خواجہ سید محمد میر اثر

( برادر خورد خواجہ میر درد)

 

سید میر اثرؔ (سن 1735-36/1794ء) ایک مشہور خاندان کے چشم وچراغ تھے اور ایک صوفی باپ اثر خواجہ محمد ناصرکے بیٹے اور خواجہ میر درد کے چھوٹے بھائی تھے۔ اپنے بڑے بھائی میر درد کے دامن میں تربیت پائی اور انہیں کو اپنا کلام دکھایا۔ اور ان کے انتقال کے بعد آبائی سجادگی کو بھی زینت بخشی۔ انہوں نے تصوف کو صرف روایت سے مجبور ہو کر نہیں اپنایا بلکہ وہ خود ایک باعمل صوفی تھے۔ ان کے مزاج میں اعتدال ، توازن،حلم ، تحمل اور بردبادی کی صفات موجود تھیں۔ اس لیے جہاں جاتے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ قناعت اور خودداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کی انہی صفات کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ بقول عظمت اللہ :’’خواجہ میر درد اُردو ادبیات میں صوفیانہ شاعری کے باوا آدم تھے۔‘‘

تحصیل علم دلی کے اساتذہ سے کی تھی، عالم فاضل تھے۔ان کا مرتبہ بہت بلند تھا۔ علاوہ ازیں تصوف، موسیقی اور علم ریاضی میں بھی کافی دست گاہ تھی۔ کلام میں جدت بھی ہے اور گداز بھی۔ زبان میں شیرینی ہے ، محاورات بڑی صفائی سے باندھتے ہیں ، اندازِ بیان پُردرد ہے جو دل پر اثر کرتا ہے۔ شعروں میں پند و نصائح اور اخلاقیات کا عنصر غالب ہے۔ مختصر الفاظ میں وسیع معنی پہناتے ہیں۔

تصانیف میں غزل کا ایک دیوان ہے اور ایک مثنوی ‘‘خواب و خیال‘‘ ہے جو اپنے رنگ کی اُردو کی پہلی مثنوی ہے۔ اس مثنوی نے بہت زیادہ شہرت پائی۔ درحقیقت میر اثر کا نام اس مثنوی ‘‘خواب و خیال‘‘ کی وجہ ہی سے زندہ ہے۔میر اثر کے چند اشعار یہ ہیں ؎

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں
اے نشہ ظہور یہ تری ترنگ تھی

ریفرنس بُک

مونوگراف خواجہ محمد میر اثر از:مولانا بخش اسیر ناشر:اُردو اکادمی دہلی

Back to top button
error: Content is protected !!