افضل جھنجھانوی کی مثنوی بکٹ کہانی: لسانی و تہذیبی نقوش

پروفیسر کوثر مظہری (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ)

 

یہاں افضل کی بکٹ کہانی کی دریافت اور اس کے نسخوں کی تعداد یا ان کے مستند یا غیرمستند ہونے کا قصہ پیش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی افضل کی پیدائش اور زندگی کے بارے میں تحقیقی اقوال زرّیں آپ کے گوش گزار کیے جائیں گے۔ یہ کام ہمارے اکابرینِ ادب نے کردکھایا ہے۔ ہم میں یہ بوتا یا جرأت نہیں کہ اس ضمن میں خامہ فرسائی کرسکیں۔ اپنا مدعا تو سیدھا سیدھا موجود بکٹ کہانی کے متن اور اس میں موجود لسانی و تہذیبی نقوش تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

 

افضل کی بکٹ کہانی شمالی ہند کی اردو شاعری کے لسانی تناظر کو نشان زد کرتی ہے۔ شاعری کے اعتبار سے اس میں جو محاسن و معائب ہوسکتے ہیں، ان پر روشنی ڈالنے کے لیے اس کے متن کا لسانی مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ اس حوالے سے یہ عرض کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ افضل کی وطنیت محل نظر رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے افضل کو پانی پتی لکھا، تو کچھ نے ان کا رشتہ جھنجھانہ سے جوڑا، کسی نے ’ازسکّان دیار مشرق‘ لکھا تو کسی نے ’مردیست از قدما، سکّان قصبۂ جھنجھانہ‘ تحریر کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کی جو زبان ہے وہ آج کے عہد میں کہاں کہاں بولی ٹھولی کے طور پر رائج ہے؟ کچھ ایسے الفاظ ہیں جو ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں اب بھی رائج ہیں جنھیں صرف جھنجھانہ یا پانی پت سے ہی جوڑ کر نہیں دیکھ سکتے، بلکہ تناظر قدرے وسیع ہوجاتا ہے۔ پھر یہ کہ شاعر کہیں کا ہو، اگر اس کے ذخیرے میں ایسے الفاظ بھی ہیں جن کا تعلق خاص اس کے علاقے سے نہ ہو جب بھی، وہ ان کا استعمال کرسکتا ہے۔ سب سے پہلے بکٹ کہانی کے لسانی رنگ سے بحث کی جائے گی۔

 

لسانی رنگ:

 

مسعود حسین خاں نے بکٹ کہانی کے لسانی تناظر کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ اقتباس دیکھیے:

 

’’افضل کا تعلق والہ کی شہادت کے مطابق پانی پت سے تھا جو ہریانی کے علاقے میں واقع ہے لیکن افضل کی زبان ہریانی کے اس قدر بھی لسانی اثرات نہیں رکھتی جس قدر کہ اس عہد کے دکنی مصنّفین کی زبان میں پائے جاتے ہیں۔‘‘

 

’’لسانی اعتبار سے افضل کی زبان کو (دکھنی کے مقابلے میں) جدید اردو سے قریب تر ہونا بھی چاہیے۔ دکھنی اردو تیرہویں اور چودھویں صدی کی زبان دہلوی ہے جو ایک طرف اَپ بھرنش لسانی روایت سے لدی پھندی ہے اور دوسری جانب جس کی اساس کھڑی بولی کے مقابلے میں جمنا پار کی ہریانی اور میواتی بولیوں پر قائم ہے۔ دہلی اور اس کے نواح میں زبان کا یہ کینڈا پندرہویں صدی کے وسط تک رہا۔‘‘(بکٹ کہانی، مسعود حسین خاں، مرتبہ، ص 397، ص 396)

 

ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے بھی تمام تر بحث و تمحیص کے بعد افضل کو جھنجھانہ ضلع مظفر نگر کا باشندہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کا قیام بہ سلسلۂ ملازمت پانی پت میں تھا جس کے سبب والہ نے اسے پانی پتی لکھا ہے۔‘‘

( اردو میں بارہ ماسے کی روایت، دہلی اردو اکادمی،ص 29)

 

