ArticlesAtaurrahman Noori ArticlesBiographyMaharashtra State Eligibility Test (MH-SET)NotesSHAKHSIYAATUGC NET URDU

خواجہ حیدر علی آتشؔ

Haidar Ali Aatish

خواجہ حیدر علی آتشؔ

٭ نام : خواجہ حیدر علی
٭ تخلص : آتشؔ
٭ ولادت : 1778ء فیض آباد
٭ وفات : 1848ء لکھنؤ

خواجہ حیدر علی آتش’’ؔ خواجہ علی بخش‘‘ کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہ جہان آباد چلے آئیں۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتشؔ کی ولادت یہیں 1778ء میں ہوئی۔بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اس لیے آتشؔ کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتشؔ نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتشؔ بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ تقریباً اُنتیس سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاءؔ و مصحفیؔ کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا اور مصحفیؔ کے شاگرد ہو گئے۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔آتش ؔ اور ناسخؔ میں ادبی چشمک تھی۔آتش ؔ اپنے ساتھ ہر وقت تلوار رکھتے تھے اور مشاعروں میں بھی لے جاتے تھے۔آتشؔ کو کبوتر پالنے کا بھی بیحد شوق تھا۔آتشؔ کا تعلق دبستان لکھنؤ سے تھا۔آتشؔ نے شاعری کو ’’مرصع سازی ‘‘کا نام دیا ہے ۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی، کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ آتشؔ کے شاگرد ۔رِند ،صبا، خلیل ، نواب مرزا شوق اور پنڈت دیا شنکر نسیم تھے۔ 1848 ء میں آتشؔ کاانتقال ہوا۔آتشؔ کے انتقال پر رشکؔ نے تاریخ کہی ’’ خواجہ حیدر علی اے وا مردند‘‘ ۔

ادبی خدمات

 

l کلیات آتش:آتشؔ کی اُردو کلیات دو دیوانوں پر مشتمل ہے ۔
l پہلا دیوان آتشؔ کی زندگی ہی میں شائع ہو چکا تھا۔
l دوسرا دیوان ان کی وفات کے بعد میر دوست علی خلیل نے مرتب کرکے پہلے دیوان میں شامل کر دیا۔
آتشؔ کے متعلق مختلف آرا و خیالات
l فراقؔ نے آتشؔ کو اخلاقی شاعری کا بادشاہ کہا ہے ۔
l مصحفیؔ نے آتش کو ’’وجیہہ مہندالاخلاق ‘‘ لکھا ہے ۔
l عبدالسلام ندوی نے آتشؔ کو اُردو شاعری کا حافظ لکھا ہے ۔
l رام بابو سکسینہ کا کہنا ہے کہ ’’آتشؔ کے کلام میں ترشے ہوئے الفاظ ،آبدار موتیوں کی طرح لڑی میں پروئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘
l مرزا غالبؔ آتشؔ کو ان شعرا کی صف میں کھڑا کرتے ہیں جن کی شاعری فارسی شعرا کی طرح ’’چیز دگر‘‘ کے ذیل میں آتی ہے۔
l آتشؔ کا کلام متین اور سنجیدہ ہے ۔(مصحفیؔ)
l عبدالسلام ندوی نے آتشؔ کی شاعری کو عشق ومحبت کا آئینہ قرار دیا ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!