ArticlesBOOKS/ BOOK REVIEWNEWS/REPORTS/PROGRAMMES

Introduction of Nooh Siddiqui IRS

جناب محمد نوح صدیقی کا تعارف و تبصرہ

آزادی کے بعد شہر اورنگ آباد کے پہلے آئی آر ایس آفیسر

جناب محمد نوح صدیقی کی کتاب پر راقم کے نوک قلم سے صاحبِ کتاب کا تعارف و تبصرہ

از:عطاءالرحمن نوری ،مالیگاﺅں

(ریسرچ اسکالر،ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر یونی ورسٹی شعبہ اُردو،اورنگ آباد)

    دنیامیں مختلف قسم کے انسان بستے ہیں۔ان میں بعض دوسروں کے لیے مینارہ نور ثابت ہوتے ہیں۔ جن کی وجہ سے دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا ہوتا ہے اور لوگ اچھائیوں کی طرف راغب ہوکردوسروں کی اصلاح وتذکیرمیں اپنے آپ کو سرگرم عمل رکھتے ہیں۔ مذکورہ اچھائیوں سے مراد زندگی کے ہر شعبے میں پائی جانے والی خوبیاں اور کامیابیاں ہیں جن سے ہر خاص وعام استفادہ کرتا ہے ۔ایسی شخصیات کی فہرست یوں توبڑی طویل ہے مگر آج اس مرد مجاہد کا تعارف وخاکہ پیش کرنا مقصود ہے جن سے میری پہلی ملاقات 7 مئی بروز پیر2018ء کو گہوارہ علم وفن مالیگاﺅں میں منعقدہ پروگرام بنام”جشن کاوِش“ میں ہوئی ۔ موصوف اس پروگرام کے نوشہ تھے اور راقم الحروف موصوف کا خطاب استفادہ عام کی خاطر نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل پراپلوڈ کرنے کے لیے حاضر تھا۔ جشن کاوِش میں موصوف کا استقبال شہری سطح پر مالیگاﺅں کے ایم ایل اے جناب شیخ آصف شیخ رشید صاحب کے ذریعے اور مالیگاﺅں کی متعدد تعلیمی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران ،صدر اور اراکین کے ہاتھوں پروگرام میں ہوناطے پایا تھا، پیر کو موصوف والد صاحب جناب محمد شعیب صدیقی سر کے ساتھ مالیگاﺅں تشریف لائیں، ریسٹ ہاﺅس میں قیام کیا، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور پھر پیدل مارچ کرتے ہوئے بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ حج ٹریننگ سینٹر میں منعقدہ اجلاس میں بغرض خطاب تشریف لائیں۔ سیکڑوں طلبہ وطالبات نے آپ کے خطاب سے استفادہ کیا،سوالات کے جوابات حاصل کیے،سرپرستوں کو نئی سوچ ملی، بچوں کو حوصلہ ملااور شہر کے رہنماﺅں کو ایک نئی ڈگر ملی جس کے مسافر اہلیان شہر کو بنانے کے لیے منصوبے بننے شروع ہو گئے ہیں۔ میری مراد اس بزم رونق کے دولہا محترم المقام محمد نوح صدیقی سر سے ہے جن کا استقبال اس لیے کیا جا رہا تھا کہ موصوف نے یونین پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا ملک کا مشکل ترین امتحان ”سول سروسیس ایکزام“میں آل انڈیا 326 واں رینک حاصل کرتے ہوئے اورنگ آباد شہر کے پہلے ”آئی آر ایس آفیسر“ ہونے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا اور ہزاروں طلبہ وطالبات کے دل ودماغ میں اس امتحان کے متعلق چنگاری جلا دی۔


ملک عنبر کے فن تعمیر کے شاہکار شہر اورنگ آباد میں 28 اپریل 1990ء کو ایک علمی وادبی گھرانے میں محمد نوح صدیقی کی ولادت ہوئی۔ آپ کے والد دین دار، نانا جان شاعر اور دادا جان اُردو کے محب تھے ،والدہ مشفقہ کی شفقت اور خاندانی احباب کے اُلفت کے سائے میں آپ نے لڑکپن کی طرف قدم بڑھایا جس کے سبب طبیعت میں شوخی و ضد نے جگہ پائی۔ برہانی نیشنل اُردو اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ،بعدہ مولانا آزاد کالج سے تعلیمی سلسلہ دراز کیا ،2011ء میں مراٹھواڑہ ایگری کلچر یونی ورسٹی سے فوڈ ٹیکنالوجی میں ”بی ٹیک “کیا، اس کے بعد بیرون ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا مگر عالمی حالات کشیدہ ہونے کے سبب یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ۔ دراصل قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ والد صاحب کے مشورے پر آپ نے سول سروسیس امتحان کے لیے دہلی کا رُ خ کیا،مسلسل پانچ سالوں کی انتھک محنت اور جدوجہد کے سبب اللہ پاک نے امسال نمایاں کامیابی عطا فرمائی۔ اُردو گھرانے میں تربیت اور دروازوں کا شہر کہلانے والے شہر میں تعلیم حاصل کرنے کے سبب آپ نے ”یوپی ایس سی“ میں اختیاری مضمون اُردو کا انتخاب کیا ۔ دو مرتبہ آپ نے اس مضمون میں ملکی سطح پر ٹاپ پوزیشن یعنی سب سے زیادہ نمبرات حاصل کیے۔سال 2014ء میں 273، 2016ء میں 292 اور 2017ء میں 261 مارکس حاصل کیے۔2017ء میں آپ کی کامیابی پانچویں کوشش کا ثمرہ ہے، آپ نے تین مرتبہ مینس امتحان تحریر کیا اور یہ پہلا انٹرویو تھا، اتنی پُر خار ڈگر سے گذر کر،فیملی سے دوررہ کر اور انجان شہر میں رہائش اختیار کرکے آپ نے اس مشکل منزل کو حاصل کیا ہے۔

