Maharashtra State Eligibility Test (MH-SET)NotesUGC NET URDUUrdu Ghazal

دیوان مومن: ردیف ’ی‘ کی غزلیں

Diwan-E-Momin Radeef Ya ki Ghazlen

دیوان مومن: ردیف ’ی‘ کی غزلیں

1

منظورِ نظر غیر سہی اب ہمیں کیا ہے
بے دید تری آنکھ سے دل پہلے پھرا ہے

کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پر ہنسوں میں
نظروں میںمروّت ہے نہ آنکھوں میں حیاہے

اب شوق سے تم محفل ِاغیار میں بیٹھو
یاں گوشۂ خلوت میں عجب لُطف اٹھا ہے

یارب کوئی معشوقہ دلجُو نہ مِلے اب
جوان کی دعا ہے وہی اپنی بھی دعا ہے

توبہ گُنہِ عشق سے فرمائے ہے واعظ،
یہ بھی کہیں دل دے کے گنہگارہوا ہے

تھا محوِ رُخِ یار میں کیا آئینہ دیکھوں
معلوم ہے یارو مجھے جو رنگ مرا ہے

مومنؔ نہ سہی بوسۂ پا سجدہ کریں گے
وہ بُت جو اوروں کا تو اپنا بھی خدا ہے

2

خوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی
خبر ہے لاش پہ اس بے وفا کے آنے کی

سمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا اے ناصح
کہا جو تونے نہیں جان جا کے آنے کی

چلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ
تم اپنے پاس تک اس مبتلاکے آنے کی

پھر اب کی لا ترے قربان جائوں جذبہ دل
گئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا کے آنے کی

کہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں
قسم ہے مجکو صدائے درا کے آنے کی

نہ جانے کیوں دلِ مرغِ چمن کے سیکھ گئی
بہار وضع ترے مسکراکے آنے کی

مجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو!
مری تسلّی کو روزِ جزا کے آنے کی

3

ہے نگاہِ لُطف دشمن پر تو بندہ جائے ہے
یہ ستم اے بے مروّت کِس سے دیکھا جائے ہے

سامنے سے جب وہ شوخِ دلرُبا آجائے ہے
تھامتا ہوں پر یہ دل ہاتھوں سے نکلا جائے ہے

جاں نہ کھا وصلِ عدُو سچ ہی سہی پر کیا کروں
جب گِلہ کرتا ہوں ہمدم وہ قسم کھا جائے ہے

رشکِ دشمن نے بنا دی جان پر اے بے وفا
کب تلک کوئی نہ بگڑے حال بگڑا جائے ہے

حُسنِ روز افزوں پہ غرا کِس لیے اے ماہ رُو
یونہی گھٹا جائے گا جتنا کی بڑھتا جائے ہے

غیر کے ہمراہ وہ آتا ہے میں حیران ہوں
کس کے استقبال کو جی تن سے میرا جائے ہے

تاب و طاقت صبر و راحت جان و ایماں عقل و ہوش
ہائے کیا کہیے کہ دل کے ساتھ کیا کیا جائے ہے

رو رہا ہوں خندۂ زنداں نما کی یادمیں
اب گوہر کے لیے آنکھوں سے دریا جائے ہے

خاک میں مل جائے یارب بے کسی کی آبرو
غیر میری نعش کے ہمراہ روتا جائے ہے

اب تو مر جانا بھی مشکل ہے ترے بیمار کو
ضعف کے باعث کہاں دنیا سے اٹھا جائے ہے

دیکھئے انجام کیا ہو مومن ؔ صورت پرست
شیخِ صنعاں کی طرح سوئے کلیسا جائے ہے

4

دفن ہم جب خاک میں سوختہ ساماں ہوں گے
فلس ماہی کے گُل شمع شبستاں ہونگے

ناوک انداز جدہر دیددۂ جاناں ہونگے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہونگے

تابِ نظّارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائے گی تصویر جو حیراں ہونگے

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شبِ ہجراں ہونگے

کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہونگے بھی تو بے وقت پشیماں ہونگے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیماں کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

ہم نکالیں گے سُن اے موجِ ہوا بل تیرا
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہونگے

صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدیٔ زنداں ہونگے

منّتِ حضرتِ عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہونگے

پھر بہار آئی وہی دشتِ نوردی ہوگی
پھر وہی پائوں وہی خارِ مغیلاں ہونگے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بُتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے

5

آج اس بزم میں طوفاں اٹھا کے اٹھے
یاں تلک روئے کہ اس کو بھی رولا کے اٹھے

گر نہ ہو دل میں خیالِ نگہ ِ خواب آلود
درد کیا کیا اثرِ خفتہ جگا کے اٹھے

گو کہ ہم صفحۂ ہستی پہ تھے اِک حرفِ غلط
لیک اٹھے بھی تو اِک نقش بٹھا کے اٹھے

ہو عذابِ سبِ یلدا سے رہائی یا رب
زُلف مُنہ سے کہیں اس مہرِ لقا کے اٹھے

اُف ری گرمیٔ محبت کہ ترے سوختہ جاں
جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کے اٹھے

میںدکھاتا تمھیں تاثیر مگر ہاتھ مرے
ضعف کے ہاتھ سے کب وقت دعا کے اٹھے

سوزشِ دل سے ہوا کیا ہی میں پانی پانی
وہ جو پہلو سے پسینے میں نہا کے اٹھے

جی ہی مانند نشانِ کفِ پا بیٹھ گیا
پائوں کیا کوچہ سے اس ہوش ربا کے اٹھے

شعر مومن ؔ کے پڑھے بیٹھ کے اس کے آگے
خوب احوال دلِ زار سُنا کے اٹھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!