مجاہد آزادی حکیم عبدالمجید احسان (صدر: تحریک خلافت، مالیگاؤں)

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

جنگ آزادی مالیگاوں میں ایک اور شخصیت جس کا تذکرہ نمایاں طور پر تاریخ کے صفحات پر ملتا ہے وہ حکیم عبدالمجید احسان کا ہے۔ حکیم عبدالمجید احسان کی پیدائش 1865 نیا پورہ مالیگاوں میں ہی ہوئی، آبائی وطن اُتر پردیش تھا۔ آپ کا نام عبدالمجید، فن شاعری سے شغف رکھتے تھے اِس لیے تخلُص احسان استعمال فرماتے، نیز فن طبابت میں مہارت کی بنا پر آپ حکیم سے مشہور ہوے۔ اِس لیے آپ کا نام کتابوں میں حکیم عبدالمجید احسان ملتا ہے۔ اردو، فارسی، عربی زبان کے آپ ماہر تھے۔نہایت خلیق، ملنسار اور سادہ طبعیت کے حامل تھے۔ سیاسی بصیرت، فہم و ادراک کے باعث ملکی اور شہری سطح پر رونما ہونے والی انگریزوں کی شرپسندی اور ریشہ دوانیوں سے بخوبی واقف تھے۔

 

آپ نے تحریک خلافت کے صدر کی حیثیت سے جنگ آزادی مالیگاوں میں کافی حصہ لیا۔ 1921 ہنگامے کے بعد مجاہدین کے ساتھ آپ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ مولانا عبدالمجید کی روایت کے مطابق آپ کو عبور دریاے شور کی سزا ہوئی۔ بعد سزا رہائی پر شہر میں جشن بھی ہوا۔ سزا سے واپس آنے پر آپ نے شہر کی اصلاح کے لیے کام کیے بلکہ میونسپلٹی میں ممبر کی حیثیت سے رہے۔ آپ کا انتقال 1935 میں 70 سال عمر میں ہوا۔ ان مجاہدین آزادی کے علاوہ اور بھی نام تاریخ کے صفحات پر ملتے ہیں۔ جن میں مولانا جان محمد، مولانا عبدالعزیز عزیز، مولانا ایوب (چرخہ مولوی)، عبدالغفور، منشی بیدل، قدرت اللہ، عبدالرزاق کوکب، محمد شعبان، سونو درزی و دیگر شخصیات جنہوں  نے جنگ آزادی کے لیے اپنا سب کچھ داو پر لگا دیا۔ آج ہم ملک کی آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں یہ اُنہیں مجاہدین کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔ اُن مجاہدین کو ہمارا سلام صد ہزار سلام۔

 

مالیگاوں کے مسلم مجاہدین آزادی کی مختصر داستان کو مضامین کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اگر کوئی کتابوں کی ورق گردانی کرنے والا یا پھر اپنے ماضی کی بکھری اور ٹوٹی ہوئی کڑیوں کو جوڑنے والا باذوق طالب علم ہو تو اِس راہ میں آبلہ پائی کے بعد اور بھی بہت کچھ تلاش کر سکتا ہے۔ جتنا کچھ مضامین کی صورت میں پیش کیا گیا وہ سب پڑھنے کے بعد ہمیں اُن مجاہدین کی زندگیوں سے سبق  لے کر آئندہ کے لیے خطوط متعین کرنا ہوگا کیوں کہ آزادی کے بعد پھر سے دوبارہ غلامی کی زنجیریں تیار کی جا چکی ہیں، اِس لیے مجاہدین آزادی ’’سیّد سلیمان شاہ، منشی محمد شعبان تحسین، مولانا محمد اسحق، عبدالغفور پہلوان وغیرہ‘‘ کی داستان پڑھئے بار بار پڑھئے اور تاریخ (تحریک خلافت، تحریک عدم تعاون) سے کچھ حاصل کرکے شیرازہ بندی کرنے کی کوشش کیجئے۔ ورنہ شاطر دشمن مسلم اُمّہ کو اپنی عیاری سے انتشار و افتراق کی آگ میں جھونک کر طوق غلامی گلے میں اور آہنی زنجیریں قدموں میں ڈال کر صدیوں کے لیے جکڑ  لے گا۔ قومیں ماضی سے رشتہ توڑ کر ذلیل و رسوا ہوتی ہیں، اگر کوئی عقل و شعور رکھنے والا تمام مضامین کو بغور پڑھے تو ان شاء اللہ مجاہدین کے واقعات سے روشنی حاصل کرکے قوم کے مستقبل کو تابناک بناسکتا ہے۔

 

آئیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور قوم مسلم کو ذلت کے عمیق غار سے نکالنے کے لیے جہد مسلسل کریں۔ اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا پیٹارا دوسروں کے سر پھوڑنا بے وقوفی ہے، ناکامیوں کی وجہ تلاش کرکے اُن کا سدّ باب کریں۔ شہر میں سلیمانی دربار کو دوبارہ زندہ کرکے آپسی مسائل کو حل کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ مزید امدادالاسلام (بیت المال) کی طرز پر مظلوموں اور مفلسوں کے لیے بیت المال کا ایمان دارانہ نظام قائم کیا جاے۔ یہ ماضی کی کڑیاں ہیں اِن سے روشنی لے کر قوم مسلم کے تحفظ و بقا کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!