Uncategorized

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ

اسد اللہ خان مرزا غالبؔ

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء/ 1869ء) اُردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19؍ویں صدی غالبؔ کی صدی ہے۔ 18؍ ویں میر تقی میرؔ کی اور 20 ؍ویں علامہ اقبالؔ کی۔ غالبؔ کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب ؔجس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں  نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس  نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

مرزا غالبؔ کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ غالبؔ بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الٰہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں  نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالبؔ نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر  نے ’’مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان ِتیمور کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50؍ روپے ماہوار مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔ غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا  نے نواب یوسف علی خاں والیِ رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادمِ حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔

٭مختصر خاکہ :

ولادت : ۸؍رجب ۱۲۱۲ھ بمطابق ۲۱دسمبر۱۷۹۷ء آگرہ ( اکبر آباد)
نام : اسداﷲ خان بیگ
تخلص : اسدؔ، غالبؔ
عرف : مرزا نوشہ
خطاب : نجم الدولہ دبیر الملک بہادر نظام جنگ
قوم : ایبک (ترکی خاندان)
والد : عبداﷲ بیگ خان عرف مرزا دولہا
والدہ : عزت النساء
بھائی : مرزا یوسف
چاچا : نصر اللہ بیگ خان
دادا : فوقان بیگ
نانا : خواجہ غلام حسین
سسُر : نواب الٰہی بخش
والد کا انتقال : ۱۸۰۱ء (غالب کی چار سال کی عمر میں)
پرورش : چاچا نصیر اﷲ بیگ خان
چچا کی وفات : ۱۸۰۶ء (نو سال کی عمر میں )
ابتدائی تعلیم : آگرہ کے مولوی شیخ معظم کے مدرسے میں ۔
فارسی کے استاد : ایرانی ملا عبدالصمد
شادی : ۱۸۱۰ء (۱۳ سال کی عمر میں )
بیوی : امراؤ بیگم
اولادیں : ۷؍ بچے ہوئے ساتوںفوت ہوگئے ، بعد میں عارف کے دو بچوں پہلے حسین اور پھر باقر کو گودلیا ۔
ہجرت : ۱۸۱۲ء دہلی ، ۱۸۲۶ء لکھنو ، کانپور ، بنارس ، پٹنہ (سے ہونے کے بعد)، ۱۸۲۸ء کلکتہ ، نومبر ۱۸۲۹ء واپس دہلی ، پھر رامپور کا سفر دو مرتبہ ۔
دعوتِ رامپور : نواب یوسف حسن خان
قید و سزا : دو مرتبہ (۱۸۴۱ء میں ۱۰۰؍ روپے جرمانہ اور چار ماہ قید،اور ۱۸۵۷ء میں ۲۰۰ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید ، جواخانہ قائم کرنے کے الزام میں)
وفات : ۱۲۸۵ھ بمطابق۱۵؍فروری۱۸۶۹ء، دہلی (عمر:72؍سال)احاطۂ درگاہ نظام الدین علیہ الرحمہ میں تدفین۔
غالبؔ کی نثری تصانیف (فارسی میں)
پنچ آہنگ : فارسی انشاء پردازی کے نمونے ہیں جو پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔
مہر نیم روز : عہد تیمور سے ہمایوں تک کے تاریخی حالات۔
ماہ نیم روز : عہد اکبر سے بہادر شاہ ظفر تک کے تاریخی حالات (نامکمل)۔
دستنبو : مئی ۱۸۵۷ء سے لے کر اگست ۱۸۵۸ء تک [۱۵ مہینوں] غدر کے حالات۔
قاطع برہان : محمد حسین تبریزی کی فارسی لغت ’’برہان قاطع‘‘ کی غلطیوں کو مرتب کیا گیا ہے۔
درفش کادیانی : قاطع برہان کا دوسرا ایڈیشن بااضافہ اعتراضات۔
کلیات فارسی : مرزا کا فارسی کلام ۱۸۳۵ء میں ’’میخانۂ آرزو‘‘ کے عنوان سے مرتب ہوا۔
سبدچین : وہ اشعار ہیں جو فارسی کلیات میں درج ہونے سے رہ گئے یا مرزا غالب کے نایاب فارسی کلام کا مجموعہ ، 1867ء۔

