ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesSAFAR-NAMA

Hyderabad visiting places

تاریخی وثقافتی شہر حیدرآباد کا تین روزہ تعلیمی، تاریخی اور تفریحی یادگار سفر

تاریخی وثقافتی شہر حیدرآباد کا تین روزہ تعلیمی، تاریخی اور تفریحی یادگار سفر

از:عطاءالرحمن نوری،مالیگاﺅں(ریسرچ اسکالر)

    نومبر2018ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب تعلیمی دوستوں کا ایک قافلہ بذریعہ ٹرین منماڑ ریلوے اسٹیشن سے تاریخی شہر حیدرآباد کے لیے روانہ ہوا۔صبح کی پَو پھٹنے بعد ہم نے اس آزاد زمین پر قدم رکھاجہاں کی خاک نے اپنے اوپر کبھی بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط قائم نہیں ہونے دیا، یعنی ملک ہندوستان تو غلام بنا مگر ریاست حیدرآباد ہمیشہ آزاد رہی۔ اس سر زمین پر سات پشتوں تک قطب شاہی فرماں رواﺅں اور پھر نظام شاہی حکمرانوں  نے صدیوں پُرامن نظام حکومت چلایا۔
ان فرمانرواﺅں کا ماننا تھا کہ ہندو مسلم انسان کی دو آنکھوں کی طرح ہیں،جس طرح ایک آنکھ سے کامل طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اسی طرح کسی بھی مذہب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔آج کے حکمراں سماجی ،رفاہی اور فلاحی کام کرنے کی بجائے شہروں اور تاریخی چیزوں کے نام تبدیل کرنے پر بضد ہیں جب کہ شہر حیدرآباد ایک ہندو معشوقہ بھاگ متی اور مسلم شہزادہ کی محبت کی لازوال نشانی آج بھی امن وشانتی، قومی یک جہتی اور بھائی چارگی کا درس دے رہا ہے ۔
لاج میں فریش ہونے اور ناشتہ کرنے کے بعد ہمارا قافلہ گولکنڈہ قلعہ پہنچا۔فن تعمیر کا ایسا عالیشان نمونہ دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوگئیں،مسرت اس بات پر زیادہ ہوئی کہ پانچ صدیوں پرانا قلعہ آج بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ ثابت وسالم ہے ،اس قلعہ کو تین قطب شاہی حکمرانوں نے 65سالوں میں مکمل کیا۔یہ علاقہ دنیا بھر میں اس کی کانوں سے ہیرے جواہرات کی کان کنی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں سے ملنے والے ہیروں میں کوہ نور، دریائے نور، ہوپ ڈائمنڈاور آئیڈیل آئی دنیا کے مشہور ہیرے ہیں۔ کوہِ نور ہیرے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جس کسی کے پاس گیااس نے اپنی حکومت گنوا دی۔جیسے قطب شاہی حکومت اور ملکہ الزابیتھ۔اسی لیے نظام شاہی فرمانرواں کوہِ نور کو افلاس کی نشانی گردانتے ہوئے پیروں کی جوتی کی نوک پر سجاتے تھے۔