افضل کی بکٹ کہانی جو مثنوی کی ہیئت میں ہے 321 اشعار پر مشتمل ہے۔

اس میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ نہ صرف جھنجھانہ کی ہے نہ ہریانہ کی۔ اس میں اودھی، دکنی، میتھلی، مگدھی، بھوجپوری اور دوسری بولی ٹھولی کے نمونے بھی ملتے ہیں۔ آئیے تمہیدی اشعار سنیے:

 

سنو سکھیو بکٹ میری کہانی

بھئی ہوں عشق کے غم سوں دوانی

 

نہ مجھ کوں بھوک دن، نا نیند راتا

بِرَہ کے درد سوں سینہ پراتا

 

تمامی لوک مجھ بَوری کہی ری

خرد گم کردہ، مجنوں ہورہی ری

 

نہیں اس درد کی دارو کسی کن

بھئے حیراں سبھی حکمائے ذو فن

 

یہاں جو غم سوں، مجھ کوں، درد سوں کا استعمال ہوا ہے وہ دکنی میں اور شمالی ہند کی قدیم شاعری میں موجود ہے۔ ولی کے تتبع میں آبرو، یکرنگ، فائز وغیرہ نے شاعری کی۔ افضل ولی سے بہت پہلے کے شاعر ہیں لیکن اس لسانی اظہار کے ڈانڈے دکنی سے ہی جاکر ملتے ہیں۔

 

ولی کہتے ہیں:

 

مت غصّے کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا

ٹک مہر کے پانی سوں یو آگ بجھاتی جا

 

اس کے علاوہ بھئی اور بھئے کا استعمال ’ہونے‘ کے لیے ہوتا ہے۔ ’بھور بھئے پن گھٹ پر‘ سنتے آئے ہیں۔ یہ لفظ اپنے اپنے فعلی لاحقوں کے ساتھ میتھلی اور بھوجپوری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا تعلق کھڑی اور برج کے علاوہ علاقائی بولی ٹھولی سے بھی ہے۔ حالاں کہ اب میتھلی اور بھوجپوری دونوں باضابطہ زبان کی شکل میں موجود ہیں۔ پھر یہ کہ افضل جیسے شخص نے تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ افضل کے بارہ ماسے کو سب سے زیادہ شہرت ملی اور آگے چل کر جس کی تقلید میں بہت سے بارہ ماسے لکھے گئے۔

 

زبان کے حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زبان جذبات اور احساسات کی ترسیل کا میڈیم بنتی ہے۔ بارہ ماسے میں ایک اَن پڑھ بیوی اپنے شوہر کے فراق میں اپنے احساسات کا بیان کرتی ہے، اس لیے اس کی زبان بھی اُسی کے مطابق ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ عورت اپنی سکھی کو ہی مخاطب کرتی ہے البتہ جب اس کی اضطراری کیفیت بڑھتی ہے تو ملّا اور سیانے، کاگ اور کوئل، پپیہا اور برہمن سب کے سامنے ہاتھ جوڑتی اور اپنے جذبات پیش کرتی ہے تاکہ کسی طرح اس کے محبوب تک جو کہ اس کا شوہر ہے، ان کے احساسات کی ترسیل ہوسکے۔

 

بکٹ کہانی میں مخلوط لسانی اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ حضرت امیر خسرو نے ریختہ گوئی کی جو مثال پیش کی تھی اس کے نقوش یہاں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خسرو کے مشہور زمانہ اشعار آپ سب کو یاد ہیں کہ:

 

زحالِ مسکیں مکن تغافل دو رائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجراں نہ دارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

 

شبان ہجراں دراز چو زلف و روز وصلش چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

 

افضل نے بکٹ کہانی میں اس طرز ریختہ کو کئی مقام پر روا رکھا ہے۔ کہیں کہیں تو صرف فارسی کے اشعار ہی آئے ہیں۔ لیکن ا میر خسرو کی پیروی جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ کبھی پورا ایک مصرعہ فارسی کا تو کبھی ایک مصرعے کاآدھا فقرہ فارسی کا ہوتا ہے۔ آئیے اس نوع کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

 

چہ سازم چوں کنم کِس کَن پکاروں

جتن کیا عشق کے غم کا بچاروں

 

