کلیات شاد: ردیف ’الف‘ کی غزلیں

(1)

میکدے میں تو ہے یکتا ساقیا
اِنَّماَ اللہُ اِلٰھاً واَحِداَ

کَم مُحِبٍّ لاَ یَریٰ شیئاً سِواکَ
جن کے آگے لفظ مہمل ما سوا

کَم عَطَاشٍ دیدۂ شاں بر کفت
اَنْتَ ساَقِیْھِمْ وَخَیْرٌ سَاقِیاَ

اِنْتَبَہ یَا قَلْب وَشرْبُ جُرعَۃً
مِنْ صُبُحِیٍّ دَلالاً طَیِّباَ

اِنَّمَا الاَفْراَحُ مِیْراثُ الھُموم
صبر تلخ اما بود حب شفا

سچ تو یوں ہے ظُلْمَۃٌ فیِ ظُلْمَۃٍ
جب نہ خود سمجھا تجھے سمجھاؤں کیا

کَمْ لَکَ السَاقِی مِنَ الْقَلْبِ الکبیر
جن کے ہیں بشکستہ دل صرف ثنا

لاَ اُبالِی اَو بریَ اَو اَقبلی
تجھ سے اسے دنیا نہیں مجھ کو گلا

فاحِ نشر الورود مِنْ بُستانِہِم
عطر آگیں کیوں نہ ہو ارض و سما

اِسْتَمعْ یاَشَاذُ یا شیخ الکبیر
عمر کو فانی سمجھ دھوکا نہ کھا

(2)

نہ پہنچا کوئی تا مقصود سُبْحاَنَ الَّذِی اَسْرَا
کھلا آئینہ دارِ لو کَشفَ پرسرِّما اَوْھا

مجھے بھی تو بنا دے راز دارعَلَّمَ الاَسْمَا
خدایا! داورا! ھَیَّ لَناَ مِنْ اَمْرنا رُشْداَ

کہوں کیا مجمع الضدینہے دُنیا و مَافیِھا
نہ ظاہر ہے، نہ مخفی ہے ، نہ پیدا ہے، نہ ناپیدا

قدم رکھتے گھرا بحرِ فنا کے سخت طوفاں میں
بچالے اے امید بے کساں اے دافع الْبَلوا

حیات جاوداں میں فرق بھی آئے تو آنی ہو
مٹوں اور پھر بنوں دریائے ہستی میں حباب آسا

جو قطرے کی طرح اس بحر بے پایاں میں مل جاؤں
تو چلاؤں کہ بِسْمِ اللہ مجریھاَ وَ مُرْسٰھا

وہ دولت دے کہ ان آنکھوں میں سب کچھ ہیچ ہو جائے
خطا پوشا! عطا پاشا، کرم سازا! خداوندا

وجود اعتباری کو لگاؤں کچھ نہ آنکھوں میں
ہٹا وے عشق و حسن ظاہری کا بیچ سے پردا

بصیرت کو مری معراج ہو صدقے میں احمد کے
کسی دن مجھ پہ بھی کھل جائے گا اسرار ما اَوْھا

مٹا دے دل سے وحشت زمرۂ انساں میں داخل کر
قُوا سے سب وہی لوں کام جو مقصود ہے تیرا

ہیولیٰ کو مرے وہ قلم یارب عنایت کر
اُتارے صفحۂ خالی پہ تیرا ہو بہ ہو نقشا

مرے شعروں میں یارب شاہد معنی کا جلوہ ہو
مگر حائل رہے لفظوں کا بھی ہلکا سا اک پردا

خریدار و بضاعت گومری مرجات ہے لیکن
تردد کیا خریداری میں ہے بے دام کا سودا

زباں دانو گہر بھی ہے خزف چشم تعنت میں
ہنر ہے جہل سے بدتر جو داغ آیا تعصب کا

نواسنجو! مرے نغموں کا غل ہے عرش اعظم پر
خوش آواز! سر طوبیٰ پہ جاتا ہے مرانالا

ہمارا خانوادہ مرکز اُردو تھا دہلی میں
بحمداللہ گئی ہم سے نہ اب تک خصلتِ آبا

نواسا خان صادق کا ہوں جو تھا نائب سلطاں
ہوں کمبل پوش سید خاں دوراں خاں کا ہوں پوتا

تعارف کے لیے اتنا بھی لکھا منصفو ورنہ
خدا کی مجھ پہ لعنت ہو اگر کچھ بھی ہو فخر اس کا

اٹھاؤں کیا سر اپنا سیہ کاری میں کاٹی ہے
نسب پر کچھ ہے غرّہ اور نہ علم وفضل کا دعوا