.
مالیگاﺅں میں منعقدہ پروگرام کے بعد راقم نے فیس بک کے ذریعے موصوف سے انٹرویو کے لیے رابطہ کیا ،آپ نے اپنے مصروف شیڈول سے وقت نکال کر 18 جون بروز پیر کا وقت عنایت فرمایا، میرے ہمراہ میرے تعلیمی ہمسفر اورمشفق دوست آصف شیخ تھے، موصوف نے خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم دونوں کو ریسیو کیا ، کاوش فاﺅنڈیشن کی آفس پرمختلف علمی و سماجی موضوعات پر تبادلہ  خیال ہوا، اس کے بعد پون گھنٹے کا نوری اکیڈمی یوٹیوب چینل کے لیے انٹرویو ریکارڈنگ کا کام ہوا،اس کے بعد موصوف ہم دونوں کو اپنے گھر لے گئے جہاں والدہ کے ہاتھوں سے تازہ تازہ اور گرم گرم روٹی سالن ،اورنگ آبادی بریانی اور مٹھائی سے ضیافت کی ،چوں کہ عید کی چواسی تھی اس لیے موقع کی مناسبت سے شیرخورمہ بھی پیش کیا،اس واقعے کو قلمبند کرنے کا مقصد خود کی ضیافت کی داستان سنانا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس بلندی پر پہنچنے کے باوجود انانیت و تکبر سے گریز کرتے ہوئے اس قدر انکساری و عاجزی کا اظہار یہ تعلیم کے ساتھ والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے ۔یہی پر شعیب صدیقی سر نے خوش خبری دیتے ہوئے کہا کہ اس سال سے ہمدرد اسٹڈی سرکل کا پریلم امتحان اورنگ آباد میں بھی منعقد ہوگا جس کی انتظامی ذمہ داری کاوش فاﺅنڈیشن کو دی گئی ہے ۔ہمدرد اسٹڈی سرکل ایک ایسا ادارہ ہے جو یو پی ایس سی کرنے والے خواہش مند اسٹوڈنٹس کے اخراجات برداشت کرتے ہوئے تعلیمی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے ۔اس ادارہ کا سینٹر اورنگ آباد میں بن جانا یقینا سراہے جانے کے لائق ہے اوراس نیک کام کا سہرا جناب شعیب صدیقی سر کے سر جاتا ہے ۔


نکلتے ہوئے محترم شعیب صدیقی نے اپنے چھوٹے بیٹے کے شادی میں شرکت کا دعوت نامہ پیش کیا اور شرکت کی گذارش کی،27 جون کو آصف بھائی اور میرا رسم نکاح میں شرکت ارادہ تھا مگر راقم کا ناسک میں8 جولائی 2018ء کو سی بی ایس سی نیٹ کا امتحان تھا، گذشتہ دو مرتبہ سے ایک دو مارکس سے کوالیفائی ہونے سے محروم ہو رہا تھا، اس سال عزم مصمم کے ساتھ تیاری جاری تھی، اسی درمیان محمد نوح صدیقی سر کا فون آیا کہ نوری صاحب میرا ایک لیکچر ”یوپی ایس سی میں اُردو مضمون کی تیاری کیسے کریں ؟“ کے عنوان سے پونا شہر میں ہوا تھا ،آپ کی فرمائش پر اس لیکچر کی ریکارڈنگ فائل میل کر رہا ہوں ، اسے دیکھ لیں اور اپنے چینل پر اَپلوڈ کریں۔“ میں نے شکریہ کے کلمات کہتے ہوئے کہا کہ سر محفل مناکحت میں شرکت کا متمنی ہوں مگر امتحان سر پر موجود ہے، سر نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ زحمت نہ کریں، فی الحال امتحان پر فوکس کرو ، سفر کی تھکان سے پرہیز کرواور ذہنی اعتبار سے چست رہو۔ اللہ پاک کے کرم سے امسال راقم نے ”نیٹ“امتحان ”جے آر ایف “کے ساتھ کوالیفائی کیاہے۔ الحمدللہ۔


موصوف نے نوری اکیڈمی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ہم دوسرے اسٹوڈنٹس کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے اور قریہ قریہ جا کر رہبری کا فریضہ انجام دیں گے ،بحمدہ تعالیٰ! موصوف نے اپنے اس وعدے پر عمل کرتے ہوئے کئی شہروں کا رُخ کیا اور اپنے خطابات کے ذریعے لوگوں میں بیداری پیدا کی ،موصوف نے ”ورڈ پریس “ پر اپنی ذاتی ویب سائٹ بنا کر اُردو کتابوں کی رہنمائی فراہم کی ہے اور اب اُردو آپشنل کی کتاب شائع کر کے مزید رہنمائی کر رہے ہیں۔ آپ کا یہ قدم لائق ستائش اور قابل تقلید ہے ۔ اس کتاب کی اشاعت پر نوری اکیڈمی کے جملہ ممبران موصوف کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہے کہ اللہ پاک آپ سے وہ کام لے جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھولی بھالی اُمت کا بھلا ہو۔آمین

       

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!