مثنوی سحرالبیان کی تلخیص اور تجزیہ

سحری البیان میر حسن کی آخری عمر کی تصنیف ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی مثنویا ں لکھ چکے تھے۔ سحر البیان اُردو کی معروف مثنوی ہے۔ سحر البیان کے فنی محاسن کے سلسلے میں اس کی کردار نگاری پلاٹ، جذبات نگاری، مکالمہ نگاری، مرقع نگاری، منظر نگاری اور سراپا نگاری کے ساتھ ساتھ ایک مربوط معاشرت کے ثقافتی کوائف کی تفصیل بیان کرتی ہے۔اس مثنوی کو میر حسن نے 1782ء میں لکھ لیا تھا، اس وقت تک برصغیر میں چھاپہ خانہ نہیں تھاباوجود اس کہ کتاب عام ہوئی اور عوام و خواص میں اس کی شہرت ہو گئی۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ نے 1803ء میں اسے چھاپہ خانہ سے چھاپ کر شائع کیا، اس کتاب کے دیوناگری اور گجراتی رسم الخط میں بھی نسخے چھاپے گئے۔ انڈیا آفس لائبریری برطانیہ میں اُردو، دیوناگری اور گجراتی میں انیسویں صدی کی بیس مختلف طباعتیں موجود ہیں۔

اس مثنوی سے میر حسن اور ان کے دور کے مذہبی افکار و اخلاقی اقدار پر روشنی پڑتی ہے جو اس معاشرت کے روایتی طرز فکر اور تصور زندگی کا جزو بن چکے تھے۔ سحر البیان اس دور کے مذہبی اعتقادات، ذہنی امور اور اخلاقی تصورات کی عکاس ہے۔ یہ مثنوی دراصل اس طرز زندگی کی بہترین نمائندگی کرتی ہے جب اودھ کی اس فضا میں جہاں تکلف و تصنع کا دور دورہ تھا ایک تہذیب بن رہی تھی، سحر البیان میں اس تہذیب کی تصویریں بھی محفوط ہیں۔ میر حسن چونکہ دہلی سے آئے تھے اور مغل تہذیب کے دلدادہ تھے اسی لیے اس میں مثنوی گلزار نسیم کے مقابلے میں لکھنوی عناصر کم ہیں، نیز اس مثنوی کا اسلوب و لہجہ دہلوی ہے۔ تکلفات و تصنعات کا وہ زور نہیں جو بعد میں گلزار نسیم کی صورت میں نمودار ہوا۔

اہم نکات

٭ متقارب مثمن مقصود یا مخذوف یعنی فعولن، فعولن ، فعولن، فعول یا فعل۔ فردوسی کا شاہ نامہ ، نظامی کا سکندر نامہ، سراج کی بوستانِ خیا ل اور میر حسن کی سحر البیان اسی بحر میں ہے۔

٭ سحر البیان مثنوی فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے پہلی بار 1220ھ مطابق 1805ء میں شائع ہوئی۔ سحر البیان تقریباً ڈھائی ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ آغا ز داستان سے پہلے 38؍اشعار حمد کے اور 26؍اشعار نعت کے ہیں۔ حضرت علی کی شان میں 19؍ اور اصحاب پاک کی مدح میں 4؍اشعار کہے گئے ہیں۔ بعد ازاں مناجات کے 14؍اشعار ہیں۔ (اُردو کی بہترین مثنویاں،از:فرمان فتح پوری)

٭ میر غلام حسین ضاحک کے فرزند میر غلام حسن دہلوی کی مثنوی سحرالبیان( سنہ تصنیف 1199ھ/ 1784-85) میں پہلی بار ہندوستانی پریس کلکتہ سے 1220ھ / 1805ء میں فورٹ ولیم کالج سے شائع ہوئی۔

٭ سحرالبیان یہ مثنوی میر حسن ، مثنوی بدر منیر ، قصہ بد ر منیر، شہزادہ بے نظیر وغیرہ کے ناموں سے جانی جاتی تھی۔