غالبؔ کی اُردو تصانیف

عودِ ہندی : غالبؔ کے خطوط کا پہلا مجموعہ ، ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۶۸ء میں غالبؔ کی وفات سے چار ماہ قبل ممتاز علی خان کی کوشش سے شائع ہوا ۔
مکاتیب غالبؔ : امتیاز علی خان عرشی نے ۱۸۳۷ء میں مکاتیب غالبؔ کو شائع کیا۔
قادر نامہ : عارف کے دو بچوں (باقر اور حسین) کے لیے مرزا نے آٹھ صفحات کا مختصر رسالہ تصنیف کیا۔ [عارف ، غالب کی بیوی کا بھانجہ تھا]۔
نکاتِ غالب : اس رسالے میں فارسی قواعد اُردو میں لکھے گئے ہیں ۔
رقعاتِ غالب : پندرہ مکتوب کا رسالہ۔
اُردوئے معلی : وفاتِ غالب ؔکے بعد۶؍مارچ ۱۸۶۹ء کودوسرامجموعہ دو حصوںمیںشائع ہوا۔ دونوں حصوں میں مشمولہ رقعات کی تعداد ۴۷۸؍ہے۔
دعائے صباح : مع ترجمہ نثر و نیز ترجمہ منظوم، از: مرزا اسد اللہ خان غالب ،
مرتب:کالیداس گپتا رضا ؔ۔ دعائے صباح [دعاء الصباح]حضرت علی سے منسوب مجموعہ موسومہ ’’ صحیفہ علویہ ‘‘کی ایک مشہور مقبول دعا ہے۔ جسے شیعہ حضرات عموما ًصبح کو وقت بعد نماز پڑھتے ہیں۔
کلیاتِ غالب ( فارسی ) تین جلد۔
سبدباغ دودر ( 1969)
دیوانِ غالب 1835ء
غالب کے اُردو خطوط کا اوّلین مجموعہ ’’عودِ ہندی ‘‘ غلام غوث خان بے خبرؔ نے مرتب کیا تھا۔
۱۹۳۹ء میں لکھنؤ سے ’’ ادبی خطوط ِ غالب‘‘ کے نام مرزا محمد عسکری نے ان ۹۸؍مراسلات کو مع مفصل دیباچہ شائع کیا جن میں علمی مباحث اٹھائے گئے ہیں ۔
مولانا امتیاز علی خان عرشیؔنے ۱۸۳۷ء میں ۱۱۷ء خطوط پر مشتمل مجموعہ بعنوان ’’ مکاتیب غالب‘‘ کے نام سے شائع کیا۔
۱۹۴۱ء میں ہندوستانی اکیڈمی الٰہ آباد سے مولوی مہیش پرساد کی ’’خطوط غالب ‘‘کے نام سے ۴۵۳؍خطوط پر مبنی کتاب شائع کی۔ اس مجموعے میں عودِ ہندی، اُردوئے معلی،مکاتبِ غالب میں شائع شدہ رُقعات کے علاوہ وہ خطوط بھی چھاپے گئے جو سابق مجموعوں میں شامل نہیں تھے۔

قصیدے

غالبؔ کے اُردو قصائد کی کل تعداد (۴) ہے ، دو بہادر شاہ ظفر کی مدح میں اور دو حضرت علی کی منقبت میں ۔

مثنویاں

’’گہر بار ‘‘ ، ’’بادِ مخالف ‘‘ ، ’’چراغِ دیر ‘‘ ، ’’ در صفت انبہ ‘‘، ’’دُعائے صباح‘‘۔
دیوانِ غالب کے پہلے پانچ ایڈیشن
۱۸۴۱ء : پہلی مرتبہ شائع ہوا ۔
۱۸۴۷ء : دوسری مرتبہ شائع ہوا۔
۱۸۶۱ء : تیسری مرتبہ شائع ہوا۔
۱۸۶۲ء : چوتھی مرتبہ مرتبہ شائع ہوا۔
۱۸۶۳ء : پانچویں مرتبہ شائع ہوا۔

نکات

ذوقؔ کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر نے غالبؔ کو اپنا استاد مقرر کیا۔
۱۲۶۶ھ میں مرحوم ابو ظفر سراج الدین بہادر شاہ نے مرزا کو خطاب نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب دیا۔

غالبیات سے متعلق اہم تصانیف

حالیؔ : یاد گارِ غالب ؔ
ملک رام : فسانۂ غالب ؔ، تلامذۂ غالبؔ ، گفتارِ غالب ؔ
نورالحسن نقوی : دیوانِ غالب ؔ،غالبؔ شاعر اور مکتوب نگار
مجنون گورکھپوری : غالبؔ شخص اور شاعر
گیان چند جین : رموزِ غالبؔ
شمس الرحمن فاروقی : تفہیم غالب ؔ
قاضی عبدالودود : غالبؔ بحیثیت محقق
عبدالرحمن بجنوری : محاسن کلامِ غالب ؔ
شوکت سبزواری : فلسفہ کلامِ غالب ؔ
رشید احمد صدیقی : غالبؔ کی شخصیت اور شاعری
اسلوب احمد انصاری : غالبؔ کا فن
نورالحسن ہاشمی : ریختہ غالب ؔ
سید قدرت اﷲ : اسرارِ غالب ؔ
محمد عرفان : طرزِ غالب ؔ
خلیفہ عبدالحکیم : افکارِ غالب ؔ
شیخ محمد اکرام : غالبؔ نامہ
نثار احمد فاروقی : تلاشِ غالب ؔ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!