شیخ محمد ابراہیم ذوق (خاقانیِ ہند)

 

نام : شیخ محمد ابراہیم ذوق


ولادت : 1203ھ مطابق 1788ء دہلی


وفات : 1271ھ مطابق 1854ء دہلی


والد : شیخ محمد رمضان ( ضلع مظفر نگر یوپی)


استاد : حافظ غلام رسول شوقؔ ، شاہ نصیر


دبستان دہلی میں شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔’’ محمد ابراہیم‘‘ نام اور ’’ذوق‘‘ؔ تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔دہلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوقؔ بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوقؔ بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہوگیا کہ قلعہ معلی تک رسائی ہوگئی اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفرؔ ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں’’ ملک الشعراء‘‘،’’ خاقانی ہند‘‘ کا خطاب عطا فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پرمغل فرمانروا بہادر شاہ ظفرؔ کے اُستاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16؍ نومبر 1854ء کو 65 سال کی عمر میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔شیخ ابراہیم ذوقؔ کی آخری آرام گاہ’’ پہاڑ گنج‘‘ شمالی دہلی میں ہے۔

 

اہم نکات


شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں’’ ملک الشعراء‘‘،’’ خاقانی ہند‘‘ کا خطاب مرحمت فرمایا۔
مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفرؔ کے اُستاد مقرر ہوئے۔
ذوق کے مطبوعہ قصائد کی تعداد 25؍ہے۔ دو اور قصیدے اور ایک مخمس اس کے بعد میں ایک بیاض میں دستیاب ہوئے ہیں۔ آپ کا صرف ایک قصیدہ سید عاشق نہال چشتی کی مدح میں ملتا ہے۔ زیادہ تر قصیدے اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ملتے ہیں۔
دیوان ذوق

 

ذوق کی قصیدہ نگاری

 

شیخ محمد ابراہیم ذوق اس عہد کے شاعر ہیں جب اردو شاعری میں الفاظ و تراکیب کی شوخی اور چستی محاورہ اور روزمرہ کی خوبصورتی اور قدرت ِ زبان کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ذوق کو اپنی زندگی میں ہی استادی کی خلعت فاخرہ نصیب ہوئی۔ ذوق نے اسی روش کے پیش نظر شاعری کو اپنی خصوصی لوازم سے معطر کیا اوراپنی شاعری کو فکر و خیال کی توانائیوں اور خوبصورتیوں سے مرصع کیا۔قصیدہ نگاری کے فن سے ذوق کا نام الگ کرنا ایسا ہی مشکل ہے جس طرح گوشت سے ناخن کا جدا کرنا محال ہے۔ قصید ہ نگاری سے ذوق کا نام چسپاں ہے، اگر ذوق کو قصیدہ سے قصید ہ کو ذوق سے علیحدہ کردیا جائے تو یہ فن خزاں کی طرح ویران نظرآئے گا۔ ذوق نے اپنی قصیدہ نگاری کی مشعل کو سودا کے چراغ سے روشن کیا ہے ۔ ذوق جب اُنیس سال کے تھے اسی وقت سے وہ ایک مستند قصیدہ گو شمار کیے جاتے تھے ،چنانچہ اس عمر میں انھوں نے اکبر شاہ ثانی کی تعریف میں ایک قصیدہ کہاا س کا مطلع ہے۔


جب کہ سرطان و اسد مہر کا ٹھہرا مسکن
آب و ایلولہ ہوئے نشوونمائے گلشن


اس قصیدے سے خوش ہو کر اکبر شاہ ثانی نے ذوق کو ’’خاقانی ہند‘‘ کا خطاب عطا فرمایا۔


ذوق نے اپنے قصائد میں شاعری کے تمام لوازمات کو بڑی مہارت حسن اور قرینے کے ساتھ سمویا ہے ۔ وہ اپنے قصائد محض مدح سرائی کے لیے نہیں کہتے بلکہ بعض صورتوں میں وہ مقصدی پہلوئوں پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس طرح وہ قصائد سے اصلاح ِ احوال کا کام بھی لیتے ہیں ۔ وہ شگفتہ پیرائے میں دنیا کی بے ثباتی ، اشیاءکی جزئیات نگاری اوراخلاق و اطور کی صحیح صحیح نقشہ کشی اور مصوری کرنے کی بھی اپنے تئیں پوری پوری کوشش جاری رکھتے ہیں۔ اور حتیٰ الامکان ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بیان میں شستگی اور سلاست برقرار ہے مگر اس سلاست میں بھی وہ موتی پرو دیتے ہیں۔


اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام سے ہیں وہ، جو تکلف نہیں کرتے


ایک دفعہ ذوق نے بہادر شاہ ظفر کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس کا مطلع ہے۔


شب کو میں اپنے سرِ بستر ِ خواب راحت
نشہ علم میں سرمست غرور و نخوت


اس قصید ے کے معاوضے میں بہادر شاہ ظفر نے ذوق کو ایک گائوں بخش دیا ۔ غرضیکہ ذوق نے قصیدہ گوئی میں اپنی زندگی ہی میں ’’مقام حیات ‘‘ حاصل کر لیا تھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ان کا نام قصیدہ گوئی کے گلشن میں مشک ختن کی طرح مہکنے لگا۔

 

قصائد ذوق کی فنی خصوصیات

 

ذوق اپنے دور کے سب سے بڑے قصیدہ نگار سمجھے جاتے ہیں۔ ذوق کے قصائد میں فارسی قصید ے سے براہ راست استفادہ بھی نظر آتا ہے۔ اور اُردو قصیدے کا اثر بھی دکھائی دیتا ہے۔ خصوصاً سودا کے قصائد سے وہ یقینا متاثر ہوئے ہیں۔ ذوق کی قصیدہ نگاری کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں قصیدے کے جزئیات کا جائزہ لینا پڑ ے گا کہ ذوق نے قصیدہ نگاری میں کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

 

تشبیب

 

قصیدے کا پہلا حصہ تشبیب کہلاتا ہے ۔ اس میں شاعر عشق و عاشقی کی باتیں ، شباب جوانی کے قصے اور فضا کی رنگینی کا حال بیان کرتا ہے۔ ذوق نے تشبیب میں سودا کی تقلید کی ہے اور نہایت صناعی اور حسن کاری کے ساتھ بیرونی ماحو ل کی نقشہ کشی کی ہے۔ عام طور سے ان کی تشبیب بہاریہ ہوتی ہے اور اس میں بے حد روانی اور ترنم پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی ترنم ان کے قصیدوں میں بڑی دلکشی پیدا کر دیتاہے۔ذوق نے ایک قصید ہ اس وقت کہاتھا جب بہادر شاہ ظفر ولی عہد تھے۔ اپنی ولی عہد ی کے دوران علیل ہوگئے ،وہ صحت یاب ہوئے تو اکبر ثانی نے جشنِ غسل منایا ،ذوق نے اس موقع پر قصیدہ کہا جس کی تشبیب بہاریہ ہے ذوق فرماتے ہیں:


واہ واہ کیا معتدل ہے باغِ عالم کی ہوا
مثلِ نبض ِ صاحبِ صحت ہے ہرموج ِ صبا


بھرتی ہے کیا کیا مسیحائی کا دم بادِ بہار
بن گیا گلزار ِ عالم رشک صد دارالشفا


ہوگیا موقوف یہ سودا کا بالکل اختراق
لالہ ، بے داغ سیہ پانے لگا نشونما


ذوق کے قصائد میں کہیں کہیں رندانہ اور عاشقانہ تشبیب ملتی ہے وہ اس قسم کی تشبیب میں بادہ و ساغر اورحسن و عشق کا ذکر کرتے ہیں:


ساون میں دیا پھر مہ شوال دکھائی
برسات میں عید آئی قدح کش کی بن آئی


کرتا ہے ہلال ابروئے پُر خم سے اشارہ
ساقی کو، کہ بھر بادہ سے کشتی طلائی


کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشہ میں
ساقی نے ہے آتش سے مئے تیز اُڑائی


ذوق کے اس قصیدے کی تشبیب بھی بہت حسین ہے جو انھوں نے بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کے موقع پر کہی ہے۔ اس تشبیب میں حسن و جمال کی موجیں رقصاں ہیں ۔ اس کے علاوہ مبالغہ بھی معتدل اور متوازن ہے۔ ذوق کی یہ تشبیب ملاحظہ ہو:


