’’قلم‘‘ اللہ کی امانت اورقلم کار’’ قلم‘‘ کا امین ہے

عربی زبان میں ’’ قلم‘‘ کے معنی کاٹنے یا تراشنے کے ہیں۔ یہ بات ایک عمومی تجربے اور مشاہدے میں آئی ہے کہ تراشنے اور کاٹنے سے ہی کوئی چیز انسانی استعمال کے قابل بنتی ہے۔انسانی علم بھی حواس ِ خمسہ سے حاصل شدہ معلومات، مشاہدات، تجربات اور اس کے تجزیے کی تراشیدہ شکل ہی ہے جو آگے چل کر مستقبل کے انسانوں کے لیے قابل ِ فہم ہو کر بہتر انسانی زندگی کی ضمانت بنتا ہے۔ ہم انسان حاصل شدہ معلومات، مشاہدات اور تجربات کو بعد میں دوسرے انسانوں کے پڑھنے کے لائق بنانے کے لیے لسانی، تکنیکی اور ابلاغی مہارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ زبان وبیان، حسابی علم، نقوش یاڈرائنگ وغیرہ ایسی ہی مہارتیں ہیں۔ لہٰذا ’’قلم‘‘ اس کامل اور قابل ِ فہم تجزیاتی صلاحیت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی مادی یا غیر مادی شئے کے منفی یا مثبت پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے اور قلم اس مادی شے کا بھی نام ہے جس سے عموماً لفظوں کو تحریری شکل دی جاتی ہے۔

قلم اور تلوار کی اہمیت سے کوئی بھی ذی عقل انکار نہیں کرسکتا۔ہر دور میں ان دواہم چیزوں نے ہمیشہ قومو ں اور معاشرے میں سُدھار یا بگاڑ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تلوار ہو یا قلم ،دونوں کا صحیح ہاتھوں میں رہنا ملک ،قوم اور معاشرے کے کامیاب اور روشن حال و مستقبل کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ خاص طور پر قلم کا صاف ستھرے ہاتھوںاور سلجھے ذہن والے انسان کے پا س ہو نا بہت ضروری ہے کیوںکہ جس جگہ اورجن حا لا ت وکو ائف میں قلم غلط اور ناپاک لوگوں کے ہاتھ چلاجائے وہا ں دنیا و آخرت کی ذلت ورُسوائی انسانی مقدر بن جاتی ہے۔پھر ایسے معاشرے میں انصاف،سچائی اور بھلائی کا پھلنا پھولنا ناممکن ہوجاتاہے۔ سچ یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی جس میں صاحب ِقلم ہوَس کے غلام، حرص کے تابعِ فرمان اور لالچ کے پجاری ہوں۔

قلم کی بابت خالق وارض وسما کا ارشاد ہے:ترجمہ:’’قلم اور ان کے لکھے کی قسم۔‘‘ (سورۃالقلم، پ۲۹، آیت۱، کنزالایمان) مفسرین فرماتے ہیں’’اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم ذکر فرمائی، اس قلم سے مراد یا تو لکھنے والوں کے قلم ہیںجن سے دینی دنیوی مصالح و فوائد وابستہ ہیں اوریا قلمِ اعلیٰ مراد ہے جو’’نوری قلم‘‘ہے اور اس کا طول فاصلۂ زمین و آسمان کے برابر ہے اس نے بحکم الٰہی لوحِ محفوظ پرقیامت تک ہونے والے تمام امورلکھ دیئے۔‘‘(تفسیر خزائن العرفان)بہر حال دونوں معنی میںاہمیت ِقلم اور عظمتِ تحریر مسلم ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے ،ترجمہ:’’جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔‘‘ (العلق،پ۳۰،آیت ۴) اس سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی اور درحقیقت کتابت میں بڑے منافع ہیں ،کتابت ہی سے علوم ضبط میں آتے ہیں گذرے ہوئے لوگوں کی خبر یں اور ان کے احوال اور ان کے کلام محفوظ رہتے ہیں۔ کتابت نہ ہوتی تو دین و دنیا کے کام قائم نہ رہ سکتے۔قلم کے بابت حدیث پاک میں ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔( جامع ترمذی ، حدیث؍ 2233)

