Maharashtra State Eligibility Test (MH-SET)NotesTET/CTET/UPTET EXAMUGC NET URDUUrdu Ghazal

آیاتِ وجدانی کی ابتدائی دس غزلیں

Aayat-E-Wajdani Yagana Changezi Ki Ghazlen

آیاتِ وجدانی کی ابتدائی دس غزلیں

(1)

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو
لو دیکھ لو وہی کل آج بن کے آ نہ گیا

گناہ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری
کسی پہ ہنس لیے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

کروں تو کس سے کروں درد نارسا کا گلہ
کہ مجھ کو لے کے دل دوست میں سما نہ گیا

بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

کرشن کا ہوں پجاری علی کا بندہ ہوں
یگانہ شان خدا دیکھ کر رہا نہ گیا

(2)

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

برا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا
کبھی گمراہ ہو کر راہ پر آنا نہیں آتا

ازل سے تیرا بندہ ہوں ترا ہر حکم آنکھوں پر
مگر فرمانِ آزادی بجا لانا نہیں آتا

سراپا راز ہوں میں کیا بتاؤں کوں ہوں کیا ہوں
سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا

دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

اسیروشوقِ آزادی مجھے بھی گدگداتا ہے
مگر چادر سے باہر پائوں پھیلانا نہیں آتا

(3)

بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنا
منزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھنا

پہنا دیا ہے طوق غلامی تو، ایک دن
میری طرف بھی مالک تقدیر دیکھنا

مجھ ناتواں کا صبر تو کیا آزماؤگے
راس آئے تم کو جوہرِ شمشیر دیکھنا

ہوش اُڑ نہ جائیں صنعتِ بہزاد دیکھ کر
آئینہ رکھ کے سامنے تصویر دیکھنا

آوازے مجھ پہ کستے ہیں پھر بندگان عشق
پڑ جائے پھر نہ پاؤں میں زنجیر دیکھنا

مردوں سے شرط باندھ کے سوئی ہے اپنی موت
ہاں دیکھنا ذرا فلک پیر دیکھنا

چونکے تو چشم شوق میں عالم سیاہ تھا
خواب نظر فریب کی تعبیر دیکھنا

پروانے کر چکے تھے سرانجام خودکشی
فانوس آڑے آ گیا تقدیر دیکھنا

شاید خدانخواستہ آنکھیں دغا کریں
اچھا نہیں نوشتۂ تقدیر دیکھنا

اصلاح کی مجال نہیں ہے تو کیا ضرور
بے ربطیٔ نوشتۂ تقدیر دیکھنا

ہر خوب و زشت آپ ہی اپنی مثال ہے
حدکمالِ کاتبِ تقدیر دیکھنا

باد مراد چل چکی لنگر اٹھاؤ یاسؔ
پھر آگے بڑھ کے خوبیِ تقدیر دیکھنا

(4)

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
دلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کا

ہوائے کوچۂ قاتل سے بس نہیں چلتا
کشاں کشاں لیے جاتا ہے ولولہ دل کا

گلہ کسے ہے کہ قاتل نے نیم جاں چھوڑا
تڑپ تڑپ کے نکالوں گا حوصلہ دل کا

خدا بچائے کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک
تنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا

دکھا رہا ہے یہ دونوں جہاں کی کیفیت
کرے گا ساغر جم کیا مقابلہ دل کا

کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

پیالہ خالی اٹھا کر لگا لیا منہ سے
کہ یاسؔ کچھ تو نکل جائے حوصلہ دل کا

(5)