جنوں در ملکِ جاں جھنڈا گڑایا

سمجھ اور بوجھ کا تھانا اٹھایا

 

کیا محبوس در زندانِ ہجراں

لگا تب آن کر درد و غمِ جاں

 

گدا ہوکر پھروں رسوائے بازار

شود گاہے کہ یا بم بھیکِ دیدار

 

چو شد مدت پیا کے ساتھ رہتے

سخن با یک دگر کہتے و سنتے

 

مرا سکھ دیکھ اس کوں حسرت آئی

نہادہ بر دلم داغِ جدائی

 

چہ می سازم کہ پھر دلدار پاؤں

بہ خلوت گاہ جاناں بار پاؤں

 

یہ اشعار تمہیدی ہیں۔ ’خالق باری‘ کی بھی یہی لسانی ساخت ہے۔ البتہ اس زمانے میں دکن میں اس طرز سخن کو رواج نہیں مل سکا۔ شمالی ہند میں ایسے تجربے کیے گئے۔ شیخ عثمان جالندھری اور منشی ولی رام (وفات 1650) جو داراشکوہ کا مشیر خاص تھا، کے یہاں اس کے نمونے ملتے ہیں:

 

منم مشتاق دیدارت اری ٹک دور کُن گھونگھٹ

بجان و دل خریدارت اری ٹک دو رکن گھونگھٹ

 

(شیخ عثمان جالندھری)

 

چہ دلداری دریں دنیا کہ دنیا سے چلانا ہے

چہ دل بندی دریں عالم کہ سر پر چھوڑ جانا ہے

 

(منشی ولی رام)

 

بکٹ کہانی میں جو دوسری اہم لسانی ساخت غور طلب ہے وہ برج کے اثرات والی ساخت ہے۔ کھڑی بولی کے ساتھ ساتھ برج بھاشا کے اثرات اس عہد کی شاعری پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ بکٹ کہانی میں افضل نے بھی استفادہ کیا۔ مثلاً ’ل‘ کے بجائے’ ر‘ کا استعمال دیکھیے:

 

گھٹا کاری چہاروں اور چھائی

بِرہ کی فوج نے کینی چڑھائی

 

بھئی بَوری بِرہ بیراگ سیتی

جرے جیورا مرا نت آگ سیتی

 

دِواری جارے ہے گھر گھر و بازار

بھیا گلزار، راکھے دیوری بار

 

زنارِ ہجر سب دیہی بَرے ری

نہ آئے کنتھ گھر ہوری جرے ری

 

برج میں ’و‘ کو ’ب‘ کی آواز میں اور ’ل‘ کو ’ر‘ کی آواز میں بدل دینے کا چلن پایا جاتا ہے۔ ’ل‘ اور ’ر‘ کی مثالیں اوپر پیش کی گئیں۔ ہندی کے ’ی‘ کو ’ج‘ میں اور ’و‘ کو ’ب‘ میں بدلنے کی مثالیں دیکھیے:

 

ملن پاچھے بچھڑنا یوں کٹھن ہے

کہو اب زندگی کا کیا جتن ہے

 

وہی جانے کہ جس کے تن لگی ہے

برہ کی آگ، تن من موں دگی ہے

 

یہاں ’یَتن‘ کو ’جتن‘ اور ’وِرہ‘ کو ’بَرہ‘ کیا گیا ہے جو اب معیاری اردو میں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ بکٹ کہانی میں اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ اس طرح اردو زبان میں قدیم نمونوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کس کس طرح سے صیقل ہوئی ہے۔

 

صوتی اعتبار سے کہیں کہیں افضل نے املا ہی بدل دیا ہے۔ جیسے یہ شعر:

 

جھڑی پڑنے لگی اور رعد گرجا

تمامی تن بدن جیو جان لرجا

 

یہاں لرزا کو ’لرجا‘ لکھا گیا ہے جو ’گرجا‘ کا قافیہ ہے۔ حالاں کہ کہیں کہیں قافیہ پیمائی میں چوک بھی ہوئی ہے جیسے یہ شعر دیکھے:

 

ارے ظالم تجھے بھایا بدیسا

مجھے دن رین ہے ترا اندیسا

 