وہی پیدا ہے ایسا جس سے ہر ناپید پیدا ہے
مسلم ہے کہ ناپیدا سے کچھ ہوتا نہیں پیدا

بری حال و محل سے بھی ہے پھر سب میں وہی وہ ہے
وہ ہے واحد شمار اعداد میں اس کا نہیں اصلا

محیطِ کل کے معنی ظاہری گر لیں تو باطل ہے
حدوں سے ہے مبرّا، حد کے اندر آ نہیں سکتا

وجود اس کا ہے واجب عقل و وجداں اس پر میں شاہد
بجز اتنا سمجھنے کے نہ میں سمجھا نہ تو سمجھا

کوئی شئے اس سے باہر کب ہے ، ہر شئے میں وہی وہ ہے
اسی پر متفق دونوں ہیں، نابینا ہو یا بینا

یہ حسرت ہے کہ اس کو دیکھ لوں اس کی صدا سن لوں
بہ این چشمان نابینا، بی ایں اسماع ناشنوا

کیا جو تونے یارب جو اب کرتا ہے سب حق ہے
کرم کی جا ستم بھی ہو تو ہے تیرے لیے زیبا

ریاضت نے مجھے سمجھا دیے معنی عبادت کے
قوا سے کام لیتا ہوں وہی مطلب ہے جو تیرا

لکد کوکب فنا دل کیا جب دس حواسوں کو
ہوئی پیدا ترے فضل و کرم سے شکل استغنا

سرورِ محض بن جاؤں جو یکسوئی میسر ہو
مٹیں سب آرزوئیں دل سے یہ ارماں نہیں مٹتا

سراپا مو قلم بن جاؤں بند آنکھیں اگر کر لوں
اتاروں صفحۂ خالی پہ تیرا ہو بہو نقشا

فنا کے بعد جس دن ابر رحمت قطرہ افشاں ہو
اُگوں زیر زمیں سے خاک ہو ہو کر نبات آسا

سیاحت کا مزا ہستی میں جب جب کھینچ کر لائے
تو ہر آنے پہ ظاہر ہو نیا عالم نئی دنیا

فنا کا خوف ہو جائے فنا دل سے تو چین آئے
مجرّد مادّے سے ہو کے ہو جاؤں بہشت آسا

یہ سب چاہا مگر اب چاہتا ہوں کچھ نہ چاہوںمیں
یہی گرچاہتا پہلے تو کیوں ہوتا بشر رُسوا

نہ لوں کشتی کا بھی احسان سر پر عین طوفاں میں
نہ پوچھوں خضر تک سے وادی پر ہول میں رستا

مزا دیکھو کہ اس بازار میں سر پر اٹھائے ہوں
خریداروں کا احساں بیچ کر بے دام کا سودا

کہاں تک ذی کمالو خون انصاف اک ذرا سوچو
خس و خاشاک کے روکے کبھی رکتا نہیں دریا

نئی بات آج تک اے شاد دیکھی کچھ نہ عالم میں
وہی گھٹتی ہوئی عمریں وہی مٹتی ہوئی دنیا

(3)