دھواں سا جب نظر آیا سواد منزل کا
نگاہِ شوق سے آگے تھا کارواں دل کا

چراغ لے کے کسے ڈھونڈتے ہیں دیوانے
نشاں تو دور ہے یاں نام تک نہیں دل کا

کبھی تو موج میں آئے گا تیرا دیوانہ
اشارہ چاہیے ہے جنبش سلاسل کا

ازل سے اپنا سفینہ رواں ہے دھارے پر
ہوا ہنوز نہ گرداب کا نہ ساحل کا

نہ سر میں نشہ ہے باقی نہ دل میں کیفیت
زباں پہ رہ گیا اک ذکر خیر محفل کا

وہ دشتِ شل جو دعا کے لیے بھی اٹھ نہ سکے
ارادہ کون سے بل پر کرے گاساحل کا

نہ جانے جھوٹ ہے یا سچ ہے وعدۂ فردا
اجل پہ فیصلہ ٹھہرا ہے حق و باطل کا

پرائی موت کا احساں بھی ہے ہمیں منظور
کہیں طلسم تو ٹوٹے عدم کی منزل کا

خود اپنی آگ میں جلتا تو کیمیا ہوتا
مزاج داں نہ تھا پروانہ شمع محفل کا

ہوا پھری افسردہ دلوں کی رُت بدلی
اُبل پڑا ہے پھر رنگ نقش باطل کا

جواب حسن طلب بے دلوں سے بن نہ پڑا
حیا سے گڑ گئے جب نام آگیا دل کا

امید و بیم نے وہ راستا ہی چھوڑ دیا
چراغ گل ہوا جب آستانۂ دل کا

فلک ہے دونوں طرف کا نگاہباں جب تک
نہ اپنی آنکھ اُٹھے گی نہ پردہ محمل کا

جناب یاس تھے تعبیر بد سے خود آگاہ
زباں گنگ تک آیا نہ ماجرا دل کا

(6)

چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا
لگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلا

دل اپنا خاک تھا پھر خاک کو جلانا کیا
نہ کوئی شعلہ اٹھا اور نہ کچھ دھواں نکلا

سنیں گے چھیڑ کے افسانہ ٔدل مرحوم
ادھر سے ملک عدم کا جو کارواں نکلا

تڑپ کے آبلہ پا اٹھ کھڑے ہوئے آخر
تلاش یار میں جب کوئی کارواں نکلا

لہو لگا کے شہیدوں میں ہو گئے داخل
ہوس تو نکلی مگر حوصلہ کہاں نکلا

حریم ناز میں شاید کسی کو دخل نہیں
دل عزیز بھی نا خواندہ میہماں نکلا

نہاں تھا خانۂ دل میں ہی شاہد مقصود
جو بے نشاں تھا وہ دیوار درمیاں نکلا

ہے فن عشق کا استاد بس دل وحشی
مریض غم کا یہی اک مزاج داں نکلا

لگا ہے دل کو اب انجام کار کا کھٹکا
بہار گل سے بھی اک پہلوئے خزاں نکلا

زمانہ پھر گیا چلنے لگی ہوا الٹی
چمن کو آگ لگا کر جو باغباں نکلا

ہمارے صبر کی کھاتے ہیں اب قسم اغیار
جفا کشی کا مزہ بعد امتحاں نکلا

خوشی سے ہو گئے بد خواہ میرے شادیٔ مرگ
کفن پہن کے جو میں گھر سے ناگہاں نکلا

اجل سے بڑھ کے محافظ نہیں کوئی اپنا
خدا کی شان کہ دشمن نگاہ باں نکلا

دکھایا گور سکندر نے بڑھ کے آئینہ
جو سر اٹھا کے کوئی زیر آسماں نکلا

لحد سے بڑھ کے نہیں کوئی گوشۂ راحت
قیامت آئی جو اس گھر سے میہماں نکلا

اب اپنی روح ہے اور سیر عالم بالا
کنویں سے یوسف گم کردہ کارواں نکلا

کلام یاسؔ سے دنیا میں پھر اک آگ لگی
یہ کون حضرت آتشؔ کا ہم زباں نکلا

(7)

قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا
مکان اپنا زمین اپنی آسماں اپنا

ہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا
چراغ جل نہ سکا زیر آسماں اپنا

