ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesISLAMIC KNOWLEDGE

Begair Dawat ke khana khane ka hukm

شادی و ضیافت کی تقریبات میں بغیر دعوت کھانا کھانے کا چلن: لمحہ فکریہ

شادی و ضیافت کی تقریبات میں بغیر دعوت کھانا کھانے کا چلن:لمحہ فکریہ

از:عطاءالرحمن نوری ،مالیگاﺅں(ریسرچ اسکالر)

    
جہیز کی غیر اسلامی وغیر انسانی رسم کے سبب ملت کی ہزاروں بیٹیاں جوانی کی عمریں پار کررہی ہیں، ہزاروں غریب اور متوسط خاندان جہیز نہ دے پانے کے سبب زندگی کے سکون سے محروم ہیں، جس گھر میں ایک سے زائد شادی کے لائق جوان بیٹیاں موجود ہیں، وہاں کے سرپرستوں کی رات کی نیندیں اڑ چکی ہیں، بہت سی غربت کی ماری بچیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں اور اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیں، بعض لڑکیاں شادی میں تاخیر یا شادی سے مایوس ہوکر خود کشی کر رہی ہیں، جہیز کی لعنت نے ہزاروں خاندانوں کو اُجاڑ کے رکھ دیا ہے، جہیز کم لانے کی پاداش میں سیکڑوں نئی نویلی دلہنوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے، جہیز کے لالچی والدین نے شادی جیسے مقدس عمل کو تجارت بنالیا ہے، لڑکوں کی جہاںجتنی زیادہ بولی لگتی ہے وہاں ترجیح دی جاتی ہے، دین واخلاق کو بنیاد بنانے کے بجائے مال ودولت کو رشتوں کے لیے معیار ٹھہرایا جارہا ہے، دین داری اور شرافت کو بالائے طاق رکھا جارہا ہے، رشتوں میں تاخیر کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں فحاشی، بے حیائی اور جنسی بے راہ روی میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے،زنا وبدکاری کے نت نئے راستے کھل رہے ہیں، سسرال سے ملنے کی امید میں نوجوان سستی اور کاہلی کے عادی ہورہے ہیں، محنت اور کسب ِحلال سے جی چرارہے ہیں، جہیز کا مطالبہ در اصل گداگری ہی کی ایک شکل ہے، اسلام میں بلا ضرورت ِشدیدہ کے کسی کے سامنے دست ِسوال دراز کرنا ممنوع ہے،جہیز کی لعنت نے معاشرہ میں مانگنے اور سوال کرنے کی منحوس رسم کو رواج دیاہے،یہ اور اس طرح کی بے شمار خرابیاں ہیں جو جہیز کی کوکھ سے جنم لے رہی ہیں، اور پورے معاشرہ کو آلودہ کررہی ہیں۔

شادی بیاہ کی خرافات سے ایک خرافت فضول خرچی اور اسراف بھی ہے، نمائش اور دکھاوے کے لیے لوگ نکاح کی دعوتوں میں لاکھوں روپے لٹاتے ہیں، ہزاروں روپے خرچ کر کے عالیشان شادی خانے حاصل کیے جارہے ہیں اور کھانے میں دسیوں آئٹموں کا اہتمام کیا جارہا ہے، پرشکوہ تقاریب کو سماج میں عزت اور اَنا کا مسئلہ بنالیا گیا ہے،جب کہ اسلام میں شادی کو سادی بنانے کا حکم ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو سب سے بابرکت قرار دیا ہے جس میں کم سے کم مالی خرچ ہو۔