عجائب بن رہے، رُخ پر سیہ خال

گرے بدھی پڑی در پائے خلخال

 

یہاں بدیسا کا قافیہ ’اندیسا‘ اور ’خال‘ کا ’خلخال‘ محل نظر ہے۔ بکٹ کہانی میں اس طرح کے تسامحات بہت ہیں۔

 

برج بھاشا میں فعل حال بنانے کے لیے فعل کے آدھے حصے میں ’ت‘ جوڑنے کا رواج رہا ہے۔ اس اصول پر بکٹ کہانی میں فعل حال بنانے کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں:

 

دھمالاں کرتیاں گھر گھر پھرت ہیں

پیا سنگ ناریاں سب سکھ کرت ہیں

 

واِلّاکیوں اَناحق دکھ بھرت ہو

عبث بن مرگ کیوں غم میں مرت ہو

 

بکٹ کہانی میں اس کے نمونے بھی ملتے ہیں کہ اسم یا فاعل جمع ہے تو فعل بھی جمع استعمال کیا جائے۔ اوپر کے شعر میں ’’دھمالاں کرتیاں گھر گھر پھرت ہیں+ پیا سنگ ناریاں سب سکھ کرت ہیں‘‘ میں یہی اصول ملتا ہے۔ اسی طرح ناحق کے لیے انا حق کا استعمال خالص کم پڑھے لکھوں کا روزمرّہ ہے جسے بڑی ہی خوبصورتی سے یہاں کھپایا گیا ہے۔

 

عربی فارسی الفاظ ضرورت شعری کے تحت مہنّد یا مورّد کرلیے گئے ہیں۔ لرزہ کو لرجا، داغ کو داگ۔

 

اسی طرح اضافت کے استعمال میں بھی اصول سے اعراض کیا گیا ہے جیسے:

 

گدا ہوکر پھروں رسوائے بازار

شود گاہے کہ پا بم بھیکِ دیدار

 

’بکٹ کہانی‘ میں اعراب کے لگانے میں بھی آزادانہ طور پر اپنی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:

 

نمانی کو ارے ٹک درس دیجو

برہنی کا صَبَر سر پر نہ لیجو

 

عَہَد کر کرگئے اجہوں نہ آئے

ارے کِن سوت نے ٹونے چلائے

 

نہ مانا ان کہو کیا جتْن کیجیے

ارے اپنی کرم کو دوس دیجے

 

ظُلَم مجھ پر سکھی! بہوت ہی کیا ہے

جدائی کا ہَمن کو غم دیا ہے

 

یہاں عَہَد، صَبَر اور ظُلَم جیسے الفاظ میں دوسرے حروف کو متحرک بنا کر استعمال کیا گیا ہے جو کہ اردو Canon کے منافی ہے۔افعال بنانے میں برج اور اودھی دونو ںکے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کی مثال اوپر آچکی ہے۔ یہاں چند الفاظ اور دیکھ لیں۔ سُلگت، مرت، دیکھن، کھیلن، ہنسن، رووت وغیرہ۔ اس فعلی صورتِ حال کے ڈانڈے بھوجپوری سے بھی مل جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں کوثر مظہری کی نظمیہ شاعری میں رات کا تصور – ڈاکٹر نوشاد منظر )

 

افعال سازی کے ایسے نمونے بھی ملتے ہیں:

 

بہت مدت گئی آون نہ کینو

دیا کاگد کسی کوں لکھ نہ دینو

 

سکھی یہ مانس تو لک مانس بیتا

بدیسی شیام نے پھیرا نہ کیتا

 

چہ می بینم کہ منگل گاوتی ہیں

مرے گھر ناریاں سب آوتی ہیں

 

آون نہ کینو، دینو، پھیرا نہ کیتا، گاوتی ہیں، آوتی ہیں جیسی فعلی شکلیں اردو زبان کے وسیع لسانی تناظر کو ظاہر کرتی ہیں۔ آج کی شستہ اور معیاری اردو زبان کی شکل و صورت بننے اور بنانے میں برج بھاشا نے بھی اپنا رول ادا کیا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:

 