قلم کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد(متوفی ۱۴۲۹ھ؍ ۲۰۰۸ء) فرماتے ہیں:’’قلم اللہ کی امانت ہے،قلمکار قلم کا امین ہے۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ امانت کا احساس قلم کو سنبھالے رکھتا ہے،جس نے امانت میں خیانت کی وہ قلم کار نہیں، خطا کار ہے۔‘‘(جواہر مسعودیہ،ادارئہ مسعودیہ کراچی۲۰۰۶،ص:۳۵) نباض قوم و ملت حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے قول سے بھی عظمتِ قلم اُجاگر ہوتی ہے،آپ نے فرمایا:’’تقریر سب سے آسان،اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف۔‘‘(حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اقوالِ زرّین،مرتب:مولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری،ص؍۳)قلم کا اندازہ اس تاریخی روایت سے لگایا جا سکتا ہے جو حضرت مریم علی ابنھاوعلیہاالسلام کی کفالت کے متعلق ہے۔حضرت مریم علی ابنھاوعلیہاالسلام کی پرورش کے لیے حضرت زکریا علیہ السلام کے ساتھ کئی لوگ دعویدار تھے ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ آپ کی کفالت کا حق مجھے ملے،تب اللہ پاک نے کفالت کے فیصلے کے لیے قلم ہی کو فیصل بنایا۔
(تذ کرۃالانبیاء،ص۳۸۸،از:علامہ عبدالرزاق بھترالوی،رضوی کتاب گھر ،دہلی)

قلم کا مفہوم بڑا وسیع ہے ،اللہ رب العزت کے فرمان سے قلم کی افادیت واضح ہوتی ہے غرضیکہ ہر دور میںتحریر وقلم کی اہمیت مسلم رہی۔خودپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے قیدیوں کی رہائی کا فدیہ ،یہ مقرر فرمایا تھا کہ وہ لوگ انصار کے دس دس لڑکوں کو لکھنا پڑھناسکھا دے۔(سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم،ص؍۱۸۳)یہ کتنا حیرت انگیز انقلاب ہے کہ اعلانِ نبوت سے قبل وادیِ حجاز میں صرف ۵؍تا۷؍افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے مگر معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریروقلم کا وہ عظیم انقلاب بپا کیاکہ وصالِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہلے ہزاروں قلم کاروں کی جماعت تیار تھی۔ان مقدس قلم کاروں نے امانت خداوندی کی مکمل پاس داری کی،حق وصداقت کو قلم کا وطیرہ بنایااور قلم کے امین بن کروہ گوہر ہائے علمیہ لٹائے کہ جن کی خوشبو سے اب تک جہانِ علم وتحقیق معطر ہے۔

بحمدہ تعالیٰ!راقم نے قلم کی اہمیت وافادیت کو محسوس کرتے ہوئے بارہویں جماعت کامیاب ہونے کے بعدوالدین کی دعائوں کے سہارے میدان قلم میں قدم رکھا۔سال 2011ء میں ’’جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن ‘‘کے ایک سالہ کورس میںداخلہ لیا،اللہ پاک نے کرم فرمایا اور مکمل بیچ سے راقم ایسا واحد اسٹوڈنٹ ہے جو کامیاب ہوااوراس طرح کہ صوبۂ مہاراشٹر میں اوّل اور ملک ہندوستان میں چوتھا مقام حاصل کیا۔تب سے تا ہنوز قلمی سلسلہ مسلسل دراز ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی عنایت سے اب تک ملک وبیرون ملک کے رسائل وجرائد اور اخبارات میں ایک ہزار کے قریب مضامین اور دس مطبوعات شائع ہوچکی ہیںاور ایک درجن چھوٹی بڑی کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں۔اس درمیان بہت سی دشواریوں اور مشکلات کا سامنا رہا،قلمی کارکردگیوں کے ساتھ تعلیم بھی حاصل کررہاہوں اور ساتھ ہی اعلیٰ پایے اور کہنہ مشق قلم کاروں سے سیکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 14؍جولائی 2017ء کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر یونی ورسٹی اورنگ آباد میں پیٹ امتحان (پی ایچ ڈی اہلیتی امتحان) کی تیاری کی غرض سے عنقریب منظر عام پر آنے والی چار سوصفحات پر مشتمل ضخیم کتاب میں کچھ نوٹس کا اضافہ کیا،مولیٰ تعالیٰ نے کرم فرمایا اورراقم نے پیٹ امتحان میں یونی ورسٹی میں تیسرا مقام حاصل کیا۔چوں کہ اب0 1؍نومبر تا 14؍نومبر 2017ء تک شہر مالیگائوں میں کتاب میلے کاانعقاد ہورہاہے اس لیے نئے قلم کاروں کی سہولت ،مقالہ نگاری کے مراحل سے آگاہی اور مجھ کو درپیش مسائل سے نئے قلم کاروں کاسامنا نہ ہو ،اس غرض سے رحمانی پبلیکیشنز مالیگاؤں کے تعاون سے ’’مقالہ نگاری کے مراحل‘‘ نامی کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اُمید ہے کہ ارباب علم گذشتہ مطبوعات کی طرح اسے بھی پسند فرمائیں گے اور خامیوں کی نشاندہی بھی تاکہ مستقبل میں ان لغزشوں سے مکمل اجتناب کیا جا سکے۔

مؤلف:
عطا ء الرحمن نوری
21؍محرم الحرام 1439 ھ/12 ؍ اکتوبر2017ء بروز جمعرات

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!