مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، کردار،خلاصہ

 

کدم راؤ پدم راؤ اردو ادب کی قدیم ترین دریافت شدہ مثنوی ہے جسے دکنی اُردو کی دستیاب شدہ قدیم ترین منظوم ادب سمجھا جاتا ہے۔ اِس مثنوی کو فخرالدین نظامی نے لکھا تھا۔ اِس کی کہانی ہیرا نگر کا راجہ کدم راؤ اور اس کا وزیر پدم راو (جو ایک ناگ ہے) پر مبنی ہے.

 

تاریخ

 

کدم راؤ پدم راؤ اب تک کی دریافت و دستیاب شدہ اردو زبان کی پہلی اور قدیم ترین مثنوی ہے جو اردو زبان کے ایک قدیمی لہجے دکنی میں لکھی گئی ہے۔ اِس مثنوی کے تخلیق کار شاعر فخرالدین نظامی تھے جن کا تعلق بیدر سے تھا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق کے مطابق فخرالدین نظامی نے یہ مثنوی بہمنی سلطنت کے مشہور فرمانرواء احمد شاہ بہمنی کے عہدِ حکومت یعنی 825ھ سے 839ھ یعنی 1421ء سے 1435ء میں لکھی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق غالباً مثنوی کے متن سے قیاس کی گئی ہے۔[

 

متن کی زبان

 

مثنوی چونکہ چھ سو سال قبل تحریر کی گئی تھی، اِسی لیے اِس کی زبان بھی قدیم ہے۔ فخرالدین نظامی نے مثنوی کا آغاز حمد سے کیا ہے اور اِس کے بعد نعت کہی ہے جس کے کل 22 اَبیات ہیں۔ فخرالدین نظامی کی زبان نہایت کٹھن اور مغلق ہے۔ اِس میں سنسکرت زبان کے تَت سَم اور تَدبَھو جیسے الفاظ کی کثرت نظر آتی ہے۔ نعتیہ اَشعار میں بھی وہ عربی زبان یا فارسی زبان کے القاب یا خطاب جیسے الفاظ اِستعمال نہیں کرتا اور اِن کی بجائے سنسکرت زبان کے ہی الفاظ استعمال کیے ہیں جیسے کہ ’’سرورِ عالم‘‘ کے لیے راو کساتیں (بمعنی آقا) یا راوت (بمعنی شہنشاہ)۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!