اے ازلی الوجود اے ابدی البقا
بے ادبانہ نہ چل حلقۂ عبدیت میں آ

خالق و مخلوق تو مالک و مملوک تو
ساجد و مسجود تو ، عجب نہ کر سر جھکا

کعبۂ مقصود کا حج، ترے اوپر ہے فرض
وسعت دل ہے منا، خونِ تمنا بہا

جان صداقت پہ دے صدق ہے فطرت تری
زیست کی پروانہ کر زیست ہے دام فنا

موردِ آفات رہ، ظلم کا تابع نہ بن
بھول نہ بھولے سے بھی واقعۂ کربلا

روز ازل خو د کہا، جوش طرب میں الست
ہو گیا پھر کیوں خموش وے کے صدائے بلا

کلمۂ قالوا کو تو صیغہ غائب نہ جان
جمع کو واحد سمجھ لفظ کا دھوکہ نہ کھا

خاک کے پتلے سنبھل ، خاک کا پتلا نہ بن
تیری تو مسند ہے عرش خاک کجا تو کجا

خار بھی اس باغ کا اپنی جگہ پھول ہے
شان سے تیری ہے دور، خود کو سمجھنا ہوا

آنکھ سے اشکال دیکھ ، کان سے آواز سن
کہہ کے پشیماں نہ ہو مطلب چون و چرا

تاکہ ہو عین الیقین ، پاک کثافات سے
پیس یہاں تک کہ دل پس کے بنے سرمہ سا

تیری حقیقت تلک کس کی رسائی ہوئی
بازی طفلانہ ہے مسئلہ ارتقا

تیری خودی نے تو خود قید میں ڈالا تجھے
جوں جوں بڑھے خواہشات ، پاؤں میں پھندا پڑا

زندگی دائمی کی جو تجھے ہے تلاش
ذات میں اپنی فنا ہو کے طلب کر بقا

ہے تری تسبیح پاک غازۂ روئے وجود
تیری ہی توحید ہے شانۂ گیسوئے لا

جلوہ کناں تو جہاں واں نہیں دخلِ گماں
جملہ شیونات ہیں سب ترے منقوشِ پا

روح امر ہے تری اس کا عدم نادرست
موت ہے تبدیل جا اس سے عبث تو ڈرا

عرصہ کون و مکاں ہیں تری زنبیل میں
فیضِ تو افزوں ز حصر جودِ تو فوق العطا

جوہر توحید تو سبحۂ تمجید تو
غازۂ روئے یقیں، شانۂ گیسوئے لا

دشمنِ خانہ ہے نفس، پہلے اسی سے سمجھ
پھر ہے امیدوں کا پیش جیش طویل اللوا

آیتِ والفتح پڑھ، تا ہو یہ رایت نگوں
جہل تمنا ہے یہ جیش طویل اللوا

باندھ کے محکم کمر، لے تبر نفی غیر
کاٹ کے سب پھینک دے خار و خسِ ماسوا

چین سے کر زندگی ، پاؤں کو پھیلا کے سو
شامِ ازل فرش خواب صبح ابد متکا

جوہر جاں تیرا میں ، جان نہ تو فرق بیں
نفسک نفسی درست لحمک لحمی روا

بزم حقیقت میں تو لائق تمجید ہے
تیری ہی توحید ہے ، قطع کن ماسوا

عرصہ ٔ کون و مکاں ذرہ کے اندر نہاں
شہر ترا ہے وہاں، جس کا عدم اوستا

عقل غسر رائگاں ، ہیچ ہے سارا گماں
بازیٔ طفلانہ ہے ، مسئلہ ارتقا

نورکِ مر آۃِ حق، شاہد وے نہِ طبق
سرِ تو بالا زدرک، درک حیرت زدہ

جلوہ کناں تو جہاں داں نہیں دخلِ گماں
نقش تو تحت الثریٰ شان تو فوق السماء

نوحۂ سر مشقِ تو ، آئینہ ہست و بود
ذکر تو حاجت روا، نام تو مشکل کشا

مسلکِ سرِ میں ترے، دخل بشر ہے حرام
فکرِ فلاطوں کو جان، علتِ ماخولیا

منکرِ امرِ رحیم ،صورت شیطاں رجیم
ہر کہ زند بر رخت ، سیلی مکرو دغا

در صفتِ بر تری، چوں تو فلک کے بود
ذاتِ تو خالص بجیں، وے بود اقلیمیا

کوچے کا تیرے نشاں ہے وہی مسلک جہاں
قتلِ رجا ہے ہدر خونِ تمنا روا

تیری گلی ک فقیر، مفتخرِ شاہ و میر
دست تو دریا نوال، جو دِ تو فوق العطاء

تیرے تو قانون کی ہے وہی محکم کتاب
جس کا ہے صرف اک ورق معرکۂ کربلا

عمر کے بڑھنے سے شاد گھٹ گیا زورِ زباں
پہلے تھا کُن جس گجہ ، اب ہے وہیں لفظ لاَ

شادؔ سخن کی ترے قدر کوئی کیا کرے
ایسے جواہر ہیں یہ، خلد ہے جن کی بہا

(4)

ترے جور کا نہ کروں گلہ کٹے تیغ سے بھی اگر گلا
کروں وجد میں یہی میں صدا کہ انا الشہید بکربلا

ہوا نورِ رخ جو عیاں ترا وسموع وجھک اعقلا
چمک اٹھے دشت و جبال و در متشعشعاً متزللا

اسی شرم سے کہ اَلست کا تو جوا ب میں نے دیا بلیٰ
جو بلا مجھ پہ نزول تھا تو نہ سمجھا میں کہ ہے کیا بلا

شب غم پہ کچھ نہیں منحصر ہے جہاں حدوث کا مرملا
کہ اسی میں سب ہے بھری ہوئی بہت اس طرح کی الابلا

مرا سرر ہے جو سر سناں مری لاش خوں میں بھی ہو طپاں
لب زخم سے یہ کروں عیاں کہ اَنا القتیل مُرمّلا

مجھے ذوق ہے مے وصل کا پہ نہیں عجول میں ساقیا
کہ یہ جام آئے گا مجھ تلک تری بزم میں متداولا