سنا ہے رنگ زمانہ کا اعتبار نہیں
بدل نہ جائے یقیں سے کہیں گماں اپنا

بس ایک سایٔ دیوار یار کیا کم ہے
اٹھا لے سر سے مرے سایہ آسماں اپنا

مزے کے ساتھ ہوں اندوہ و غم تو کیا کہنا
یقیں نہ ہو تو کرے کوئی امتحاں اپنا

شریک حال ہوا ہے جو فقر و فاقہ میں
گڑھے گا ساتھ ہی کیا اپنے مہماں اپنا

عجیب بھول بھلیاں ہے منزل ہستی
بھٹکتا پھرتا ہے گم گشتہ کارواں اپنا

کدھر سے آتی ہے یوسف کی بوئے مستانہ
خراب پھرتا ہے جنگل میں کارواں اپنا

جرس نے مژدۂ منزل سنا کے چونکایا
نکل چلا تھا دبے پاؤں کارواں اپنا

خدا کسی کو بھی یہ خواب بد نہ دکھلائے
قفس کے سامنے جلتا ہے آشیاں اپنا

ہمارے قتل کا وعدہ ہے غیر کے ہاتھوں
عجیب شرط پہ ٹھہرا ہے امتحاں اپنا

ہمارا رنگ سخن یاسؔ کوئی کیا جانے
سوائے آتشؔ ہوا کون ہم زباں اپنا

(8)

پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیا
دل کا بنا بنایا گھر وندا بگڑ گیا

شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
غم کھاتے کھاتے منھ کا مزہ تک بگڑ گیا

الٹی تھی مت زمانۂ مردہ پرست کی
میں ایک ہوشیار کی زندہ ہی گڑ گیا

انساں وہ ہے جو زیر کرے دیو نفس کو
وہ مرد کیاجو پیر فلک سے پچھڑ گیا

اللہ ری کشاکش دیرو حرم کی یاسؔ
حیرت کے مارے بیچ دوراہے پہ گڑ گیا

(9)

واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا
یا کسی کے حسن عالم تاب کا دفتر کھلا

غیب سے پچھلے پہر آتی ہے کانوں میں صدا
اٹھو اٹھو رحمت رب علا کا در کھلا

آنکھ جھپکی تھی تصور بندھ چکا تھا یار کا
چونکتے ہی حسرت دیدار کا دفتر کھلا

کوئے جاناں کا سماں آنکھوں کے آگے پھر گیا
صبح جنت کا جو اپنے سامنے منظر کھلا

رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

آ رہی ہے صاف بوئے سنبل باغ جناں
گیسوئے محبوب شاید میری میت پر کھلا

چار دیوار عناصر پھاند کر پہنچے کہاں
آج اپنا زور وحشت عرش اعظم پر کھلا

چپ لگی مجھ کو گناہ عشق ثابت ہو گیا
رنگ چہرے کا اڑا راز دل مضطر کھلا

اشک خوں سے زرد چہرے پر ہے کیا طرفہ بہار
دیکھیے رنگ جنوں کیسا مرے منہ پر کھلا

خنجر قاتل سے جنت کی ہوا آنے لگی
اور بہار زخم سے فردوس کا منظر کھلا

نیم جاں چھوڑا تری تلوار نے اچھا کیا
ایڑیاں بسمل نے رگڑیں صبر کا جوہر کھلا

صحبت واعظ میں بھی انگڑائیاں آنے لگیں
راز اپنی مے کشی کا کیا کہیں کیونکر کھلا

ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

(10)

قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا
فلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہونا

شب تاریک نے پہلو دبایا روز روشن کا
زہے قسمت مرے بالیں پہ تیرا جلوہ گر ہونا

دیار بے خودی ہے اپنے حق میں گوشۂ راحت
غنیمت ہے گھڑی بھر خواب غفلت میں بسر ہونا

بہار آتے ہی شادی مرگ ہو جائوں تواچھا ہے
خزاں سے پہلے ہی بہتر ہے قصہ مختصر ہونا

تماشائے چمن کی کیا حقیقت چشم عبرت میں
اثر ہونا تولازم ہے مگر اُلٹا اثر ہونا

ہوائے تند سے کب تک لڑے گا شعلۂ سرکش
عبث ہے خود نمائی کی ہوس میں جلوہ گر ہونا

دل آگاہ نے بے کارمیری راہ کھوٹی کی
بہت اچھا تھا انجام سفر سے بے خبر ہونا

حریم نازمیں کب تک گھٹے گی بوئے پیراہن
ہوائے شوق میں لازم ہے اک دن منتشر ہونا

سما سکتے نہیں الفاظ میں معنی وجدانی
مگر لازم ہے دل ہی دل میں پوشیدہ اثر ہونا

وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
مگر لازم نہیں ہر ذات پر یکساں اثر ہونا

سنا کرتے تھے آج آنکھوں سے دیکھیں دیکھنے والے
نگاہ یاسؔ کا سنگیں دلوں پر کارگر ہونا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!