’’جدید اردو کا معیاری لب و لہجہ برج بھاشا کا تتبع کرتا ہے۔ اردو پر برج بھاشا کے چند صوتی و نحوی اثرات یہ ہیں۔‘‘ (مقدمہ تاریخ زبان اردو، 1991، ص 193)

 

اس کے بعد انھوں نے مختلف قدیم ادب پاروں سے مثالیں پیش کی ہیں۔ یہاں انھیں پیش نہیں کیا جارہا ہے۔

 

ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے اردو میں بارہ ماسے کی روایت پر تحقیقی و تنقیدی کام کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

 

’’ہندی اور فارسی کے علاوہ اس میں کھڑی، برج اور پنجابی کا میل ہے اور اس طرح اِس کی زبان اُس لسانی اشتراک کی نمائندگی کرتی ہے جو اردو اور ہندوستانی تہذیب کا فطری مزاج ہے۔‘‘

(ماخوذ از اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب، مارچ 1987، دہلی اردو اکادمی،ص 252)

 

لسانی نکات سے قطع نظر اب بکٹ کہانی کے تہذیبی نقوش کا ایک سرسری جائزہ پیش خدمت ہے۔

 

تہذیبی رنگ:

 

اردو کے خمیر میں ہندوستانی مزاج کا ملا جُلا روپ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ارد وکے حوالے سے پروفیسر نارنگ نے درست لکھا ہے کہ اردو نہ عربی کی طرح سامی خاندان سے ہے نہ فارسی کی طرح ایرانی خاندان سے، اردو لسانی ساخت و اساس کے اعتبار سے ہند آریائی ہے، لیکن دو عظیم تہذیبوں کے درمیان ربط نے اسے ایسی امتیازی حیثیت عطا کی ہے جو برصغیر کی زبانوں میں کسی دوسری زبان کو حاصل نہیں۔ اردو گویا زبانوں کی دنیا کا تاج محل ہے جو اپنے تہذیبی و جمالیاتی امتزاجی حسن و دل کشی اور طرح داری سے اپنی الگ انفرادیت اور امتیازی شناخت رکھتا ہے۔‘‘ (اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب، ص 20)

 

جہاں تک بارہ ماسے کا سوال ہے تو اس کے سلسلے میں یہ عرض کردینا بھی ضروری ہے کہ اس کے خمیر میں خالص ہندی اور دیہی عناصر کی آمیزش ہے، بہ الفاظ دیگر اسے شاعری کا ایک rural genere کہا جاسکتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اردو شاعری میں چوں کہ عشق کا اظہار عورت یا معشوق کی طرف سے نہیں ہوتا اس لیے اردو کے شعری مزاج سے بارہ ماسہ پوری طرح ہم آمیز نہیں ہوسکا کہ اس میں ایک عورت اور وہ بھی شادی شدہ عورت اپنے جذبۂ فراق و وصل کو طرح طرح سے پیش کرتی ہے بلکہ جذبات کا حاوی حصہ فراق ہی کا زائیدہ ہوتا ہے۔

 

بکٹ کہانی میں جو راوی ہے وہ ایک فراق زدہ عورت ہے جو اپنی سکھیوں سے اپنے دکھڑے کا بیان کرتی ہے۔ اس میں جس طرح کے سماجی کرداروں کا ذکر آتا ہے۔ اس سے اس کے دیہی پس منظر کا اوربھی اندازہ ہوجاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

 

ارے جس شخص کوں یہ دیو لاگا

سیانا دیکھ اس کوں، دور بھاگا

 

ارے یہ ناگ جس کے ڈنک لادے

نہ پاوے گاڈرو جیوڑا گنوا دے

 

بوائی کی نہیں جس شخص کوں پیر

چہ داند دردِ دیگر را ارے بیر

 

’سیانا‘ کہتے ہیں جھاڑپھونک کرنے والے عامل کو۔ دیولاگا یعنی عشق کا بھوت۔ لفظ ’دیو‘ اور سیانا کا استعمال اور پھر ناگ کا ڈنک مارنا اور اس کے زہر کو جھاڑ پھونک سے اتارنے کاعمل اسی طرح آخری شعر میں کہا گیا ہے کہ جس کے پیر میں بوائی نہیں پھٹتی اسے دوسرے کے درد کا احساس نہیں ہوتا۔ آج بھی یہ محاورہ دیہاتوں میں مستعمل ہے۔ اس سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ دیہی کلچر اور گاؤں کے اَن پڑھ معاشرے کی Sensibility بھی بکٹ کہانی میں سمٹ کر آگئی ہے۔ اسی لیے اسے ایک دیہی صنف سخن کہنے میں مضائقہ نہیں۔