تراظلم بھی ہے عجب عطا کہ میں فارغ آج ہوں ہر طرح
تھے اس ایک وار م یں لطف دونہ گلہ رہا نہ رہا گَلا

تیرے دم سے اس کا رواج ہے تراناز منفرد آج ہے
ترے سر پہ حسن کا تاج ہے مترصعاً مُتکلّلا

مجھے لاکھ سجدے کریں مَلَک مرا فرش راہ ہو عرش تک
میں حضیض محض تھا اے فلک فلذا نزلت مِن العُلیٰ

نہ کروں جو عجز و فروتنی تو خود اپنے ساتھ ہے دشمنی
فَلِذَا وَجَدتُّ مِنَ الْعَدَمِ و کَذا استحقُّ مِنَ العُلیٰ

ہیں نگاہِ شوق میں متحد ترا کوچہ ہو کہ ہو قتل گہہ
تری جلوہ گاہ ہیں دونوں ہی جو منیٰ ہے یہ تو وہ کربلا

جو رضا تری ثمر اس کا ہے تو سکون و صبر ہیں اس کے گل
ہے عجیب چیز نہاں غم نہ ہمیں کو ہائے کبھی پھَلا

رہ عشق میں جو رکھا قدم ہوئے اس طرح کے مخوف ہم
چلیں حاج جیسے سوئے حرم متنکاً مُتھَرْوَلاَ

جو کھلے زبان مہیمنی، کہیں ہم کو سب سے ہے ایمنی
کہ ہیں جملہ کام سے ہم غنی نہ کرے عاَطلاً و مُعطَّلاً

مجھے خوف ہے کہ الجھ کے یہ کہیں راستے میں نہ رہ پڑے
مری روح عالم کون سے جو یونہی رکھے گی خلا مُلا

ہمیں شاد جس کا بہت تھا ڈر وہی پیش آ گیا الحذر
تمہیں کہتے تھے کہ امید سے نہ زیادہ کھو خلاَ ملاَ

مری عمر شادؔ تمام تر اسی گوگمو میں ہوئی بسر
نہ کلام کرنے سے غم گھٹا نہ خموشیوں سے کٹی بلا

میں ہر ایک شعر پہ شادؔ کے کروں جان و مال سے شئے فدا
مجھے کل کلام ملے کہیں جو مرتباً و مکللا

(5)

دل تو بدنام ہے اک عمر سے کیا اس کا گلہ ،کہتے آئی ہے صبا
یہ تمنا یہ امیدیں جنھیں برسوں پالا کب مری ہوں گی بھلا

وہ تری کج روشی ،کج کلہی، کینہ وری، دلبری ،عثوہ گری
کون غش کھا کے سر راہ گرا، کون موا، پھر کے دیکھا نہ ذرا

بان مارا تری آنکھوں نے جو کی پھر کے نگاہ ،نہ ملی دل کو نباہ
یار کیا قہر ہے چلتا ہوا جادو تیرا، لاکھ روکا نہ رُکا

رُت پھری، ساری ہری ڈالوں میں پھوٹی کونپل، ہوگئے پھول بھی پھل
اک یہ اجڑا ہوا دل ہے کہ نہ پھولا نہ پھلا، اور سوکھا ہی کیا

کالی کالی وہ گھٹائیں ،وہ پپیہوں کی پکار دھیمی دھیمی وہ پھوار
اب کے ساون بھی ہمارایوں ہی رونے میں کٹا ،کیا کہیں چپ کے سوا

بوسہ لینے کا مری خاک کو بھی ہے ارماں ،تاب اٹھنے کی کہاں
جامہ زیبی کا بھلا اے صنم تنگ قبا، کچھ تو دامن کو جھکا

فتنہ جو آفت جاں ،سنگدل ، آشوب جہاں، دشمنِ امن و اماں
سرور کج کلہاں، خسرو اقلیم جفا، بانی مکرو غنا

رس بھری ہائے وہ آنکھیں کالی کالی، بے پئے متوالی
سانولا رنگ ،نمک ریز خرامات جفا، اف کہاں دھیان گیا

دیکھنا تیرا کنکھیوں سے ہے آڑی برچھی، یار اس کی نہ سہی
کب کو گنتی میں ہے وہ گھائو جو اوچھا سا لگا ،پھر کے پھر دیکھ ذرا

کیا خطا اپنی اگر جاکے اچانک الجھے،نہ کبھی پھر سلجھے
جان کر دل کو پھنسائے خم گیسو میں بھلا، کس کی شامت ہے بتا

آنکھیں روئی ہوئی آواز ہے بھرائی ہوئی، باتیں گھبرائی ہوئی
اس سے تو اور کسی بھید کا ملتا ہے پتا ،شاد قسمیں تو نہ کھا

 

 

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!