مثنوی سحرالبیان کاخلاصہ

کسی ملک میں ایک بادشاہ تھا جو اپنی منصف مزاجی کی وجہ سے رعایا میں ہر دل عزیز تھا۔ بادشاہ کو تمام نعمتیں میسر تھیں مگر اولاد جیسی نعمت سے محرومی اس کی زندگی کی سب سے بڑی محرومی تھی۔ اس محرومی و مایوسی کے عالم میں بادشاہ دنیا ترک کر دینے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ وزیروں کے مشورے پر وہ سردست اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیتا ہے۔ شاہی نجومی بادشاہ کے یہاں چاند سے بچے کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں۔ لیکن اس کی سلامتی و زندگی میں چند خطروں کی نشان دہی کرتے ہوئے احتیاط کی تلقین کرتے ہیں کہ اسے بارہ سال کی عمر تک محل کے اندر رکھا جائے اور رات کھلے آسمان تلے سونے نہ دیا جائے۔کچھ عرصے بعد واقعی بادشاہ کے گھر لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اس کا نام اس کی خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کے پیش نظر ’’ بے نظیر ‘‘ رکھا جاتا ہے۔ تمام شاہی تکلفات اور ناز و نعم کے ساتھ 12؍ سال تک اسے محل کے اندر رکھا جاتا ہے۔ مگر سال کے آخری دن جب اس کی عمر بادشاہ کے حساب سے پورے بارہ سال ہوگئی تھی (حالانکہ اتفاق سے ایک دن کم تھا) وہ رات کو ضد کرکے چھت پر سو جاتا ہے۔ آدھی رات کے قریب ’’ماہ رخ‘‘ پری کا گزر وہاں سے ہوا، اسے سوتے دیکھ کر اس پر عاشق ہوگئی اور اپنے ساتھ پرستان میں لے گئی۔ شہزادے کی گم شدگی پر صبح محل میں قیامت کا منظر برپا ہو جاتا ہے۔ بڑی تلاش کی گئی مگر شہزادہ نہ ملا۔ ماہ رخ پری طرح طرح سے شہزادے کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ شہزادہ اپنی صغر سنی کے باعث اُداس ، ملول اور پریشان رہتا ہے۔ اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے ماہ رخ پری اسے ’’کل کا گھوڑا‘‘ دیتی ہے۔ شہزادہ اس گھوڑے پر سیر کرتا ہوا ’’بدر منیر شہزادی‘‘ کے باغ میں جااُترتا ہے، دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر عاشق ہوجاتے ہیں کہ اچانک ایک دن ایک ’’دیو‘‘ان دونوں کو وصل کی حالت میں دیکھ لیتا ہے۔ اس کی اطلا ع ماہ رخ پری کو ہوتی ہے تو وہ انتہائی غضبناک ہو کر شہزادے کو واپس آنے پر’’ کوہ قاف‘‘ کے اندھے کنوئیں میں ڈال دیتی ہے۔بدر منیر کا عجیب حال ہے، اس کی راز دار سہیلی وزیر زادی ’’نجم النساء‘‘ بے نظیر کی تلاش میں نکلتی ہے اور آخر کار بڑی مشکلوں سے جنوں کے بادشاہ کے بیٹے ’’فیروز شاہ‘‘ کی مدد سے بے نظیر کو رہائی دلاتی ہے۔ دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ خود نجم النساء فیروز شاہ(جنوں کا بادشاہ) کے ساتھ بیاہ کر لیتی ہے اور یوں یہ مثنوی طرب ناک انجام کو پہنچتی ہے۔

سحرالبیان کے کردار

٭ مردانے کردار : بے نظیر کا باپ ،شہزادہ بے نظیر ،فیروز شاہ ( جنوں کا بادشاہ)،مسعود شاہ، نجومی ، رمال۔
٭ نسوانی کرادر : بدر منیر ، نجم النساء ، ( وزیر زادی) ، ماہ رخ ( پری) ، لونڈیاں۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!