 

اسی طرح یہ شعر دیکھیے جس سے اس کلچر کا ایک سچا نقش اس کردار کے ذریعہ سامنے ابھر کر آجاتا ہے:

 

کہیں گھر کے سبھی لوگ اور لگائی

تمامی شرم عالم کی گنوائی

 

’لوگ اور لگائی‘ کا استعمال ہمارے شہری تہذیب کا حصہ نہ پہلے رہا ہے اور نہ اب ہے۔ ہندوستانی تہذیب میں ہندوستانی عناصر کی موجودگی اہم ہے۔ تہواروں کا ذکر ہو یا مذاہب کا، یہاں کے موسموں کا ذکر ہو یا ندیوں، جنگلوں اور چرند و پرند کا، ہندستانی موسیقی کا ذکر ہو یا معاشرے میں رائج کہاوتوں اور ضرب الامثال کا، یہ سب ایسے عوامل و عناصر ہیں جن سے خالص ہندستانی تہذیب کا خاکہ تیار ہوتا ہے۔ یہاں کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کے حوالے سے یہ اشعار دیکھے جاسکتے ہیں:

 

پپیہا پیو پیو نِس دن پکارے

پکارے داور جھینگر جھنگارے

 

ارے جب کوک کوئل نے سنائی

تمامی تن بدن میں آگ لائی

 

اندھیری رات جگنو جگمگاتا

اری جلتی کے اوپر پھوس لاتا

 

سنی جب مور کی آواز بن سوں

شکیب از دل گیا آرام تن سوں

(دربیان ساون)

 

لکھوں پتیاں ارے اے کاگ لے جا

سلونے سانورے سندر پیا پا

 

کلیجہ کاڑ کر تجھ کوں کھلاؤں

ترے دو پنکھ پر بلہار جاؤں

 

ارے سبزک پیا کے باغ جاکر

اَپَن کو بے وفا سیتی لُکا کر

(ماہ سوم: کنوار)

 

مذکورہ بالا اشعار سے جو تہذیبی و معاشرتی خاکہ تیار ہوتا ہے وہ دیہی ہے۔ ’سبزک‘ جسے عام فہم میں نیل کنٹھ کہتے ہیں، اس کے بولنے کو نیک فال تصور کیا جاتا ہے۔ اسے قاصد اور پیامی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کاگ کو بھی قاصد کے طور پر مخاطب کیا جاتا ہے۔ اندھیری رات میں جگنو کے جگمگانے سے جو روشنی ہوتی ہے اُسے یہاں منفی طور پر پیش کیا گیا ہے جب کہ یہ منظر خوشنما ہوتا ہے۔ لیکن اس کی توجیہ یہ ہے کہ چوں کہ عورت فراق زدہ ہے اس لیے اسے یہ روشنی ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے کسی نے آگ پر سوکھی گھاس رکھ دی ہو۔ ’پھوس‘ کا لفظ بھی اس خالص ہندوستانی رنگ کو نشان زد کرتا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب دیہاتوں اور گاؤں میں بھی پکّے مکانات کثرت سے دکھائی دینے لگے ہیں۔

 

بکٹ کہانی میں ہندستانی تیوہاروں کا ذکر جا بہ جا ملتا ہے۔ افضل نے تیوہاروں کا ذکر مہینوں کی مناسبت سے کیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:

 

کناگت نیورتی جب پی جماوے

مَہَر کرکے تجھے دیکھے بلاوے

 

سلام از طرفِ این غمخوار کیجو

پگن کوں پرس پاتی ہات دیجو

 

دسہرہ پوجتی گھر گھر سکھی ری

کرم میرے نہ جانوں کیا لکھی ری

 

