شہید وطن بدھو ولد فریدن

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

بدھو فریدن کا آبائی وطن اعظم گڑھ ہے جہاں اُنہوں نے 1883 میں آنکھیں کھولیں، انگریزوں کے ظلم و جبر کی وجہ سے اور تلاش فکر معاش میں آپ کے والدین اپنے وطن سے ہجرت کر کے چونا بھٹی پرائمری اسکول کے سامنے والی باریک گلی میں آکر آباد ہوے۔ آپ کے نام بدھو سے پہلے کہیں کہیں قاسم بھی ملتا ہے”قاسم بدھو”۔ بہر حال پیشے کے لحاظ سے قاسم بدھو آڑھتی (بُنکر) تھے۔ تحریک خلافت کے اراکین عبدالرزاق کوکب، مولوی محمد یحیی انور، مولوی محمد ایوب، منشی محمد شعبان تحسین صاحبان وغیرہ جو کہ خود چونا بھٹی ہی میں رہتے تھے، جب یہ حضرات سیاسی حالات اور گاوں کی صورت حال پر تبصرہ کرتے تو محلے کے کچھ نوجوان بھی اُن کے ساتھ شامل ہو جاتے، اُنہیں نوجوانوں میں قاسم بدھو ولد فریدن بھی تھے۔

 

شہید وطن قاسم بدھو نہایت تیز طرار اور تیز دماغ تھے۔ تحریک خلافت کے پرچم تلے شراب بندی، تحریک عدم تعاون میں حصہ لیا، ساتھ ہی اصلاحی کاموں میں بھی آپ سرگرم رہا کرتے تھے، آزادی ملک کی خاطر ہر ممکن قدم اٹھایا۔ انگریزوں کے تئیں اُن کے دل میں نفرت کا جو الاؤ جل رہا تھا اُس کی ٹھنڈک وہ صرف انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے ہی میں سمجھتے تھے۔ شہید وطن قاسم بدھو کی قسمت یاوری کر رہی تھی کیوں کہ وہ صاحب نسبت بھی رہے۔ مالیگاوں کی مشہور روحانی پیشوائی کرنے والی عظیم المرتبت شخصیت حضرت مولانا سید محمد برکت علی نقشبندی علیہ الرحمہ کے آپ مرید تھے۔ مجاہد حُرّیت حضرت مولانا محمد اسحق نقشبندی علیہ الرحمہ کے بافیض وسیع دستر خوان کے خوشہ چینان میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ ذکر و فکر کی محفلوں میں حضرت کے ساتھ شرکت فرماتے۔1921 کے ہنگامے میں آپ نے خوب ہمّت و حوصلہ کے ساتھ انگریز حکومت کی مخالفت کی اور تحریک خلافت کا ساتھ دیا۔اِسی جرم کی پاداش میں شہید وطن منشی محمد شعبان تحسین ولد بھکاری کے ساتھ شہید وطن قاسم بدھو ولد فریدن نقشبندی کی بھی گرفتاری ہوئی۔

 

آپ پر سرکاری افراد کو قتل کرنے اور فساد پھیلانے کا الزام تھا،مقدمہ میں چھ ماہ کی سزا ہوئی جو بعد میں پھانسی کی سزا میں بدل گئی۔پونا کی ایروڈا جیل میں 6 جولائی 1922 کو 36 سال کی عمر میں ملک سے محبت اور انگریزوں سے نفرت کرنے کے جرم میں تختہ دار پر چڑھادیا گیا۔افسوس ہے مالیگاوں کے لوگوں پر کہ اِن جیالے اور نڈر شہدا کی شہادت کا دن آتا ہے آکر چلا جاتا ہے اُس دن کوئی تقریب اِن کی یاد میں منعقد نہیں کی جاتی۔حکومت کی جانب سے 1930/1947/1957میں آپ کا گورو کیا گیا۔

 

error: Content is protected !!