و پیش منظر پر بڑے ہی عام فہم انداز میں مفصل روشنی ڈالی ہے۔اس کتاب میں قوم سے ہونے والی غفلتوں کا جائزہ لیا ہے اور کچھ بڑی ہی فکر انگیز باتیں بھی کہی ہیں جیسے :” جس میز پر بارہ کھڑی رٹنے والا شخص بیٹھا ہے اس کے بغل میں یا اس سے اونچی پوسٹ پر اُردو کے انتالیس حروف تہجی پڑھ کر آفیسر بننے والا نوجوان بھی بیٹھا ہونا چاہئے۔“ یا” دھیرے دھیرے کچھوے کی چال چلتے رہیں یا” کسی کو برا بولنے میں اپنی انرجی ضائع مت کیجیےوغیرہ۔اس کتاب کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں کو دانستہ طور پر ملک کی شہریت ہی سے محروم کرنے کی ہر کوشش سے عوام کو بیدار و باخبر رکھا جاسکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!