Maharashtra State Eligibility Test (MH-SET)UGC NET URDUUrdu Ghazal

دیوان غالب سے شامل نصاب غزلیں

Mirza Ghalib

دیوان غالب: ردیف الف، ر، ن، اور ی/ے کی ابتدائی پانچ پانچ غزلیں

ردیف ’الف‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

(1)

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؟
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر ِ تصویر کا

کاؤ کاوِ سخت جانیہاے تنہائی، نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوے شیر کا

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مُدّعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرپا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ
مبارک باداسدؔ، غمخوارِ جانِ درد مند آیا

(2)

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسوٗد تھا

آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھیں کھل گئی، نہ زیاں تھا، نہ سود تھا

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت ، گیا اور بوٗد تھا

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسدؔ!
سر گشتۂ خُمار رُسوٗم، قیودتھا

(3)

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے ہم نے مدّعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا

دوستدارِ دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم!
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

سادگی و پرکاری ، بیخودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلنے ، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا ، تم نے بارہا پایا

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا؟

(4)

دل مِرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا

دل میں ذوقِ وصل ویادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل ! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

عرض کیجے جو ہر اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

دل نہیں ، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہل دنیا جل گیا

(5)

شوق ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا
قیس تصویرکے پردے میں بھی عریاں نکلا

زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پَر افشاں نکلا

بوئے گل ، نالۂ دل، دود چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذّتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

اے نَو آموزِ فنا ہمت دُشوار پسند!
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آسام نکلا

دل میں پھر گریہ نے اِک شور اُٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

ردیف ’ر‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

(1)

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
نگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار

وفورِ عشق نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
کہ ہو گئے مرے دیوار و در در دو دیوار

نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مقدمِ یار
گئے ہیں چند قدم پیشتر دم و دیوار

ہوئی ہے کس قدر ارزانیٔ مئے جلوہ
کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار

جو ہے تجھے سرِ سودائے انتظار ، تو
کہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار

ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار

وہ آ رہا مرے ہمسائے میں، تو سائے سے
ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار

نظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادی
ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار

نہ پوچھے ہے خودیٔ عیشِ مقدمِ سیلاب
کہ ناچتے ہیں پڑے سر بسر در و دیوار

نہ کہہ کسی سے کہ غالب نہیں زمانے میں
حریف رازِ محبت مگر در و دیوار

(2)

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
جانوں کس کے دل کی میں کیوںکر کہے بغیر

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے و گرنہ ہم
سر جائے یا رہے ، نہ رہیں پر کہے بغیر

چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

مقصد ہے ناز و غمزدہ و لے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہرہ ہوں میں -گو چاہئے ، دونا ہوں التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر

غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر

(3)

کیوں جل گیا نہ ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق ، جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پَر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر

وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزار دیکھ کر

بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ
لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر

زُنّارباندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

کیا بد گماں ہے مجھ سے ، کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرتی تھی ہم پہ برقِ تجلی ، نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ’ظرفِ قدح خوار‘ دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ ! ’غالب شوریدہ حال‘ کا
یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

(4)

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر

فنا ’’تعلیمِ درسِ بے خودی‘‘ ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

فراغت کس قدر ہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر

نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا
کہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر

مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش پرستی تھی گلستان پر

بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگا
قیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر

نہ لڑ ناصح سے ، غالب، کیا ہوا گر اس نے شدت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر

(5)

ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم ، جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں ، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

ہے خونِ جگر جوش میں دل کھول کے روتا
ہوتے جو کئی دیدۂ خونبانہ فشاں اور

مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
جلّاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘

لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور

لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا ، کوئی دم چین
کرتا -جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے مری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

ردیف ’ن‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

 

(1)

وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغی بھی نہ رہا
شورِ سدائے خط و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں

ایسا آسان نہیں لہو رونا
دل میں طاقت ، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا ’’قمار خانۂ عشق‘‘
واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

(2)

کہ وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں

دل میں آجائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے
اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
خارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیا
آگ مطلوب ہے ہم کو ، جو ہَوا کہتے ہیں

دیکھے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شاید
مر گیا غالب آشفتہ نوا کہتے ہیں

(3)

آبرو کیا خاک اس گل کی ، کہ گلشن میں نہیں
لے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
رنگ ہو کر اڑ گیا ، جو خوں کہ دامن میں نہیں

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتاب
ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

کیا کہوں تاریکیٔ زندانِ غم اندھیر ہے
پنبہ نورِ صبح سے کم جس کی روزن میں نہیں

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
غیر سمجھا ہے کہ لذت زخمِ سوزن میں نہیں

بس کہ ہیں ہم اک بہارِ نازکے مارے ہوئے
جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

قطرہ قطرہ اک ہیولی ہے نئے ناسور کا
خوں بھی ذوق درد سے ، فارغ مرے تن نہیں

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری
موجِ مے کی آج رگ ، مینا کی گردن میں نہیں

ہو فشارِ ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود؟
قدکے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

تھی وطن میںشان کیا غالب کہ ہو غربت میں قدر
بے تکلف ، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں

(4)

عہدے سے مدحِ ناز کے باہر نہ آسکا
گراک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں

حلقے ہیںچشم بائی کشادہ بسوئے دل
پر تارِ زلف کو نگہِ سرمہ سا کہوں

میں ، اور صد ہزار نوائے جگر خراش
تو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں

ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
ہے ہے خدانہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں

(5)

مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوںکہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستمگر ، ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

(6)

ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر غذرِ مستی ایک دن

غرۂ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ ہو
اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

نغمہ ہائے غم کو ہی اے دل غنیمت جانئے
بے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

دھول دھَپا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

ردیف ’ی‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں

 

(1)

صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
طاقت کہاں کہ دید کااحساں اٹھائیے

ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق
یعنی ، ہنوز منتِ طفلاں اٹھائیے

دیوار بارِ منتِ مزدور سے ہے خم
اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے

یا میرے زخمِ رشک کو رُسوا نہ کیجئے
یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے

(2)

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
بھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات! چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی اک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافی مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گو نہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

سر پاے خم پہ چاہیے ہنگام بیخودی
ق
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے

یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مے ذات چاہیے

نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

(3)

بساطِ عجز میں تھا ایک دل ، یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
تکلف برطرف تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی

خیالِ مرگ کب تکسیں دل آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنا میں ہے اِک صید زبوں وہ بھی

نہ کرتا کاش نالۂ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہوگا باعثِ افزایش درد دروں وہ بھی

نہ اتنا برّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریایے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی

مے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کای کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی

مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوہ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی

(4)

ہے بزمِ بُتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
تنگ آئے ہیں ہم ، ایسے خوشامد طلبوں سے

ہے دورِ قدح وجہِ پریشانی صہبا
یک بار لگا دو خُم مے میرے لبوں سے

رندانِ درِ میکدہ گستاخ ہیں زاہد
زنہار نہ ہونا طرف اِ ن بے ادبوں سے

بیدادِ وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے

تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
سن لیتے ہیں، گو ذکر ہمارا نہیں کرتے

غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
وہ سن کے بلا لیں، یہ اجارا نہیں کرتے

گھر میں تھا کیا ، کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اِک حسرتِ تعمیر سے ہے

(5)

غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یادآنے کی

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب!
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

نپٹنا پرنیاں لیں شعلۂ آتش کا آساں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیرِ گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی

ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا
ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

لکد کوبِ حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
مری طاقت کو ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی

کہوں کیا خوبی اوضاع ابناے زباں غالبؔ
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہانیکی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!