ArticlesBiographyMaharashtra State Eligibility Test (MH-SET)SHAKHSIYAATTET/CTET/UPTET EXAMUGC NET URDU

جگر مرادآبادی: حیات و خدمات

Jigar Moradabadi

رئیس المتغزلین جگر مرادآبادی

٭ نام : علی سکندر
٭ تخلص : جگرؔ
٭ استاد : مولوی علی نظر خواجہ وزیر
٭ ولادت : 6؍اپریل1890ء مراد آباد
٭ وفات : 9؍ستمبر1960ء گونڈہ

جگرؔ بیسویں صدی کے اُردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں ۔اُردو کے مشہور شاعر جگر ؔمرادآبادی کا اصل نام علی سکندر اور تخلص’’جگر ؔ‘‘تھا۔جگر ؔکی ولادت 6؍اپریل 1890ء کوریاست اُترپردیش کے شہر مرادآباد میںہوئی۔ قرآن پاک ، فارسی اور اردو کی تعلیم اس زمانے کے دستور کے مطابق گھر پر ہوئی۔آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گئے۔ ان کے والد علی نظر شاعر تھے۔ جگر ؔکے خاندان کے دوسرے اصحاب بھی شاعر تھے،اس طرح جگر ؔکو شاعری ورثے میں ملی۔چناں چہ جگرؔ کی شعر گوئی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ 14؍ برس کے تھے۔ ابتدا میں انھوں نے حیات بخش رسا کو کلام دکھایا، پھر داغ سے رجوع کیا اور کچھ عرصہ امیر اللہ تسلیم سے بھی اصلاح لی۔ جگر ؔصاحب کی زندگی کا بڑا حصہ مختلف اضلاع میں گذرا۔ ان کا پیشہ چشموں کی تجارت تھا۔ اصغر گونڈوی کی صحبت نے جگرؔ کی شاعری کو بہت جلا بخشی۔ جگر ؔمشاعروں کے بہت کامیاب شاعر تھے۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا۔بحیثیت انسان وہ نہایت شریف واقع ہوئے تھے۔ہندوستانی حکومت نے انھیں’’پدم بھوشن‘‘ کاخطاب دیا۔ علی گڑھ یونی ورسٹی نے جگرؔ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتش گل‘‘ پر ان کو ساہتیہ اکیڈمی سے انھیں پانچ ہزار روپیہ کا انعام ملا۔ اور دو سو روپیہ ماہ نامہ وظیفہ مقرر ہوا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلہ طور‘‘ ان کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ شراب کی وجہ سے آپ کی صحت بہت خراب رہنے لگی تھی۔ بڑھا پے میں مے نوشی سے تا ئب ہو گئے تھے ۔آپ مستقل طور پر گونڈہ میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ 9؍ستمبر 1960ء کو تقریباً صبح 6؍بجے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔گونڈہ میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے نام پر ’’جگر گنج ‘‘ رکھا گیا ہے ۔وہاں ایک اسکول کا نام بھی آپ کے نام پر ’’جگر میموریل انٹر کالج‘‘ رکھا گیا ہے۔

بیسویں صدی میں اُردو کے چار ستون فانی، حسرت ، اصغر اور جگر ہیں۔ لوگوں نے جگر کو نمایاں اور انفرادی خصوصیت کا مالک قرار دیا ہے حسن و عشق کی جو شکلیں جگر کے کلام میں ہیں کسی اور کے یہاں ملتی ہی نہیں ہیں۔ جگر کے یہاں سوزوگداز ، سرمستی وشادابی او ر وجد کی کیفیت ملتی ہے۔ جگر فن موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے انہوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشعار میں جادو بھر دیا۔جگرؔ ایک خوددار آدمی تھے، یہی خودداری انہیں فلمی دنیا سے واپس لے آئی۔

شعری مجموعے

( ۱) آتش گل1958ء
(۲) شعلۂ طور
(۳) داغ جگر (دورِ اوّل کا متروک اور غیر مطبوعہ کلام)
(۴) کلیات جگر :شعری مجموعے آتش گل اور شعلہ طور کا مجموعہ۔

معروف اشعار

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنایا گیا

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
٭٭
بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوں
ہر چند کہ ہوں دور مگر دیکھ رہا ہوں
افلاس کی ماری ہوئی مخلوق سر راہ
بے گور و کفن خاک بہ سر دیکھ رہا ہوں

بچوں کا تڑپنا وہ بلکنا وہ سسکنا
ماں باپ کی مایوس نظر دیکھ رہا ہوں

انسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حشر
دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں

رحمت کا چمکنے کو ہے پھر نیر تاباں
ہونے کو ہے اس شب کی سحر دیکھ رہا ہوں

خاموش نگاہوں میں امنڈتے ہوئے جذبات
جذبات میں طوفان شرر دیکھ رہا ہوں

بیداری احساس ہے ہر سمت نمایاں
بیتاب ارباب نظر دیکھ رہا ہوں

انجام ستم اب کوئی دیکھے کہ نہ دیکھے
میں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں

صیاد نے لوٹا تھا عنادل کا نشیمن
صیاد کا جلتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں

اک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کو
اک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں

ریفرنس کے لیے کتابیں

(۱) جگر کے خطوط ،مرتب : محمد اسلام (۲) نگار شات جگر ،مرتب : محمد اسلام
(۳) یادگار جگر ،مرتب : محمد اسلام (۴) جگر مرادآبادی ،مرتب : محمد اسلام
(۵) جگر اپنے احباب کی نظر میں ،مرتب : محمد اسلام
(۶) باقیات جگر ،مرتب : مصطفی راہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!