    کہاوت مشہور ہے :دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں،مگر اس کا عملی نمونہ گول کنڈہ فورٹ میں دیکھنے کو ملا۔قلعہ کی اندرونی فصیلوں کو اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ ایک دیوار سے سرگوشی کرنے پر دوسری دیوار سے سناجا سکتا ہے،اس طرح قلعہ میں چلنے والی تمام باتوں کو راج محل میں بیٹھ کر آسانی سے سنا جا سکتا ہے۔جب ہمارے گروپ نے اس کا مشاہدہ اور تجربہ کیا تو محسوس ہوا کہ آج کا سی سی ٹی وی کا سسٹم بھی اس ٹیکنالوجی کے آگے بے بس ہے ۔قلعہ کے داخلی دروازے پر محرابوں کو اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ مہمانوں کے آنے پر دروازے ہی پر تالیاں بجائیں جاتی، جس کی آواز ”ایکو ساﺅنڈ“ کی طرح راج محل میں سنی جاتی تھی ۔ اس طرح سیکڑوں فٹ کی مسافت پر موجود مہمان یا دشمن کی خبر پیشگی بادشاہ کو مل جاتی تھی۔قلعہ کی اندرونی دیواروں میں گول سوراخ والے پتھروں کو اس طرح نصب کیا گیا ہے کہ ان میں کپڑا باندھنے پر عالیشان خیمے تیار ہوجاتے ہیںاور مہمانوں کی رخصت پرپردہ نکال دینے پر دیدہ زیب گارڈن بن جاتا ہے ۔
قلعہ میں کچہری کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اوپر بادشاہ اور ملکہ براجمان ہوتے ہیںاور نیچے مجرم کوایسی جگہ کھڑا کیا جاتا جہاں سے نہ بادشاہ مجرم کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی مجرم بادشاہ کو۔فیصلہ سنانے کے بعد مجرم کو دو قدم آگے بڑھایا جاتا ،اس دو قدم کا فاصلہ طے کرتے ہی بادشاہ اور مجرم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں مگر مجرم ملکہ کو نہیں دیکھ سکتا جب کہ ملکہ مجرم کو دیکھ سکتی ہے۔پانچ سو سال قبل عدلیہ کا اس قدر صاف وشفاف نظام کہ فیصلے پر نہ رشتے داری کا پردہ حائل ہوتا تھا اور نہ ہی اثر ورسوخ کاغلبہ ،صرف ایک دوسرے کو نہ دیکھ پانے کی وجہ سے۔اس کورٹ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ بادشاہ اتنی اونچائی پر ہونے کے باوجود بھی مجرم کی تمام باتوں کو سن پاتا تھا،بلکہ کورٹ روم میں موجود کپڑوں کی سرسراہٹ کو آج بھی بلند آواز میں سنا جا سکتا ہے۔فن تعمیر کا ایسا شاہکار جسے دیکھ کر عقل حیران اور آنکھیں دنگ ہیں ۔
    پورے قلعے میں مٹی کے پائپ لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا تھا۔نیچے سے لکڑی کے چکر کی مدد سے کئی ہزار فٹ اوپر بنے پانی کے ٹینک میں پانی پہنچایا جاتا اور پھر اونچائی سے پورے قلعے میں مٹی کی پائپ لائنوں کے ذریعے پانی سپلائی کیا جاتا ،آج بھی مٹی کی پائپ لائنوں کو دیکھ کر اس دور کے فن تعمیر کو سلام کیا جاسکتا ہے۔ قلعہ میںبیت الخلاءکا انتظام بھی بہت ہی اعلیٰ اور نفیس طریقے سے کیا گیا تھا۔حکمرانوں،وزیروں اور مجلس شوریٰ کے کمروں میں ایک چھوٹا کمرہ بنا کر سَو فٹ یا اس سے کم وبیش گھڑا کھود کر دونوں جانب پیر رکھنے کے لیے نقاشی کی ہوئی سیل رکھی گئی ہے ۔ گھڑا بھر جانے کی صورت میں اسے مٹی سے بند کر کے نئی بیت الخلاءتعمیر کی جاتی ۔آج بھی ہمارے اپنے اور آس پاس کے شہروںا وردیہاتوںمیں اس قسم کی بیت الخلاءکا رواج عام ہے ۔
    چار مینار ،چاﺅ محلہ پیلس، مکہ مسجد، چار کمان، گلزار حوض، بادشاہی عاشور خانہ، برلا ٹیمپل، حسینی ساگر ، سالار جنگ میوزیم ،قدیم مساجد ، ہائی کورٹ، قطب شاہی مقبرے ، جامعہ عثمانیہ، عثمانیہ دواخانہ اور نہرو زولوجیکل پارک وغیرہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین دنوں کے اس تعلیمی،تاریخی اور تفریحی یادگار سفر کاسفر نامہ قلم بند کرنے کے لیے بڑا خاکہ ذہن میں موجود ہے مگر اخبار میں سطروں کی قلت دامن گیر ہے اس لیے نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل پر مکمل لیکچر ویڈیو کی صورت میں اپلوڈ کروں گا۔
    چومحلہ محل ریاست حیدرآباد کے نظام کا شاہی محل ہے۔ یہ محل نظام صلابت جنگ کے ہاتھوں تعمیر کیا گیا۔ یہ محل حیدرآباد کے پرانے شہر میں چار مینار کے قریب واقع ہے۔ یونیسکو کے ”ایشیا پیسفک اعزاز برائے تحفظ ثقافتی ورثہ“ 15 مارچ 2010ءکو چومحلہ محل کو پیش کیا گیا۔اس طرح اس محل کو اور بھی کئی اعزازات حاصل ہیںجو محل کے میوزیم کا حصہ ہے ۔ صلابت جنگ نے 1750ءکو محل کی تعمیر کے لیے داغ بیل ڈالی۔ نیز 1857ء اور 1869ء کے درمیان افضل الدولہ آصف جاہ پنجم کے دور میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ دسمبر2018ء میں آسٹریلیا سے آٹھویں پرنس کی آمد متوقع ہے اس لیے محل میں صاف صفائی، تزئین کاری اور مرمت کا کام تیزی سے جاری تھا۔اس پیلس میں چار چھوٹے چھوٹے محل ہیں۔ 
جس میں نمائش کے لیے نظام شاہی حکومت کا اسلحہ، تاریخی تصاویر، قرآن گیلری، برتن ، کپڑے اور کروڑوں کی گاڑیاں رکھی گئی ہیں۔ ماضی قریب میں اس کی عظمت کو بڑھانے کے لیے بیلجیئم کے 19فانوس لگائے گئے ہیں۔یہ محل اپنے انوکھے انداز کے طرز تعمیر کیلئے مشہور ہے۔اس میں تمام سرکاری تقاریب بشمول نظام کی تخت نشینی کی تقاریب بھی ہوا کرتی تھیں۔ روزانہ ہزاروں افراد چومحلہ پیلس دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔پیلس میں نظام دکن کی جانب سے شاہی مہمانوں اورسرکاری مہمانوں کو ٹھہرایابھی جاتا تھا۔یہ اپنے دربار ہال کے لیے بھی مشہور ہے۔اس میں مغلیہ طرز کی گنبدیں ،کمانیں اور ایرانی طرز کی استر کاری ،پیچیدہ نقاشی کا کام بھی کیا گیا ہے۔اس میں باغات بھی لگائے گئے ہیں جو پُرکشش ہیں۔اصلاح و مرمت اور تزئین نو کے ذریعے اس کی عظمت برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!