کناگت کنوارمہینےکااندھیراپاکھکہلاتاہے۔اسمیںمُردوںکےایصالثواب کے لیے پنڈتوں کی ضیافتیں کی جاتی ہیں۔ نیورتی کو عام طور پر نوراتر کہتے ہیں۔ کنوار مہینے میں ہی نوراتر اور درگا پوجا ہوتی ہے۔ دسہرہ کا موقع بھی یہی ہوتا ہے۔ اس طرح دیکھیے تو بکٹ کہانی میں ہندستانی تہذیب پوری طرح چلتی پھرتی نظر آتی ہے اور اس کی ایک سماجی معنویت بھی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح ماہ ہشتم پھاگن کے بیان میں عیش و طرب اور سجنے سنورنے کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے بھی ایک تہذیبی تناظر خلق ہوتا ہے جس میں خالص ہندستانی رنگ ہے۔ ملاحظہ کیجیے افضل کی منظرکشی:

 

چلیں بن ٹھن سبھی اپنے مندرسوں

کہ کھیلیں پھاگ جا اپنے سُندر سوں

 

معصفر چونریاں سب پہر آئیں

سبھوں نے کھوڑ سوں مانگا بھرائیں

 

بہ چشم سیاہ، سرمہ سیاہ ڈاریں

تبسم کر لب و دنداں اُگھاریں

 

بہ دنداں ہر یکے مِسّی جمائی

کروں کیا کچھ نہیں ہولی برائی

 

نگہباں گنج خوبی کی دو ناگن

لٹکتی مکھ اُپر مُرکائیں ساجن

 

سلونی سانوری اور سبز گوری

سبھی کھیلیں پیا اپنے سے ہوری

 

بھرے رنگوں کے مٹکے ساتھ سب کے

اچھی پچکاریاں ہیں ہاتھ سب کے

 

گلال اندر بھیئں ہیں لال ساری

بجاویں دف پیا کے نال ساری

——

کَہوں ڈھولک، کہوں مردنگ باجے

کَہوں سر منڈلا اور طنبور گاجے

 

بھریں چنگل عبیروں کے اڑاویں

کریں خوش حالیاں چھیڑیں چھڑاویں

 

افضل کے اس بارہ ماسے میں خالص اردو نظم کے نمونے بھی جا بہ جا ملتے ہیں۔ اوپر جو اشعار پیش کیے گئے ہیں ان میں نظیر اکبرآبادی کی ’ہولی‘ کے اشعار کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ نظیر کے رنگ شاعری کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے سامنے افضل اور دوسرے شعرا کے بارہ ماسوں کی مستحکم روایت بھی رہی ہوگی۔ اس کے علاوہ دکنی شعرا کے شعری نمونے بھی یقینا رہے ہوں گے۔ 

 

افضل نے مذکورہ بالا حصے میں جو نقشہ پیش کیا ہے اس میں ان کی پوری تخلیقیت سما گئی ہے۔ معصفر چونری یعنی زعفرانی رنگ کی چنری کا ذکر بُرا نہیں لگتا۔ پھر یہ کہ ’بہ چشم سیاہ سرمہ سیاہ ڈاریں‘ یعنی کالی آنکھوں میں کالا سرمہ، ’تبسم کرلب و دنداں اُگھارنا‘ او رپھر ہر ایک کا دانتوں پر مِسّی جمانا، رنگوں کے مٹکے اور پچکاریاں، گلال سے ساریوں کا لال ہونا اور پیا کے سنگ دف بجانا— ایک ایسا خالص ہندستانی تہذیبی رنگ پیش کرتا ہے جس میں تصنع کے بجائے ایک طرح کا فطری پن ہے۔ افضل نے اس بارہ ماسہ میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو پوری تخلیقی قوت اور فنی رموز کے ساتھ پیش کیا ہے۔

 

افضل کی بکٹ کہانی قدیم اردو شاعری کے نمونوں میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ اس میں اردو زبان کے ارتقائی اور تشکیلی مراحل کے نقوش بہت ہی واضح شکل میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کا سب سے مستحکم حوالہ تہذیبی و تمدنی عناصر سے ترتیب پاتا ہے اور اسی سے اس کے شعری حسن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

 

Back to top button
Translate »