شہید وطن عبدالغفور ولد محمد عبدالشکور چندی

(رُکن تحریک خلافت،مالیگاوں)

حافظ محمد غفران اشرفی (جنرل سکریٹری سنّی جمعیۃ العوام)

 

پہلوان عبدالغفور کی ولادت 1886 میں ہوئی،اسلام پورہ میں رہائش تھی آپ کو کُشتی کا شوق تھا،اِس لیے آپ اُس وقت کے مشہور کرم اللہ استاد کے اکھاڑہ میں کسرت کیا کرتے اور کشتی کے گُر سیکھتے تھے۔جب مالیگاوں میں تحریک خلافت کا قیام عمل میں آیا تو باضابطہ تحریک کے کسی عہدہ پر تو نا تھے، لیکن تحریک خلافت کے کسی ذمہ دار سے کم بھی نا تھے۔تحریک خلافت کے تحت اُس وقت کی جاری ہر تحریک میں آپ مجاہدین کے شانہ بشانہ رہ کر مجاہدین کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔خلافت کے زمانے میں جب فساد برپا ہوا بھاسکر (بھاسکٹ، بھسکٹ) راو جیسا کٹّر مخالفِ آزادی مارا گیا،تو اُس پر آخری ضرب کاری لگاکر مالیگاوں کے انگریز سامراج کا خاتمہ کرنے والے پہلوان عبدالغفور ہی تھے۔

 

واقعہ کچھ اِس طرح ہوا کہ 25 اپریل 1921 کو جب دنگا بھڑکا اور مجاہدین شہید ہوے۔اِس وجہ سے مجاہدین کے جذبہ انتقام سے بچنے کے لیے بھاسکر راو چُھپتا چھپاتا اِدھر سے اُدھر بھاگ رہا تھا،اُس نے آخری کوشش مجاہدین سے بچ کر بھاگنے کی اِس طرح کی،کہ باپو صاحب پوپھلے کے گھر(یا گھر سے متصل پوپھلے مندر،جو رتن لال لسّی والے کے پاس تھی) میں گُھس کر اُس نے پناہ لی،مجاہدین نے اُس سانپ کو باہر لانے کے لیے عمارت کے نچلے حصے میں آگ لگا دی۔ پوپھلے خاندان کی جتنی عورتیں تھیں سب کو مجاہدین نے بحفاظت نکلنے کے لیے کہا،ساری عورتیں جب نکلنے لگیں تو باہر جو مجمع تھا اُس نے اُن نکلنے والی عورتوں کے لیے راستہ صاف کردیا،تقریبا رات کے دس بج چکے تھے مگر مکان میں لگی ہوئی آگ کی ہلکی روشنی سے جانے والے افراد نظر آرہے تھے،کسی نے ایک اونچی لمبی تڑنگی عورت کو دیکھا ساڑی میں ملبوس چہرہ آنچل میں چُھپا ہوا ہے،جیسے ہی اُس عورت کے قدموں پر نظر پڑی تو اُس شخص نے زور سے چلّایا’’اُو بھاسکر راو فوجدروا جارہا ہے‘‘ کیوں کہ گھبراہٹ میں وہ جوتا اُتارنا بھول گیا تھا۔مجمع اُس کی طرف لپکا،وہ شیواجی ٹاون ہال کی طرف بھاگا، بھاری جسامت اور ساڑی کی وجہ سے زیادہ دور بھاگ نا سکا رائل سنیما کی گلی میں لوگوں نے اُس کو دھر لیا،لاٹھیوں سے حملہ کیا وہ زمین پر گر پڑا تو پہلوان عبدالغفور نے دیکھا،پاس میں بڑا پتھر پڑا ہے اُس کو اٹھا کر لاے اور بھاسکر راو کے سر پر دے مارا،جس سے اُس کا سر پاش پاش ہوگیا۔

 

مجاہدین آزادی کی گرفتاریاں ہونے لگیں تو پہلوان عبدالغفور اُتر پردیش،دوسری روایت کے مطابق حیدر آباد اپنی ننہال میں چھ ماہ تک رُو پوش رہے۔اُن کی گرفتاری کا واقعہ کتابوں میں اِس طرح بھی ملتا ہے کہ کسی زمانے میں اپنے مدّ مقابل پہلوان کو شہید وطن عبدالغفور پہلوان نے شکست دی تھی،تو اُس شکست خوردہ شخص نے عبدالغفور پہلوان کی پولیس کو مخبری کردی۔کہ جالنہ میں کشتیوں کا دنگل ہے عبدالغفور وہاں ضرور آے گا۔ایسا ہی ہوا عبدالغفور پہلوان جالنہ میں کشتیوں کے دنگل پہنچے پولیس نے انہیں وہیں گرفتار کرلیا۔حکومت کی طرف سے آپ کی والدہ چندی خالہ (جو بیوہ تھیں) کو بذریعہ تار یہ خبردی گئی کہ آپ کے بیٹے کو 18 جنوری کو پھانسی دی جاے گی،لاش لینا ہوتو پونا کی ایروڈا جیل حاضر ہوجائیں۔آپ کی والدہ چندی خالہ غربت و افلاس کے باوجود بیٹے سے محبت کی خاطر اپنی دو پڑوسن کے ساتھ بمشکل پونا کی جیل پہنچیں،اپنے قابل اور بہادر بیٹے کا آخری دیدار کرتے ہوے ایک بہادر بیٹے کی ماں ہونے کی حیثیت سے نصیحت کرتے ہوے کہا کہ بیٹا ملک کے لیے بخوشی جان دے دو میری فکر مت کرنا۔

 

18 جنوری 1923 کو چھ ماہ بعد 37 سال کی عمر میں آپ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا گیا۔آپ انسداد مے نوشی،ودیشی مال کے بائیکاٹ میں تحریک خلافت کے ساتھ رہے۔شہادت کے بعد بیٹے کی لاش کو غریب دُکھیاری ماں کے حوالے کردیا گیا،لیکن اُس ماں کے پاس بیٹے کی لاش مالیگاوں تک لانے کے لیے کوئی انتظام نا تھا،اِس لیے بادِل ناخواستہ جیل سے متّصل قبرستان میں اپنے جواں سال سپوت،زندگی کے سہارے کو ہمیشہ ہمیش کے لیے سپرد خاک کرکے واپس مالیگاوں آگئیں۔اُس ماں کی ہمّت اور حوصلہ کو سلام جس نے اپنے ہاتھوں سے بیٹے کی لاش کو ملک سے محبّت کی خاطر سپرد خاک کروایا۔

 

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!