یوں خوشنما ہے آج جو نورِ سحر ، رنگ شفق
پرتو ہے کس خورشید کا نور سحر ، رنگ شفق


یہ جوش نسرین و سمن ، یہ لالہ و گل کا چمن
گلشن میں گویا چھا گیا نور سحر ، رنگ شفق


ان کے قصائد کی تشبیب میں علمی اور حکیمانہ اصطلاحات کاستعمال بھی زیادہ نمایاں ہوگیا ہے اس لیے ان کے قصائد خاقانی کی یاد دلاتے ہیں ۔ مضمون آفرینی اور علمی تحصیل کے اعتبا ر سے انوری سے متاثر ہوئے ۔ ان کی تشبیہات میں بڑی دلکشی پائی جاتی ہے۔

 

گریز

 

تشبیب کے بعد قصیدے میں گریز کی منزل آتی ہے گریز کی یہ خوبی قرار دی گئی ہے کہ تشبیب کے بعد ممدوح کا ذکر نہایت ہی فطری اور موزوں طریقے سے کیا جائے یعنی بیان میں ایک فطری مناسبت ، تسلسل اور ربط قائم رہے۔ سودا کے قصیدوں میں گریز فطری ہوتی ہے، وہ نہایت فنکارانہ انداز میں تشبیب کے بعد بیان کا رخ موڑتے ہیں۔ ذوق نے ولی عہد کے جشن ِ غسل صحت کے موقع پر قصیدہ کہا ہے۔ اس کی تشبیب میں دکھایا ہے کہ باغِ عالم کی ہوا بہت معتدل ہے چنانچہ ہر شے صحت مند نظرآتی ہے۔ اس کے بعد وہ گریز کی طرف رجوع کرتے ہیں:


واقعی کس طرح سے صحت نہ اک عالم کو ہو
جبکہ ہو اس کی نوید غسلِ صحت جاں فزا


یہ گریز مختصر بھی ہے اور فطری بھی یہاں تشبیب اور گریز میں کوئی فاصلہ نہیں ہے اس کے بعد مدح فطر ی انداز میں شروع ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ذوق کے ہاں گریز بہت فطری انداز میں نمایاں ہوتی ہے لیکن بعض اوقات ان کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں کبھی کبھی تشبیب اور گریز میں ایک خلا رہ جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ دو اینٹوں کے درمیان کچھ جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ذوق کے قصید ے میں رندانہ مضامین بھی نظم ہیں۔ جیسے:


پیری میں پُر ضرور ہے جام شراب ناب
پائے فروغ صبح نہ بے نور آفتاب


لیکن ہے ابر رحمتِ باری سے درخشاں
دامان ترا مرا روش دامنِ سحاب


ا س تشبیب کے بعد گریز شروع ہوتی ہے۔


مداح میں ہوں اس کا کہ ہے جس کی دور میں

شبِ زمانہ کے لیے بے کیفیت شباب


یہاں تشبیب سے گریز بالکل پیوستہ نہیں بلکہ دونوں میں ایک زبردست خلا واقع ہے ۔گریز ،اچانک ، بے موقع بے محل او ر بے ربطی کے ساتھ آگئی ہے۔

 

مدح

 

قصیدے کا سب سے ضروری جز مدح سرائی ہے ۔ اور اسی پر قصیدے کی بنیا د ہوتی ہے۔ عربی قصائد میں مدح حقیقت اور واقعیت سے بھر پور ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک عرب شاعر کو کسی نے اپنی مدح پر مجبور کیا تو اس نے جواب دیا کہ ’’ تم کچھ کرکے دکھائو تو میں تمہاری مدح کروں۔‘‘ مگر فارسی اور اردو میں مدح کا معیار خیال آفرینی اور مبالغہ ہوتا ہے۔ یہاں ممدوح کی ذات میں مثالی خصوصیات فرض کرکے بیان کی جاتی ہیں ۔ قصیدوں میں مدح کا حصہ اکثر تکرار مضامین کی وجہ سے بے لطف ہو جاتا ہے۔