اسی ہفتے ایک قریبی دوست نے شادی کی ایک اور خرافت سے آگاہ کیا یعنی شادی بیاہ کی تقریبات اور مختلف محافل کی دعوتوں میں بغیر دعوت (بِن دعوت) کے یونہی داخل ہو کر کھانا کھالینا ۔مختلف دوستوں کے ساتھ جب اس معاملے میں تبادلہ خیال ہوا تو کچھ دوستوں کا یہ گمان تھا کہ شاید کچی آبادی میں رہنے والے غیر تعلیم یافتہ افراد اس طرح کی حرکت کرتے ہوں گے مگر تحقیق وتفتیش کے بعد انکشاف ہوا کہ ایسے علاقے میںبھی یہ مرض موجود ہے جہاں دینی و عصری علوم کے فیض یافتگان کثیرتعداد میں موجود ہیں۔معلوم یہ ہواکہ اب یہ مسئلہ تعلیم کا نہیں بلکہ اخلاق کا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم یافتہ شخص ہو یا غیر تعلیم تافتہ ،آج ہر کوئی اخلاقی گرواٹ کا شکار ہے۔اس سنگین معاملے میں ہر شخص کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی،اب بیانات اور مضامین سے کچھ نہیں ہونے والا۔(الا ماشآ اللہ) البتہ تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو برائی کی جانب مبذول کرایا جا سکتا ہے مگر جب تک سماج کا ہر شخص برائی کو ختم کرنے کے لیے عملی کوشش نہیں کرے گا ،سوسائٹی میںسُدھار آنا ممکن نہیںہے ۔بغیر دعوت کھا نا کھانے کے ضمن میں شریعت اسلامیہ کا قانون ہے کہ جس کے گھر کھانا ہورہا ہے اگر وہ کوئی ایسا قریبی شخص ہے یا بے تکلف دوست ہے جو بغیر دعوت کے کھانے سے بھی خوش ہوگا تو بغیر دعوت کے بھی اس کے گھر کھا سکتے ہیںلیکن اگر کھانے کی ممانعت ہے یا بغیر دعوت کے کھانے کو ناپسند کرے گا جیسا کہ عام طور پر ولیمے وغیرہ کی دعوت میں ہوتا ہے تو کھانا جائز نہیں ہے، حدیث مبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ چور بن کر جاتا ہے اور ڈاکو بن کر آتا ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں عام طور پر ضیافت کرنے والوںکی منشا یہی ہوتی ہے کہ جنھیں دعوت دی جائیں صرف وہیں کھانے کے لیے حاضر ہو مگر افسوس ایک آدمی یا دو نفر کی دعوت آنے پر بھی پوری فیملی کھانے کے لیے پہنچ جاتی ہے۔ جیسے کہ کھانے کا سیل لگا ہوا ہے ایک پر دو فری۔اس ضمن میں شریعت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ” اگر کوئی کسی آدمی کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے حالانکہ اس کی دعوت نہیں ہے لیکن کھلانے والے کی طرف سے صراحتاً یا اشارةً اس کی اجازت ہے تو لے جاسکتا ہے یا ایسی بے تکلفی ہو کہ اسے چنداں مضائقہ نہیں ہوگا بلکہ خوشی ہوگی تو بھی لے جا سکتا ہے؛ گرچہ پہلے سے اجازت لے لینا ہی بہتر اور اولیٰ ہے، لیکن اگر ایسی بات نہ ہو بلکہ اسے تنگی محسوس ہو یا کسی دوسرے کے آنے کو وہ برا سمجھے جیسا کہ عموماً دعوتوں میں ہوتا ہے تو کسی اور کو اپنے ساتھ لے جانا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح دعوت کے معاملے میں ایک برائی یہ بھی ہے کہ دولہا یا دولہن کی جانب سے کچھ باراتیوں کو کھانا کھانے کے لیے متعین کیاجاتا ہے ،عام طور پر یہ باتیں شادی کی تاریخ طے کرتے وقت ہی طے ہو جاتی ہے مگر بزرگوں کا مشاہدہ اس بات کا گواہ ہے کہ طے شدہ باراتیوں سے زیادہ ہی افراد کھانا کھانے کے لیے شادی ہال میں پہنچتے ہیں۔ ایسے میں یہاں وعدہ خلافی کرنا جیسا گناہ بھی پایا جاتا ہے مگر جھوٹی شان وشوکت و ریا کاری کے سبب ایسا امر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دعوت دینے والی کی عزت ووقار تار تار ہو جاتا ہے ۔ظاہر سی بات ہے جب کسی شادی میں کھانا ختم ہو جاتا ہے اس کی وجہ کھانا کم بنانے کے ساتھ بن دعوت لوگوں کا گھُس کر کھا لینا بھی ہوتا ہے اور کھانا گھٹ جانے کی صورت میں ضیافت کا اہتمام کرنے والی کی بدنامی بھی ہوتی ہے جب کہ اصل گناہکار کوئی دوسرے ہی ہوتے ہیں ۔راقم نے ایسے مریضوں کو بھی دیکھا ہے جن کی طبیعت صرف اس خوف کے سبب ناساز ہوجاتی ہے کہ کہیں کھانا نہ ختم ہوجائے اور بدنامی ہو۔قارئین کرام سے گذارش ہے کہ اس سماجی برائی پر توجہ دیں اور اس کے خاتمے کی کوشش کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!