مجاہدین آزادی کے نام سے شہر میں یادگاریں قائم کریں

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

مجاہدین جنگ آزادی مالیگاوں کے احوال و کوائف پڑھ کر یہ بات عیاں و بیاں ہوتی ہے کہ ملک کی آزادی کے لیے ہمارے بزرگوں کی کتنی قربانیاں رہی ہیں۔اُن مجاہدین نے اپنے بعد والوں پر کس قدر احسان کیا ہے۔مگر افسوس صد افسوس!!! ہم اتنے احسان فراموش ہیں کہ مجاہدین آزادی کے نام سے اب تک کوئی اسکول، کالج، لائبریری، جیم خانہ، روڈ، چوک یا کوئی اور چیز قائم نہیں کر سکے۔ شہیدوں کی یادگار پر نام درج کروانے کے لیے قانونی رکاوٹیں ہیں جو مالیگاوں کی حد تک ہمیشہ رہیں گی، مگر کیا مذکورہ عمارتیں بھی اُن کے نام سے منسوب نہیں ہو سکتیں؟کیا مجاہدین آزادی نے ملک کی آزادی کے لیے انگریزوں سے جنگ کرکے کوئی غلطی کی؟ اگر نہیں تو اب تک ہم نے کیوں اُن کے ناموں سے شہر میں یادگاریں قائم نہیں کیں؟ اگر کسی نے ایک بستی بسائی، سماجی کام کر دیا تو اُس کے نام سے عمارتیں، سڑکیں، لائبریری وغیرہ منسوب کرتے چلے گئے!!!

 

آخر مجاہدین کا کیا قصور ہے جو اُن کے نام سے کسی چیز کو منسوب کرنا ہماری قوم کے لوگ اب تک عیب سمجھ رہے ہیں۔ اہلیان شہر سے التماس ہے کہ اُن محسنین کو خراج پیش کرنے کے لیے اپنے علاقوں میں جگہ جگہ یادگاریں (چوک، سڑک، اسکول، لائبریری) قائم کریں۔ اور ساتھ اُن کے مختصر تعارف کی تختی بھی نصب کر دیں تاکہ نسل آئندہ اُن کے عظیم کارناموں کو یاد کر سکے۔ ’’مالیگاوں کے مسلم مجاہدین آزادی‘‘ عنوان سے مضامین لکھنے اور اُسی کے ساتھ اُن کی زندگی کا مختصر تعارف پہنچانے کا میرا مقصد خالص نسل نو کو اُن کی زندگیوں آشنا کرانا تھا، نا کہ آپس میں اختلاف، انتشار اور نا ہی اپنی صلاحیت کا اظہار، حتی الامکان میں اپنے مقصد خیر میں کامیاب رہا۔ اہل نقد و جرح کے نازک مزاج سے میں بخوبی واقف ہوں، ہو سکتا ہے جن کتابوں کے حوالے میں نے شروع ہی میں درج کر دیئے تھے، وہ حوالے اُن کی علمی تاریخی حلق کے نیچے اِس لیے نا اُتر سکیں، کیوں کہ وہ کتابیں، یا اُن کتابوں کے مصنفین، اُن کے نزدیک معتبر نہیں، یا اُن کتابوں کی بعض باتوں سے وہ اتفاق نہیں رکھتے۔نقد و جرح کے ایسے نازک مزاج ماہرین سے میں چھوٹا سا طالب علم ہونے کی حیثیت سے ادبی گزارش کروں گا، کہ جن کتابوں میں کچھ باتیں آپ کو متضاد نظر آتی ہیں، یا سنوات و روایات وغیرہ میں کتابت کی وجہ سے کچھ تبدیلیاں ہوگئی ہیں، تو مصنّف کی بکّھیاں اُدھیڑنے یا اُس کی پگڑی اُچھال کر اُس کی قباے عزت کو تار تار کرنے سے بہتر ہے اپنی علمی صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوے اُن غلطیوں کی تصحیح کر کے اُن تاریخی اور ناپید کتابوں کو ازسر نو کسی پبلیشر کے توسّط سے شائع کر دیا جاے۔ تاکہ لوگ اُن قیمتی قدیم علمی تاریخی اثاثے سے اپنے آپ کو مستفیض کر سکیں۔ اور میرے مضامین میں بھی جہاں کہیں خامی نظر آے از راہ کرم چھوٹی سی کہانی کو افسانہ بنانے سے بہتر ہے مجھے مطلع فرمائیں ان شاء اللہ اُن خامیوں کو دور کردیا جاے گا اور غلطیوں کی اصلاح ہوجاے گی۔

 

مضامین کے اختتام پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھ جیسے ادنی سے یہ کام لیا۔ بعدہ میرے کرم فرما مربّی مولانا سیّد محمد امین القادری صاحب قبلہ کا ممنون ہوں کہ اُنہوں  نے مضامین تحریر کرنے کا حوصلہ دیا، پھر اپنے تمام احباب کو ہدیہ تشکّر پیش کرتا ہوں۔ مضامین کی اشاعت کے دوران مسلسل حوصلہ افزائی اور مبارک بادی کے فون کالز اور پیغامات موصول ہوتے رہے۔ خصوصیت کے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر خورشید عالم (مقیم حال پونا)، خیال اثر (نامہ نگار ممبئی اردو ٹائمز)، خالد سرحدی (سماجی کارکن)، خیال انصاری (خیر اندیش)، عبدالحلیم صدیقی (مصنف، شہیدان وطن)، عطاءالرحمن نوری (جرنلسٹ) محمد عامر برکاتی (البرکات مینس ویئر)، اسمعیل وفا صاحبان وغیرھم کا، اور سب سے زیادہ میں نشاط نیوز کے ایڈیٹر و مالک محمد محمود انصاری صاحب اور عطاء الرحمن سائیکل والے (ممبر نشاط نیوز) و ادارہ کے جملہ اسٹاف کا شکر گزار ہوں کہ اِن حضرات نے بِلا خوف و خطر ایک چھوٹے سے غیر معروف طالب علم کے مضامین کو اپنے اخبار میں شائع کر کے لوگوں تک پہنچانے میں معاونت فرمائی، نیز زاہد سمیر انصاری کا بھی شکر گزار ہوں کہ اُنھوں  نے بھی سوشل میڈیا پر مضامین کو دلچسپی کے ساتھ عام کیا۔ اللہ پاک ہر ایک کو اجر عطا فرماے۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!