مدح میں ممدوح کے اوصاف کی تعریف کی جاتی ہے۔ مثلاً شجاعت ، عدل ، علم ، سخاوت وغیرہ ۔ شجاعت کے ضمن میں جب ایک ممدوح کی تلوار ، گھوڑے اور ہاتھی کی تعریف نہ کی جائے مدح مکمل نہیں ہوتی۔ عدل اور علم کے بارے میں بار بار چند تشبیہات ، استعارا ت اور تلمیحات سے کام چلایا جاتا ہے۔ سخاوت کا بیان البتہ حسن ِ طلب کی ذیل میں آتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ممدوح کی سخاوت کی تعریف کرکے صلہ حاصل کیا جائے۔جہاں تک ذوق کا تعلق ہے وہ رسم مدح نبھاتے ہیں انھوں نے زیادہ تراکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح کی ہے۔ اسی ہی میں سارا زور ِ قلم صرف کر دیا ہے۔ انھوں نے سلاطین کی سخاوت ، شجاعت اور عدالت وغیرہ کی تعریف کی ہے۔


ذوق نے بہادر شاہ ظفر کی صحت یابی کے وقت پر شکوہ قصیدہ کہا اور بادشاہ کی صحت یابی کا اثر کائنات پر دکھایا وہ فرماتے ہیں:


عجب نہیں یہ ہوا سے کہ مثل ِ نبض صحیح
کرے اگر حرکت موجِ چشمہ تصویر


نہ برق کو تپ لرزہ ، نہ ابر کو ہو زکام
نہ آب میں ہو رطوبت ، نہ خاک میں تبخیر


غرضیکہ بادشاہ کی صحت یابی اس قدر مبارک ہے کہ سطح گیتی سے سارے امراض ختم ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان اشعار میں مبالغہ موجودہے مگر بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے قصیدہ گو شعرا یہی نسخہ استعما ل کرتے تھے۔ اسی قصیدے میں ذوق نے بہادر شاہ ظفر کی دیگر خوبیوں پربھی روشنی ڈالی ہے مثلاً وہ کہتے ہیں:


مجال کیا کہ ترے عہد میں شرر کی طرح
اُٹھائیں سر کو شرارت سے سر کشان شریر


ہوا میں آکے جو کرتا ہے سر کشی شعلہ
تو چٹکیاں دلِ آتش میں بے ہی آتش گیر


ان اشعار میں ذوق نے بہادر شاہ ظفر کی شان میں عید کے موقع پر جو قصیدہ کہا ہے۔ اس کی مدح بھی بہت شاندار ہے۔ ذوق بادشاہ کی تعریف یوں کرتے ہیں:

 

تیرا دروازہ دولت ہے مقام اُمید
تیرا دیوانِ عدالت ہے محلِ عبرت


ذہن عالی ہے ترا طائر شاخ سدرہ
طبع رنگیں تری ، گل چین ِریاضِ جنت

 

دعائیہ

 

قصیدے کا آخری حصہ دُعائیہ ہوتا ہے، اس میں ممدوح کو بلند اقبال اور درازی عمر کی دعا دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ قصائد میں ایک اور روایت بن گئی ہے کہ ممدوح کو دعا دینے کے ساتھ اس کے دشمنوں اور حاسدوں کو بددعا دی جاتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں یعنی دعا اور بد دعا قصائد میں لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ذوق کی دعائوں میں نازک خیالی اور معنی آفرینی نظر آتی ہے ۔ ساتھ ہی چاپلوسی کا رنگ بھی غالب نظر آتا ہے۔ذوق بادشاہ کے غسل صحت کے موقع پر ان کو یوں دعا دیتے ہیں:


عطا کرے تجھے عالم میں قادر قیوم
بجاہ و دولت و اقبال و عزت و توقیر


ذوق نے مندرجہ ذیل اشعار میں بادشاہ کے دشمنوں کو بد دعا دی ہے۔


ذوق کرتا ہے دعائیہ پہ اب ختم سخن
کہ زباں کو ہے نہ یارا ، نہ قلم کو طاقت


خیر خواہوں کے تیرے چہرہ پہ ہو رنگ نشاط
اور بد خواہوں کے رخساروں پہ اشک ِ حیرت


دوستوں کو ہو ترے گنج گہر روز نصیب
ہو نہ جز اشک سر دامنِ اعدا گوہر؟

 

مجموعی جائزہ

 

