Maharashtra State Eligibility Test (MH-SET)NotesUGC NET URDUUrdu Ghazal

 کلیم عاجز کے مجموعے ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

Wo Jo Shayeri ka Sabab Huwa: Kalim Aajiz

 کلیم عاجز کے مجموعے ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

 

(1)

خوشی کیا ہے کسی آوارۂ وطن کے لیے
بہار آئی تو آیا کرے چمن کے لیے

نہ لالہ و گل و نسریں نہ نسترن کے لیے
مٹے ہیں ہم کسی غارت گر چمن کے لیے

کبھی جو گوشۂ خلوت میں شمع ہاتھ آئی
لپٹ کے رو لئے یاران انجمن کے لیے

ہم ان سے شکوۂ بیداد کیا کریں عاجز
یہاں تو پاسِ وفا قفل ہے دہن کے لیے

(2)

جدا دیوانہ پن اب ایسے دیوانے سے کیا ہوگا
مجھے کیوں لوگ سمجھاتے ہیں سمجھانے سے کیا ہوگا

سلگنا اور شئے ہے جل کے مر جانے سے کیا ہوگا
جو ہم سے ہو رہا ہے کام پروانے سے کیا ہوگا

مرا قاتل انھیں کہتے ہیںسَب اور ٹھیک کہتے ہیں
قسم سو بار وہ کھائیں قسم کھانے سے کیا ہوگا

مناسب ہے سمیٹو دامنِ دستِ دعا عاجزؔ
زباں ہی بے اثر ہے ہاتھ پھیلانے سے کیا ہوگا

(3)

کچھ انتہائے سلسلۂ غم نہیں ہے آج
ہر ظلمِ آخریں ستمِ اوّلیں ہے آج

میرے مذاقِ غم پہ ہر اک نکتہ چیں ہے آج
ان کی طرف نگاہ کسی کی نہیں ہے آج

بدنام کر رہی ہے مجھے میری بندگی
ہر سنگِ آستاں پہ نشانِ جبیں ہے آج

درماں کہاں کہ پُرسشِ غم بھی نہ کر سکی
اتنی بھی اس نگاہ کو فرصت نہیں ہے آج

پردہ حریمِ ناز کا اپنے بچائیے
فریاد کا مزاج بہت آتشیں ہے آج

انکار کر رہے ہیں وہ اُسی جرم قتل سے
جس کی جو گواہ ہر شکنِ آستیں ہے آج

زنجیر اپنا ہاتھ بڑھاتی ہی رہ گئی
دیوانۂ بہار کہیں سے کہیں ہے آج

عاجزؔ مِری فغاں پہ ہر اک یوں خموش ہے
جیسے کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں ہے آج

(4)

چمن اپنا لٹا کر بُلبلِ ناشاد نکلی ہے
مبارک باد۔تیری آرزو صیّاد نکلی ہے!

خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو
بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلّاد نکلی ہے

نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا
چمن سے جب بھی نکلی بوئے گل۔برباد نکلی

پریشاں ہو کے جانِ راز کیا نکلی ہے سینے سے
کسی بیداد گر کی حسرت بیداد نکلی ہے

(5)

ستم کو بھی کرم ہائے نہاں کہنا ہی پڑتا ہے
کبھی نا مہرباں کو مہرباں کہنا ہی پڑتا ہے

بِنائے زندگی دوچار تنکوں پر سہی لیکن
انہی تنکوں کو آخر آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے

بھلا ہم اور تجھ کو ناز بردارِ عدو کہتے ہیں؟
مگر اے بے نیازِ دوستاں ! کہنا ہی پڑتا ہے

مِری آہو فغاں کو نالۂ بُلبُل سے کیا نسبت
مگر اِک ہم وطن کو ہم زباں کہنا ہی پڑتا ہے

محبت خانۂ صیّاد سے بھی ہو ہی جاتی ہے
قفس کو بھی کسی دن آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے

یہ مانا عشق میں ضبطِ فغاں کی شرط لازم ہے
اُلجھتاہے جو دل دردِ نہاں کہنا ہی پڑتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!