مثنوی زہر عشق کا خلاصہ

ایک بہت دولت مند تاجر تھا۔ اس کی ایک خوبصورت بیٹی تھی۔ اسے شعر گوئی کا ذوق اور لکھنے پڑھنے کا شوق تھا، ماں باپ کی بہت چہیتی تھی۔ایک دن وہ خوبصورت لڑکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ بام پر گئی تو وہاں ایک پڑوسی لڑکے سے آنکھ لڑ گئی، دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو گئے۔ ماں باپ نے بیٹے کی جو یہ حالت دیکھی تو وہ تڑپ اٹھے۔ لاکھ سمجھایا کچھ اثر نہ ہوا۔ سوداگر کی لڑکی نے ایک دن شوق کے ماما کے ذریعے ایک خط لکھ بھیجا۔ ادھر سے بھی خط کا جواب آیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ وعدے و عید ہوتے رہے۔ ایک دن وعدہ وفا ہوا۔ چھپ کے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ لڑکی کے گھر والوں کو اس کی خبر ہو گئی، انہوں نے لڑکی کو بنارس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سن کر لڑکی نے سوچا کہ ہجر میں جینے سے موت اچھی ہے اور کہا کہ ’’اس جدائی سے موت بہتر ہے۔‘‘عاشق زار نے سمجھایا کہ ماں باپ کی بات مان لو، ماں باپ کا اولاد پر بڑا حق ہے۔ کیوں خدانخواستہ زہر کھانے کی بات کرتی ہو؟ معشوق نے ایک نہ سنی اور چلی گئی ادھر یہ خوف کہ جو کہا ہے وہی نہ کر بیٹھے۔ اتنے میں ایک سمت سے غل اٹھا دوست احباب نے آ کر خبر دی کہ ایک سوداگر کے مکان سے یہ شور ماتم اٹھ رہا ہے۔ لڑکے کا دل بیٹھ گیا اس نے بھی زہر کھا لیا۔لڑکے پر تین دن تک غفلت طاری رہی۔ عاشق کو ہوش آیا تو زہر کا کچھ اثر نہ رہا۔ لوگ مبارک باد دینے لگے۔
عطا اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی من گھڑت کہانی یا قصہ نہیں ہے۔ یہ داستان عشق خود مرزا خاں شوق کی داستان عشق ہے۔ اس قصے میں کوئی مافوق الفطرت عناصر نہیں اور نہ کوئی قصہ در قصہ مثنوی کو آگے بڑھانے والی تکنیک استعمال ہو۔ ایک سیدھی سادی مختصرسی داستان ہے جس میں کرداروں کی فوج ہے نہ مناظر کی بہتات۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر سی نشست میں یہ مثنوی ختم ہو جاتی ہے اور ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے ۔

زہرعشق کے کردار

اس مختصر سے قصے میں ہیرو ہیروئین دونوں کے والدین اور ایک ماما کو پیش کیا گیا۔ آخر میں ہیرو کے چند دوستوں کا صرف تذکرہ آ جاتا ہے۔

Back to top button
error: Content is protected !!