مالیگاوں کے مسلم مجاہدین کا جنگ آزادی میں کردار

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

پندرہ اگست یوم آزادی کا جشن گذشتہ 72 برسوں سے قومی تہوار کے طور پر ہم مناتے چلے آرہے ہیں جس میں عمومی و مجموعی طور پر شہداے آزادی کی قربانیوں کو خراج پیش کیا جاتا ہے۔ ایک بڑا المیہ ہمارے شہر والوں کا یہ ہے کہ جنگ آزادی میں علاقائی و شہری سطح پر جن مجاہدین نے اپنے شریانوں کا خون بہا کر قیمتی جانیں ملک کے لیے نذر کرکے ما بعد والوں کو ہندوستان میں سکون سے جینے کا حق دیا، جن مجاہدین کی قربانیوں کے بعد غلامی کی طویل رات کا اندھیرا چھٹ کر آزادی کی صبح کا سورج طلوع ہوا، مالیگاوں کے اُن مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو عوامی سطح پر پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مالیگاوں کے رہنے والوں نے وطن سے وفاداری میں تاریخ کے صفحات پر ان مٹ نقوش ثبت کیے ہیں جن کو کبھی بھی مٹایا نہیں جا سکتا۔ جس وقت آزادی کی جنگ کا بِگُل بجا اُس پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوے اہلیان شہر  نے ملک کی آزادی کے لیے حتی المقدور کوشش و کاوش کی۔ سینکڑوں مجاہدین  نے قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا، کئی مجاہدین شہید ہوے، جن کا اُن کی شہادت کے بعد ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑنے پر حکومت ہند کی جانب سے گورو کیا گیا۔ اِس شہر کے لوگوں  نے اپنے ملک سے وفاداری کا حق ادا کیا، وقت کے تقاضے کے مطابق جنگ آزادی میں جس طرح کی مدد درکار ہوئی مالیگاوں کے مجاہدین نے بِلا جھجھک پیش کیں۔

 

ہمیں اپنی تاریخ سے دامن نہیں چھڑانا چاہیے کیوں کہ جو قوم اپنی تاریخ سے دامن جھاڑ لیتی ہے اُس قوم کی تقدیر تاریک ہوجاتی ہے۔آج حالات یہ ہیں کہ لوگ جنگ آزادی سے راہِ فرار اختیار کرنے والوں کو چور دروازے سے داخل کر کے مجاہد اور ویر کے خطاب سے نواز رہے ہیں۔ہمارے لوگوں نے تو ملک کے لیے مسکراتے ہوے پھانسی کے پھندے کو بوسہ دیا ہے اُنہیں خراج پیش کیا جانا چاہئے۔اِن شاء اللہ آنے والے مضامین میں مالیگاوں کی تحریک خلافت کا وجود،مالیگاوں کی جنگ آزادی کے اوّلین شہدا اور مجاہدین کی قربانیاں اُن کے حالات کو آپ کے مطالعہ کے لیے پیش کرنے کی ایک حقیر سی کوشش کی جاے گی۔میں ممنون ہوں شہر کے اُن وسیع ظرف دُور اندیش ماضی قریب کے مصنفین،مرتبین بالخصوص مرحوم مولانا عبدالمجید وحید،مرحوم حفیظ مالیگانوی،مرحوم حسن احسن مالیگانوی،مرحوم بشیر ادیب،مرحوم شبیر حکیم،مرحوم محمد رمضان فیضی و موجودہ دور کے مصنفین تاریخ داں میں ڈاکٹر الیاس صدیقی،عبدالحلیم صدیقی صاحبان کا جن کی تصنیفات میرے لیے مبدا و مآخذ کا ذریعہ اور مضامین کو حوالوں سے مزین و مرصّع کرنے میں معاون رہیں۔اب آنے والی نسلیں انہیں مصنفین کی بنیاد پر اپنی علمی تاریخی عمارت کو تعمیر کرتی رہیں گی۔

 

 

Back to top button
Translate »