ذوق کے قصائد مجموعی طور پر اعلیٰ معیار کے حامل ہیں مگر سودا کے مقابلے میں ان میں تصنع اور آورد زیادہ ہے ۔ ذوق کے قصائد کی فضابھی بہت محدود ہے۔ انھوں نے صرف شاہی دربار کا مطالعہ کیا۔ اس سے ہٹ کر انھوں نے کائنات پر نظر نہیں دوڑائی ۔ اسی لیے ان کی نگاہ صرف درباری ماحول تک محدود رہی ۔ انھوں نے فطرت کا بھی مشاہدہ نہیں کیا اس لیے ان کے قصائد میں چمن لالہ و گل کے بجائے دربار کے نقش و نگار زیادہ جلوہ گر ہیں۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیںکہ ’’ ذوق نے بھی قصیدے نہایت اہتمام و کاوش سے لکھے ہیں ہر قصیدے کا رنگ جدا ہے، ہر قصیدہ میں ایک نئی بات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘


ذوق نے سودا کے بعد فن ِ قصیدہ کو زندہ رکھا ۔ نازک خیالی ، علمیت ، سنجیدگی ، صناعی اور تشبیہات کے استعمال سے اسے چار چاند لگا دیے۔ لیکن وہ سودا کے پائے کے شاعر اور قصیدہ گو نہیں ہیں، ڈاکٹر اعجاز حسین ذوق کی قصیدہ نگاری کے بارے میں لکھتے ہیںکہ’’ قصیدہ گوئی میں ذوق کا پایہ بہت بلند ہے سودا کے بعد اس صنفِ شاعری کے معیار کو قائم رکھنے میں انھوں نے بڑی قابلیت سے کام لیا۔ مضامین میں تنوع اور بیان میں زورِ علمیت خاص طور پر نمایاں ہے۔ الفاظ کا نادر اور دلکش ذخیرہ خوبی سے یکجا کرتے ہیں ۔ ترنم کا بہت خیال رکھتے ہیں ،تشبیب میں عموماً ندرت اور پرکاری سے کام لیتے ہیں، مختلف مسائل پر بحث بھی کرتے جاتے ہیں ۔ باوجود سنگلاخ زمین و الفاظ کے ذہن میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہوتی، مگر بلند تخیل کی کمی ، جامعیت ذوق کو سودا کے برابر نہیں پہنچنے دیتی۔‘‘


ذوق اردو کے نامور قصیدہ گو تھے۔ یوں تو انھوں نے دیگر اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن قصیدہ نگاری میں سودا کے بعد ’’خاقانی ہند‘‘ ذوق کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ ان کے قصیدوں میں قصیدہ گوئی کے تمام فنی لوازم موجود ہیں۔ اگر چہ ان کا بیشتر کلام 1857ءکی جنگ آزادی میں تلف ہوگیا ۔ تاہم ان کے موجودہ دیوان میں تیس سے زائد قصیدے موجود ہیں۔ ان کے قصائد علمی اصطلاحات سے پر ہیں جن سے ان کی علمیت اور بالغ نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ ذوق کے قصیدوں میں وہ خوبیاں ملتی ہیں جو اس فن کے لیے لازم قرار دی گئی ہیں۔ یعنی مضامین کی تازگی ، تخیل کی بلندی ، زور و جوش ، متانت وسنجیدگی ، صفائی اور چستی ، علمی اصطلاحات اور تلمیحات ، مناسب و موزوں تشبیہات و استعارات ، زبا ن کا لطف ، فصاحت ، روانی ، موزوں و مناسب الفاظ کا استعمال ذوق نے مشکل اور سنگلاخ زمینوں میں بھی بہت اچھے قصیدے لکھے ہیں جو ان کی پختہ کاری کا بین ثبوت ہے۔ ذوق کے قصیدوں میں تخیل کی بلندی، مضمون آفرینی ، جدت کی بہترین مثالیں موجود ہیں۔


بحر حال اتنا تو تسلیم کرنا ہوگا کہ قصیدہ گوئی کے میدان میں ذوق کا ایک اعلیٰ مقام ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان کو سودا پر برتری حاصل نہیں ہے۔ مگر اتنا ہم بلا تامل کہہ سکتے ہیں کہ ذوق کی زبان سودا کی زبان سے زیادہ صاف ، ستھری اور نکھری ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سودا کے عہد میں زبان مشکل پذیر ہو رہی تھی ،رفتہ رفتہ زبان میں ترقی ہوئی اور اس پر نکھار آیا ۔ یہاں تک کہ ذوق کے عہد میں وہ صاف ہو کر آب و آئینہ بن گئی۔ اس لیے ذوق کے قصائد میں روانی ، سلاست ، نغمگی اور موسیقیت سودا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ البتہ فن کے لحاظ سے سودا کو ذوق پر برتری حاصل ہے۔ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سودا کے قصائد فنی اعتبار سے نقشِ اول ہیں اور ذوق کے قصائد نقشِ دوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخر میں فراق گورکھپوری کی رائے پر اپنی بات ختم کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیںکہ’’ ذوق کے کلام میں اردو نے اپنے آپ کو پایا ، روایتی باتوں کو اتنی سنوری ہوئی اور مکمل شکل میں پیش کر دینا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے آسانی کے ساتھ بھلایا نہیں جا سکتا۔‘‘

 

ذوق کے قصائد

 

ذوق قصیدہ گوئی میں سودا کے ہم پلہ شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ زندگی میں ان کے قصائد کو مرتب نہ کیا جاسکا ۔ ان کے انتقال کے تین سال کے بعد 1857 کے ہنگاموں میں آگ ان کے گھر کو کچھ اس طرح لگی کہ جو تھا سب جل گیا۔ جو قصائد بچ رہے وہ تعداد میں 24 ہیں۔ پہلا قصیدہ جو ملتا ہے وہ اکبر شاہ ثانی کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور سب سے آخری قصیدہ 1854 میں جشن عید الاضحی کے موقع پر بہادر شاہ ظفر کے نذر کیا گیا تھا۔
ذوق کے ممدوحین کی تعداد بہت کم ہے۔ ان کے بیش تر قصائد اکبر شاہ ثانی ( 12 ) اور بہادر شاہ ظفر ( 15 ) کی مدح میں ہیں۔ ایک قصیدہ شہزادہ جہانگیر کی شادی کے موقع پر لکھا گیا۔ ایک شہزادہ سلیم کے جشن شادی میں پیش کیا گیا۔ ایک قصیدہ کسی بزرگ سید عاشق نہال کی تعریف میں ہے۔ ایک قصیدہ جس کا مصرع ہے :


جب کہ سرطان و اسد ، مہر کا ، ٹھہرا مسکن


اس قصیدے میں ذوق نے کئی صنائع بدائع استعمال کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 18 زبانوں میں اٹھارہ شعر لکھے ہیں۔ ذوق کی اس قادر الکلامی پر بادشاہ اکبر شاہ ثانی نے انھیں ’’ خاقانی ہند‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ اس وقت ذوق کی عمر کوئی چالیس پینتالیس سال رہی ہوگی ۔ اس واقعے کے چند سال بعد اکتوبر 1837 ء کو اکبر شاہ ثانی کا انتقال ہوگیا اور مرزا ابو ظفر تخت نشین ہوئے۔ ابو ظفر سراج الدین نے بہادر شاہ کا لقب اختیار کیا۔ جشن تاج پوشی ( 7 جنوری 1837 ) کے موقع پر ذوق نے ایک شاندار قصیدہ پیش کیا، جس کا مطلع ہے :

 

یوں خوشنما ہے آج جو نورِ سحر ، رنگ شفق
پرتو ہے کس خورشید کا نور سحر ، رنگ شفق


اس قصیدہ پر ذوق کو ملک الشعراء کا خطاب ملا۔ سال 1854ء میں بہادر شاہ ظفر سخت بیمار ہوگئے ۔ صحت یابی کے بعد مختلف شاعروں نے بہ طور تہنیت غسل صحت ، قصائد و قطعات تاریخ پیش کیے۔ غالب کی یہ مشہور غزل بھی اسی موقع پر کہی گئی تھی۔


پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہہ تماشائی


کیوں نہ عالم کو ہو خوشی غالب
شاہِ دیں دار نے شفا پائی


ذوق نے اس جشن صحت کے موقع پر ایک معرکۃ الآرا قصیدہ :


زہے نشاط اگر کیجئے اسے تحریر


پیش کیا جس کے صلے میں انھیں ایک زنجیر فیل اور ایک انگوٹھی مرصع عطا کی گئی اور خدمت کے لیے چار سپاہی مقرر کیے گئے۔ اس قصیدے کے کچھ عرصہ بعد ذوق نے ایک اور زور دار قصیدہ ’’ شب جو میں اپنے سرِ بستر خواب راحت ‘‘ لکھا۔ اس پر ایک گاؤں جاگیر میں دیا گیا۔ یہ قصیدہ ذوق کا آخری قصیدہ تھا۔

 

Back to top button
error: Content is protected !!